Skip to content
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ: غیروں پہ کرم، اپنوں پہ ستم !
ازقلم: ڈاکٹر محمد عظیم الدین (اکولہ مہاراشٹر)
جب ہوسٹن کے این آر جی اسٹیڈیم کی جگمگاتی روشنیوں اور احمد آباد کے موٹیرا اسٹیڈیم کے فلک شگاف نعروں میں "ہاؤڈی مودی” اور "نمستے ٹرمپ” کے رنگا رنگ تماشوں نے دنیا کو دو عالمی رہنماؤں کی دوستی کا ڈھنڈورا پیٹا، کسے اندازہ تھا کہ یہ چمک دمک جلد ہی امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ایک جھٹکے سے پھیکی پڑ جائے گی؟ وہ گرم جوشی بھرے مصافحے، وہ مسکراہٹیں، وہ "اسٹریٹجک پارٹنرشپ” کے بلند بانگ دعوے، سب اس وقت چکنا چور ہو گئے جب ٹرمپ نے بھارت پر 25 فیصد ٹیرف کا زناٹے دار طمانچہ رسید کیا اور اوپر سے جرمانے کی دھمکی جڑ دی۔ واہ، ٹرمپ صاحب! یہ ہے آپ کی دوستی کا اصل روپ؟ ایک طرف بھارت کو "دوست” کہہ کر گلے لگائیں، اور دوسری طرف اس کی معیشت پر معاشی تلوار چلائیں! یہ کوئی پالیسی نہیں، بلکہ سراسر دھوکے بازی کا کھیل ہے، جو بھارت کو یہ سوچنے پر مجبور کر رہا ہے کہ کیا اس کی خارجہ پالیسی ریت پر بنی عمارت تو نہیں؟
ٹرمپ، جو کل تک بھارت کو ایشیا کا چمکتا ستارہ قرار دیتے نہیں تھکتے تھے، راتوں رات پلٹ گئے۔ انہوں نے بھارت کی معیشت کو "مردہ” کہہ کر طعنہ دیا اور الزام عائد کیا کہ بھارت دنیا میں سب سے زیادہ ٹیرف لگاتا ہے اور غیر منصفانہ تجارتی رکاوٹیں کھڑی کرتا ہے۔ ارے بھائی، یہ کون سی نئی کہانی ہے؟ اصل چبھن تو بھارت کا روس اور ایران سے گہرا ہوتا رشتہ ہے، جو ٹرمپ کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح کھٹک رہا ہے۔ یوکرین جنگ کے بعد بھارت کا روس سے سستا تیل خریدنا گویا امریکی غرور پر تازیانہ تھا۔ ٹرمپ نے دھمکی دی: "روس کی گود سے نکلو، ورنہ معاشی پٹائی کے لیے تیار رہو!” یہ وہی ٹرمپ ہیں جو کل تک مودی کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر تصاویر کھنچوا رہے تھے۔ واہ رے دوستی، جو ایک ٹویٹ سے دھول میں مل جاتی ہے!
لیکن اصل تماشا تو تب شروع ہوا جب ٹرمپ نے بھارت کے زخموں پر نمک نہیں، بلکہ مرچوں کا ڈھیر چھڑک دیا۔ ایک طرف بھارت کو روس سے تیل خریدنے کی معاشی سزا، اور دوسری طرف پاکستان کے ساتھ تیل کے ذخائر کی تلاش کا واہ واہی معاہدہ! یہ کیا منافقت کا ناٹک ہے؟ ٹرمپ کا وہ طنزیہ جملہ کہ "شاید کل کو پاکستان ہی بھارت کو تیل بیچے گا” گویا بھارت کے منہ پر طنز کا تیزاب تھا۔ بھارت کا روایتی حریف پاکستان اچانک امریکی "کرم” کا مستحق ہو گیا، جب کہ بھارت کو "ستم” کی چکی میں پیس دیا گیا۔ ٹرمپ کی "امریکہ فرسٹ” پالیسی نے واضح کر دیا کہ چاہے کوئی کتنا ہی قریبی "دوست” کیوں نہ ہو، امریکی مفادات کی بھٹی میں سب جھونک دیے جائیں گے۔ واہ، کیا خوب دوستی نبھائی، ٹرمپ صاحب!
اس اچانک پینترے کے پیچھے کئی وجوہات ہیں۔ پہلی، ٹرمپ کا بھارت کے ساتھ بڑھتے تجارتی خسارے پر واویلا، جیسے بھارت نے امریکی خزانے پر ڈاکہ ڈال دیا ہو۔ دوسری، بھارت کی آزاد خارجہ پالیسی، جو امریکی تسلط کے سامنے سر جھکانے سے انکاری ہے۔ روس سے ایس-400 میزائل سسٹم کی خریداری اور ایران سے تعلقات اس کی واضح مثالیں ہیں۔ اور تیسری، ذاتی عناد کی چاشنی۔ مودی کا یہ بیان کہ کشمیر پر جنگ بندی میں کسی تیسرے ملک کا کوئی کردار نہیں، ٹرمپ کے ثالثی کے خوابوں پر اوس پڑ گئی۔ اسی طرح، اقوام متحدہ میں فلسطین کی حمایت میں بھارت کا ووٹ ٹرمپ کی اسرائیل نواز پالیسی کے گلے کی ہڈی بن گیا۔ ارے ٹرمپ صاحب، یہ بھارت ہے، کوئی آپ کا گھریلو ملازم نہیں جو ہر بات پر "جی حضور” کہے!
اس فیصلے نے بھارت کو معاشی اور سیاسی طور پر ہلا کر رکھ دیا۔ 25 فیصد ٹیرف نے بھارتی اسٹیل، آٹو پارٹس، اور زرعی مصنوعات پر ایسی چوٹ ماری کہ معیشت لڑکھڑانے لگی۔ جی ڈی پی کی شرح نمو پر خطرے کے بادل منڈلانے لگے، اور روزگار کے مواقع ایسی دھوپ میں پگھلنے لگے جیسے برف کا گولا۔ سیاسی طور پر، مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کٹہرے میں کھڑی ہو گئی۔ حزب اختلاف نے طنز کے تیر چلائے کہ "یہ ہے تمہاری ایونٹ مینجمنٹ ڈپلومیسی کا نتیجہ!” ذاتی تعلقات کی چکنی چپڑی باتیں قومی مفادات کی حفاظت کیسے کر سکتی ہیں؟ ٹرمپ نے تو اپنا "ستم” دکھا دیا، لیکن بھارت اب بھی خوابوں کی دنیا میں کیوں جھولا جھول رہا ہے؟
یہ واقعہ بھارت کے لیے ایک تلخ سبق ہے، یا یوں کہیں کہ ایک زوردار جھٹکا! بین الاقوامی سیاست میں نہ کوئی مستقل دوست ہوتا ہے، نہ دشمن۔ ٹرمپ کی مسکراہٹیں اور مصافحے محض ایک ڈرامہ ہیں، جو امریکی مفادات کی دہلیز پر دم توڑ دیتے ہیں۔ بھارت کو اب اپنی خارجہ پالیسی کو حقیقت کی چٹان پر کھڑا کرنا ہوگا۔ امریکہ کے ساتھ ساتھ روس، یورپی یونین، جاپان، اور کواڈ جیسے اتحادوں سے تعلقات کو متوازن کرنا ہوگا۔ "میک ان انڈیا” جیسے اقدامات کو تیز کر کے معاشی خود مختاری حاصل کرنی ہوگی۔ دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط کرنا ہوگا تاکہ کوئی ٹرمپ دوبارہ طنزیہ جملے نہ اچھال سکے۔ یہ ستم ایک زخم ہے، لیکن یہ بھارت کے لیے ایک موقع بھی ہے کہ وہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہو اور دنیا کو بتائے کہ وہ کسی امریکی "کرم” کا محتاج نہیں، نہ ہی کسی کے "ستم” سے ڈرنے والا ہے!
Post Views: 2
Like this:
Like Loading...