Skip to content
’نہ ڈرو نہ ڈراؤ‘ مختلف مذاہب کا پیغام‘
راہل گاندھی کی لوک سبھا میں تاریخ ساز تقریر
ازقلم: عبدالعزیز
اس میں کوئی شک نہیں کہ کئی دنوں سے راہل گاندھی کی تقریر بحیثیت لیڈر آف اپوزیشن لوک سبھا میں نہ صرف ملک ہندستان کے لوگ بلکہ دیگر ممالک کے لوگ بھی سننا چاہتے تھے۔ راہل گاندھی کی تقریر لوگوں کی امید اور توقع سے کہیں زیادہ بڑھ کر ہوئی۔ ایسی غیر معمولی تقریر جس کی مثال کسی بھی اپوزیشن لیڈر کی طرف سے مشکل سے ملتی ہے۔بہت سے سیاسی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ لوک سبھا میں اپوزیشن کے کسی لیڈر کی طرف سے حکومت کو اس قدر لرزہ براندام کردینے اور اسے مدافعت پر مجبور کردینے والی تقریر نہیں ہوئی ہے۔انگریزی اخبار ’دی ہندستان‘ کے ایڈیٹر ونود شرما کا خیال ہے کہ اٹل بہاری واجپئی نے جب احمد آباد میں گجرات کے فرقہ وارانہ فسادات کے بعد نریندر مودی کو ’’راج دھرم کا پالن ‘‘ کی ہدایت کی تھی جس کی وجہ سے مودی پورے طور پر Defensive (دفاعی) ہوگئے تھے۔یہ دوسری بار ہے جب مودی کو اپنے دفاع پر بیحد پریشانی ہوئی اور مجبوراً دوبار اٹھ کر راہل گاندھی کو جواب دینا پڑا۔ ہندستانی پارلیمنٹ میں ایسی کوئی مثال نہیں پائی جاتی ہے کہ کوئی سابق وزیر اعظم اپوزیشن لیڈر کی تقریر کے دوران کھڑے ہوکر ایک یا دوبار دفاعی تقریر کی ہو۔ مودی جی اور ان کی کابینہ کے کئی وزراء مثلاً راج ناتھ سنگھ، امیت شاہ، شیوراج سنگھ چوہان، کرن رجیجو اور پی اپیندرا نے ایک ایک کرکے راہل گاندھی کو ان کی تقریر کے دوران ٹوکا ٹوکی کی اور خلل انداز ہوئے۔ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ مودی حکومت اوپر سے نیچے تک ہل گئی اور بی جے پی کے سارے لیڈروں کی پالکی رکھا گئی۔ بی جے پی لیڈروں کی نازیبا حرکتوں کی وجہ سے راہل گاندھی کی تقریر میں نہ صرف جان آگئی بلکہ تقریر زیادہ اہم اور ناقابل نظر انداز ہوگئی۔
یہ بھی ایک عجیب و غریب منظر تھا جب کہ لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا کو اس وقت اپنا دفاع کرنا پڑا جب راہل گاندھی نے اوم برلا سے کہاکہ ’’آپ نے میری موجودگی میں وزیر اعظم نریندر مودی سے جھک کر ہاتھ ملایا جبکہ میرے ساتھ کھڑے ہوکر مصافحہ کیا۔ اس سے اسپیکر کا وقار مجروح ہوا‘‘۔ اوم برلا نے جواب میں کہاکہ ’’یہ ان کی سنسکرتی اور تہذیب ہے کہ جب اپنے سے کسی بڑے کا سامنا کرتے ہیں تو جھک کر ملتے ہیں اور برابر والوں سے برابری کے ساتھ ملتے ہیں‘‘۔ راہل گاندھی نے ان کو ان کے عہدے اور منصب کا وقار یاد دلایا کہ ’’آپ لوک سبھا میں سب سے بڑا مرتبہ اور مقام رکھتے ہیں، آپ سے سب کو جھک کر ملنا چاہئے، آپ کا جھکنا لوک سبھا کے وقار کے بالکل برخلاف ہے‘‘۔ یہ جواب سن کر مسٹر برلا لاجواب ہوگئے۔ ان کا منہ بند ہوگیا۔ اوم برلا کی طرح جب خوشامدی کسی بڑے عہدے پر پہنچتے ہیں تو وہ ان کے سامنے جھکے رہتے ہیں جنھوں نے اس عہدے تک پہنچانے میں ان کی مدد کی ہو۔ یہ منصب اور عہدے کا لحاظ نہیں رکھتے ہیں بلکہ ان کی خوشامدی شخصیت کی وجہ سے بڑا عہدہ بھی چھوٹے عہدے میں تبدیل ہوجاتا ہے۔
لوک سبھا میں راہل گاندھی کی تاریخ ساز تقریر کی دنیا بھر میں تعریف و تحسین ہورہی ہے۔ ان کی تقریر کی کئی بڑی خصوصیات ہیں جو برسوں یاد رکھی جائیں گی اور جن کا اثر حکمراں جماعت اور خاص طور پر وزیر اعظم نریندر مودی پر جو اپنی اکڑ اور گھمنڈ کے لئے جانے جاتے ہیں غیر معمولی ہوگا۔ راہل گاندھی کا رعب طاری رہے گا۔ ایک خصوصیت جو بہت نمایاں نظر آئی وہ تھی راہل گاندھی کی حاضر جوابی۔ حکمراں جماعت کی طرف سے ٹوکا ٹوکی کرنے والوں کو راہل گاندھی نے ایک بار نہیں کئی بار دندانِ شکن جواب دیئے۔ تقریر کے دوران ہندستان کے پانچ بڑے مذاہب بشمول اسلام کا ذکر کیا اور بتایا کہ ان سارے مذاہب کا پیغام ہے: ’’نہ ڈرو اور نہ ڈراؤ‘‘۔ اسلام کا نام لے کر راہل گاندھی نے بتایا کہ ’’حضرت محمد جن پر اللہ کی رحمت ہو (Peace be up on Him)‘‘ نے فرمایا ہے کہ ’’ڈرو نہیں اللہ ہمارے ساتھ ہے‘‘۔ راہل گاندھی نے قرآن مجید کا بھی حوالہ دیا۔ قرآن مجید کی سورہ توبہ کی آیت نمبر 40میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکرؓ کو دلاسہ دیتے ہوئے فرمایا کہ ’’غم نہ کرو اللہ ہمارے ساتھ ہے‘‘۔
’ڈرو اور ڈراؤ نہیں‘ کی وضاحت مذاہب کا حوالہ دینے کے بعد جب راہل گاندھی نے کہاکہ جو لوگ اپنے آپ کو ہندو کہتے ہیں وہ رات دن تشدد اور نفرت پھیلاتے ہیں۔ یہ کہنا تھا کہ بی جے پی کے سارے لوگ شور مچانے لگے کہ ہندو مذہب پر راہل گاندھی نے حملہ کیا اور اس کی توہین کی۔ حملہ آوروں میں وزیر اعظم بھی شامل تھے۔ راہل گاندھی نے بغیر کسی توقف کے کہا نہیں، نہیں، نہیں۔ مودی، بی جے پی/آر ایس ایس یہ سارے کے سارے پور طور پر ہندو سماج نہیں ہیں، ہندو سماج کے ٹھیکیدار نہیں ہیں۔ یہاں جو لوگ بیٹھے ہوئے ہیں سب ہندو ہیں۔ یہ جواب سن کر سارے لوگ جو شور مچا رہے تھے ان کو خاموش ہونا پڑا۔ حاضر جوابی میں راہل گاندھی نے تاخیر کی ہوتی تو معاملہ الٹا پڑجاتا، کیونکہ انھوں نے سنگھ پریوار کے وہ لوگ جو ہندو ہیں وہ نفرت پھیلاتے ہیں اور فساد برپا کرتے ہیں اس وضاحت کے ساتھ بات نہیں کی تھی۔ اس طرح کی کئی بار راہل گاندھی نے اپنی حاضر جوابی کی مثال پیش کی۔
دوسری بڑی خصوصیت یہ تھی کہ اپنی تقریر کو زوردار طریقے سے پیش کرنے کے لئے انھوں نے اجودھیا کے ذکر سے تقریر کی شروعات کی اور اپنے بغل میں فیض آباد لوک سبھا سیٹ (جس میں اجودھیا آتا ہے) سے کامیاب ہونے والے اودھیش پرساد کو بیٹھا رکھا تھا۔ انھوں نے ان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ اجودھیا سے جو پیغام بی جے پی کو موصول ہوا ہے وہ یہ ہیں۔ فیض آباد حلقہ کے دلت ایم پی کے حوالے سے راہل گاندھی نے بہت ہی پر اثر انداز میں کہا کہ اودھیش پرساد نے ان کو بتایاکہ ’’نریندر مودی اجودھیا سے الیکشن لڑنا چاہتے تھے ۔ دو بار انھوں نے اجودھیا کے ووٹروں کا سروے کرایا‘‘۔ وہاں کے لوگوں نے مودی جی کو کہاکہ ’’یہاں سے لڑنا نہیں، نہیں تو ہار جاؤگے۔ یہاں سے نکل کر مودی جی بنارس چلے گئے جہاں سے بچ کر نکلے‘‘۔
جب راہل گاندھی نے ایک مسئلہ پیش کرتے ہوئے یہ کہاکہ مودی جی Non Biological (غیر حیاتیاتی، غیر فطری) ہیں ۔ اس لئے بھگوان نے ڈائریکٹ ان کو فون کرکے فلاں مسئلے پر یہ بتایا ہوگا۔ اس پر اسپیکر اوم برلا نے اعتراض جتایا تو راہل گاندھی نے کہاکہ ’’یہ میں نہیں کہہ رہا ہوں نریندر مودی نے خود ہی اپنے بارے میں بتایا ہے کہ ان کو پرماتما نے بھیجا ہے‘‘۔ ان کی پیدائش ہم جیسے لوگوں کی طرح نہیں ہوئی ہے۔ اس لئے بھگوان سے ان کی بات چیت ڈائریکٹ ہوتی ہے۔ اس پر اوم برلا کو خاموش ہوجانا پڑا اور لوک سبھا میں سنّاٹا سا چھا گیا۔ حکمراں جماعت کے افراد بھی خاموش ہوگئے۔ مودی کے چہرے سے بھی پریشانی کے آثار دکھائی دے رہے تھے۔ مودی کابینہ کے دیگر وزراء نے جو ٹوکا ٹوکی کی تو ان کا بھی منہ توڑ جواب راہل گاندھی نے دیا۔ خواہ ’اگنی ویر‘ کا معاملہ ہو، کسانوں کے ایم ایس سی کا مسئلہ ہو، بے روزگاری، مہنگائی، نوٹ بندی، جی ایس ٹی اور نیٹ پیپر لیک وغیرہ کے مسائل ہوں سب پر راہل گاندھی نے مدلل انداز سے روشنی ڈالی۔ خاص طور پر نیٹ پیپر لیک کے پیچیدہ مسئلے کا اجاگر کیا اور بتایا کہ ایک پیشہ ورانہ چیز کو تجارتی بنا دیا۔ امیروں کے لئے مخصوص کردیا گیا اور غریبوں کے لئے ان کی پہنچ سے بالاتر ہوگیا۔ کمانے کا ایک ذریعہ بنا دیا گیا۔ سات سال میں 70 بار پیپر لیک ہوئے۔ غریب طالب علموں کے لئے اور غریب ماں باپ کے لئے پیپر لیک کتنا دشوار گزار مسئلہ ہوگیا ہے یہ وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جو اس مسئلے سے دوچار ہیں۔ برسوں پیسے دے کر، قرض ادھار لے کر غریب والدین اپنے بچوں کو پڑھاتے ہیں، کوچنگ کراتے ہیں اور جب امتحان دینے کا وقت آتا ہے تو انھیں ڈر لگا رہتا ہے کہ امتحان سے پہلے پیپر نہ لیک ہوجائے اور ان کی ساری محنت پر پانی نہ پھر جائے۔ امتحان کے بعد بھی کہیں پیپر لیک کا مسئلہ نہ درپیش ہوجائے۔ راہل گاندھی نے اس مسئلے کو بہتر انداز سے اجاگر کیا اور حکومت کی کمزوریوں اور دھاندلیوں کی بھرپور طریقے سے نشاندہی کی۔
اپنی ’بھارت جوڑو‘ یاترا کا بھی ذکر کیا کہ کس طرح کا انھیں تجربہ ہوا اور کیسے کیسے لوگوں سے ملاقاتیں ہوئیں اور بات چیت ہوئی اور ان کے مسائل کو جانا اور سمجھا۔ ان کے مصائب اور مشکلات کو سن کر اندر کا راہل باقی نہیں رہا۔ اس کی کچھ دوسری ہی کیفیت ہوگئی۔ ان سب کو اس نے ہندستان کی آواز سمجھا اور سنا۔ منی پور کے کے دوبار کے دورے کا ذکر کیا۔ ریلیف کیمپ میں جانے کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک عورت نے بتایا کہ اس کے بیٹے کو اس کی آنکھوں کے سامنے گولیوں سے بھون دیا گیا۔ وہ بھی مرنا چاہتی تھی لیکن پولس نے وہاں سے ہٹا دیا۔ جب وہ اپنا درد اور دکھ بیان کر رہی تھی تو کانپ رہی تھی۔ اس نے اپنے بیٹے کی تصویر دکھاتے ہوئے کہاکہ اس کے سوا اس کے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔ مودی کے لئے منی پور ہندستان کا حصہ نہیں ہے۔ منی پور کو جلا دیا گیا، ڈوبا دیا گیا، خانہ جنگی میں تبدیل کردیا گیا۔ وزیر اعظم کو اس کے لئے کوئی درد نہیں کوئی دکھ نہیں۔ میرے بار بار یاد لانے کے باوجود منی پور کے لئے ان کے منہ سے ایک لفظ بھی نہیں نکلا۔ان سب کے باوجود نہ مودی جی اور نہ ہی امیت شاہ منی پور گئے۔
راہل گاندھی نے سرکاری ایجنسیوں کے بے دریغ استعمال پر بھی بہت کچھ کہا۔ انھوں نے کہاکہ ایک سابق وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین کو جیل میں ڈال دیا گیا۔ پانچ مہینے کے بعد وہ رہا ہوئے۔ عدالت نے کہاکہ وہ بے قصور ہیں۔ انھوں نے کسی قسم کا گناہ نہیں کیا۔ دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کجریوال کو ابھی تک جیل کی سلاخوں کے پیچھے رکھا گیا ہے۔ ان کے کئی وزراء بھی جیل میں بند ہیں۔ یہ سب اپوزیشن یا جو بھی مودی اور ان کی حکومت کے خلاف منہ کھولے گا اسے جیل کی ہوا کھلائی جائے گی۔ اپوزیشن میں ڈر پیدا کرنے کی یہ مودی کی ایک بڑی اسکیم ہے۔
راہل گاندھی نے اپنی تقریر کی ابتدا جس طرح پرزور انداز میں کی تھی اسی پرزور انداز میں اپنی تقریر کا اختتام بھی کیا۔ راہل گاندھی نے کہاکہ جب کسی کے سر میں غرور کا نشہ چھاجاتا ہے تو اسے اپنی ذات کے سوا اس کو کوئی چیز نظر نہیں آتی۔ وہ خود پرستی اور خود پسندی میں مبتلا ہوجاتا ہے۔
’’ڈرو نہیں اور نہ ڈراؤ‘‘ یہ وہ بات تھی جو ان کی تقریر کا مرکزی مضمون تھا اور اس کو جس وضاحت کے ساتھ پیش کیا وہ قابل تعریف ہی کہا جائے گا۔ تقریر کے دوران انھوں نے یہ بھی کہاکہ میڈیکل کے امتحان میں طالب علموں کے لئے ڈر اور خوف کا عنصر ڈال دیا گیا ہے ۔ اپنے ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ آج (یکم جولائی) وہ جب پارلیمنٹ میں داخل ہورہے تھے تو راج ناتھ سنگھ نے مسکراتے ہوئے انھیں نمسکار کیا۔ مودی جی کے چہرے پر گھبراہٹ طاری تھی انھوں نے نمسکار نہیں کیا۔ راج ناتھ سنگھ کچھ اس طرح میری طرف دیکھ کر نمسکار کر رہے تھے کہ کہیں مودی جی دیکھ نہ لیں۔ اپنے اس واقعہ کو بیان کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہاکہ راج ناتھ سنگھ کی طرح نیتن گڈکری کا بھی یہی حال ہے۔ مودی جی نہ صرف باہر کے لوگوں کو ڈراتے ہیں بلکہ بی جے پی کے اندر کے لوگوں کو بھی ڈرانے اور خوف زدہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ کوئی ان کے خلاف منہ کھول سکے۔ اس پر بھی بی جے پی کے ممبران پارلیمنٹ کی طرف سے واویلا مچانے کی کوشش کی گئی۔ زوردار طریقے سے راہل گاندھی نے کہاکہ یہ ایک ایسی حقیقت جسے دنیا تسلیم کرتی ہے۔ بی جے پی کے لوگ خلوت گزینی میں بھی اس حقیقت سے انکار نہیں کرسکتے۔ یہ وہ سچائیاں تھیں جو لوک سبھا میں راہل گاندھی نے بہتر انداز میں پیش کئے جس کا شہرہ ملک کے اندر اور باہر ہورہا ہے۔
E-mail:azizabdul03@gmail.com
Mob:9831439068
Like this:
Like Loading...