Skip to content
ایچ آئی وی کے خلاف فتحِ مبین:
ناممکن سے ممکنات تک کا سفر
ازقلم: ڈاکٹر محمّد عظیم الدین
(اکولہ، مہاراشٹر)
——-
عصری طب کی تاریخ میں چند ہی بیماریاں ایسی ہیں جنہوں نے انسانی شعور اور اجتماعی دانش کو اس قدر چیلنج کیا ہو، جس قدر HIV نے کیا ہے۔ یہ وائرس نہ صرف حیاتیاتی طور پر پیچیدہ ہے بلکہ اس نے سماجی، اقتصادی اور اخلاقی میدانوں میں بھی گہرے نقوش چھوڑے ہیں۔ اکیسویں صدی کے آغاز تک، اس مرض کی حقیقت یہ تھی کہ یہ ایک لاعلاج اور مہلک وائرس سمجھا جاتا تھا، جس کا واحد علاج علامات کو قابو میں رکھنا تھا۔ لیکن آج، جب ہم سائنسی ارتقاء کی نئی دہلیز پر کھڑے ہیں، ایک ایسی حقیقت ہمارے سامنے ہے جو کل تک محض ایک خیال تھی یعنی HIV کا جسم سے مکمل خاتمہ۔ CRISPR/Cas9 نامی جینیاتی ترمیم کی انقلابی ٹیکنالوجی اس طویل اور مشکل جدوجہد میں ایک حتمی اور فیصلہ کن موڑ کی علامت بن کر ابھری ہے۔ یہ محض ایک سائنسی پیش رفت نہیں، بلکہ انسانیت کے اس عزم کا مظہر ہے کہ وہ اپنی تقدیر کو سائنسی تحقیق کے ذریعے تبدیل کر سکتی ہے۔
روایتی علاج، جسے اینٹی ریٹرو وائرل تھراپی (ART) کہتے ہیں، نے بلاشبہ HIV کے مریضوں کی زندگیاں طویل کی ہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے ایڈز (UNAIDS) کی رپورٹ کے مطابق، 2022 میں دنیا بھر میں 29.8 ملین افراد ART تک رسائی حاصل کر چکے تھے، جس کے نتیجے میں ایڈز سے متعلق اموات میں 1990 کی دہائی کے مقابلے میں 70 فیصد سے زیادہ کمی واقع ہوئی ہے۔ لیکن اس کے باوجود، ART علاج کی ایک محدود شکل ہے۔ یہ وائرس کی نقل کو روکتا ہے، اسے جسم سے مکمل طور پر ختم نہیں کرتا۔ HIV کی سب سے بڑی مکار چال یہ ہے کہ یہ اپنا جینیاتی مواد انسانی خلیوں کے DNA میں اس طرح پیوست کر دیتا ہے جیسے کوئی خفیہ پیغام ہو۔ یہ ‘پوشیدہ ذخائر’ (latent reservoirs) وائرس کے دوبارہ متحرک ہونے کا باعث بنتے ہیں، جس کی وجہ سے مریض کو زندگی بھر دواؤں پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ یہی وہ چیلنج تھا جس نے سائنسی دنیا کو برسوں تک الجھائے رکھا۔
CRISPR/Cas9 کی آمد نے اس صورتحال کو یکسر بدل دیا۔ یہ ٹیکنالوجی، جسے 2020 میں نوبل انعام سے نوازا گیا، درحقیقت ایک ‘جینیاتی قینچی’ کی مانند ہے جو انتہائی درستگی سے DNA کے مخصوص حصوں کو کاٹ کر نکال سکتی ہے۔ سائنس دانوں نے اس قینچی کو خاص ‘گائیڈ آر این اے’ (Guide RNA) مالیکیولز سے لیس کیا ہے جو HIV کے خفیہ جینیاتی کوڈ کو تلاش کرتے ہیں۔ تجربات کا آغاز انسانی CD4+ T مدافعتی خلیوں پر ہوا، جو اس وائرس کے اصل ہدف ہوتے ہیں۔ ان تجربات میں نہ صرف وائرس کا مکمل DNA کامیابی سے کاٹ کر نکال دیا گیا بلکہ یہ خلیے مستقبل میں کسی بھی نئے HIV حملے کے خلاف ناقابلِ تسخیر بن گئے۔ یہ ایک ایسی کامیابی تھی جو محض دواؤں سے حاصل کرنا ناممکن تھا۔ اس پیشرفت پر تبصرہ کرتے ہوئے، جان ہاپکنز یونیورسٹی کے ایک ممتاز ماہر وائرولوجسٹ نے اسے "صدی کی سب سے بڑی طبی کامیابیوں میں سے ایک” قرار دیا۔
جانوروں پر کیے گئے تجربات نے اس ٹیکنالوجی کی افادیت کو مزید تقویت بخشی۔ 2023 میں ‘سائنٹفک رپورٹس’ نامی جریدے میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق، SIV-HIV) کا ایک قریبی رشتہ دار) سے متاثرہ بندر میں صرف ایک CRISPR تھراپی کے ذریعے وائرس کا نام و نشان تک مٹا دیا گیا۔ مختلف اعضاء اور بافتوں میں موجود وائرل لوڈ میں نمایاں کمی دیکھی گئی، اور سب سے اہم بات یہ کہ کوئی منفی مضر اثرات سامنے نہیں آئے۔ اس تحقیق نے انسانوں میں کلینیکل ٹرائلز کے لیے راستہ ہموار کیا۔ ان شواہد کی بنیاد پر، طبی برادری میں ایک نئی امید کی لہر دوڑ گئی کہ اس مہلک مرض کا مکمل علاج اب حقیقت بن سکتا ہے۔
جینیاتی علاج کے میدان میں اس پیش رفت کا سب سے اہم قدم 2023-2024 کے دوران EBT-101 نامی کلینیکل ٹرائلز کا آغاز تھا۔ یہ دنیا کی تاریخ میں پہلی بار تھا کہ HIV سے متاثرہ انسانوں میں CRISPR/Cas9 ٹیکنالوجی کا تجربہ کیا جا رہا تھا۔ اس تجربے کے تحت، ‘ایڈینو ایسوسی ایٹڈ وائرس 9’ (AAV9) کو ایک قدرتی ‘ویکٹر’ کے طور پر استعمال کیا گیا تاکہ CRISPR کی جینیاتی قینچی کو براہِ راست جگر کے خلیوں میں پہنچایا جا سکے۔ جگر کے خلیے HIV کے پوشیدہ ذخائر کا ایک اہم ٹھکانہ ہوتے ہیں۔ ان ٹرائلز کے ابتدائی نتائج، جو 2024 کے وسط میں منظرِ عام پر آئے، نے طبی دنیا میں ہلچل مچا دی۔ ایک مریض، جو پہلے سے ART پر تھا، جب اس کا علاج عارضی طور پر روکا گیا، تو سولہ ہفتوں تک اس کے جسم میں وائرس دوبارہ نمودار نہیں ہوا۔ متعدد دیگر مریضوں میں بھی ایسی مثبت مدافعتی تبدیلیاں ریکارڈ کی گئیں جو مستقبل میں وائرس کے خلاف طویل مدتی تحفظ کا اشارہ دے رہی تھیں۔ ڈاکٹروں کے ایک پینل نے ان نتائج کو "ناقابل یقین اور حوصلہ افزا” قرار دیا۔ یہ کامیابی صرف ایک سائنسی کامیابی نہیں، بلکہ ان کروڑوں افراد کے لیے ایک نئی امید کی کرن ہے جو اس مرض کا شکار ہیں۔
CRISPR کے ذریعے ایک اور دلچسپ حکمت عملی بھی اپنائی جا رہی ہے۔ یہ حکمت عملی وائرس کو داخل ہونے سے روکنے پر مبنی ہے۔ HIV کو انسانی مدافعتی خلیوں میں داخل ہونے کے لیے مخصوص پروٹینز، جیسے CCR5 اور CXCR4 ریسیپٹرز، کی ضرورت ہوتی ہے۔ CRISPR کی مدد سے سائنس دان ان ریسیپٹرز کو مستقل طور پر غیر فعال کر رہے ہیں۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کسی گھر کے دروازے اور کھڑکیاں اس طرح بند کر دی جائیں کہ کوئی چور کبھی داخل ہی نہ ہو سکے۔ یہ طریقہ کار نہ صرف وائرس کو حملہ کرنے سے روکتا ہے بلکہ خلیوں کو مستقبل میں بھی محفوظ رکھتا ہے۔ اس نقطہ نظر کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ بیماری کے خلاف مکمل اور دائمی تحفظ فراہم کر سکتا ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ سفر ابھی اپنی منزل سے بہت دور ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) کے اندازوں کے مطابق، دنیا بھر میں تقریباً 39 ملین افراد HIV کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ ان تمام افراد تک اس مہنگی اور پیچیدہ ٹیکنالوجی کو پہنچانا ایک بڑا چیلنج ہے۔ مزید برآں، HIV کی جینیاتی ساخت میں تنوع اور اس کے پوشیدہ ٹھکانوں کی تلاش اب بھی سائنس دانوں کے لیے ایک معمہ ہے۔ سب سے اہم مسئلہ یہ ہے کہ CRISPR کی درستگی کو اس حد تک یقینی بنایا جائے کہ وہ کسی صحت مند جین کو نقصان نہ پہنچائے، جو کہ ایک حساس اور نازک مرحلہ ہے۔ تاہم، یہ تمام مسائل سائنسی تحقیق اور بین الاقوامی تعاون سے حل کیے جا سکتے ہیں۔ دنیا کے بڑے تحقیقی ادارے، جیسے کہ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (NIH) اور ہاؤورڈ ہیوز میڈیکل انسٹی ٹیوٹ، اس حوالے سے بھرپور سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔
آج، جب ہم پیچھے مڑ کر دیکھتے ہیں تو یہ ایک ایسی تاریخ ہے جہاں HIV کے ساتھ زندگی کی بقا کی جنگ میں سائنس نے ایک فیصلہ کن برتری حاصل کر لی ہے۔ یہ برتری اس امید کا پیش خیمہ ہے کہ ایک دن HIV کی بیماری تاریخ کا حصہ بن جائے گی۔ CRISPR/Cas9 کی کامیابی محض ایک طبی پیش رفت نہیں بلکہ انسانیت کے لیے ایک نئے دور کا اعلان ہے، ایک ایسا دور جہاں بیماریاں مہلک نہیں رہیں گی بلکہ قابلِ شکست ہوں گی۔ یہ وہ دور ہے جہاں مریض زندگی بھر کی دواؤں کے بوجھ سے نجات حاصل کر سکیں گے، اور ایڈز کے شکار افراد کو بھی ایک معمول کی، صحت مند اور مکمل زندگی گزارنے کا موقع ملے گا۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ جب انسانی عقل اور سائنسی تحقیق کا اتحاد ہو تو کوئی بھی بیماری اتنی طاقتور نہیں جو ہمیشہ کے لیے فاتح رہ سکے۔ یہ سچ ہے کہ چیلنجز اب بھی باقی ہیں، لیکن امید کی کرن پہلے سے کہیں زیادہ روشن ہے۔
==============================
Like this:
Like Loading...