Skip to content
ڈاکٹر روبوٹ، مگر نرس انسان:
مستقبل کے ہسپتال کی کہانی
ازقلم: ڈاکٹر محمد عظیم الدین
(اکولہ مہاراشٹر)

یہ امر اب کسی سے پوشیدہ نہیں کہ مصنوعی ذہانت (AI) نے صحت کی دیکھ بھال کے شعبے میں ایک ایسی تبدیلی کی داغ بیل ڈال دی ہے، جو طبی تشخیص اور علاج کے روایتی طریقوں کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ رہی ہے۔ گوگل ڈیپ مائنڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر، ڈیمس ہاسابیس کا حالیہ بیان اس بحث میں ایک نیا موڑ لایا ہے کہ مصنوعی ذہانت میں اتنی صلاحیت موجود ہے کہ وہ آئندہ دس برسوں میں ڈاکٹروں کے کئی اہم فرائض انجام دے سکتی ہے، لیکن نرسوں کے کردار کو وہ کم نہیں کر سکتی۔ یہ بیان محض ایک تکنیکی پیش گوئی نہیں ہے بلکہ ٹیکنالوجی کی طاقت اور انسانیت کے لازوال رشتے کے درمیان ایک نازک توازن کی جانب اشارہ ہے۔ یہ ہمیں اس سوال پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے کہ ایک ایسی دنیا میں جہاں مشینیں ڈیٹا کو پرکھ کر زندگی اور موت کے فیصلے کر سکتی ہیں، وہاں انسانی ہمدردی اور شفقت کا کیا مقام رہ جائے گا؟ درحقیقت، مصنوعی ذہانت کا سفر 1950 کی دہائی میں ایلن ٹیورنگ جیسے سائنسدانوں کے نظریاتی کام سے شروع ہوا، لیکن آج کی مصنوعی ذہانت، جو ڈیپ لرننگ اور نیورل نیٹ ورکس کی بنیاد پر کھڑی ہے، اس کا ماضی سے موازنہ کرنا ایک نئی دنیا میں قدم رکھنے کے مترادف ہے۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) کے اعداد و شمار کے مطابق، دنیا کو 2030 تک طبی عملے کی شدید کمی کا سامنا کرنا پڑے گا، خاص طور پر ترقی پذیر ممالک میں۔ ایسے میں مصنوعی ذہانت ایک مثالی حل کے طور پر ابھر کر سامنے آتی ہے، جو نہ صرف طبی عمل کو تیز کر سکتی ہے بلکہ ڈاکٹروں کی کمی والے علاقوں میں درست اور مؤثر تشخیص کو بھی ممکن بنا سکتی ہے۔ ڈیمس ہاسابیس کا کہنا ہے کہ "اگلے پانچ سے دس سالوں میں، ہم مصنوعی ذہانت کو ایکس رے، ایم آر آئی اور دیگر امیجنگ اسکینز کی تشریح میں ڈاکٹروں سے بہتر کارکردگی دکھاتے دیکھیں گے۔” ڈیپ مائنڈ کا میڈ-پالم (Med-PaLM) ٹول اس کا ایک زندہ ثبوت ہے، جس نے طبی سوالات کے جوابات دینے میں کئی انسانی ڈاکٹروں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی پیٹرن ریکوگنیشن کی بنیاد پر کام کرتی ہے، جہاں یہ ڈیٹا کے بڑے سیٹ سے سیکھ کر غلطی کی شرح کو کم کرتی ہے۔

اس نئے تکنیکی دور میں ڈاکٹروں اور نرسوں کے کردار میں ایک نئی تفریق سامنے آ رہی ہے۔ ایک ڈاکٹر کا کام بنیادی طور پر تجزیاتی اور تشخیصی ہوتا ہے، جس میں وہ علامات، رپورٹس اور مریض کی تاریخ کی بنیاد پر بیماری کی نوعیت اور علاج کا فیصلہ کرتا ہے۔ یہ وہ میدان ہے جہاں مصنوعی ذہانت اپنی بہترین صلاحیتوں کا مظاہرہ کر سکتی ہے۔ اعداد و شمار اور تصویروں کے تجزیے میں اس کی درستگی حیران کن حد تک زیادہ ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر، بین الاقوامی جریدے ‘نیچر’ میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں یہ بتایا گیا کہ آنکھوں کی بیماریوں کی تشخیص میں مصنوعی ذہانت کی درستگی 94 فیصد تک پہنچ گئی، جو کہ انسانی ڈاکٹروں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ اس کے برعکس، نرسوں کا کردار اس سے بالکل مختلف ہے۔ یہ کردار بنیادی طور پر انسانی رابطے، ہمدردی اور جذباتی تعاون پر مبنی ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں مصنوعی ذہانت کی تمام تر صلاحیتیں اپنی حدود کو چھو لیتی ہیں۔ ڈیمس ہاسابیس کا بھی یہی نقطہ نظر ہے، وہ کہتے ہیں کہ "ہم مصنوعی ذہانت کو روبوٹ کی شکل میں نرسنگ کے کچھ کاموں کے لیے تیار کر سکتے ہیں، جیسے مریض کی نگرانی اور دوائیوں کا انتظام، لیکن اس میں کبھی بھی انسانی گرم جوشی اور ہمدردی نہیں ہوگی۔” نرسیں محض مریضوں کا علاج نہیں کرتیں بلکہ انہیں جذباتی سہارا بھی دیتی ہیں۔ ایک مطالعے کے مطابق، انسانی ہمدردی اور شفقت پر مبنی دیکھ بھال مریض کے درد کو کم کرتی ہے اور اس کے صحت یاب ہونے کی رفتار کو بڑھاتی ہے۔ انسانی دماغ کا وہ حصہ جو جذبات کا ادراک کرتا ہے، جسے ایمپیتھی کہا جاتا ہے، وہ ایک پیچیدہ حیاتیاتی عمل ہے جسے مصنوعی ذہانت ابھی تک نہیں سمجھ سکتی۔

مصنوعی ذہانت کی آمد کے ساتھ جہاں بے شمار فوائد سامنے آ رہے ہیں، وہیں کئی اخلاقی اور معاشرتی سوالات بھی جنم لے رہے ہیں۔ ان میں سب سے اہم ملازمتوں کا مستقبل ہے۔ ڈاکٹروں کو مصنوعی ذہانت کے ساتھ کام کرنے کے لیے نئی مہارتیں سیکھنی پڑیں گی، جو شاید ان کے موجودہ فرائض میں ایک بنیادی تبدیلی لائے۔ تاہم، نرسوں کی اہمیت اس کے برعکس بڑھے گی۔ جب ڈاکٹروں کے فرائض میں سے تشخیصی کام کم ہوگا، تو نرسیں مریضوں کے ساتھ براہ راست انسانی تعلق اور دیکھ بھال پر زیادہ توجہ دے پائیں گی۔ یہ تبدیلی معاشرتی اقدار کو بھی متاثر کرے گی، جہاں جذباتی محنت اور دیکھ بھال کی قدر میں اضافہ ہو گا۔ لیکن اس کے ساتھ ہی مصنوعی ذہانت کی تشخیص پر بھروسہ کرنے سے اخلاقی ذمہ داریوں کا ایک نیا جال بنے گا۔ اگر مصنوعی ذہانت کی وجہ سے کوئی غلط تشخیص ہوتی ہے، تو اس کا ذمہ دار کون ہو گا؟ ڈیمس ہاسابیس اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت کو "شفاف” بنانے پر زور دیتے ہیں تاکہ یہ ایک "بلیک باکس” نہ بنے، جس کے فیصلے کی منطق کوئی نہ سمجھ سکے۔ فلسفیانہ سطح پر، مصنوعی ذہانت کبھی بھی حقیقی ہمدردی کو حاصل نہیں کر سکتی، کیونکہ یہ انسانی دماغ کے مخصوص حصوں سے جڑی ایک پیچیدہ جذباتی کیفیت ہے۔ یہ صرف نقالی کر سکتی ہے، مگر اس کا تجربہ نہیں کر سکتی۔ تحقیق سے یہ واضح ہے کہ مصنوعی ذہانت کی "ایمپیتھی” صرف ایک سافٹ ویئر کا فنکشن ہے، ایک پروگرام شدہ ردعمل، حقیقی انسانی جذبہ نہیں۔ اس لیے صحت کی دیکھ بھال کے شعبے میں مصنوعی ذہانت کا سب سے مؤثر استعمال یہ ہے کہ یہ ڈاکٹروں کو ان کے وقت کو زیادہ مؤثر طریقے سے استعمال کرنے کا موقع فراہم کرے۔ ایک رپورٹ کے مطابق، مصنوعی ذہانت کے ذریعے ڈاکٹروں کا 30 فیصد سے زیادہ وقت بچایا جا سکتا ہے، جو وہ مریضوں کے ساتھ زیادہ بات چیت اور دیکھ بھال میں گزار سکتے ہیں۔ اس طرح ڈاکٹر اور نرس دونوں مل کر ایک بہتر اور متوازن ماحول فراہم کر سکتے ہیں، جہاں ٹیکنالوجی کی درستگی اور انسانی ہمدردی کی گرم جوشی یکجا ہو جائے۔
مستقبل کا صحت کی دیکھ بھال کا نظام ایک ہائبرڈ ماڈل پر مبنی ہو گا، جہاں مصنوعی ذہانت اور انسانی تعاون کی بنیاد پر کام ہو گا۔ ہاسابیس کا خواب ہے کہ مصنوعی ذہانت کی مدد سے ہم بیماریوں کو زیادہ تیزی سے ختم کر سکیں گے، لیکن اس کے ساتھ ہی وہ یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ نرسوں کا جذباتی کردار ہمیشہ اپنی جگہ برقرار رہے گا۔ اس نئی دنیا میں کئی چیلنجز بھی ہوں گے، جن میں ڈیٹا کی رازداری اور مصنوعی ذہانت میں ممکنہ تعصبات (bias) شامل ہیں۔ لیکن یہ تمام چیلنجز انسانیت اور ٹیکنالوجی کے درمیان ایک نئے رشتے کی تعمیر کا حصہ ہیں۔ آخر کار، مصنوعی ذہانت کی ترقی کا مقصد انسانیت کو بدلنا نہیں بلکہ اسے بہتر بنانا ہے، اور صحت کی دیکھ بھال کے شعبے میں یہ تبدیلی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ انسانیت کا جوہر محض ذہانت میں نہیں بلکہ ہمدردی اور شفقت میں پوشیدہ ہے۔
Post Views: 2
Like this:
Like Loading...