عدلیہ پر دیش بھکتی کا بھوت
ازقلم:ڈاکٹرسلیم خان
خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے ۔انتہاپسندانہ دیش بھگتی عدلیہ کی نہیں مقننہ کی مجبوری ہے کیونکہ تمام محاذوں پر ناکام مودی سرکار کے ہتھکنڈے بے نقاب ہورہے ہیں مگر عدلیہ کو اپنا کام کرنا چاہیے؟ ممبئی کی ہائی کورٹ سے لے کر دہلی میں عدالتِ عظمیٰ تک ہر جگہ قوم پرستی کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ عدلیہ کی دیش بھگتی کا ایک نظارہ پچھلے دنوں راہل گاندھی کے قضیہ میں سامنے آیا۔ انہوں نے بھارت جوڑو یاترا کے دوران جئے پورمیں کہا تھاکہ چین نے اروناچل پردیش میں 2000 مربع کلومیٹر ہندوستانی زمین پر قبضہ کر لیا ہے، اور 20 ہندوستانی فوجی شہید ہو گئے۔ یہ بیان سپریم کورٹ کو اتنا ناگوار گزرا کہ جسٹس دیپانکر دتہ اور جسٹس اے جی مسیح کی بنچ نے کہہ دیا چونکہ آپ ہندوستانی ہیں اس لیے یہ تبصرہ نہیں کرسکتے۔ سوال یہ ہے کیا کوئی تبصرہ شہریت کے لحاظ صحیح یا غلط ہوجاتا ہے؟ یا اس میں بیان کردہ حقائق کی بنیاد پروہ درست یا غلط ہوتاہے ؟ مثلاً کیا صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ہندوستان پر غیر معقول ٹیرف لگانا امریکی ہونے کے لحاظ سے درست ہے اور وزیر خارجہ جئے شنکر کا ہندوستانی ہونے کی حیثیت سے اسےمستردکرنا بھی صحیح بھی ہے۔ ایسے میں تیسرے فریق توعدل و انصاف کی بنیاد پر ایک کو درست اور دوسرے کو غلط ٹھہرا ئے گا ۔ عدلیہ کی یہی ذمہ داری ہے کہ وہ فضول تبصرے کرنے کے بجائےاپنا پرایا دیکھے بغیر بلا تفریق ملک و قوم قانون کے مطابق مبنی بر انصاف فیصلہ کرے یا معذرت کرلے۔
دیش بھگتی کے نشے میں چورسپریم کورٹ کے جج صاحب نے سوال کردیا کہ چین نے 2000 مربع کلومیٹر پر قبضہ کیا تو یہ آپ کو کیسے پتہ چلا؟ جج صاحب کومعلوم ہونا چاہیے کہ یہ انٹر نیٹ کا زمانہ ہے ۔اس دور میں سٹیلائٹ کے ذریعہ ملنے والی معلومات کی مدد سے ایک اجنبی اولا ڈرائیور بڑی آسانی سے ان کے دروازے پر پہنچ جاتا ہے ۔ جج صاحب اس سےسوال نہیں کرتے کہ آیااس کی معلومات قابل اعتماد تھی یا نہیں؟ ہندوستانی سرحد پر چینی قبضے کا سیٹیلائٹ عکس اور اس کی تفصیلات باوثوق ذرائع سے انٹر نیٹ پر موجود ہے اس لیے اگر جج صاحب سماعت سے قبل گوگل پر تھوڑی محنت کرکے آتےتوایسا بچکانہ سوال نہیں کرتے۔ آج کل آسمانی کیمرے زمین کے اندر چھپے خزانوں کی خبر دیتے ہیں لیکن ہمارے جج حضرات نہ جانے کس دنیا میں رہتے ہیں؟ جج صاحب نے یہ پوچھا کہ کیا تنازع کے وقت آپ وہاں موجود تھے ۔ اس منطق کے لحاظ سے تو عدالت کام ہی نہیں کرسکتی کیونکہ جب بھی کوئی جرم سرزد ہوتا ہے عدالت کے جج وہاں موجود نہیں ہوتے۔ وہ تو شواہد کی بنیاد پر مجرموں کو تختہٴ دار تک پہنچادیتے ہیں ۔ ایسے میں اگر ملزم یا اس کا وکیل یہ پوچھ بیٹھے کہ حضرت کیا آپ وہاں موجود تھے توان کے ہاتھوں سے طوطے اڑ جائیں گے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ راہل گاندھی نے تنازع کے بعد لداخ کا سفر بہت مشہور ہوا کیونکہ اس ان کا موٹر سائیکل سے سفر کرنا میڈیا میں موضوع بحث بن گیا تھا۔ اس دوران وہ عام لوگوں سے ملے اور چرواہوں تک نے بتایا کہ ان کی چراگاہیں اب چین کے قبضے میں ہیں۔ بی جے پی کے رکن پارلیمان تاپر گاؤنے ایوان کے اندرنام لے لے کر ایسے مقامات کی نشاندہی کی تھی کہ جن پر چین نے غاصبانہ قبضہ کررکھا ہے ۔ معروف ماحولیاتی کارکن وانگ چو نے بھی علی الاعلان یہ انکشاف کیا ہے۔ سوال یہ بھی ہے کہ اگر قبضہ نہیں ہوا تو دو ممالک کے فوجی افسران سرحدی تنازع سلجھانے کے لیے تقریباً دس بار کیوں ملے؟ یہ ایک حقیقت ہے کہ فوجی تصادم میں ہندوستانی فوجی ہلاک ہوئے اگر وزیر اعظم کے مطابق چین نہیں آیا تو اس کا مطلب وہ گئے اور ان کی ہلاکت حق بجانب ہوگئی نیز چین کو کلین چِٹ مل گئی۔ اس پر کوئی سوال نہیں کرتا لیکن راہل گاندھی حقیقت بیان کردے تو بھگتوں سمیت عدلیہ کو بھی مرچی لگ جاتی ہے۔جج صاحب نے جوش خطابت میں یہ بھی فرمایاکے کہ ایک سچا ہندوستانی یہ نہیں کہے گا یعنی راہل گاندھی کی ہندوستانیت کو مشکوک کردیا جس کابظاہرنفسِ مسئلہ سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
مذکورہ بالا مقدمہ میں تو خود مدعی نے بھی راہل گاندھی کی شہریت پر سوال نہیں اٹھایا تھا۔ اس کی فریاد تو بس یہ تھی کہ ان کے بیان سے فوج کی توہین ہوتی ہے۔ عدالت کو یہ فیصلہ کرنا تھا کہ اس حقیقت بیانی سے فوج کی توہین ہوتی ہے یا نہیں؟ لیکن مدعی سست اور قاضی چست کی مصداق وہ شہریت کی سچائی پر پہنچ گئے۔انہوں کچھ شہریوں کو سچا محب وطن اور باقی لوگوں کو جھوٹا قرار دے کر راہل گاندھی کو دوسرے زمرے میں شامل فرما دیا۔ کیا سچی یا جھوٹی شہریت کا سرٹیفکیٹ دیناعدلیہ کا کام ہے؟ پہلے تو انگریزوں کے تلوے چاٹنے والے سنگھ پریوار نے ان مسلمانوں کو وطن دشمن کا لقب دیا جنہوں نےجنگ آزادی میں سب سے زیادہ قربانیاں دی تھیں اور اب جج صاحب نے یہ ذمہ داری اپنے اوپر اوڑھ کر حزب اختلاف کے رہنما کی شہریت کوجعلی قرار دے دیا ۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس بناء پر انہیں ایک اہم عہدے سے ہٹا دیا جائے گا؟ جج صاحب نے یہ احمقانہ سوال بھی کیا کہ کیا آپ یہ سب کچھ اس وقت کہہ سکتے ہیں جب سرحد پر تنازع ہو؟ موصوف بھول گئے کہ راہل گاندھی نے یہ تبصرہ تنازع کے ڈھائی سال بعد کیا تھا ۔
آپریشن سیندور کے چند دن بعد ملک کے فوجی سربراہ نے بلوم برگ پر ایک انٹرویو میں اعتراف کیا تھا پہلے حملے کے بعد رک کر ہم نے اپنی کمیوں کا جائزہ لیا اور انہیں دور کرکے دوبارہ حملہ کیاتوکیااس اعتراف کو بھی کوئی فوج کی توہین کہہ کر عدالت سے رجوع کرسکتا ہے اور اس صورت میں سی ایس ڈی پر بھی اسی طرح کا تبصرہ کیا جائے گا؟ جج صاحب نےراہل گاندھی سے سوال کیا کہ آپ پارلیمنٹ میں سوال کیوں نہیں کرتے؟ ایون پارلیمان میں اس موضوع پر بحث ہوچکی ہے۔اس کے بعد کیا ان باتوں کو ملک کے رائے دہندگان تک پہنچانا کیا عوامی نمائندوں کی ذمہ داری نہیں ہے؟ ویسے ایوانِ پارلیمان میں جب حزب اختلاف کے رہنما کا مائیک بند کردیا جاتا ہے تب تو عدالت کچھ نہیں کہتی ۔ ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ اگر عام لوگ میڈیا اور سوشیل میڈیا کے اندر کسی مسئلہ پر بحث کرسکتے ہیں تو ان کے نمائندوں پر یہ پابندی کیوں کہ وہ ایوان کے اندر ہی سوال کریں؟ وزیر اعظم خود ایوان کے باہر 18 منٹ بھاشن دے کر اندر جاتے ہیں اور وہاں سے6 منٹ میں رفو چکر ہوجاتے ہیں۔ موجودہ حکومت چونکہ نہ تو حزب اختلاف کے رہنماوں کی بات سننے کی روادار ہے اور نہ ان کے سوالات کا جواب دینے کی زحمت گوارہ کرتی ہےاس لیے پارلیمنٹ کے اندر بات رکھنے کی نصیحت بے معنیٰ ہے۔
سپریم کورٹ کی بینچ نے یہ بھی کہا کہ اظہار رائے کی آزادی کا مطلب غیر ذمہ دارانہ بیان بازی نہیں ہے۔ مقننہ کی ذمہ داری کیا ہے اور کیا نہیں؟ اس کافیصلہ عدالت نہیں کرسکتی ۔ اس کا کام تو یہ دیکھنا ہے کہ کوئی بیان غلط ہے یا درست؟ اس کو غیر ذمہ دارانہ قرار دے کر سرزنش کرنا عدلیہ کے حدود سے تجاوز ہے۔اس سے قبل راہل گاندھی کی رکنیت کے معاملے میں سیشن اور ہائی کورٹ کی زیادتی کو سپریم کورٹ نے مسترد کردیا تھا۔ اس بارنچلی عدالت سے انہیں سمن ملا تو کیس کو خارج کروانے کے لیے وہ الہ آباد ہائی کورٹ گئے۔ وہاں مئی 2025 میں ان کی درخواست کویہ کہہ کر مسترد کر دیا گیا کہ آزادیٔ اظہارکے تحت فوج کے خلاف توہین آمیز بیانات دینے کی اجازت نہیں ہے۔ اس کے بعدراہل گاندھی نے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایاتو راحت کے ساتھ دیش بھگتی پر ایک لمبا چوڑا پروچن مل گیا۔بدقسمتی سےعدالتوں میں آج کل انصاف کم اور نصیحت زیادہ ملتی ہے۔ پچھلے دنوں ممبئی کے اندر غزہ کی حمایت میں ایک مظاہرے کو انتظامیہ نے روک کر منتظمین کو حراست میں لے لیا تو اس زیادتی کے خلاف جو لوگ عدالت میں گئے ان کو بھی انصاف کے بجائے انتہائی افسوسناک بھاشن ہی ملا۔
سی پی آئی (ایم)کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے جج صاحب نے فرمایا،’ہمارے ملک میں بہت سے مسائل ہیں۔ … مجھے یہ کہتے ہوئے دکھ ہو رہا ہے کہ آپ غزہ اور فلسطین کو تو دیکھتے ہیں لیکن یہاں کی چیزوں کو نظر انداز کر رہے ہیں، آپ اپنے ملک کے لیے کچھ کیوں نہیں کرتے؟ اپنے ملک کو دیکھیے، دیش بھگت بنیے، لوگ کہتے ہیں کہ وہ محب وطن ہیں، لیکن یہ دیش بھگتی نہیں ہے۔ پہلے آپ ملک کے شہریوں کے لیے حب الوطنی کا مظاہرہ کیجیے۔‘عدالت کا کہنا تھا کہ پارٹی کو سب سے پہلے کوڑے-کچرے، آلودگی، نالوں وغیرہ جیسے مسائل کے خلاف احتجاج کرنا چاہیے، اس نے یہ بھی کہا کہ باہر کیا ہو رہا ہے، یہ خارجہ پالیسی کا معاملہ ہے اور اسے حکومت پر ہی چھوڑ دینا چاہیے۔اظہار رائے کی آزادی ایسا بنیادی حق ہے جسے ملک کا آئین بھی تسلیم کرتا ہے۔ غزہ کے مظالم پر اس قدر سفاکانہ رویہ ظاہر کرتا ہے کہ عدالت کے اندر کچھ جج صاحبان کی فسطائیت سیاستدانوں سے بھی دو قدم آگے ہے ۔ اعلیٰ عہدوں کی ہوس میں سرکار کی نازبرداری کرنے والے ابن الوقتوں نے عدلیہ کے وقار کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
#patriotism, #judiciary,
