Skip to content
پرگیہ ٹھاکر: عدالت بھول بھی جائے مورخ یاد رکھے گا
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
این آئی اے کی خصوصی عدالت کا بی جے پی کی سابق رکن پارلیمنٹ پرگیہ سنگھ ٹھاکر اور 6 دیگرملزمین کو مالیگاؤں دھماکہ کیس میں بری کر دینا تعجب خیز خبر نہیں ہےکیونکہ ’یہ تو ہونا ہی تھا ‘۔ ویسے 19؍اپریل کو امیت شاہ کی وزارتِ داخلہ کے تحت کام کرنے والی این آئی اے کا ان ساتوں کے لیے سخت سے سخت سزا کا مطالبہ حیرت ناک تھا۔ قومی تحقیقاتی ایجنسی نے 2008 کے مالیگاؤں بم دھماکہ کے تمام ملزمین پر چونکہ غیر قانونی سرگرمیاں(روک تھام) ایکٹ کی دفعہ 16 کے تحت کارروائی کی مانگ کا مطلب سزائے موت تھا ۔ ایک ہفتہ کے لیے اس فیصلے کا محفوظ کیا جانا تو معقول تھا مگر پھر اس میں ۷؍ ہفتوں کے التواء نے شک پیدا کیا کہ دال میں کالا ہے ۔ فیصلے کے عین پہلےوزیر داخلہ امیت شاہ نے ایوان ِ پارلیمان میں یہ اعلان کرکے کہ ’ ہندو دہشت گرد نہیں ہوسکتا‘ ۔ یہ کوئی معمولی اعلان نہیں بلکہ صحیح معنیٰ میں خصوصی عدالت کے جج لاہوتی کے لیے ایک دھمکی تھی ۔ وہ بھی اشارہ سمجھ گئے ۔ وانہوں نے جسٹس لویا کے انجام کو یاد کرکے سارے ملزمین کو بری کردیا۔
وزیر داخلہ پہلگام پر ہندو مسلم کھیلنے کےلیے جو مرضی میں آئے کہیں مگر اس حقیقت کا انکار نہیں کرسکتے کہ انگریزوں سے آزادی کے بعد ہندوستان میں پہلی دہشت گردی کا واقعہ گاندھی جی کا قتل تھا ۔ ناتھو رام گوڈسے نے اسے مسلمانوں کے منڈھنے کی خاطر مسلم کا روپ دھارن کرلیا تھا لیکن یہ حرکت خود ہندوتوانواز بیانیہ کے خلاف تھی۔ ایک طرف تو وہ گاندھی جی کو ہندوستان کی تقسیم کا ذمہ دارا ورپاکستان کو خزانہ کا حصہ دینے کےلیے مجرم قرار دیتے تھے ۔ مسلمانوں کو پاکستان نواز بتانے کے بعد گاندھی کے قاتل کو مسلمان بتانا چاہتے تھے ۔ یہ نا ممکن تھا؟ لیکن بزدلوں کو نہ اپنے بیانیہ پر اعتماد ہوتا ہے اور نہ اپنی تضاد بیانی کا احساس ہی ہوتا ہے۔ اس کے باوجود گودی میڈیا کی مدد سے وہ لوگ ایک مسلمان کو گاندھی کا قاتل قرار دینے میں کامیاب ہوسکتے تھے مگر خدا کا کرنا یہ ہوا کہ اس وقت گاندھی جی کے ساتھ پونے شہر کے نرہر وشنو گاڈگل موجود تھے۔ انہوں نے گوڈسے کو پہچان کر کہہ دیا کہ ارے ناتھو رام تونے یہ کیا کردیا؟ گاندھی جی ’ہے رام‘ کہہ کر دنیا سے سدھار گئے مگرآگے چل کر سنگھ پریوار رام مندر کا ہنگامہ کھڑا کرکے اقتدار پر قابض ہوگئے ۔ یہ ہے ان کی رام کہانی ۔
ناتھو رام گوڈسے کو گاندھی خاندان کے لوگ پھانسی سے بچانا چاہتے تھے مگر نہرو اور پٹیل نے کسی کی ایک نہیں سنی اور اس ہندوتوا نواز دہشت گرد کو کیفر کردار تک پہنچانے کے تختۂ دار پر لٹکا دیا۔اب یہ فیصلہ امیت شاہ کو کرنا ہے کہ وہ گوڈسے کو ہندو دہشت گرد سمجھتے ہیں یا اسے سادھوی پرگیہ کی طرح اپنا آئیڈیل مان کر کھلے عام تعریف و توصیف کرتےہیں ۔ وزیر اعظم نریندر مودی تو ایسی جرأت کا مظاہرہ نہیں کرسکے اس لیے مگر مچھ کے آنسو تو بہائے مگر سادھوی پرکارروائی کرنے کی ہمت نہیں جٹاپائے ۔ آنجہانی ہیمنت کرکرے کے قتل پر خوش ہوکر اسے اپنی بددعا کا اثر کہنے والی سادھوی پرگیہ کو ٹکٹ دے کر ایوان پارلیمان میں منتخب کروانے والے مودی خودکرکرے کی بیوہ سے تعزیت کے لیے ان کے گھر پہنچ گئے ۔ کویتا کرکرےنے انہیں ملے بغیر مدد کی پیشکش ٹھکرا کر بے رنگ لوٹا دیا ۔ امیت شاہ بتائیں کہ کویتا، مودی اور پرگیہ میں سےہندو کون ہے ؟ اندرا گاندھی کے قاتل سکھ تھے جنھیں سنگھ ہندو کہتا ہے اور راجیو گاندھی کو قتل کرنے والے تو ہندو تھے ۔ کیا وہ کوئی کسی مسلمان کے خلاف دھرم یدھ کررہے تھے؟ امیت شاہ کو بتانا پڑے گاکہ راون جس کےآخری لمحات میں لکشمن نے قدموں میں بیٹھکر علم حاصل کیا تھا آیا دہشت گرد تھا یا نیک صفت ہندو برہمن تھا ؟ کیا بلقیس خاندان کے قاتلوں کا دفع کرنے کی خاطر ان کے برہمن ہونے کا حوالہ دینے والا بی جے پی گودھرا کا رکن اسمبلی راون کی ذات نہیں جانتا اور وہ تو پہلا کاونڈ بھی تھا۔اسی لیے کل یگ کے کانوڈ پر اسی کی پیروی میں دنگا فساد کرتے ہیں۔
معروف تاریخ دان ہربنس مکھیا کے مطابق گاندھی جی کا قتل کرنے بعد قاتل نے فخر سے اپنے ہندو ہونے کا اعلان کرکے کہا تھا چونکہ وہ ہندو ہے اس لیے اس نے گاندھی جی کو مارا ہے۔ وہ ہندو مہاسبھا کا رکن تھا اور اس مہم سے قبل اس نے اپنےگرو ساوکر سے آشیرواد لیا تھا۔ ہربنس مکھیا طنز کرتے ہوئے کہتے ہیں (امیت شاہ جیسے لوگوں ) کے لیے صرف مسلمان ہی دہشت گرد ہوتا ہے۔ اگر وہ مسلمان ہوتا تو وہ بی جے پی کے لیے دہشت گرد ہو جاتا مگر چونکہ مسلمان نہیں تھا اس لیے نہیں سکتا۔ چاہے وہ گجرات میں ماریں یا مالیگاؤں میں، وہ دہشت گرد نہیں ہو سکتے وہ سارے سادھو سنت ہیں۔ امیت شاہ جس دن ایوان میں بیان دے رہے تھے اترپردیش کے سیانہ میں 2018کے اندر ہجومی تشدد کا شکار ہونے والے سبودھ کمار کے قتل کا فیصلہ آیا ۔ اس میں پرشانت نٹ، ڈیوڈ، جونی، راہل اور لوکیندر کو قتل کا مجرم پایا گیا ۔ کھلے عام وردی کے اندر ڈیوٹی پر موجود پولیس انسپکٹر کو اس کی پستول چھین کر قتل کرنے والے دہشت گرد نہیں تھے ۔
اس معاملے دیگر 38 لوگوں کا سرغنہ یوگیش راج بھی مجرم قرار دیا گیا اس کو تو بی جے پی نے پنچایت کا انتخاب جتایا تھا۔امیت شاہ بتائیں کہ وہ ان ہندو وں کو دہشت گرد نہیں مانتے؟ہیں یا نہیں ۔مالیگاوں دھماکے کے فیصلے کا موازنہ ممبئی ٹرین بلاسٹ مقدمے سے کرنے والوں کو دونوں کافرق ملحوظِ خاطر رکھنا چاہیے ۔ ٹرین بلاسٹ کے ملزم 19 ؍سال جیل میں رہے مگر سادھوی غالباً19 ؍دن بھی نہیں رہی۔ ٹرین دھماکے کا فیصلہ آتے ہی ریاست کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس نے افسوس وحیرت کا اظہار کرکے دھماکے میں مرنے والوں کو انصاف دلانے کی خاطر سپریم کورٹ میں جانے کا اعلان کیا۔ سالیسیٹر جنرل نے عدالت عظمی میں فیصلے پر روک لگانے کی وکالت کی مگر مالیگاوں بلاسٹ کے مجرم بری ہوئے تو وزیر اعلیٰ کومہلوکین کے ساتھ نا انصافی کا خیال نہیں آیا ۔ انہوں نے اس کے خلاف ہائی کورٹ سے رجوع نہیں کیا بلکہ اس پر توہندوتوا نوازوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ ان دومعاملات میں سب سے بڑا فرق یہ ہے کہ شواہد کی نوعیت کا ہے ۔
مالیگاوں بلاسٹ معاملے میں این آئی اے کی خصوصی عدالت نے شواہد کی کمی بہانہ بنایا اور سب کو رہا کردیا مگر ممبئی ٹرین بلاسٹ کا کیس جب مکوکا عدالت میں سنا گیا تو اس نے سارے ثبوتوں پر آنکھ موند کر یقین کرکے ۵؍ کو سزائے موت اور ۷؍ کو عمر قید کی سزا سنائی۔ ایک ملزم بری کردیا گیا ۔ یہ معاملہ ہائی کورٹ پہنچا جہاں ایجنسیوں کی جانب سے پیش کردہ بیس ہزار صفحات پر ضخیم فرد جرائم کا گہرائی سے پوسٹ مارٹم کیا گیا۔ اس مشق کے دوران گھڑے ہوئے الزامات کا انکشاف ہوا ۔ پتہ چلا ان ملزمین کو بے بنیاد ثبوتوں کی بنیاد پر پھنسایا گیا ہے۔ شواہد کا نہیں ملنا اور ثبوت گھڑنے میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ اس کے علاوہ تعذیب کے ذریعہ اقبالیہ بیان کی بات بھی ثابت ہوگئی ۔ فردِ جرم کو طول دینے کی خاطر کاپی پیسٹ کی شرمناک حرکت کے علاوہ دیگر تکنیکی خامیاں اور کمال بے پروائی بھی سامنے آئی۔ اس لیے ان دونوں مقدمات کا موازنہ درست نہیں ہے۔
یہاں سوال ہندو یامسلم دہشت گردی کا نہیں ہے ۔ پی ایف آئی پر اگر بے بنیاد الزامات کی آڑ میں ( جو ہنوز عدالت میں ثابت نہیں ہوئے) پابندی لگائی جاسکتی ہے تو ابھینو بھارت یا سناتن پربھات پر کیوں نہیں جس نے نہ صرف مالیگاوں بلکہ مکہ مسجد حیدرآباد، اجمیر شریف درگاہ اور سمجھوتہ ایکسپریس میں دھماکے کروائے۔ مالیگاوں بم دھماکے میں پرگیہ کی موٹر سائیکل کا استعمال ہوا اور فون پر اس نے کم لوگوں کی موت پر افسوس کا اظہار کیا۔مالیگاوں کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے، جج نے کہا، ’’استغاثہ معقول شک سے بالاتر جرم ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے۔ ملزمان کے خلاف سخت شبہ ہو سکتا ہے، لیکن صرف شک ہی انہیں سزا دینے کے لیے کافی نہیں ہے۔‘‘ یہاں سوچنے والی بات یہ ہے کہ استغاثہ اس وزیر داخلہ کا تنخواہ دار ملازم ہے جو کسی ہندو کو دہشت گرد ماننے کے لیے تیار ہی نہیں ہے۔ اس کے باوجود این آئی اے کے وکیل نے اپنے ضمیر کی آواز پر ان ملزمین کے لیے پھانسی کا مطالبہ کرکے کمال جرأت کا مظاہرہ کیا تھا اب اس بیچارے کا کیا ہوگا کوئی نہیں جانتا ۔ اس کے برعکس ٹرین دھماکہ کیس میں استغاثہ وہی ایجنسی تھی جس نے جھوٹے ثبوت پیش کیے تھے ۔ اس بڑے فرق کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے باوجود ہائی کورٹ کے ججوں نے اس سازش کو بے نقاب کرکے کمال دلیری کا مظاہرہ کیا اورنہایت مضبوط فیصلہ لکھا ۔ اس کے خلاف سالیسیٹر جنرل یہ نہیں کہہ سکے کہ رہا ہونے والوں کو دوبارہ گرفتار کیا جائے بلکہ روک لگانے کے لیے یہ حیلہ سازی کی اس کو نذیر بناکر مکوکا کے دیگر مقدمات میں کوئی فائدہ نہ اٹھا سکے ۔ یہ حکومت کی کمزوری کا اعتراف ہے۔
(۰۰۰۰جاری)
Post Views: 4
Like this:
Like Loading...