Skip to content
عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں
ازقلم:ڈاکٹر سراج الدین ندوی
چیر مین ملت اکیڈمی۔بجنور
نوجوان ملک و ملت کا عظیم سرمایہ ہیں۔ ہر اجتماعیت اپنے جوانوں پر فخر کرتی ہے۔ یہ عمر عزم، ہمت ، حوصلے اور کچھ کر دکھانے کے جذبہ سے سرشار ہوتی ہے۔ نوجوان طوفانوں کا رخ موڑ سکتے ہیں، پہاڑوں کا سینہ چیر کر راستا بنا سکتے ہیں، آسمانوں پر کمندیں ڈال سکتے ہیں۔ نوجوان اولاد اپنے والدین اور بزرگوں کا سر اونچا رکھ سکتی ہے، خاندان، قوم اور ملک کانام روشن کرسکتی ہے۔ جو قومیں اپنے نوجوانوں کی تعلیم و تربیت کا اہتمام کرتی ہیں ،ان کو میدان کارزار میں ہمیشہ کارپرداز میسر رہتے ہیں ۔اس کے برعکس جو قومیں اپنے نوجوانوں کی تعلیم و تربیت سے غافل رہتی ہیں ،وہ ہمیشہ اہل افراد کی عدم دستیابی کا رونا روتی ہیں۔ذلت و پستی ان کا مقدر بن جاتی ہے ۔
فرانس کو جب جنگ عظیم دوم میں شکست ہوئی تو اس کے صدر نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ:۔’’ ہم اس لیے ہارے کہ ہمارا نوجوان کرپٹ ہوگیا ہے۔‘‘پنڈت جواہر لال نہرو نے جب پنج سالہ یوجنا شروع کی تو صحافیوں نے ان سے پوچھا :۔’’ کیا یہ پنج سالہ یوجنائیں ہمارے ملک کی ترقی کے لیے کافی ہیں۔‘‘ انھوں نے اس کے جواب میں کہا تھا:۔’’ کسی ملک کی ترقی کا انحصار اس کے نوجوانوں کے کردار پر ہوتا ہے۔‘‘
آج ملت اسلامہ کی پسپائی کا ایک بڑا سبب یہ ہے کہ ہمارا نوجوان کرپٹ ہوگیا ہے۔اس کے سامنے کوئی بڑا مقصد نہیں،وہ بھول بھلیوں میں ٹامک ٹوئیں ماررہا ہے۔اس کی بہتر تعلیم و تربیت کا کوئی نظم نہیں ،گھروں کا ماحول بگڑا ہوا ہے ۔ اچھی درسگاہیں مفقود ہیں،جذبہ صادق رکھنے والے اساذہ کمیاب ہیں۔نتیجتاً ہر سطح اور ہر محاذ پر باصلاحیت افراد میسر نہیں ہیں۔نہ اچھے تاریخ داں ہیں نہ جغرافیہ داں،نہ ماہر اساتذہ ہیں نہ محققین،نہ معیاری درسگاہیں ہیں نہ تجربہ گاہیں،نہ مثالی وکلاء ہیں نہ ججز،نہ کامیاب تاجر ہیں نہ صنعت کار،نہ ممتاز صحافی ہیں نہ ڈاکٹرس،غرض کہ ہر شعبہ زندگی ہماری بہتر نمائندگی سے محروم ہے۔اچھے مقامات پر ہمارا اوسط دو تین فیصد ہے۔اسپتالوں ،جیلوں اور پولس چوکیوں پر ہماری اکثریت نظر آتی ہے ۔میں آپ کو یاس و قنوطیت میں مبتلا نہیں کرنا چاہتا صرف آپ کے ضمیر کو جھنجھوڑنا چاہتا ہوں تاکہ آپ نئی نسل کی تربیت کی طرف متوجہ ہوسکیں۔ہمارے نوجوان جو گلیوں ،چوراہوں ،سڑکو ں پارکوں میں آوارہ گھومتے پھرتے ہیں یہ دانش گاہوں اور تعلیم گاہوں میں نظر آنے لگیں۔
دراصل ہم نے نوجوانوں کو اچھا اور کارآمد بنانے پر کوئی توجہ نہیں دی ۔اسی ملک میں جب ہم برادران وطن کی تنظیم آر ایس ایس کو دیکھتے ہیں تو اس کی سوسالہ محنت کا پھل سب کے سامنے ہے ۔اس کو اپنے مقصد کے افراد ہر جگہ میسر اور دستیاب ہیں۔
ایسا نہیں ہے کہ ملت میں باصلاحیت افراد کی کمی ہے مگر ہمارا رویہ یہ ہوگیا ہے کہ ہم اپنے نوجوانوں کی صرف برائیاں شمار کرتے ہیں،اپنی تحریروں اور تقریروں میں ان برائیوں کا چرچا کرتے ہیں، ان پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں، ان پر لعن طعن کرتے ہیں،لیکن ہم کبھی اس پر غورنہیں کرتے کہ ان نوجوانوں کا استعمال کس طرح کیا جائے۔ یہ نوجوان نسل مسلم محلوں میں ادھر ادھر بھٹکتی ملے گی، خالی میدانوں میں گلی ڈنڈا اور کرکٹ کھیلتی نظر آئے گی، پان،بیڑی،گٹکا سے لے کر چرس، گانجا اور شراب پیتی پلاتی نظر آئے گی،سٹہ اورجوا کھیلتی ہوئی، راہ چلتی لڑکیوں کو تاکتی، جھانکتی اور چھیڑتی نظر آئے گی ، موبائل پر فحش اور فضول ویڈیوز میں وقت گزارتی ہوئی اورحیاسوز ویڈیو کلپ بنا کر وائرل کرتی ہوئی نظر آئے گی، اس کے چہرے پر مایوسی اور تکان دورسے ہی دیکھی جاسکتی ہے۔ یہ اندیشوں میں جی رہی ہے۔یہ ڈپریشن کا شکار ہے۔ اس کے سامنے نہ راستا ہے نہ منزل۔
اس لیے اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ نوجوانوں کو صحیح راستہ اور منزل دکھائی جائے تاکہ ان کو اپنی حیثیت اور اپنے مقام کا شعور پیدا ہوجائے اور ان پر ان کی طاقت وقوت منکشف ہوجائے ۔انہیں یہ احساس ہوجائے کہ انہوںنے اپنی توانا کلائیوں سے باطل کے بڑے بڑے طوفانوں اور سیلابوں کانہ صرف مقابلہ کیا ہے بلکہ اُن کا رُخ موڑاہے ،اگر ہمارے نوجوانوں کو اپنے اندر پوشیدہ طاقت اور اپنے اندر حقیقی مقصد زندگی کا احساس ہوجائے تو انہیں میں سے کل کو شاہ ولی اللہ محدث دہلوی، علامہ ابن تیمیہ، امام غزالی، مجد د الف ثانی اور امام رازی رحم اللہ علیہم جیسے مفکریں پیدا ہوسکتے ہیں۔بعض فسطائی تنظیمیں اپنے نوجوانوں کا استعمال نفرت میں اضافہ کرنے ،ایک اقلیت کو ہراساں کرنے اور تخریب کاری کے لیے کررہی ہے ،ان حالات میں مسلم نوجوانوں کی ذمہ داری ہے وہ آگے بڑھ کر اہل ملک کو محبت کا پیغام دیں ،قوم و ملت کے لیے مضبوط دفاعی دیوار بن جائیں اور تعمیری کارناموں سے ملک و ملت کا نام روشن کریں ۔
عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں
نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں
جب ہم نبی اکرم ﷺ کی قیادت میں اٹھنے اور برپا ہونے والی اسلامی تحریک جائزہ لیتے ہیں تو اس کی صف اول میں ہمیں نوجوان نظر آتے ہیں ۔حضرت خدیجہ ؓ اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو چھوڑ کر باقی تمام السابقون الاولون کی عمر تیس سال سے کم تھی ۔حضرت خدیجہ کی عمر اس وقت 55سال اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی عمر اس وقت 37سال تھی ۔ابتدائی دس سالوں میں ایمان لانے والے بیشتر صحابہ عمر میں ان دونوں سے چھوٹے تھے ۔اسی طرح بعد کے ادوار میں بھی جو تحریکیں اٹھیں ان کی قیادت و رہنمائی اگرچہ ان افراد کے ہاتھوں میں جن کی عمریں چالیس سال یا اس سے زیادہ تھی،مگر ان کا ساتھ دینے والے افراد میں بیشتر نوجوان تھے ۔
نوجوانوں نے اسلام کی ترقی میں کتنا اہم رول ادا کیا ہے۔مکہ کی وادیاں ہو ں یا مدینہ کی گلیاں ،بدرو احد کے غزوے ہوں یا طائف و حنین کے معرکے،ہر مرحلہ پر نوجوانوں نے اسلام کے لیے اپنی قربانیاں پیش کی ہیں اور اسلام کی عزت و سربلندی کو چار چاند لگائے ہیں!
یہ حضرت معصب بن عمیرؓ ہیں جن کا شمار قریش کے جیالے نوجوانوں میں ہوتا ہے، نہایت عیش وعشرت کی زندگی گزاررہے ہیں، مشہور ہے کہ جس لباس پر مکھی بیٹھ جاتی ہے اسے دوبارہ نہیں پہنتے، جس گلی سے گزرجاتے ہیں وہ گلی معطر ہوجاتی ہے، گھر میں سامان عیش وآرائش کی فراوانی ہے۔ایک سرمایہ دار گھرانے کا پروردہ یہ نونہال جب اسلام قبول کرتاہے تو اس کی عیش وعشرت اس سے چھین لی جاتی ہے، اسے مصیبت وتنگی کی چکی میں پیسا جاتا ہے لیکن اسلام کا یہ عاشق عیش وعشرت پر فقروفاقہ کو ترجیح دیتا ہے۔ اسلام کے لیے ہر ابتلاوآزمائش کا خندہ پیشانی سے استقبال کرتا ہے یہاں تک کہ جب اللہ کے راستہ میں شہید ہوتا ہے تو اس کے پاس کفن کے لیے کپڑا بھی نہیں۔ استعمال میں آنے والی ایک چھوٹی سی چادر ہے۔ چھوٹی بھی اتنی کہ سر ڈھانپتے ہیں تو پیر کھلے رہ جاتے ہیں، پیر ڈھانپتے ہیں تو سر خالی رہ جاتاہے۔ یہ دیکھ کر پیارے نبیؐ اورصحابہ کرامؓ کی آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں۔
ان واقعات سے انداہ لگایاجاسکتا ہے کہ عہد رسالت و عہد خلافت راشدہ کے بعد بھی ہر دور میں نوجوانوں نے اسلامی تاریخ میں کارہائے نمایاں انجام دیے ہیں۔محمد بن قاسم اور سلطان صلاح الدین ایوبی کے کارناموں سے کون نااقف ہوگا جنھوں 18-17سال کی عمر میں اسلام دشمن طاقتوں کو نہ صرف زیر کیا بلکہ تاریخ کے صفحات پر فتوحات کے امٹ نقوش ثبت کیے۔
کاش نوجوانان ملت اپنی تاریخ کے اوراق کا مطالعہ کریں اورعظمت رفتہ کی بازیابی کے لیے سراپا سعی و جہد بن جائیں۔
Like this:
Like Loading...