Skip to content
ممبئی ٹرین دھماکے اور مالیگاوں بلاسٹ کا تعلق
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
وطن عزیز میں دہشت گردی کے تعلق سے دوفیصلوں نے متضاد ردعمل کو جنم دیا اس لیے بہت سارے لوگ عدلیہ کے حوالے سے کنفیوژ ہوگئے۔ مالیگاوں اور ٹرین دھماکوں کو الگ الگ دیکھا جائے تو یہی ہوگا مگر جوڑ کر دیکھنے پر تصویر واضح ہوجاتی ہے۔ یہ دونوں دھماکے دراصل ابھینو بھارت کے تحت چلنے والی مہم کی دو کڑیاں ہیں جن میں ہندوتوا نواز عناصر دھماکے کرکے مسلمانوں کو بدنام کرتے تھے۔ مسلمانوں سے نفرت کرنے والوں کا مالیگاوں قبرستان ،اجمیردرگاہ ، حیدرآبادمکہ مسجد اور پاکستان جانے والی سمجھوتہ ایکسپریس پر حملہ کرنا قابلِ فہم ہے مگر ممبئی ٹرین بلاسٹ میں ہلاک ہونے والے چونکہ مسلمان نہیں تھے اس لیے کنفیوژن ہوتا ہے۔ اس طرز فکر کو سمجھنے کے لیے 2017 میں تریپورہ کے گورنر تتھاگتا رائے کے ایک ٹویٹ کو سامنے رکھا جائے تو تصویر صاف ہوجاتی ہے۔ موصوف نے یہ لکھ کر تنازعہ کھڑا کر دیا تھا کہ ہندو مسلم مسئلہ خانہ جنگی کے بغیر حل نہیں ہوگا۔ رائے نے اسے 1946 میں بھارتیہ جن سنگھ کے بانی شیاما پرساد مکھرجی کی ڈائری کا اندراج قرار دیا تھا۔
اب سوال یہ ہے کہ خانہ جنگی کیسے ہوگی؟ اس کی پہلی صورت تو یہ ہے کہ ردعمل میں مسلمان دہشت گردی پر اتر آئیں اور دوسری یہ کہ ہندووں کو ہلاک کرکے انہیں مسلمانوں کے خلاف دہشت گردی کے لیے اکسایا جائے ۔ ان دونوں صورتوں میں پہلی کی مثال مالیگاوں بم دھماکہ اور دوسری کی تمثیل ممبئی ٹرین بلاسٹ ہے۔ ہر دو صورت میں نتیجہ خانہ جنگی برپا کرکے تنازعہ حل کرنا یا اقتدار پر قبضہ کرنا ہے۔ ایسے میں ٹرین بلاسٹ کے ملزم کیوں چھوٹ جاتے ہیں ؟اس کو سمجھنے کے لیے ایک کہانی کو یاد کیجیے۔ پرانے زمانے میں ایک ماہر تیر انداز تھا ۔ وہ مختلف علاقوں کا دورہ کرکے مقامی تیراندازوں کو چیلنج کرتا ان کو شکست دے کر اپنی مہارت کا لوہا منواتا ۔ اس دوران وہ ایک گاوں میں پہنچا تو وہاں زمین پر ایک دائرہ بناتھا اور اس کے بالکل مرکز میں تیر لگا ہوا تھا ۔ وہ چونک گیا اور اس نے لوگوں سے پوچھا یہ کس کا کارنامہ ہے کیونکہ اس قدر درست نشانہ بازی تواس کے بس میں نہیں ہے ۔ گاوں والوں نے بتایا یہ کسی تیر انداز کا نہیں بلکہ ایک مصور کا کمال ہے۔ وہ پہلے دائرہ بناتا ہے پھر مرکزمیں تیر گھونپ دیتا ہے۔
ہندوتوا نواز دہشت گرد وں کویقین تھا کہ سرکاری ایجنسیاں ان کے دھماکوں کی تفتیش میں مسلم نوجوانوں کو دائرے میں جکڑ کر ان پر دہشت گردی کے الزامات جڑ دیں گی اور عدالت آنکھ موند کر ان جھوٹے الزامات کی بنیاد پر بے قصور ملزمین کو سزا سنا دیں گی ۔ مکوکا عدالت میں یہی ہوا مگر جب یہ معاملہ ہائی کورٹ میں پہنچا ۔ وہاں جج صاحبان نے آنکھیں کھول شواہد کودیکھا تو ان کی نظر چندھیا گئی ۔انہوں نے عصبیت کی عینک کے بغیر فیصلہ لکھا تو ریاستی وزیر اعلیٰ کو اس کے خلاف سپریم کورٹ کی جانب دوڑ لگانی پڑی۔ مالیگاوں کیس میں این آئی اے عدالت نے جب سادھوی پرگیہ سمیت سارے ملزمین کو رہا کیا تو فڈنویس نے ہائی کورٹ کا رخ نہیں کیا کیونکہ وہاں پھر فیصلہ بدلنے کا امکان ہے ۔ اس لیے ہندوتوانوازوں کی پیشانی سے دہشت گردی کا کلنک مٹ جانے کی خوش فہمی کا شکار ہوکر خاموش بیٹھ رہے۔
مالیگاوں کے معاملے میں سرکار نہ سہی تو متاثرین بمبئی ہائی کورٹ سے رجوع کریں گے کیونکہ انہیں گہری مایوسی ہوئی ہے اور وہ اسے چیلنج کرنے مصمم عزم رکھتے ہیں۔ بعید نہیں کہ ایک بار پھر ہائی کورٹ کا کوئی باضمیر جج نچلی عدالت کے فیصلے کو الٹ دے ۔ مالیگاؤں دھماکے سے بچ جانے والے انصاری احمد نے فیصلے پر کہا کہ عدالت نے مرنے والوں کے لواحقین کو 2 لاکھ روپے اور زخمیوں کو 50،000 روپے کا معاوضہ دےکرجرم کی سنگینی کو تسلیم کیا ہے۔ قیوم قاسمی بولے’’اس فیصلے سے عدالت پر ہمارا اعتماد کمزور ہوا ہے۔ ہم ہائی کورٹ، سپریم کورٹ اور جمعیۃ علماء ہند سے بھی رجوع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں‘‘۔ ماضی کے کئی مقدمات میں، ثبوتوں کی کمی کی وجہ سے ملزمین کو بری کر دیا گیا ہے۔انہیں یقین ہے کہ حکومت نے اس فیصلے کو متاثر کیا ہے۔ انصاف کی فراہمی ضروری ہے۔اس مقدمہ کے ایک وکیل شاہد ندیم چونکہ اسے صاف بری نہیں مانتے اس لیے وہ اس فیصلے کے خلاف بامبے ہائی کورٹ میں اپیل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
سنگھ پریوار اس فیصلے کو بھگوا دہشت گردی کی سازش کا بھانڈا پھوڑ کہہ کر کانگریس سے معافی کا مطالبہ کررہا ہے حالانکہ ہندو دہشت گردی کی اصطلاح سابق داخلہ سیکریٹری آر کے سنگھ نے وضع کی تھی۔ بی جے پی نے انہیں 10 سالوں تک وزیر اور رکن پارلیمنٹ بنا کر اپنے ساتھ رکھا تھا۔ کوئی مانے یا نہ مانے ہندوتوانواز ٹولے کی قدیم دہشت گردی میں ازسرِ نو 2002 کے اندر اٹل بہاری واجپائی کے دور میں روح پھونکی گئی ۔ اس کا سیاسی تناظریہ ہے کہ بابری مسجدکی شہادت کے بعدنرسمہا راو انتخاب ہار گئے ۔ بی جے پی نے حکومت بنانے کا دعویٰ کیا مگر اٹل بہاری اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے میں ناکام رہے 13؍ دن بعد انہیں استعفیٰ دیناپڑا ۔1996میں جنتا دل کے دیوے گوڑا وزیر اعظم بنے ۔ آپس کی لڑائی نے اندرا کمار گجرال کو وزیر اعظم بنایا۔1998 الیکشن کے بعد 13ماہ اٹل بہاری کی سرکار چلی اور گرگئی۔ 1999 میں پھر سے انتخاب ہواتو اٹل جی پھر سےوزیر اعظم بن گئے ۔ 2002 میں گجرات کا فساد ہوا تو اٹل جی نے اسٹیج پرمودی کو راج دھرم کا پالن کرنے کی تنقید کردی ۔ اس سے مودی کے مداح شدت پسند ہندو عناصر میں شدید مایوسی اور غم و غصہ پیدا ہوا ۔
کرنل پروہت نےاسی زمانے میں ( 2002-3 )میں معافی ویر ساورکر کی ابھینو بھارت نامی تنظیم کو پھر سے زندہ کرکےناتھو رام گوڈسے کی بہن کو اس کا صدر بنادیا۔ اس طرح کٹر برہمن فرقہ پرستوں کو منظم کرنے کا مقصد منتخب عوامی حکومت کی جگہ ہندوراشٹر کا قیام اور آئین کے بجائے ویدوں اور سمریتوں کے قوانین کا نفاذ تھا۔ اس تنظیم کو نیپال، اسرائیل اور ناگا انتہا پسندوں کی مدد حاصل تھی۔2004میں ایک عیسائی اطالوی خاتون سونیا گاندھی نے اٹل بہاری کو ہراکر ایک سکھ مذہب کے پیروکارمنموہن سنگھ وزیر اعظم بنا دیا ۔ اس طرح ہندوتوا نواز زبردست یاس و جھنجھلاہٹ کا شکار ہوکر اٹل کے بجائے اڈوانی کا مرید بن گئے۔ انتخابی سیاست کے تئیں مایوسی نے انہیں عملاً جدید ہندوستان کے پہلے دہشت گرد گوڈسے کی راہ پرگامزن کردیا۔ فطرتاً بزدل لوگوں نے بھگت سنگھ کی مانند اپنے ارادوں کا اظہار کرنے کے بجائےاپنی دہشت گردی کے ذریعہ مسلمانوں کو بدنام کرنے کی حکمت عملی بنائی تا کہ اسلام کو تشدد اور مسلمانوں کو دہشت گردی کا مترادف بنادیاجائے گا۔
مذکورہ بالا لائحۂ عمل کی ترویج میں ایل کے اڈوانی نے جملے’ ’اگرچہ سارے مسلمان دہشت گرد نہیں ہیں مگر سارے دہشت گرد مسلمان ضرور ہیں‘‘ نے بڑا کام کیا ۔ایسا اس لیے بھی کیا گیا تاکہ اگر زعفرانی دہشت گردی کا راز فاش ہوجائے تواسے مسلم دہشت گردی کا ردعمل کا جواز فراہم کیا جاسکے ۔ یہ فسطائی طاقتوں کی سوچی سمجھی اسکیم کا حصہ تھا اور ہے۔ اس کے بعدسمجھوتہ ایکسپریس ، مالیگائوں بم دھماکوں، مکہ مسجد اور اجمیر شریف بم دھماکوں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ ان تمام بم دھماکوں کے بعد شروع میں اندھا دھندمعصوم مسلم نوجوانوں کو گرفتار کیاجاتا تھا، اور ملک کی خفیہ ایجنسیاں اور ریاستی پولیس من گھڑت کہانیاں بنا کر پوری مسلم قوم کے خلاف شکوک وشبہات پیدا کرتی تھیں۔ہر ہفتے اخبارات میں آئی بی کے حوالے سے خبریں شائع ہونے لگیں کہ مختلف مسلم تنظیمیں اب دہلی ممبئی اور ملک بھر میں حملے کرنے والی ہیں۔
فسطائیت کو ایک دشمن کی ضرورت ہوتی ہے، اس لیے حقیقی دشمن کی غیر موجودگی میں اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لیے ایک دشمن ایجاد کیا گیا جو مسلمان تھا ۔ اس دوران ناندیڑ اور کانپور میں بجرنگ دل کے پارٹی دفاتر اور لیڈروں کے گھروں سے خودکار آتشیں اسلحہ جات اور دھماکہ خیز مواد کا ذخیرہ پکڑا گیا۔ وہاں ٹوپیاں اور نقلی داڑھیاں بھی پائی گئیں، لیکن ذرائع ابلاغ نے ا س ے نظر انداز کیا مگر بھلا ہو آنجہانی ہیمنت کرکرے کا انہوں نے اپنی ایمان داری اور بہادری سے زعفرانی دہشت گردی کو بے نقاب کردیا ۔2006ء میں مالیگاوں کے بڑے قبرستان اور مشاورت چوک میں بم دھماکوں کے بعد الٹا مسلمان نوجوانوں کو گرفتارکیا گیا تھا مگر2008ء ستمبر کوجب پھر سے مالیگاؤں کے بھکّو چوک پر زور دار بم دھماکہ ہوا اوراس میں ۷؍ افراد ہلاک اور 79 سے زائد زخمی ہوئے تواے ٹی ایس کے سربراہ ہیمنت کرکرے نے مسلمانوں کی آنکھ موند کر گرفتاریاں کرنے کے بجائے تفتیش کا آغاز کیا۔
ہیمنت کرکے دھماکے میں استعمال ہونے والی موٹر سائیکل کی مدد سے پرگیہ سنگھ ٹھاکر تک پہنچ گئے اور پھر کرنل پروہت کی ، گرفتاری نے ‘ہندو دہشت گردی ‘ کا خوفناک چہرہ اُجاگر کردیا۔ پروہت اور دیانند پانڈے کے قبضے سے ملنے والےتین لیپ ٹاپ میں ‘برہمن راشٹر’ کا بلیوپرنٹ اور انتہا پسند تنظیم ‘ ابھینو بھارت ‘ کی مکمل تفصیلات موجود تھیں۔ اس کے بعد گرفتاریاں ہوتی چلی گئیں اور سربستہ راز افشا ہوتے چلے گئے ۔ اب بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سرکاری دباو میں این آئی کی خصوصی عدالت نے ان شواہد کو نظر انداز کردیا ہے لیکن امیت شاہ جیسے لوگوں کی تردید کرنے لیے مورخ ہیمنت کرکرے کے ذریعہ فاش کیے جانے والے شواہد کا حوالہ دیتا رہے گا اور ان کی پیشانی پردہشت گردی کا کلنک ہمیشہ چمکتا رہے گا۔ سرکاری سرپرستی اس کو مٹا نہیں سکتی بلکہ اس نے تو اسے پاکستان سے امریکہ اور کینیڈا تک پھیلا دیا۔ اس کی قیمت ملک عوام چکا رہے ہیں۔
Post Views: 2
Like this:
Like Loading...