Skip to content
لقمہ ٔ حرام کے نقصانات
ازقلم:مفتی عبدالمنعم فاروقی
9849270160
انسانی فطرت وطبیعت پر بہت جلد ماحول کا اثر پڑتا ہے اور انسان بہت جلد اپنے ارد گرد کے ماحول سے متاثر بھی ہوجاتا ہے ،جس طرح موسموں کے بدلنے اور تغیرات سے انسان کے جسم میں تبدیلی پیدا ہوتی ہے اسی طرح اردگرد کے ماحول بدلنے سے بھی انسان کے مزاج ومذاق میں تبدیلی واقع ہوتی ہے ،ٹھیک اسی طرح حلال وحرام غذا کے استعمال سے بھی انسان کے مزاج ومذاق اور اخلاق وکردار پر گہرا اثر پڑتا ہے یہی وجہ ہے کہ اسلام نے اپنے والوں کو تاکیدی طور پر کسب حلال کی ترغیب دی ہے اور کسب حرام بلکہ مشتبہ چیزوں کے حصول سے بھی روکا ہے ،مسلمان اگر نیک اور متقی بننا چاہتا ہے اور دنیا میں پر سکون زندگی کا خواہش مند ہے اور آخرت میں فضل الٰہی کا امیدوار ہے تو اس کے لئے ضروری دو چیزیں لازمی ہیں (۱) نیک وصالح دوستوں کا انتخاب (۲) حلال وپاکیزہ رزق کا حصول،چنانچہ اہل دل اور اہل تقویٰ فرماتے ہیں کہ جس شخص کو نیک دوست میسر آجائیں اور رزق حلال حاصل ہو جائے تو یہ اس کے لئے بڑی سعادت کی بات ہے ،ان کی برکت سے اسے نیکیوں کی توفیق حاصل ہوتی ہے اور گناہوں سے بچنا آسان ہوجاتا ہے ۔
یقینا انسانی جسم کے ساتھ ان کے اخلاق اور طبیعت پر غذاؤں کا اثر مرتب ہوتا ہے، چنانچہ اسلام نے انسانوں کیلئے بعض چیزوں کو حرام اور بعض چیزوں کو حلال قرار دیا ہے، جانوروں میں جن کا گوشت انسانی صحت اور ان کے اخلاق دونوں کیلئے مضرت کا باعث ہوسکتا ہے اسے حرام قرار دیا ہے ،یہی نہیں بلکہ ان ذرائع آمدنی کو بھی حرام اور ناجائز گردانہ ہے جن کے خبیث اور برے اثرات انسان پر پڑتے ہیں جس کے نتیجہ میں ان کے مزاج حیوانی ،دل سخت اوراعضاء خدا کی نافرمانی کرتے ہوئے انسان کو خدا کا باغی بنا دیتے ہیں،قرآن مجید میں حلال وحرام جانوروں اور جائز وناجائز تجارت کے متعلق ایک اصولی ضابطہ بیان کر دیا گیا ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے:یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا لاَ تَأْکُلُوْا أَمْوَالَکُمْ بَیْْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ إِلاَّ أَنْ تَکُوْنَ تِجَارَۃً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْکُمْ وَلاَ تَقْتُلُوْا أَنْفُسَکُمْ إِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِکُمْ رَحِیْمًا( النساء،۲۹)’’اے ایمان والو!اپنے آپس کے مال ناجائز طریقہ سے مت کھاؤ ،مگر یہ کہ تمہاری آپس کی رضا مندی سے ہو خرید وفروخت اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو یقیناً اللہ تعالیٰ تم پر نہایت مہر بان ہے‘‘اور سودی کاروبار کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے حرام قرار دے دیا گیا ،ارشاد باری تعالیٰ ہے : وَأَحَلَّ اللّٰہُ الْبَیْْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا(البقرء،۲۷۵)’’ اللہ تعالیٰ نے سود کو حرام اور تجارت کو حلال قرار دیا ہے‘‘ اور پھرانسانوں کونہایت وضاحت کے ساتھ اور بے حد مخلصانہ انداز میں بتلایا گیا کہ انہیں چیزوں میں سے کھاؤ جو تمہارے لئے حلال وطیب بنائے گئے ہیں اور خبر دار شیطانی بہکاوئے میں آکر ان چیزوں کو مت کھاؤ جنہیں تمہارے لئے حرام قرار دیا گیا ہے ،تم کو معلوم ہونا چاہیے کہ شیطان مردود تمہارا کھلا دشمن ہے وہ تم کو حرام کھلا کر جہنم کا ایدھن بنانا چاہتا ہے،ارشاد باری تعالیٰ ہے : یَا أَیُّہَا النَّاسُ کُلُواْ مِمَّا فِیْ الأَرْضِ حَلاَلاً طَیِّباً وَلاَ تَتَّبِعُواْ خُطُوَاتِ الشَّیْْطَانِ إِنَّہُ لَکُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ (البقرء ،۱۶۸)’’اے لوگو! زمین میں جتنی بھی حلال اور پاکیزہ چیزیں ہیں انہیں کھاؤ اور شیطانی راستے پر مت چلو وہ تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے‘‘ ۔
اسلام میں رزق ِ حلال اور اکل حلا ل کی بڑی اہمیت ہے ،عبادت کی قبولیت ،دعاکی اجابت اور انابت الی اللہ کیلئے رزق حلال واکل حلال کا بڑا دخل ہے ، ایک مرتبہ سیدنا سعد بن ابی وقاص ؓ نے رسول اللہ ؐ سے درخواست کی کہ یارسول اللہ: ادع اللہ ان یجعلنی مستجاب الدعوۃ’’ ؐ آپ دعا فرمائیں کہ میں مستجاب االدعوات ہو جاؤں‘‘ ،تو آپ ؐ نے ارشاد فرمایا : یاسعد! طیب مطمعک تکن مستجاب الدعوۃ’’ اے سعد! اپنا کھانا طیب کرلو تم مستجاب الدعوات ہوجاؤگے ‘‘(المعجم الاسط :۶۴۹۵)، آپؐ نے ایک موقع پر ان لوگوں کو جنت کی خوشخبری دی جو عامل سنت ہیں، اکل حلال کھاتے ہیں، اورلوگ ان کے شر سے محفوظ رہتے ہیں(شعب الایمان)،اس کے بر خلاف اسلام کے مقرر کردہ حرام چیزوں سے اجتناب نہ کرنا بڑی سرکشی ،احسان فراموشی ،بے مروتی اور بے حیائی کی بات ہے ایسا شخص خدا اور رسولِ خداؐ کی نظر میں بے وفا اور بے حیا ہوتا ہے ،ایک حدیث میں آپ ؐ نے لوگوں کو اللہ تعالیٰ سے حیا کر نے کی طرف توجہ لاتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ سر کی حفاظت اور وہ چیزیں جو سر میں جمع ہیں،پیٹ کی حفاظت اور وہ چیزیں جو پیٹ سے لگی ہوئی ہیں،موت اور موت کے بعد حالات کو یاد کرے ،جو آخرت کو یاد کرے وہ دنیا کی زیب وزینت چھوڑ دے ،جو ایسا کرے گاوہ اپنے اللہ سے حیا کا حق ادا کرے گا(ترمذی)، اللہ تعالیٰ سے شرم وحیا کا تقاضہ یہ ہے کہ جو کام اس کی نظر میں بُرا ہو اسے ہر حال میں چھوڑ دیا جائے اور اپنے سے کوئی ایسا کام نہ کرے جو اللہ کی ناراضگی کا سبب بنے اور اس کے حیا کے خلاف ہو،اس حدیث میں حیا کا تقاضہ تین چیزیں بتلائی گئی ہیں ،ایک سر کی حفاظت یعنی آنکھ ،کان اور زبان کو ایسی جگہوں سے بچانا کہ جہاں استعمال کرنے سے خدا نے منع کیا ہے،دوسرے پیٹ کی حفاظت یعنی پیٹ کو حرام کھانے اور پینے سے بچانا ، تیسرے موت کی یاد اور اس کے بعد یعنی قبر وحشر کے حالات کو یاد کرنا ،اس سے گناہوں سے بچنا آسان ہوجاتا ہے ،جس شخص نے بھی ان تین چیزوں پر عمل کر لیا گویا اس نے اپنے اللہ سے حیا کا حق ادا کیا۔
احادیث مبارکہ میں رزق حرام اور اکل حرام کے دنیوی اوراخروی دونوں نقصانات کا ذکرنہایت جامع الفاظ میں کیا گیا ہے ، ایک موقع پر آپ ؐ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ پاکیزہ ہیں اور پاکیزہ مال کے علاوہ کوئی اور مال اپنے لئے قبول نہیں کرتے اور اللہ تعالیٰ نے پاکیزہ چیزیں استعمال کرنے کے بارے میں اپنے رسولوں کو جو حکم دیا تھا وہی مؤ منوں کو بھی حکم دیا ہے ،اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :یَا أَیُّہَا الرُّسُلُ کُلُوْا مِنَ الطَّیِّبَاتِ وَاعْمَلُوْا صَالِحًا إِنِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌ(المؤمنون،۵۱)’’اے رسولو! عمدہ پاکیزہ چیزوں میں سے کھاؤ اور نیک کام کرو ،بلاشبہ ہم تمہارے کام سے واقف ہیں‘‘ اور آپ ؐ نے یہ آیت تلاوت فرمائی : یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا کُلُوْا مِنْ طَیِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاکُم(البقرہ ،۱۷۲) ’’اے ایمان والو! ہماری عطا کردہ پاکیزہ چیزوں میں سے کھاؤ ‘‘ پھر اس کے بعد آپ ؐ نے اس شخص کا ذکر فرمایا جو لمبے سفر کے دوران غبار آلوداور پراگندہ بال ہونے کی حالت میں اپنے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا کر دعا مانگے کہ اے میرے رب اے میرے رب! لیکن اس کا کھانا پینا اور پہننا حرام ہو اور اس کی حرام سے پرورش ہوئی ہو تو کہاں اس کی دعا قبول ہو سکتی ہے؟(مسلم)ایک حدیث میںہے کہ جس نے کپڑا خریدا اور اس میں صرف ایک درھم حرام شامل کیا تو وہ کپڑا جب تک بدن پر رہے گا تو اس کی نماز قبول نہیں کی جائے گی، ایک حدیث میں ہے کہ جس کے پیٹ میں ایک لقمہ بھی حرام کمائی کا پہنچ جائے تو اس کی نحوست یہ ہوگی کہ چالیس روز تک اس کا کوئی عمل بارگاہِ الٰہی میں قبول نہ ہوگا(ترغیب) ۔
ایک بزرگ سے کسی نے اچھی اور بُری روزی کے متعلق سوال کیا تو جواب میں انہوں فرمایا کہ:دنیا کی بہترین روزی حلال مال ہے جس کے ذریعہ اپنی اور اپنے اہل وعیال کی زندگی عزت کے ساتھ گزرتی ہے ،یہی وہ روزی ہے جس سے انسان کو قلبی سکون اور عبادت میں دلجمعی عطا ہوتی ہے، یہ جسمانی طاقت کا بھی ذریعہ ہے اور اسی سے خد مت خلق کا موقع نصیب ہوتا ہے جس سے دنیا وآخرت دونوں بنتی ہیں،اور دنیا کی بدترین روزی حرام مال ہے جس کو ہزار مشقتوں کے بعد انسان جمع کرتا ہے،اور نافرمانی کی وجہ سے دنیا کی بے چینی اور آخرت کی تباہی مول لیتا ہے،مر نے کے بعد وارثوں کیلئے چھوڑ جاتا ہے جو چندن کی عیاشیوں میں اس کو برباد کر دیتے ہیں اور ان سب برئیوں کا وبال اصل مالک پر رہتا ہے،مگر افسوس کہ حقائق جاننے کے باوجود لوگ حرام روزی کمانے اور حرام رزق کھانے میں مصروف ہیں۔
کسی عالم ربانی نے قرآن وحدیث کی روشنی میں رزق حرام اور اکل حرام کے دنیوی اوراخروی بہت سے نقصانات گنوائے ہیں جن میں سے چند یہ ہیں(۱) حرام روزی کمانے اور حرام غذا کھانے والا خدا کی نظر سے گر جاتا ہے (۲) اس کا دل سخت ہوجاتا ہے(۳)اس کی زندگی سے اطمینان وسکون جاتا رہتاہے(۴) اُسے بیماریاں گھیر لیتی ہیں(۵)اولاد اس کی نافرمان بن جاتی ہے(۶) اس کا تعلق مسجد سے ٹوٹنے لگتا ہے یعنی نمازیں قضا ہونے لگتی ہیں (۷) اس سے عبادت کی لزت ختم ہوجاتی ہے(۸) وہ دعائیں کرتا ہے مگر اس سے دعاؤں کی قبولیت روک دی جاتی ہے(۹)لوگوں کے جسم تو اس کے تابع ہوتے ہیں مگر ان کے دل متنفر ہو جاتے ہیں(۱۰) وہ فرشتوں کی لعنت کا مستحق ہوجاتا ہے(۱۱)اور بسا اوقات رزق حرام واکل حرام اس کی بری موت کا سبب بھی بن جاتا ہے۔
رزق حرام اور اکل حرام کے اس قدر نقصانات جاننے کے باوجود بہت سے مسلمان آج بھی جھوٹ، دھوکہ اور فریب کے ذریعہ حرام وناجائز مال ودولت کمانے میں مصروف ہیں ، ایسا نہیں ہے کہ مسلمان حرام و ناجائز اور سودی کاروبار کی حرمت وقباحت سے واقف نہیں ہیں بلکہ وہ دھوکہ اور فریب کی تجارت پر مرتب ہونے والی سزاؤں کو جانتے ہیں، اسی طرح انہیں سود کی لعنت ، اس کی دنیوی نحوست اور اخروی عذاب کا بھی علم ہے مگر پھر بھی نفسانی خواہشات کے پجاری بن چکے ہیں ، یہ دنیا کی حقیر نظروں میں بڑا اور مالدار بننے کی حرص میں ،جھوٹ ،فریب ،دھوکہ اور بے ایمانی کے ذریعہ مال ودولت کے انبار لگانے اور سودی لین دین کے ذریعہ غریبوں کے خون چوسنے میں مصروف ہیں،دنیا کی حرص اور بڑا بننے کے جنون نے انہیں خدا اور رسول خدا کا باغی بنا دیا ہے ،آج سے چند سال پہلے تک بھی رہن سینٹر کے نام سے صرف غیر مسلم ہی سودی کاروبار کیا کرتے تھے لیکن آج بہت سے مسلم محلوں میں اسلام کے نام لیوا سودی لین دین کی دکانیں چلا رہے ہیں، مسلمانوں میں سود ی لین دین کی کثرت امت مسلمہ کیلئے خطرہ کی گھنٹی ہے ، دنیا کی حرص ،مالدار بننے کا جنون ،غریبوں کی تذلیل اور ایک دوسرے پر فوقیت جتانے کیلئے مال کا حصول ،یہ چیزیں زمینی آفتوں اور آسمانی بلاؤں کا سبب ہیں،اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں پر بطور سزا کے بے سکونی، غم وپریشانی اور فقر وفاقہ کو مسلط کر دیتا ہے ،رسول اللہ ؐ نے ارشاد ہے کہ جس شخص نے اس حال میں صبح کی کہ دنیا کی فکر (اور بطور تفاخر کے بڑا بننے کی خواہش ) اس پر سوار تھی تو اللہ تعالیٰ اس پر بطور سزا کے تین چیزوں کو مسلط کر دیتا ہے ایک کبھی ختم نہ ہونے والا غم دوسرا کبھی ختم نہ ہونے والی مصروفیت تیسرا فقر وفاقہ ۔
Post Views: 0
Like this:
Like Loading...