Skip to content
’ پپو‘ کہنے والوں کا سرغنہ کیسے خود پپو ہوگیا؟
راہل گاندھی کی تقریر 80% لوگوں کو پسند آئی جبکہ مودی کی تقریر کو 20%
ازقلم:عبدالعزیز
راہل گاندھی پندرہ بیس سال پہلے سیاست میں آئے ۔ ان کے سیاست میں آنے کے وقت ہی سے نریندر مودی اور ان کی پارٹی پر خطرہ منڈلانے لگا جس کی وجہ سے بھارتیہ جنتا پارٹی اور گودی میڈیا نے پورا زور لگا دیا راہل گاندھی کو پپو بنانے میں کوئی کسی باقی نہیں رکھی۔ اس کے لئے کروڑوں روپئے بھارتیہ جنتا پارتی نے خرچ کئے اور مرکز میں مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد ان پر مقدمے پر مقدمے دائر کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ انھیں ایک ایسے مقدمہ میں پھنسایا گیا جس سے ان کی پارلیمانی رکنیت بھی ختم ہوگئی۔ ای ڈی کے محکمہ نے ان کو اپنے دفتر میں بلا کر تقریباً پچاس گھنٹے پوچھ تاچھ کی لیکن جب راہل گاندھی جواب دینے میں نہ ہچکچائے اورنہ ہی خوف زدہ ہوئے تو ای ڈی کے سب سے بڑے افسر کو راہل گاندھی کو مخاطب کرکے کہنا پڑا کہ ’’راہل جی! آپ ڈرتے نہیں، اس لئے آپ نریندر مودی کو ہرا سکتے ہیں‘‘۔ ہر طرح کی پریشانی اور ہر طرح کی رکاوٹ ڈالنے اور ڈرانے دھمکانے کے باوجود راہل گاندھی سچائی کی راہ پر بے خوف و خطر گامزن رہے اور بھارت توڑنے والوں کے لئے بہت بڑا چیلنج بن کر ابھرے۔ آج حالت یہ ہے کہ راہل گاندھی کی مقبولیت نریندر مودی سے کئی گنا زیادہ بڑھ گئی ہے۔ پارلیمنٹ کے حالیہ سیشن میں راہل گاندھی کی تقریر کا نہ صرف ہندستان بھر کے لوگوں پر بلکہ دنیا بھر کے لوگوں کو شدت سے انتظار تھا۔ راہل گاندھی نے ایسی زور دار ، پُرجوش اور معنی خیز تقریر کی کہ جس سے بھاجپا کے سارے ممبران کے اوسان خطا ہوگئے اور پورا ایوان ہل سا گیا۔ مودی جی نے راہل گاندھی کی تقریر سے پہلے ہی راہ فرار اختیار کی۔ راہل گاندھی کو کہنا پڑا کہ انھیں ایوان چھوڑ کر بھاگنے میں ہی عافیت محسوس ہوئی۔ اپنی تقریر میں راہل گاندھی نے دلائل سے ثابت کیا کہ موجودہ حکومت کی خارجہ پالیسی اور بیانیہ پورے طور پر ناکام ثابت ہوئی۔ ’’آپریشن سیندور‘‘ کے بعد مختلف ملکوں میں ملک کی مختلف پارٹیوں کے نمائندوں کو بھیج کر یہ کوشش کرنا کہ ہندستان آپریشن سیندور کرنے میں حق بجانب تھا۔ یہ خود ایک ثبوت تھا کہ کسی ملک نے ہندستان کے بیانیہ کو نہ مانا اور نہ ہی پاکستان کی دہشت گردی کے مظاہرے کو قابل مذمت سمجھا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ مودی کی خارجہ پالیسی اس قدر ناکام ثابت ہوئی کہ کوئی ملک ہندو پاک کی جنگ کے دوران ہندستان کے ساتھ کھڑا نہیں ہوا، ہندستان الگ تھلگ پڑ گیا جبکہ پاکستان کے ساتھ کھلم کھلا چین اور ترکی ہر طرح سے کھڑا ہوا نظر آیا۔ نریندر مودی اپنی پیٹھ جس قدر تھپتھپا لیں اور اپنے آپ کو جس قدر بھی ’وِشو گرو‘ قرار دے دیں جنگ کے دوران ان کے سارے دعووں کی قلعی کھل گئی۔ یہ حقیقت راہل گاندھی نے اپنی تقریر سے نہایت اچھے لب و لہجے سے پیش کی۔ راہل گاندھی نے نریندر مودی کو چیلنج پر چیلنج دیتے ہوئے کہاکہ ’’ان کے دوست ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک بار نہیں بلکہ 32بار اپنے اس بیان کو دہرایا کہ ’’جنگ بندی ان کی کوششوں سے ممکن ہوئی‘‘۔ اس کا جواب صاف گوئی کے ساتھ نریندر مودی دینے سے قاصر رہے۔ اگر ان کے اندر دم ہے اور اندرا گاندھی کی پچاس فیصد بھی ان کے اندر جرأت ہے تو پارلیمنٹ کے اندر وہ کہیں کہ صدرِ امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ جھوٹا ہے، وہ جھوٹ بول رہا ہے‘‘۔
راہل گاندھی نے اپنی تقریر کی ابتدا میں کہاکہ ’’جنگ جیتنے کے لئے دو چیزوں کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ ایک سیاسی عزم و ہمت اور دوسری چیز فوجوں کو عمل کرنے کی مکمل آزادی‘‘۔ راہل گاندھی نے کہاکہ حکومت کے پاس نہ ہی سیاسی جرأت و ہمت تھی اور نہ ہی ہماری فوج کو عمل کرنے کی کھلی چھوٹ دی گئی تھی۔ فوجیوں کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے۔ اپوزیشن لیڈر نے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کی تقریر کے حوالوں سے بار بار ثابت کیا کہ ’’وزیر دفاع خود کہہ رہے ہیں کہ ہم نے پاکستان کو جنگ شروع ہونے کے چند منٹوں کے بعد باور کرا دیا تھا کہ ہم ان کے سیویلین یا فوجی اڈوں پر حملے نہیں کریں گے، ہم نے دہشت گردوں کے اڈوں پر حملے کر کے اپنا مقصد حاصل کرلیا ہے‘‘۔ راہل گاندھی نے مثال دیتے ہوئے کہاکہ جیسے کوئی اپنے دشمن کو ایک گھونسا مارنے کے بعد یہ کہے کہ تم کو اور زد نہیں پہنچائیں گے اور دشمن سے یہ امید رکھے کہ دشمن اپنے رد عمل کو ظاہر نہیں کرے گا۔ راہل گاندھی نے اس کی طرح کی بہت سی مثالوں اور باتوں کے ذریعے حکمراں جماعت کے لیڈروں کی تقریروں کو بے وزن اور بے معنی بتایا، جس کی امید نہ تو وزیر دفاع کر سکتے تھے اور نہ وزیر داخلہ اور نہ ہی وزیر اعظم۔
وزیر اعظم نریندر مودی کی ڈیڑھ دو گھنٹے کی تقریر میں کوئی نہ جواب دہی کی بات کہی گئی اور نہ کسی ایک سوال کا بھی نریندر مودی نے جواب دیا ۔ جو بھی جوابات دیئے گئے وہ گول مول تھے۔ ایسا لگ رہا تھا کہ نریندر مودی کے پاس جواب دینے کے لئے کوئی دلیل یا کوئی ثبوت نہیں تھا۔اس کی وجہ سے وہ اپنی تقریروں میں بے جا اور فضول باتوں کا سہارا لے رہے تھے۔ سابق وزیر اعظم جواہر لعل نہرو کا نام ان کو 14 مرتبہ لینا پڑا۔ جو شخص وزیر اعظم ہوتے ہوئے آج سے پچاس ساٹھ سال پہلے کے وزیر اعظم کی شخصیت پر حملہ آور ہو، اپنی کمزوریوں اور کوتاہیوں کو بیان کرنے کے بجائے اس کی کمزوریوں کو بیان کرے جس نے ہر طرح سے ملک کی آزادی میں حصہ لیا ہو۔ کئی سال اسے جیل میں گزارنا پڑا ہو۔ ہندستان کی تعمیر میں غیر معمولی کردار ادا کیا ہو۔ نریندر مودی کا بار بار جواہر لعل نہرو کا نام لینے پر کئی اپوزیشن لیڈروں نے مذاق اڑایا۔ ڈی ایم کے کی ایک لیڈر نے کہاکہ ’’نریندر مودی اور ان کی پارٹی کے لوگ جس جواہر لعل نہرو کا نام لیتے ہیں اس قدر ان کا نام کانگریس کے لیڈر بھی نہیں لیتے۔ اس کا مطلب تو صاف ہے کہ جواہر لعل نہرو میں کچھ بات تو ضرور تھی جس کی وجہ سے آج بھی وہ لوگ بھولنے سے قاصر ہیں جنھوں نے آزادی کی لڑائی میں کوئی حصہ نہیں لیا بلکہ انگریزوں کی وفاداری کی‘‘۔
شیو سینا (اودھو) کے لیڈر سنجے راوت نے چٹکی لیتے ہوئے بڑی معنی خیز بات کہی کہ ’’پہلگام میں جو کوتاہی سرزد ہوئی جس کی وجہ سے ہمارے ملک کے 26لوگوں کی جان گئی اس کی ذمہ داری آخر کون لے گا؟ جواہر لعل نہرو لیں گے، ٹرمپ لیں گے یا کوئی اور لے گا؟‘‘ آر جے ڈی کے لیڈر پروفیسر منوج جھا نے کہاکہ ’’نہرو کے نام کو بار بار دہرانے اور ان کے پیچھے چھپنے کی کوشش اتنی بار کی جارہی ہے کہ سنتے سنتے لوگوں کے کان پک گئے ہیں۔ کیوں نہ ایک بار جواہر لعل نہرو پر مقدمہ قائم کیا جائے اور کہا جائے کہ جواہر لعل نہرو حاضر ہوں‘‘۔ پرینکا گاندھی نے غیر معمولی تقریر کی اور حکمراں جماعت کی ٹوکا ٹوکی پر کئی بار کہا کہ ’’آپ ماضی کی باتوں کو کیوں دہرا رہے ہیں۔ آپ اپنی ذمہ داری بیان کیجئے کہ آپ نے دس گیارہ سال میں کیا کیا۔ اگر کانگریس سے الیکشن لڑنا ہے تو ای وی ایم کے بجائے بیلٹ پیپر سے الیکشن کرائیے تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا اور پتہ چل جائے گا کہ کتنے پانی میں ہیں‘‘۔
ایک بڑے کہنہ مشق صحافی نے راہل گاندھی اور نریندر مودی کی حالیہ پارلیمانی تقریروں کا سروے کرایا تو سروے میں 80فیصد لوگوں کو راہل گاندھی کی تقریر پسند آئی جبکہ نریندر مودی کی تقریر محض بیس فیصد لوگوں نے پسند کی۔ لوک سبھا کے ٹی وی لائیو کے سروے کا تناسب بھی کم و بیش اسی طرح کا ہے۔ سروے سے ظاہر ہوتا ہے کہ راہل گاندھی کی تقریر نریندر مودی کی تقریر سے چار گنا لوگوں کے لئے پسندیدہ تھی۔ نریندر مودی بھی ہاتھ ہلا ہلاکر راہل گاندھی کو پپو کہنے میں بہت مزا لیتے تھے لیکن اب وہ خود بھی اپنے کردار، گفتار اور نشست و برخاست سے پپو ہونے کا بھرپور مظاہرہ کر رہے ہیں۔ راہل گاندھی یا کانگریس کو نریندر مودی کو پپو بنانے کی کوشش نہیں کرنی پڑی بلکہ وہ خود اپنی مضحکہ خیز تقریروں اور بیانوں سے فی الحال مضحکہ خیز شخصیت بن گئے ہیں۔ 2024ء کے لوک سبھا الیکشن میں اس قدر اول فول بکتے رہے کہ آج تک لوگ ان کا مذاق اڑاتے ہیں۔ اپنے آپ کو ’اوتار‘ اور بھگوان قرار دینے سے بھی وہ ہچکچائے نہیں۔ یہاں تک انھوں نے کہہ دیا کہ ’’ان کی ماں نے ان کو جنم نہیں دیا بلکہ زمین پر ایک مقصد اور مشن کے تحت انھیں بھیجا گیا ہے‘‘۔ یہ بات وہی کہہ سکتا ہے جس کا دماغ پورے طور پر کام نہ کر رہا ہو۔ جہاں تک بھینسوں کی چوری، منگل شوتر چھیننے کی بات ، مغل، مٹن کی باتیں کچھ اس طرح سے مودی جی بیان کر رہے تھے جیسے ان کا دماغی توازن بکھر سا گیا ہو۔ پارلیمنٹ میں وہ موجود اس لئے نہیں رہتے کہ ان کو راہل گاندھی کی تقریر سننی پڑے گی جو ان کے شاید ناقابل برداشت ہو۔ مختصراً یہ کہا جاسکتا ہے کہ نریندر مودی اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود راہل گاندھی کو تو پپو نہیں بنا سکے بلکہ آج وہ خود پپو کے بھیس میں نظر آتے ہیں۔ خاص طور پر اس وقت جب وہ تقریر کرتے ہیں یا کسی معاملے پر بیان دیتے ہیں۔ دیکھا یہی گیا ہے کہ جو لوگ دوسروں کو بے عقل ثابت کرنے اور پاگل قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں وہ خود اپنے دماغی توازن کو کھو بیٹھتے ہیں۔
E-mail:azizabdul03@gmail.com
Mob:9831439068
Like this:
Like Loading...