Skip to content
جمہوری بھارت: سیکولر اصولوں سے انحراف اور اقلیتوں کے بڑھتے مسائل
(USCIRF رپورٹ: بھارت میں مذہبی آزادی کی سنگین صورتحال کا آئینہ)
ازقلم:ڈاکٹر محمّد عظیم الدین،
صدر شعبہ اردو،آرٹس کامرس،
کالج، ییودہ، امراوتی، مہاراشٹر
موبائل:8275232355
بھارت، اپنی منفرد آئینی ساخت، سیکولر اقدار، گنگا جمنی تہذیب اور مختلف مذاہب کے پیروکاروں کے مابین صدیوں پر محیط بقائے باہمی کی بدولت، جمہوری دنیا میں ایک روشن مثال تصور کیا جاتا تھا۔ تاہم، بالخصوص 2014ء میں نریندر مودی کی زیرِ قیادت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے برسراقتدار آنے کے بعد، یہ منظرنامہ تیزی سے دگرگوں ہوا ہے۔ عالمی سطح پر مذہبی آزادی کا جائزہ پیش کرنے والے امریکی بین الاقوامی مذہبی آزادی کمیشن (United States Commission on International Religious Freedom: USCIR) کی 2025ء کی سالانہ رپورٹ، بھارت کے اسی زوال پذیر سیکولر تشخص کی ایک سنگین عکاسی کرتی ہے، جس میں ملک کو ”خاص تشویش والے ممالک” (Countries of Particular Concern – CPC) کی فہرست میں، افغانستان، برما، چین، کیوبا، ایران، نکاراگوا، نائجیریا، شمالی کوریا، پاکستان اور سعودی عرب جیسے ممالک کے ہمراہ، شامل کرنے کی سفارش کی گئی ہے؛ یہ امر نہ صرف بھارت کے لیے عالمی سطح پر باعثِ ندامت ہے بلکہ ملک میں مذہبی آزادی کے ابتر حالات کا بیّن ثبوت بھی فراہم کرتا ہے۔ 2024ء کے انتخابات کے دوران اور بعد ازاں، حکمران جماعت کے رہنماؤں کی جانب سے اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر اور گمراہ کن بیانات نے فرقہ وارانہ کشیدگی کو ہوا دی اور ملک گیر بے چینی کو فروغ بخشا۔
یہ رپورٹ محض ایک انتباہی اشارہ نہیں، بلکہ بھارت میں مذہبی آزادی کے خلاف بڑھتی ہوئی منظم ریاستی حکمت عملیوں کا ایک جامع خاکہ پیش کرتی ہے۔ اس میں عام شہریوں، اقلیتی رہنماؤں اور انسانی حقوق کے علمبرداروں کے خلاف انتقامی کارروائیوں، تشدد اور قتل کے واقعات کا تذکرہ کیا گیا ہے، جو ملک کے داخلی حالات کی سنگینی کی نشاندہی کرتا ہے۔ متعدد مقامات پر عبادت گاہوں کی مسماری جیسے واقعات بھارت کی مذہبی رواداری کی بنیادوں کو متزلزل کر رہے ہیں۔ رپورٹ نے بالخصوص انسدادِ دہشت گردی قوانین، مثلاً غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کا قانون (UAPA)، اور غیر ملکی چندہ کے ضوابط (FCRA) کے بیجا استعمال کو نمایاں کیا ہے، جنہیں اقلیتوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں پر دباؤ ڈالنے اور ان کی آواز دبانے کے لیے بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے، جس سے سول سوسائٹی کی فعالیت محدود ہو رہی ہے اور ملک کے جمہوری ڈھانچے پر سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں۔
بھارت کا آئین، جو 1950ء میں نافذ ہوا، اپنی اساس میں سیکولرزم کے اصول پر استوار ہے۔ 1976ء کی آئینی ترمیم نے اس کے دیباچے میں لفظ ”سیکولر” شامل کرکے اس عزم کو مزید پختگی بخشی۔ آئین کا آرٹیکل 25 ہر شہری کو ضمیر کی آزادی، اپنے مذہب پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ و اشاعت کا غیر مشروط حق فراہم کرتا ہے؛ یہ حق آئین ساز اسمبلی میں طویل غور و خوض کے بعد منظور کیا گیا تھا تاکہ تمام مذاہب کا یکساں احترام یقینی بنایا جائے اور عقیدے کی بنیاد پر کسی بھی قسم کے امتیاز کی نفی کی جا سکے۔ فریڈم ہاؤس جیسی عالمی تنظیمیں بھی بھارت کے آئین میں اظہارِ رائے اور مذہبی آزادی کی ضمانتوں کا اعتراف کرتی ہیں۔ تاہم، افسوسناک امر یہ ہے کہ حالیہ برسوں میں حکومتی پالیسیوں اور اقلیتوں کے خلاف روز افزوں تشدد نے اس آئینی وژن کو شدید گزند پہنچائی ہے، اور مودی حکومت کے دور میں وہ سیکولر جمہوری تشخص، جو کبھی بھارت کا طر? امتیاز تھا، بتدریج شکست و ریخت کا شکار ہے۔
نریندر مودی کی قیادت میں بی جے پی حکومت نے سیکولر جمہوریت کے اس تصور سے انحراف کرتے ہوئے ایک نئی سمت اختیار کی ہے، جس نے ملک کے سیکولر تانے بانے کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ USCIRF اور دیگر انسانی حقوق کی تنظیموں کی رپورٹس کے مطابق، حالیہ انتخابات میں بی جے پی رہنماؤں نے منظم انداز میں اقلیتوں کے خلاف بیانات داغے اور انتہا پسند ہندو نظریات، موسوم بہ ‘ہندوتوا’، کو فروغ دیا۔ خود وزیر اعظم نریندر مودی نے مسلمانوں کو ”گھس بیٹھیے” قرار دیا اور اپنی انتخابی مہمات میں ایسے فرقہ وارانہ بیانات دیے جو معاشرتی تقسیم کو گہرا کرنے کا باعث بنے۔ اس نوع کی تقاریر اور ہندو انتہا پسند جماعتوں کے خطابات نے فرقہ وارانہ ماحول کو مزید زہر آلود کیا اور ملک میں ایک مخصوص مذہبی طبقے کے خلاف اضطراب اور خوف کی فضا پیدا کی۔ امریکی محکمہ خارجہ کی رپورٹس اور انسانی حقوق کے گروہوں نے بھی اس امر کی نشاندہی کی ہے کہ حکومت نے ایک پولرائزنگ پالیسی اپنا رکھی ہے، جس سے معاشرے میں خوف و عدم تحفظ کا احساس فزوں تر ہو گیا ہے۔
حالیہ برسوں میں متعدد متنازع قوانین کا نفاذ بھی عمل میں آیا ہے جنہوں نے سیکولرزم کے تصور پر کاری ضربیں لگائی ہیں۔ 2019ء میں منظور شدہ شہریت ترمیمی قانون (CAA)، جس کے تحت ہندو دھرم سمیت چند مخصوص مذاہب سے تعلق رکھنے والے پناہ گزینوں کو قومی شہریت کا حق دیا گیا جبکہ مسلمانوں کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا، اس امتیازی پالیسی کی نمایاں ترین مثال ہے۔ مودی حکومت نے مارچ 2024ء میں اسے نافذ کرنے کے قواعد بھی جاری کر دیے، جس سے ملک میں ایک نیا تناؤ پیدا ہوا۔ CAA کے ساتھ ساتھ قومی شہری رجسٹر (NRC) کی منصوبہ بندی نے مسلمانوں میں یہ خدشہ پیدا کیا کہ انہیں شہریت سے محروم کیا جا سکتا ہے۔ اقوام متحدہ نے CAA کو ”بنیادی طور پر امتیازی” قرار دیا، جبکہ ہیومن رائٹس واچ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی اسے مسلم مخالف ٹھہرایا۔ ان قوانین کے علاوہ، کئی ریاستوں میں ”جبری تبدیلی? مذہب” کو جرم قرار دینے والے ضوابط اور گائے کے ذبیحہ پر پابندی کے قوانین نافذ کیے گئے ہیں، جنہیں عموماً مسلمانوں اور مسیحیوں کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے۔ فریڈم ہاؤس کی رپورٹ کے مطابق، ان قوانین کو وسیع پیمانے پر بروئے کار لا کر اقلیتی برادریوں پر عدالتی پابندیاں عائد کی گئی ہیں، جس سے ان کے حقوق مزید پامال ہو رہے ہیں۔ حکومت نے UAPA اور FCRA قوانین کا استعمال کرتے ہوئے مبینہ دہشت گردی کے الزام میں صحافیوں، این جی او کارکنوں اور سیاسی مخالفین کو گرفتار کیا، جس سے سول سوسائٹی پر جبر بڑھا ہے اور مقامی تنظیموں کی غیر ملکی امداد مسدود کر کے انسانی حقوق کے کاموں میں رکاوٹیں ڈالی گئی ہیں۔
فرقہ وارانہ مظالم اور نفرت انگیز واقعات میں بھی تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ USCIRF رپورٹ کے مطابق، سال 2024ء میں انتہا پسند ہندو گروہوں نے ناموسِ مذہب اور گائے کے تحفظ کی آڑ میں مسلمانوں پر حملے تیز کر دیے، جن میں قتل، تشدد، مکانات کی تباہی اور مساجد کی بے حرمتی جیسے واقعات شامل ہیں۔ ایک لرزہ خیز واقعے میں، ہریانہ کے علاقے نوح میں ہندو جلوس کے بعد مسلم دیہاتوں پر حملہ کیا گیا، جس کے بعد حکام نے سینکڑوں مسلم املاک کو غیر قانونی قرار دے کر مسمار کر دیا۔ اس کارروائی پر عدلیہ نے بھی سوال اٹھایا کہ آیا یہ ”نسلی صفائی” کے مترادف تو نہیں۔ شمال مشرقی ریاست منی پور میں فرقہ وارانہ فسادات نے سینکڑوں جانیں لیں اور ہزاروں افراد کو بے گھر کر دیا، جہاں ہندو اکثریت کی مبینہ سیاسی سرپرستی میں مسیحیوں اور قبائلیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ 1992ء میں بابری مسجد کی شہادت کے مقام پر رام مندر کی تعمیر اور اس کی افتتاحی تقریب کے بعد ملک بھر میں مسلمانوں پر حملوں کی ایک نئی لہر دیکھی گئی۔ حکومتی سطح پر بعض اوقات مساجد اور دکانوں کو غیر قانونی قرار دے کر مسمار کیا جاتا رہا، جس نے اقلیتی برادریوں میں عدم تحفظ کے احساس کو شدید تر کر دیا۔ بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کے خاتمے کے بعد بھی کشمیری حریت پسندوں اور مسلمانوں کے خلاف گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے، جس نے وہاں کے حالات کو مزید کشیدہ کر دیا ہے۔ عدلیہ پر بھی دباؤ بڑھنے کے شواہد ملے ہیں اور متاثرین کو انصاف فراہم کرنے کے بجائے بعض اوقات فرقہ وارانہ انتہا پسندوں کو تحفظ ملتا نظر آتا ہے۔
ان حالات پر انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ہیومن رائٹس واچ نے واضح طور پر کہا ہے کہ بی جے پی حکومت کی امتیازی پالیسیوں نے اقلیتوں کے خلاف تشدد میں اضافہ کیا ہے، اور عدالتیں بسا اوقات متاثرین کو ہی سزا یاب کرتی ہیں جبکہ زیادتیوں کے مرتکب افراد آزاد رہتے ہیں۔ اسی طرح، فریڈم ہاؤس نے رپورٹ کیا ہے کہ موجودہ حکومت نے اظہارِ رائے اور مذہبی آزادی کو محدود کر کے اقلیتوں کو اغوا، تشدد اور امتیازی سلوک کا شکار ہونے پر مجبور کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھی CAA کو بھارتی آئینی اقدار کے منافی قرار دیتی ہے، جس سے ملک کے سیکولر تشخص کو خطرہ لاحق ہے۔ دیگر ادارے جیسے UNHCR اور یورپی پارلیمنٹ نے بھی بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ”تشدد، بڑھتی ہوئی قوم پرستانہ بیان بازی اور اقلیت مخالف پالیسیوں” کا تدارک کر کے بین الاقوامی انسانی حقوق کے معیارات کا احترام کرے۔
USCIRF کی رپورٹ نے امریکی خارجہ پالیسی کے لیے کئی اہم سفارشات بھی پیش کی ہیں۔ رپورٹ میں بھارتی حکومت کو CPC قرار دینے کے علاوہ بھارت کی خفیہ ایجنسی (RAW) اور اس کے ایک سابق افسر وکاس یادو پر پابندیاں عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ رائٹرز کے مطابق، کمیشن کا کہنا ہے کہ اگر بھارت میں مذہبی آزادی کے حالات بہتر نہ ہوئے تو یہ امریکہ کے ساتھ اس کے سفارتی دباؤ، اقتصادی تعلقات اور سیکیورٹی شراکت داری پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ دریں اثنا، عالمی سطح پر بھارت کے خلاف تاثر بگڑ رہا ہے: یورپی پارلیمنٹ نے بھارت میں اقلیتوں پر تشدد اور امتیازی پالیسیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے، اور سلامتی کونسل کی ذیلی تنظیموں نے ہندو قوم پرستوں کی سرپرستی میں ہونے والی سرکاری کارروائیوں کے قانونی جائزوں کا مطالبہ کیا ہے۔
اندرونِ ملک کشیدگی کے علاوہ، بیرونِ ملک بھی بھارت پر دباؤ میں اضافہ ہوا ہے۔ کینیڈا اور امریکہ میں سکھ علیحدگی پسند کارکنوں کو نشانہ بنانے اور ان کے قتل کی مبینہ سازشوں میں بھارتی ریاستی ایجنسیوں کے ملوث ہونے کے الزامات پر شدید تنقید کی گئی ہے۔ واشنگٹن پوسٹ کی ایک رپورٹ نے انکشاف کیا کہ بھارتی انٹیلی جنس نے امریکہ میں سرگرم سکھ رہنماؤں کی نگرانی اور اغوا کے اہداف مقرر کیے تھے، جس سے امریکہ-بھارت تعلقات میں تناؤ پیدا ہوا ہے۔ بھارت نے سخت ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے امریکی اور کینیڈین سکھ رہنماؤں کے ویزے منسوخ کیے اور انہیں ملک میں داخلے سے روکا، یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ وہ علیحدگی پسندی میں ملوث ہیں۔ ان واقعات نے عالمی سکھ برادری میں انتقامی کارروائیوں کا خوف پیدا کیا ہے اور بھارت کی آمریت پسندانہ روش کو اجاگر کیا ہے، جس سے اس کی عالمی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
مجموعی طور پر، یہ منظرنامہ بھارت کے لیے ایک انتباہ ہے۔ ملک کے آئینی سیکولر اصولوں اور اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کبھی اسے دنیا کی ایک مضبوط جمہوری مثال بناتا تھا، لیکن اب ان بنیادوں پر خوف اور تنازعے کی فصل کاشت ہو رہی ہے۔ امریکی کمیشن اور دیگر بین الاقوامی تنظیموں کی رپورٹس اس امر کا واضح ثبوت ہیں کہ اگر بھارت نے اپنے آئینی سیکولر اصولوں کی جانب مراجعت نہ کی تو سفارتی اور اقتصادی سطح پر اسے کڑے فیصلوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ امید کی جانی چاہیے کہ ان اشاروں کو سمجھتے ہوئے بھارتی حکومت اصلاحات کا راستہ اپنائے گی اور آئینی تقاضوں کے مطابق تمام شہریوں کے لیے مساوی آزادی کو یقینی بنائے گی۔ بصورتِ دیگر، ملک کی ساکھ اور کروڑوں اقلیتی شہریوں کا تحفظ، دونوں ہی سنگین خطرات سے دوچار رہیں گے۔
==========
Post Views: 10
Like this:
Like Loading...