Skip to content
غزہ،9اگسٹ( ایجنسیز)اسرائیل کی جانب سے غزہ کی پٹی میں عسکری کارروائی کو بڑھانے کے حالیہ اعلان کے بعد فلسطینی ایوان صدارت نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ اسلامی تعاون تنظیم اور عرب لیگ کے وزرائے خارجہ کے ہنگامی اجلاس بلانے کی بھی اپیل کی گئی ہے۔
فلسطینی خبر رساں ایجنسی "وفا” نے ایوان صدارت کا بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے "اس شدید کشیدگی کے پیش نظر، فلسطین نے عالمی سطح پر متعلقہ اداروں سے فوری رابطے کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور فوری طور پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل سے رجوع کر کے ایسی فوری اور لازمی کارروائی کا مطالبہ کیا جائے گا جو ان جرائم کو روک سکے۔ اس کے علاوہ اسلامی تعاون تنظیم اور عرب لیگ کے وزرائے خارجہ کے ہنگامی اجلاس بلانے کی بھی اپیل کی گئی ہے تاکہ ایک متحد عرب، اسلامی اور بین الاقوامی موقف مرتب کیا جا سکے جو فلسطینی عوام کی حفاظت کرے اور جارحیت کو روکے”۔
فلسطینی ایوان صدارت نے آج جمعے کے روز امریکی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کو غزہ کی پٹی پر قبضہ کرنے سے روکے۔ صدر کے ترجمان نبيل ابو ردينہ نے کہا "ہم عالمی برادری خصوصاً امریکی انتظامیہ سے اپنی ذمے داریاں اٹھانے اور اس اسرائیلی حملے کو روکنے کا مطالبہ کرتے ہیں، کیونکہ یہ قبضہ کسی کے لیے بھی امن، سلامتی یا استحکام نہیں لائے گا۔”
انھوں نے رائٹرز سے ٹیلیفون پر گفتگو کرتے ہوئے کہا "ہم اسرائیلی حکومت کے غزہ پر قبضے کے فیصلے کی سخت مذمت کرتے ہیں، جس کا مطلب ہے کہ غزہ کے باشندوں کی بے دخلی اور مزید قتل و تباہی جاری رکھنے کی کوششیں ہوں گی۔”
یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب اسرائیلی سیکیورٹی کابینہ نے آج صبح غزہ شہر پر کنٹرول کے لیے ایک منصوبے کی منظوری دی۔ اس کے چند گھنٹے بعد وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل پورے غزہ پر عسکری قبضہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اگرچہ اندرونِ ملک اور بیرون ملک جنگ کے خلاف تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے جو فلسطینی علاقے میں تقریباً دو سالوں سے جاری ہے۔
ایوان صدارت کے بیان کے مطابق فلسطینی صدارت نے خاص طور پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اپیل کی ہے کہ وہ ان فیصلوں کو روکنے کے لیے مداخلت کریں اور جنگ روکنے اور دائمی امن قائم کرنے کے اپنے وعدے کو پورا کریں۔
فلسطینی صدارت کے بیان میں کہا گیا "یہ اسرائیلی منصوبے، جو قتل، بھوک اور جبری بے دخلی پر مبنی ہیں، ایک تاریخی انسانی المیہ کی طرف لے جائیں گے۔” بیان میں مزید کہا گیا کہ غزہ پر قبضے کا فیصلہ "اس کے علاوہ جو اسرائیلی قابض فوج مغربی کنارے میں آبادکاری، فلسطینی زمینوں کے الحاق، آباد کاروں کے دہشت گردانہ حملے، مسیحی و اسلامی مقدسات اور عبادت گاہوں پر حملے، فلسطینی فنڈز کی ضبطی اور فلسطینی ریاستی اداروں کی کمزوری کے اقدامات کر رہی ہے، یہ تمام جرائم انسانیت کے خلاف ہیں اور علاقائی و عالمی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔”
حماس کا رد عمل : "نیا جنگی جرم”
اسی سلسلے میں، حماس نے آج جمعے کو اسرائیل کے غزہ شہر پر قبضے کے فیصلے کو "نیا جنگی جرم” قرار دیا اور کہا کہ اسرائیلی حکومت اس حوالے سے یرغمالیوں کی زندگیوں کی پرواہ نہیں کرتی۔
حماس نے اپنے بیان میں کہا کہ اسرائیلی سکیورٹی کابینہ کا غزہ شہر پر قبضے اور اس کے باشندوں کو بے دخل کرنے کا منصوبہ "ایک نیا جنگی جرم ہے جو قابض فوج غزہ اور وہاں کے قریبا دس لاکھ باشندوں کے خلاف کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔”
بیان میں مزید کہا گیا "غزہ پر قبضے کا فیصلہ ظاہر کرتا ہے کہ مجرم نیتن یاہو اور اس کی نازی طرز کی حکومت اپنے یرغمالیوں کی زندگیوں کی پرواہ نہیں کرتے اور وہ جانتے ہیں کہ جارحیت کے پھیلاؤ کا مطلب ہے ان یرغمالیوں کی قربانی، جو ایک سیاسی شکست خوردہ ذہنیت کو ظاہر کرتا ہے جو یرغمالیوں کی جانوں کو قربان کر کے اپنے ناکام سیاسی مقاصد حاصل کرنا چاہتی ہے۔”
اس سے قبل، حماس کے ایک با خبر ذریعے نے عربی اخبار الشرق الاوسط کو بتایا تھا کہ اسرائیل کا غزہ پر قبضے کا منصوبہ صرف مذاکرات میں دباؤ بڑھانے کے لیے ایک حربہ ہے تاکہ مذاکراتی میز پر زیادہ فوائد حاصل کیے جا سکیں، کیونکہ یہ اقدامات مذاکرات کو معطل کرنے کا سبب بن سکتے ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ غزہ میں عسکری کارروائیوں کی توسیع وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کی اس پالیسی کی عکاسی کرتی ہے کہ وہ اس منصوبے کو ایک دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کرنا چاہتے ہیں، حالانکہ انھیں معلوم ہے کہ کوئی بھی مفاہمت مزید مطالبات کی شکل میں آئے گی، جس سے مذاکرات کا عمل بے معنی ہو جائے گا۔
Like this:
Like Loading...