Skip to content
حقوق کو ادا نہ کرنا فساد کا ذریعہ !!!
خدا کے ہو یا رشتہ داروں کے
مفتی حسین احمد حسامی M A B.ED
9030342623
صدر مدرس مدرسہ عربیہ کاشف العلوم کاماریڈی
اللہ رب العزت نے مؤمنوں کو ایمان جیسی دولت سے نوازا ہے اور اس کی حفاظت کا پابند بھی بنایاہے ، ایمان اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے اقرار کانام ہے، رب کریم کے دئے ہوئے احکام کو بجا لانا ، اور نبی رحمتﷺ کو آخری نبی تسلیم کرتے ہوئے قرآن پاک و شریعت مطہرہ پر گامزن ہونا ، اور شریعت مصطفوی کا دوسرا انقلابی پہلوتعمیر حیات کے لئے مؤمن کو یہ درس دیتا ہے کہ وہ بندوں کے حقوق کا مکمل خیال رکھے ،
حُقُوق العباد کا معنیٰ و مفہوم
حقوق جمع ہے حق کی، جس کے معنیٰ ہیں: فرد یا جماعت کا ضروری حصہ (المعجم الوسیط:188) حقوقُ العباد کا مطلب یہ ہےکہ وہ تمام کام جو بندوں کو ایک دوسرے کے لئے کرنے ضروری ہیں ، تاکہ مؤمن کا ایمان سلامتی کا ضامن ہو ۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے انسانوں کو جو احکام دیئے ہیں ان میں دو قسم کے فرائض بندوں پر لازم ہوتے ہیں : ایک وہ فرض اور ذمہ داری ہے جو بندے پر اللہ تعالیٰ کے حق کے طور پر عائد ہو تی ہے ، جیسے ایمان لانا، نماز پڑھنا، روزہ رکھنا وغیرہ ، اِس فرض کو حقوق اللہ کہا جاتا ہے ، اور دوسرا وہ فرض اور زمہ داری ہے جو اللہ تعالیٰ نے ایک بندے پر دوسرے کیلئے لازم کیا ہے ۔ اس فرض و ذمہ داری کو حقوق العباد کہا جاتا ہے، یہ حقوق العباد اس اعتبار سے زیادہ اہم ہیں کہ ان میں اگر کوتاہی ہو جائے اور بندہ اگر ان کو ادا نہ کرے تو صرف توبہ واستغفار سے معاف نہیں ہوتے جب تک کہ ان کو ادا نہ کر دے یا جس بندے کے حق میں کوتاہی کی ہے وہ معاف نہ کر دے ، جب کہ حقوق اللہ (اللہ کے حقوق) صرف توبہ واستغفار سے معاف ہو جاتے ہیں بلکہ اگر بندہ توبہ بھی نہ کر سکے تو اللہ تعالیٰ آخرت میں سزا دیئے بغیر صرف اپنے فضل وکرم سے معاف کر سکتے ہیں۔ قرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے : ’’بلا شبہ اللہ تعالیٰ اس بات کو (سزا دے کر بھی) نہ بخشیں گے کہ ان کے ساتھ کسی کوشریک قرار دیاجائے (بلکہ ہمیشہ سزا میں مبتلا رکھیں گے) اور اس کے سوا جتنے گناہ ہیں (خواہ صغیرہ ہوں یا کبیرہ)جس کے لئے منظور ہوگا( بلاسزا )وہ گناہ بخش دیں گے( بیان القرآن ) (سورۃ النساء آیت :۴۸)دوسری طرف حقوق العباد کے سلسلے میں نبی اکرم ﷺ کا ارشاد مبارک ہے: ’’شہید کا ہر گناہ معاف کر دیا جاتا ہے سوائے قرض ‘‘ (مسلم شریف) کسی شخص کا قرض کسی کے ذمے میں ہے تو جب تک ادا نہ کر دے وہ معاف نہیں ہو سکتا خواہ کتنا ہی بڑا نیک عمل کر لے ، یہاں تک کہ اللہ کے راستے میں اپنی جان ہی کیوں نہ دے دے۔ امام نووی ؒ نے اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ قرض سے مراد تمام حقوق العباد (بندوں کے حقوق) ہیں ۔ ایک حدیث شریف میں آپ ﷺ نے بندوں کے حقوق کی اہمیت اس انداز سے بیان فرمائی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حقوقُ العباد میں کوتاہی نہ صرف یہ کہ آخرت میں سخت باز پرس کا سبب بنے گی بلکہ اللہ تعالیٰ کے ادا کئے ہوئے حقوق بھی اکارت جائیں گے ، بندوں کے حقوق میں غفلت اور زیادتی کرنے والے لوگ اپنی نماز ، روزے اور دیگر عبادتوں کا ثواب حاصل نہ کر سکیں گے ، ان عبادتوں کا ثواب ان مظلوم بندوں کو دے دیا جائے گا جن کے حقوق ان عبادت گزار بندوں نے پامال کئے ہوں گے ۔ مزید برآں اگر ظلم وزیادتی کی تلافی ظالموں کی نیکیوں سے نہ ہو سکی تو مظلومین کے گناہوں کا بوجھ ظالموں کے سروں پر ڈال دیا جائے گا۔ چنانچہ ارشاد نبوی ﷺ ہے : ’’ کہ تم لوگ جانتے ہو فقیر کون ہوتا ہے ؟ صحابہؓ نے عرض کیا کہ فقیر تو وہ ہے جس کے پاس پیسہ نہیں ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ میری امت میں(در اصل)فقیر وہ ہے جو کل قیامت کے دن نماز ، زکوٰۃ ، روزہ اور حج جیسی عبادتیں لے کر حاضر ہوگا ، لیکن دنیا میں کسی کو گالی دی تھی، کسی پر جھوٹا الزام لگایا تھا ، کسی کا ناحق مال لیا تھا،کسی کی عزت پر حملہ کیا تھا ، کسی کو ظلماً مارا تھا اور کسی کو ناحق قتل کیا تھا ، اب قیا مت کے دن ہر مظلوم آدمی اس ظالم کی نماز ، روزہ ، حج اور زکوٰۃ کے ثواب سے ظلم کے بقدر ثواب لے کر جائے گا ، اب اگر ظالم کے اچھے کاموں کے ثواب سے سب کا حق ادا ہوگیا تو ٹھیک ہے ورنہ باقی مظلوموں کے گناہوں کو سمیٹ کر اس ظالم پر ڈال دیا جائے گا اور جہنم میں ڈھکیل دیا جائے گا (مسلم شریف)
کن کے حقوق واجب ہیں ؟ :–
اب ذہن میں یہ سوال آسکتا ہے کہ ہم پر کن کن لوگوں کے حقوق واجب ہیں ؟ تو اس سلسلہ میں قاعدہ یہ ہے کہ دنیا کی کوئی شئے ایسی نہیں ہے جس کا ایک دوسرے پر حق نہ ہو۔ علماء کرام نےاس حوالے سے ایک آیت کریمہ کو بنیاد بنایا ہے ، وہ اللہ تعالیٰ کا یہ جامع و بلیغ کلام ہے : ’’وہ ذات پاک ایسی ہے جس نے پیدا کیا تمہارے فائدے کیلئے جو کچھ بھی زمین میں موجود ہے سب کاسب (سورۃ البقرہ:۲۹) آیت کریمہ سے یہ بات معلوم ہوئی کہ ہر شے سے وہ نفع اٹھایا جائے جس کیلئے اللہ نے اس کو پیدا کیا ہے ، اور ان موقعوں پر اس کو صَرف کیا جائے جن میں صَرف کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے ۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ انسان کا دنیا کی ہر چیز سے نفع کاتعلق اور ایک طرح کا لگاؤ ہے ، اس لگاؤ کا تقاضا یہ ہوگا کہ اس کی ترقی و حفاظت کی کوشش کی جائے اور ہر اس پہلو سے بچایا جائے جس سے اس کا نفع ختم ہو جائے یا نفع پہنچانے میں رکاوٹ اور نقصان پیدا ہو اور اسی کا نام حق ہے جس کو خود ادا کرنا ضروری ہے ۔ اس آیت کے ضمن میں علماء نے لکھا ہے کہ ہر شے کے، خواہ جاندار ہویا غیر جاندار، ایک دوسرے پر حقوق ہیں ۔ شاید اسی لئے ، اس آیت سے کچھ پہلے کفار و فساق کی بُری صفات بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’یہ فاسق اللہ کے عہد کو مضبوط باندھ لینے کے بعد توڑ دیتے ہیں ، اللہ نے جسے جوڑ نے کا حکم دیا ہے اُسے کاٹتے ہیں، اور زمین میں فساد برپا کرتے ہیں۔ حقیقت میں یہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں (سورۃ البقرہ :۲۷) حضرت تھانویؒ فرماتے ہیں کہ اس میں تمام تعلقات شرعیہ داخل ہیں ، خواہ وہ تعلقات ہوں جو بندے و خدا کے درمیان ہیں یا وہ جو اس کے اور اقرباء و رشتہ داروں کے درمیان ہیں اور جو عام اہل اسلام کے درمیان ہیں اور عام انسانوں کے درمیان ہیں ۔ (بیان القرآن )
آیت کے آخری ٹکڑے سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ حقوق کو ادا نہ کرنا دنیا میں فساد و بے امنی کی بنیاد اور جڑ ہے،
یہ تو ایک عام ضابطہ ہوا، اس کے علا وہ قرآن و حدیث میں اس قدر تفصیل سے بندوں کے حقوق کو بیان کیا گیا ہے کہ شاید ہی دوسرے حقوق پر اتنی تفصیل وارد ہوئی ہو، مثلاً ارشاد خداوندی ہے: ’’ اور والدین کے ساتھ اچھا معاملہ کرو اور اہل قرابت کے ساتھ بھی، اور یتیموں کے ساتھ بھی اور غریب غرباء کے ساتھ بھی اور پاس والے پڑوسی کے ساتھ بھی اور دور والے پڑوسی کے ساتھ بھی اور ہم مجلس کے ساتھ بھی اور راہ گیر کے ساتھ بھی اور ان کے ساتھ بھی جو تمہارے مالکانہ قبضے میں ہیں۔‘‘ (سورۃ النساء:۳۶)
اس آیت کریمہ کی جامعیت پر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ سارے عالم کے انسانوں کے حقوق ادا کرنے کی وصیت فرمادی گئی اور لطیف پیرائے میں ان کے اہل حقوق میں ترتیب بھی قائم ہو گئی کہ والدین کا حق اہل قرابت پر مقدم ہے اور اہل قرابت کا یتیموں وغیرہ پر، اسی طرح تمام اہل حقوق میں ترتیب ہے لیکن یہ بات ملحوظ رہنی چاہئے کہ یہ ترتیب اسی وقت ہے جب کہ یہ اہل حقوق (یعنی جن کا حق ہے وہ) حق پر قائم ہوں اور اگر کوئی باطل پر ہے مثلاً اہل قرابت اور یتیموں کا کوئی معاملہ ہے اور یتیم حق پر ہیں تو محض قرابت کی بنیاد پر اہل قرابت کا تعاون نہیں کیا جائے گا ۔ اس کو عصبیت کہا جاتا ہے جو شریعت میں انتہائی مذموم عمل ہے ۔
ساری انسانیت کے لیے ضروری ہے کہ جس کو رب العالمین نے رحمۃ اللعالمین بنا کر بھیجا ہے ان کی مبارک زندگی سے عملی اقدامات حقوق کی ادائیگی کے بارے میں دیکھا جائے ، مطالعہ کیا جائے اور اس کو اپنی زندگیوں کے لیے نمونہ بنایا جائے کیونکہ کہ نبی رحمت ﷺ جب بحیثیتِ مجموعی والد گرامی رہے تو اولاد کے ساتھ کیا سلوک رہا ، آپ چچاؤں کے درمیان رہے بحیثیتِ برادر زادہ ( بہتیجہ ) تعلیمات کیا ملتی ہیں ، اسی طرح جب ازدواجی زندگی میں بندھے گئے بحیثیت داماد و شوہر کیسی زندگی گزار کر بتائی ، اسی طرح بحیثیتِ والد و سسر نبی رحمتﷺ کی کیا عملی زندگی تھی؟ اگر ہم ان احوال سے باخبر ہوں تو بھر ہماری زندگی دنیا ہی میں جنت نما ہوگی ، ان عناوین پر تفصیلی مطالعہ کرنا ہو تو استاذ العلماء حضرت مولانا محمد موسیٰ خان صاحب استاذ حدیث جامع احیاء العلوم حیدرآباد کی اسوۂ نبوی اور خاندانی تعلقات سے بھرپور استفادہ کیا جاسکتا ہے ، اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ ہمیں حقوق اللہ اور حقوق العباد میں کوتاہی کرنے سے محفوظ رکھے، اور اسوۂ رسول رحمت ﷺ کو اپنا کر دنیا و آخرت میں کامیاب بنائے آمین یا رب العالمین ۔
Like this:
Like Loading...
Casino mirror bypasses blocks on all browsers