ایک فلم، کئی سوال:
’دی کیرالہ اسٹوری‘ پر قومی ایوارڈز کا تنازع
ازقلم: ڈاکٹر محمد عظیم الدین
(اکولہ، مہاراشٹر)
حالیہ دنوں میں، 71ویں قومی فلمی ایوارڈز میں فلم ’دی کیرالہ اسٹوری‘ کو بہترین ہدایت کاری اور بہترین سنیماٹوگرافی کے اعزازات سے نوازے جانے کے بعد ایک گہرا سماجی، سیاسی اور فکری تنازع ابھر کر سامنے آیا ہے۔ یہ کوئی محض ایک فلم کو انعام دینے کا معمولی واقعہ نہیں، بلکہ یہ بھارت جیسے کثیر الثقافتی اور کثیر الجہتی معاشرے میں فن، سچائی، سماجی ذمہ داری، اور ریاست کی کردار کے درمیان جاری کشمکش کی ایک نئی اور خطرناک مثال ہے۔ یہ معاملہ نہ صرف فلمی حلقوں میں تقسیم کا باعث بنا ہے، بلکہ اس نے قانون، عدلیہ، اور سیاست کے میدان میں بھی کئی بنیادی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اس تنازعے کا مرکز وہ بیانیہ ہے جو فلم پیش کرتی ہے: کیرالہ میں 32,000 خواتین کا جبری طور پر مذہب تبدیل کروا کر داعش جیسی دہشت گرد تنظیموں میں شمولیت اختیار کرنا۔ یہ وہ دعویٰ ہے جسے کیرالہ پولیس اور دیگر تفتیشی اداروں نے ہمیشہ مسترد کیا ہے۔
یہ تنازعہ محض ایک فلم کے گرد نہیں گھومتا، بلکہ یہ اس سے کہیں زیادہ وسیع اور گہری جڑوں والے مسائل کا عکاس ہے۔ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا ایک جمہوری معاشرے میں فنون لطیفہ کی آزادی کو سماجی حقائق اور ذمہ داریوں سے بالاتر قرار دیا جا سکتا ہے؟ اور اگر کوئی فلم اس قسم کے متنازعہ اور غیر مصدقہ بیانیے پر مبنی ہو، تو کیا اسے ملکی سطح پر سب سے بڑے اعزاز سے نوازنا اس بیانیے کو سرکاری توثیق دینے کے مترادف نہیں ہو گا؟ ’دی کیرالہ اسٹوری‘ کی ریلیز کے وقت ہی، کیرالہ ہائی کورٹ اور بعد ازاں سپریم کورٹ نے فلم سازوں کو یہ ہدایت دی تھی کہ وہ یہ تسلیم کریں کہ فلم میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کی کوئی مستند بنیاد نہیں ہے۔ اس کے باوجود، اس فلم کو قومی اعزاز سے نوازنا ایک پیچیدہ صورتحال کو جنم دیتا ہے۔
بین الاقوامی سطح پر بھی ایسی مثالیں موجود ہیں جہاں فنون لطیفہ اور سیاست کے درمیان کشمکش دیکھنے میں آئی ہے۔ مثلاً، 1930 کی دہائی میں جرمنی میں نازیوادی حکومت نے فن کو اپنے پروپیگنڈے کے لیے استعمال کیا، جسے ’اینٹارٹیٹ کُنسٹ‘ (Entartete Kunst) یا ’فاسد فن‘ کا نام دیا گیا۔ اسی طرح، سوویت یونین میں بھی ’سوشلسٹ ریئلزم‘ کے نام پر فن کو ریاستی نظریے کی ترویج کا ذریعہ بنایا گیا۔ ’دی کیرالہ اسٹوری‘ کے معاملے میں بھی، بعض ناقدین یہ خدشہ ظاہر کرتے ہیں کہ یہ فلم ریاستی پالیسیوں اور نظریاتی رجحانات کی عکاسی کرتی ہے، جو ایک خاص سیاسی بیانیے کو فروغ دینے کے لیے تیار کی گئی ہے۔ یہ وہ نکتہ ہے جو امریکی مفکر اور لسانیات کے ماہر نوم چومسکی (Noam Chomsky) کے ’پروپیگنڈہ ماڈل‘ سے مطابقت رکھتا ہے، جس میں وہ بتاتے ہیں کہ کس طرح کارپوریٹ میڈیا اور ریاستی ادارے ایک خاص بیانیہ بنانے اور اسے عوام میں پھیلانے کے لیے ایک دوسرے سے تعاون کرتے ہیں۔
فلم کو ملنے والے اعزازات نے اس بحث کو مزید تقویت دی ہے۔ جیوری کے اندر بھی اس فیصلے پر اختلافات سامنے آئے۔ ملیالی رکن پردیپ نائر نے اس فلم کو ’پروپیگنڈہ‘ قرار دیتے ہوئے اس کی مخالفت کی، جبکہ جیوری کے چیئرمین اشوتوش گواریکر نے اس کے فنّی پہلوؤں اور سماجی موضوع کی اہمیت کا دفاع کیا۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایک فلم کے فنّی پہلو اس کے اخلاقی اور سماجی اثرات سے زیادہ اہم ہو سکتے ہیں؟ معروف ماہرِ سماجیات ہربرٹ مارکیوس (Herbert Marcuse) کا نظریہ ہے کہ آرٹ کا مقصد صرف جمالیاتی لطف فراہم کرنا نہیں، بلکہ اسے معاشرتی شعور بیدار کرنے اور سماجی تبدیلی کی تحریک دینے کا ذریعہ بھی بننا چاہیے۔
یہ تنازع صرف فلمی دنیا تک محدود نہیں رہا، بلکہ اس نے سیاسی حلقوں میں بھی ہلچل مچا دی۔ کیرالہ کے وزیر اعلیٰ پنارائی وجین نے اس فیصلے کو ’سیکولرازم پر حملہ‘ قرار دیا اور کہا کہ یہ فلم جھوٹ پر مبنی ہے جو ریاست کی ثقافتی ہم آہنگی کو نقصان پہنچاتی ہے۔ اس قسم کے بیانات اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ اس فلم کو محض ایک تفریحی پروڈکٹ کے طور پر نہیں دیکھا جا رہا، بلکہ اسے ایک سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہ صورتحال ہمیں اس طرف لے جاتی ہے جہاں فن اور سیاست کی حدود غیر واضح ہو جاتی ہیں اور فن کا مقصد تفریح سے بڑھ کر نظریاتی جنگ کا حصہ بن جاتا ہے۔
عالمی تناظر میں اگر دیکھا جائے تو ایسی فلموں کا اثر معاشرتی رویوں پر کتنا گہرا ہوتا ہے، اس کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر، 1915 میں بننے والی امریکی فلم ’دی برتھ آف اے نیشن‘ نے سفید فام بالادستی اور کُو کلکس کلان (Ku Klux Klan) جیسی تنظیموں کو دوبارہ عروج بخشنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ اسی طرح، موجودہ دور میں بھی، مشرق وسطیٰ اور مغربی ممالک میں انتہا پسندی سے متعلق فلموں پر بحث ہوتی رہتی ہے۔ پیو ریسرچ سینٹر (Pew Research Center) کے ایک حالیہ سروے کے مطابق، میڈیا اور فلموں میں مذہبی اقلیتوں کی غلط تصویر کشی سے معاشرتی تفاوت اور نفرت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ فلمیں محض کہانی نہیں سناتیں بلکہ یہ معاشرے کے بیانیے کو بھی شکل دیتی ہیں۔
اس تنازعے کی ایک اور اہم جہت قانونی اور عدالتی ہے۔ سپریم کورٹ نے اگرچہ مغربی بنگال کی حکومت کی جانب سے لگائی گئی پابندی کو ختم کر دیا، لیکن اس نے یہ بھی واضح کیا کہ فلم سازوں کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ یہ عدالتی فیصلہ آزادیٔ اظہار کے حق اور سماجی ذمہ داری کے درمیان ایک نازک توازن قائم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ تاہم، یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ جب ایک فلم کو ’قومی ایوارڈ‘ مل جاتا ہے تو کیا وہ عدالتی ڈسکلیمر کے باوجود ایک سرکاری حقیقت کے طور پر تسلیم نہیں کی جاتی؟ اس پر سینیئر وکیل اور قانون دان جناب کپل سبل نے ایک موقع پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ایک ڈسکلیمر اس نقصان کو پورا نہیں کر سکتا جو غلط بیانیے پر مبنی فلم معاشرے میں پھیلا چکی ہو‘۔
بھارت جیسے ملک میں جہاں مذہب، ذات اور لسانیت کی بنیاد پر سماجی تفاوت پہلے ہی موجود ہے، ایسی فلمیں ان اختلافات میں مزید شدت پیدا کر سکتی ہیں۔ عالمی بینک (World Bank) کی ایک رپورٹ کے مطابق، صنفی مساوات اور سماجی ہم آہنگی کسی بھی ملک کی اقتصادی ترقی کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہے، اور اس میں دراڑ پیدا کرنے والے بیانیے ملک کی ترقی کے لیے ایک خطرہ ہیں۔
’دی کیرالہ اسٹوری‘ کا تنازع ہمیں ایک گہری فکری آزمائش میں ڈالتا ہے: کیا آرٹ محض تفریح کا ذریعہ ہے، یا یہ معاشرے کی تعمیر اور بگاڑ دونوں کا سبب بن سکتا ہے؟ اور اگر یہ دونوں ممکن ہیں، تو فن کی آزادی کی حدیں کہاں ختم ہوتی ہیں اور سماجی ذمہ داری کہاں سے شروع ہوتی ہے؟ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب فی الحال دھندلا ہے۔ لیکن ایک بات واضح ہے کہ اس فلم نے ایک ایسی بحث کو جنم دیا ہے جو آنے والے سالوں میں بھی بھارت میں فن، سیاست اور سچ کی حدود کو جانچتی رہے گی۔ یہ تنازعہ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ایک ایسی دنیا میں جہاں ’پوسٹ ٹروتھ‘ (Post-Truth) اور ’فیک نیوز‘ کا غلبہ ہے، سچائی اور افسانہ کے درمیان فرق کرنا نہ صرف مشکل ہوتا جا رہا ہے، بلکہ یہ ایک سیاسی ضرورت بنتا جا رہا ہے۔
#NationalAwards, #controversy, #TheKeralaStory,
