Skip to content
خاندانی زندگی کا بکھراؤ : اسباب اور حل
ازقلم:محمد رضی الاسلام ندوی
اس ماہ علی گڑھ کا سفر محترم شفیع مدنی سکریٹری جماعت اسلامی ہند کے ساتھ ہوا تو مقامی جماعت کے ذمے داروں نے خواہش کی کہ ہم لوگ ان کے ماہانہ اجتماع میں شرکت کریں – علی گڑھ میں پانچ مقامی جماعتیں ہیں – ہر مہینے کے پہلے اتوار میں ان کا مشترکہ پروگرام دو گھنٹے کا ہوتا ہے –
پروگرام کی ابتدا میں ڈاکٹر ملک رشید ندوی نے سورۂ المؤمنون کی ابتدائی آیات کا درس دیا – اس کے بعد جناب شفیع مدنی کا خطاب ‘ہندوستانی مسلمانوں کو درپیش چیلنجز اور ان کا حل’ کے عنوان پر ہوا – انھوں نے سیاسی ، سماجی ، معاشرتی ، قانونی اور دیگر میدانوں میں مسلمانوں کو جن چیلنجز کا سامنا ہے ان پر روشنی ڈالی اور آخر میں ان کے حل کے لیے کیا لائحۂ عمل تیار کیا جائے؟ انہیں بیان کیا –
میں نے ‘خاندانی زندگی کا بکھراؤ : اسباب اور حل’ کے عنوان پر خطاب کیا – میری گفتگو کے نکات درج ذیل تھے :
(1) حدیث میں کہا گیا ہے کہ شیطان کو سب سے زیادہ خوشی اس بات سے ہوتی ہے کہ کوئی خاندان ٹوٹ جائے اور اس کا شیرازہ منتشر ہوجائے – (مسلم : 2813)
(2) موجودہ دور میں خاندان کا انکار کیا
جارہا ہے اور بغیر نکاح کے ایک ساتھ رہنے (Live in relationship) کو ایک پسندیدہ فلسفہ کی حیثیت سے پیش کیا جارہا ہے – جو لوگ خاندان کی ضرورت و اہمیت کے قائل ہیں ان لوگوں کا عملی رویّہ بھی خاندان کی بنیادیں کم زور کرنے والا ہے –
(3) خاندان کی بنیاد نکاح سے استوار ہوتی ہے – بچے ہوتے ہیں – وہ بڑے ہوتے ہیں تو والدین بڑھاپے کو پہنچ جاتے ہیں – اس طرح شوہر ، بیوی ، اولاد اور والدین سے خاندان کی تشکیل ہوتی ہے –
(4) آج کل افرادِ خاندان کے درمیان محبت و مودّت کی بہت کمی ہوگئی ہے – ان کے تعلقات میں خوش گواری کا فقدان ہے – شوہر اور بیوی ہوں یا اولاد اور والدین یا خاندان کے دیگر افراد ، ہر ایک کو بس اپنا مفاد عزیز رہتا ہے اور دوسرے کی مطلق پروا نہیں رہتی – مشترکہ خاندان کا تقریباً خاتمہ ہوگیا ہے – علیٰحدگی اور طلاق کے واقعات کثرت سے پیش آرہے ہیں – بچے والدین اور بڑوں کی سرپرستی سے محروم ہیں – خاندان کا انتشار اپنے عروج پر ہے – ضرورت ہے کہ سماجی مصلحین اس سماجی فساد پر توجہ دیں اور اصلاح کی پوری کوشش کریں –
(5) غور کیا جائے تو خاندان کے انتشار کے متعدد اسباب سمجھ میں آتے ہیں :
مادّیت کا غلبہ ، انا اور خود غرضی ، برداشت اور سننے کی صلاحیت کا فقدان ، دینی شعور کی کمی ، مشترکہ طور پر وقت نہ گزارنا ، سوشل میڈیا کے استعمال کا غلبہ اور اولاد کی تربیت کی کمی ، وغیرہ –
(6) اسباب کی تشخیص کے بعد مرض کا علاج آسان ہے – اسلام کی تعلیمات کا حوالہ دے کر افرادِ خاندان کے تعلقات میں خوش گواری پیدا کی جاسکتی ہے –
(7) اسلام افرادِ خاندان کے حقوق اور فرائض کے درمیان توازن پیدا کرتا ہے – وہ ان کے حقوق بتاتا ہے اور فرائض بھی – وہ کہتا ہے کہ اگر ہر ایک اپنے فرائض ادا کرنے پر توجہ دے تو دوسروں کو اپنے حقوق کا مطالبہ کرنے کی نوبت ہی نہیں آئے گی –
(8) اسلام نے رشتے داروں کے ساتھ صلہ رحمی پر بہت زور دیا ہے – نکاح کے ذریعے نئے رشتے قائم ہوتے ہیں – ان رشتوں کی پاس داری شوہر اور بیوی دونوں کی ذمے داری ہے –
(9) افراد خاندان کے ساتھ گھر میں کچھ وقت گزارا جائے اور انہیں گھر سے باہر بھی سیر و تفریح کے لیے لے جایا جائے – اللہ کے رسول ﷺ روزانہ کچھ وقت اپنی تمام ازواج کے ساتھ گزارتے تھے – انہیں سیر و تفریح پر لے جانے کے واقعات بھی کتابوں میں ملتے ہیں –
(10) کسی فرد سے کوئی غلطی سرزد ہوجائے یا کوئی کوتاہی ہوجائے تو عفو و درگزر کا معاملہ کرنا چاہیے – سورۂ تغابن میں معافی پر زور دینے کے لیے ایک ہی جگہ تین الفاظ لائے گئے ہیں – (آیت : 14)
(11) تعلقات میں خوش گواری کے لیے باہم مشاورت ضروری ہے – بیوی یہ نہ سمجھے کہ شوہر اس پر حکم چلا رہا ہے اور اس پر اپنی مرضی تھوپ رہا ہے – اللہ کے رسولﷺ اپنے چھوٹے بڑے تمام معاملات میں اپنی ازواج کو شریک مشورہ کرتے تھے –
(12) خاندان کی خوش گواری کے برابر اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے رہنا چاہیے کہ وہ اولاد اور شوہر کے لیے بیوی اور بیوی کے لیے شوہر کو آنکھوں کی ٹھنڈک بنادے –
(13) آج کل کے حالات میں ضرورت ہے کہ نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے ، جو نکاح کی عمر کو پہنچ گئے ہیں اور ان کا نکاح ہونے والا ہے یا حال میں ہوگیا ہے ، کونسلنگ کے ورک شاپس منعقد کیے جائیں ، جن میں ان کے پیش آمدہ مسائل میں نفسیاتی اور شرعی طور پر رہ نمائی کی جائے –
Post Views: 0
Like this:
Like Loading...