Skip to content
ظریفانہ:ٹوٹل فلمی سیاست
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
للن نے کلن سے کہا یار تم جو کہتے تھے ناکہ پردھان جی بہت دور اندیش آدمی ہیں؟ آج میں کو اس کو مان گیا۔
کلن بولا وہ کیسے؟
بھائی دیکھو پچھلے۸؍ سال سے میری سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ آخر انہوں نےرام یاتری اڈوانی کو چھوڑ کر رام ناتھ کووند کو صدر کیوں بنادیا؟
ہاں یار یہ تو میں بھی سوچ رہا تھا کہ اگر اڈوانی کو صدر بنادیا جاتاکم از کم کچھ تو دلجوئی ہوجاتی۔
بھیاسچ بتاوں مجھے اس سابق نائب وزیر اعظم کی گمنامی پر ترس آتا ہے۔ کہاں وہ جلوہ کہ پورا ملک تھر تھر کا نپتا تھا اور کہاںیہ عبرتناک لاچاری کااندھیرا؟
ارے بھیا میں تو کہتا ہوں کہ یہ گمنامی اس بدنامی سے بہتر ہے جو ان کے پیش رو سابق وزیر اعظم دیوے گوڑا کے حصے میں آئی ہے۔
للن بولا ہاں یار وہ بیچارے تو سوچ رہے ہوں گے کہ پوتے پرجول ریوناّ پر فیصلے سے قبل ان کو موت آجاتی تو اچھا تھا۔
ویسے عمر قید کی سزا پانے والے این ڈی اے کے اس رکن پارلیمان کی تشہیر تو پردھان جی نے بھی کی تھی۔ کیا ان کو اس کے کارناموں کا علم نہیں تھا؟
ارے بھائی انہیں تو سب بتا دیا جاتا ہے مگر وہ اس خوش فہمی کا شکار رہے ہوں گے کہ پرجول ریوناّ کا بال بیکا نہیں ہوگا؟
یہ کیسے ہوسکتا ہے؟ اتنے گھناونے جرائم کاا رتکاب کرنے کے بعد کوئی کیسے بچ سکتا ہے؟
ارے بھیا مودی ہے تو ممکن ہے۔ تم نے نہیں دیکھا مالیگاوں دھماکے سے سادھوی پرگیہ سمیت سارے ملزم باعزت بری ہوگئے ۔
بھائی ثبوت نہ ہوں تو کیا زبردستی سزا دے دی جائے؟کچھ بھی بولتے ہو۔
کیا این آئی اے بی جے پی کی وزارت داخلہ کے تحت کام نہیں کرتی؟ اس کے باوجود اس کے وکیل سخت ترین سزا کا مطالبہ بلاثبوت یوں ہی کردیا ؟
اچھا تو پھر وہ لوگ کیسے چھوٹ گئے؟
بھیا ثبوت چھپائے بھی جاتے ہیں ۔ تکنیکی بہانوں سے ثبوت مسترد کرکے شک کی بنیاد پر چور دروازے سے نکال دیا گیا ۔
چلو مان لیا لیکن یہ بتاو کہ پھر ریونا کے معاملے میں یہ کیوں نہیں ہوا؟
بھائی میرے خیال میں اس کی دو وجوہات ہوسکتی ہیں۔
اچھا ایک ایک کرکے بتاو۔ پہلی وجہ کیا ہے؟
بھیا پہلی وجہ تو یہ ہوسکتی ہے کہ آج بھی عدلیہ کچھ ججوں کاضمیرزندہ ہے مثلاً جس جج نے ٹرین دھماکے ملزمین کو بری کیا یا جس نے وجئے شاہ کو رگڑ دیا۔
ہاں یار یہ بھی ہوتا ہے۔ خیر اب دوسرا سبب بتاو۔
مجھے تو لگتا ہے کہ جے ڈی ایس اب بی جے پی کے لیے کسی کام کی نہیں رہی ۔ ٹشو پیپر کے طور پر اس کا استعمال ہوچکا ۔
اچھا تو کیا اب اسے بھی نتیش کمار کی مانند کوڑے دان کی نذر کردیا جائے گا ۔
ارے بھیا جو اپنے گرو اڈوانی کے ساتھ یہ سلوک کرسکتے ہیں تو شندے اور کیجریوال وغیرہ کی کیا بساط؟
یار ایکناتھ شندے کی بات تو سمجھ میں آتی ہے ۔ اس نے غداری کی ہے تو اس کے ساتھ یہی سلوک ہونا چاہیےمگر اروند کیجریوال کہاں سے آگیا؟
بھیا للن تم بھی بہت بھولے ہو۔ یہ بتاو کہ ملک میں اتنا کچھ ہورہا ہے لیکن اروند کیجریوال کہاں ہے؟
ہاں یار اس نے نہ تو الیکشن کمیشن کی چوری پر کچھ بولا اور نہ بہار کے ایس آئی آر پر منہ کھولا یہاں تک آپریشن سیندور پر بھی چپ ہی رہا ۔
یہ تو سوچو کہ اس بڑ بولے سیاستداں کو جو مودی کا متبادل بننے کے فراق میں تھا آخر کیا ہوگیا؟ اور وہ کہاں کھوگیا؟؟
بھائی وہ انڈیا محاذ سے الگ ہوکر پنجاب میں دبکا بیٹھا ہے حالانکہ پنجاب میں تو بی جے پی کا وجود ہی نہیں ہے۔ وہ وہاں کیا کررہا ہے؟
بھیا دیکھو ایسا ہے کہ وہ وہاں ٹائم پاس کررہا ہے بلکہ کانگریس کی جڑیں کمزور کرنے میں مصروف ہے۔
لیکن اس کے اس سنیاس کی وجہ کیا ہے؟
مجھے تو لگتا ہے دہلی کا اقتدار گنوانے کے بعد وہ ڈر گیاکیونکہ اس کی ساری فائلیں اب بی جے پی کے پاس ہیں ۔
یہ میں نہیں مان سکتا۔ وہ بڑا نڈر بندہ ہے۔ اس نے پردھان جی کے بارے میں جو کچھ کہا ایسا کوئی نہیں کہہ سکا ہے۔تمہیں ان پڑھ راجہ کی کہانی یاد ہے؟
مجھے معلوم ہے مگر اس وقت دہلی کا اقتدارقبضے میں تھا۔ مگراب وہ بلیک میل ہونے لگا ہے۔ ویسےضمانت میں ہونے کے سبب کبھی بھی اندر جا سکتا ہے۔
کیا بکواس کرتے ہو۔ تمہیں پتہ ہے ستیندر جین ابھی حال میں جیل سے چھوٹ چکے ہیں ۔ اس لیے اسے ڈرنے کیا ضرورت ہے؟
بھائی ممکن ہے وہ اس سودے بازی کی پہلی قسط ہو ، مزید کچھ دن بی جے پی کی خدمت بجا لائے توسسودیا اور کیجریوال کو بھی عالم پناہ چھوڑ دیں گے۔
اچھا تو کیا سمجھ لیں کہ جھاڑو پر کمل کا بلڈوزر چل گیا ؟
بھیا میں نے تو سنا ہے کہ جگدیپ دھنکر نے اس کو راجیہ سبھا میں آکر بی جے پی کی مخالفت کرنےپر اکسایا اور اس نے چغلی کھاکر خوشنودی حاصل کرلی۔
میں نہیں مانتا ، دھنکر کو ہٹانے کے پیچھے مجھے اور ہی سازش لگتی ہے اسی لیے میں نے کہا تھا اب مجھے پردھان جی کے دور اندیشی پر رشک آنے لگا ہے۔
ارے ہاں یار بات لال کرشن اڈوانی سے شروع ہوئی پھر کہیں اور نکل گئی۔
جی ہاں مگر اس کا تعلق بھی دھنکر کے استعفیٰ سے ہے میرا تو خیال ہے کہ وہ ایک ریہرسل تھا ۔
کیا بکتے ہو بھیا۔ اتنے اونچے عہدے سے ہٹ جانا بھلا کس کا ریہرسل ہوسکتا ہے؟
آسان جواب ،اس سے بڑے عہدے سے ہٹنے کا ۔
اس سے بڑا تو ملک میں صرف صدر مملکت کا عہدہ ہے ۔
میں اسی کی بات کررہا ہوں ۔مجھے تو لگتا ہے کہ اب صدر مملکت کےاستعفیٰ کی باری ہے۔
کیا بکواس کرتے ہو۔ وہ کیوں بھلا ایسا کیوں کریں گی؟ ان کونہ تو کسی سیاست بازی میں دلچسپی ہے اورنہ وہ کوئی اول فول بیان بازی کرتی ہیں۔
جی ہاں ۔ ان سے جوکہنے کے لیے کہا جاتا ہے من و عن وہی کہہ دیتی ہیں اور کر بھی دیتی ہیں۔
وہی تو کہہ رہا تھا کہ جب ان سے کہا جائے گا کہ اس استعفیٰ نامہ پر دستخط کرکے بھجوا دو جو امیت شاہ نے دیا ہے تو وہ سعادتمندی کے ساتھ عمل کریں گی۔
امیت شاہ نے استعفیٰ نامہ دیا ؟ میں نہیں سمجھا ؟ انہوں نے یہ کب اور کیوں دیا؟
ارے بھائی پہلے پردھان جی گئے اور ان کو سمجھایا یا دھمکایا ۔ اس کے بعد شاہ جی نے باقی کام کردیا ۔ ایک نے رائتہ پھیلایا دوسرے نے سمیٹ دیا۔
اچھا مگر اس کادھنکر سے کیا تعلق ؟
میں نے کہا نا کہ دھنکر کوبلی کا بکرا بنا کر انہیں سمجھا دیا گیا کہ اگر کوئی گڑ بڑ کی تو اچانک استعفیٰ لے کر ان کوبھی غائب کردیا جائے گا ۔
ہاں یار اس بیچارے پر تو غالب کا مصرع ’ مرگئے مردود فاتحہ نہ درود ‘پوری طرح صادق آتا ہے۔
ارے بھیا وہ مصرع ’بڑے بے آبرو ہوکر تیرے کوچے سے ہم نکلے‘ ہے۔ وہ بیچارہ تو ایسا گیا کہ کسی نے پھوٹی آنکھ سے ایک آنسو بھی نہیں بہایا۔
ہاں مگر اس وداعی سے قوم کویہ پیغام دے دیا گیا کہ ان نمائشی عہدوں کی کوئی قدرو قیمت نہیں ہے ۔ ایسی کٹھ پتلیاں کسی بھی وقت کوڑے دان ۰۰۰
سمجھ گیا اورحقیقت بھی یہی ہے مگر اس کے اظہار کی ضرورت کیا ہے؟
ارے بھائی قوم کو اس طرح کے جھٹکے سہنے کے لیے تیار کردیا گیا ہے تاکہ پھر سے لگے تو نہ درد اور نہ ہنگامہ ہو ۔
یار تم بار بار صدر مملکت کو ہٹانے کی جانب اشارہ کررہے ہو لیکن یہ نہیں بتاتے کہ آخر اس کی ضرورت کیا ہے؟ اس سے کس کا کیا فائدہ ہوگا؟
دیکھو بھائی پردھان جی سے اب کچھ ہوتا نہیں ہے ۔وہ اگر اپنے محل سے نکلیں تو کسی آشرم تھوڑی نا جائیں گے ۔
تو تمہارا کیا مطلب ہے ؟کہیں تم پردھان جی کو صدارتی محل میں روانہ کرنے کی بات تو نہیں کررہے ہو؟
جی ہاں صحیح پکڑے۔ ان کے لیے صدارتی محل میں جگہ بنائی جارہی ہے تاکہ شاہ جی کو ملک کا بے تاج بادشاہ بنادیا جائے ۔
یار یہ تو غضب کہانی ہے۔ اس پر ایک اچھا سیریل تو بن سکتا ہے مگر حقیقت سے اس کا کوئی واسطہ نہیں ہے۔
بھیا کون جانتا تھا کہ جیل سے نکل کرامیت شاہ ملک کے وزیر داخلہ بنیں گے ۔ آج وہ اِس عہدے پر تو کل اُس عہدے پر ، کیا فرق پڑتا ہے؟
جی ہاں مگر اس کا اڈوانی جی سے کیا تعلق ؟ اور پردھان جی کی دور اندیشی کا کیا چکر ہے؟
بھائی دیکھو اگر رام ناتھ کووند کے بجائے لال کرشن اڈوانی کو صدر بنا دیا جاتا تو ان کی جگہ دروپدی مرمو کو لانا ممکن نہیں تھا ۔
چلو مان لیا ۔ اس لیےکہ وہ خود تونہیں چھوڑتے اور پردھان جی زبردستی ہٹاتے تو ان کو بہت برا بھلا یعنی احسان فراموش کہاجاتا۔
یہ بھی صحیح ہے ۔
لیکن اب ایسا کچھ نہیں ہوگا۔ جگدیپ دھنکر کی طرح دروپدی مرمو بھی چلی جائیں گی اور ان کی جگہ پردھان جی براجمان ہوجائیں گے بات ختم۔
یار للن تم نے تو غضب کردیا ۔پردھان جی، امیت شاہ، جگدیپ دھنکر،دروپدی مرمو اور ایل کے اڈوانی جیسے موتیوں کو ایک تار میں پرولیا۔
اچھاتو اب بولو میں کیسا فلمی منظر نامہ لکھ سکتا ہوں ؟
مان گئے استاد! تمہارے آگے تو سلیم جاوید بھی فیل ہے۔
Post Views: 2
Like this:
Like Loading...