Skip to content
اقوامِ متحدہ کا انصاف یا مفاد کا کھیل.
مسلم اُمّت اور دوہرے معیار کی کہانی
✍:مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040
دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی انسان نے امن، انصاف اور مساوات کے خواب دیکھے، طاقت کے ایوانوں نے اکثر انہیں مفاد کی دھند میں گم کر دیا۔ 1945ء میں اقوامِ متحدہ کی بنیاد گویا ایک نئے عہد کا اعلان تھی۔ ایسا عہد جس میں جنگ کے شعلے بجھ جائیں، کمزور و طاقتور ایک ہی صف میں کھڑے ہوں، اور انسانیت کا وقار ہر سرحد سے بلند ہو۔ مگر وقت نے ثابت کیا کہ یہ خواب ابھی تک ایوانوں کی دیواروں میں قید ہے۔ عالمی سیاست کے ترازو میں اصول نہیں بلکہ مفادات کا پلڑا بھاری ہے، اور یہ پلڑا اکثر طاقتور کے ہاتھوں میں جھک جاتا ہے۔ خاص طور پر مسلم اُمّت کے لیے، یہ ادارہ زیادہ تر ایک ایسے منصف کی مانند دکھائی دیتا ہے جو قانون کی کتاب ضرور تھامے ہوئے ہے، مگر فیصلہ ہمیشہ اسی کے حق میں سناتا ہے جس کے پاس دولت، طاقت یا تعلقات کا سہارا ہو۔ ایسے میں سوال یہ نہیں کہ اقوامِ متحدہ نے کیا وعدے کیے تھے، بلکہ یہ ہے کہ ان وعدوں کو حقیقت کا روپ کب اور کیسے دیا جائے گا اور مسلم اُمّت اس بدلتے ہوئے منظرنامے میں اپنی عزّت، اتحاد اور وقار کا پرچم کیسے بلند رکھ سکتی ہے۔
دنیا کے سیاسی افق پر 1945ء میں ایک نئے سورج کا طلوع ہوا—اقوامِ متحدہ—جسے انسانیت کے امن، مساوات اور عدل و انصاف کا پرچم بردار قرار دیا گیا۔ اس کے بانیوں نے اعلان کیا کہ اب جنگ کے بادل چھٹ جائیں گے، کمزور اور طاقتور ایک ہی صف میں کھڑے ہوں گے، اور ہر ملک کو برابری کے حقوق حاصل ہوں گے۔ یہ ایک ایسا خواب تھا جو دوسری عالمی جنگ کے زخموں سے چور انسانیت کے لیے مرہم کی حیثیت رکھتا تھا۔
لیکن اگر اس تصویر کو حقیقت کی آنکھ سے دیکھا جائے تو اس کے رنگ ماند پڑے ہوئے اور خدوخال دھندلے نظر آتے ہیں۔ منشور میں تو ہر ملک کو مساوی رکن کا درجہ دیا گیا، مگر عملی میدان میں یہ مساوات اکثر کمزور اقوام کے لیے ایک تسلی بخش جملہ اور طاقتور اقوام کے لیے ایک کھیل بن گئی۔ خاص طور پر جب بات مسلم اُمّت کے مسائل اور حقوق کی آتی ہے تو یہ مساوات کا پردہ مزید چاک ہو جاتا ہے۔
اقوامِ متحدہ: خواب سے ویٹو کی حقیقت تک
دوسری عالمی جنگ کے بعد انسانیت ایک نئی صبح کا انتظار کر رہی تھی—ایسی صبح جس میں توپوں کی گھن گرج کی جگہ امن کے ترانے گائے جائیں، اور بارود کی بو کی بجائے انصاف کی خوشبو پھیلے۔ اس خواب کو چارٹر آف دی یونائیٹڈ نیشنز کے الفاظ میں قید کیا گیا، جس میں وعدہ کیا گیا کہ:
بین الاقوامی تنازعات کا حل طاقت کے بجائے بات چیت اور سفارت کاری سے ہوگا۔ انسانی حقوق کی حفاظت ریاستوں کا بنیادی فریضہ ہوگا۔ کسی بھی قوم پر جارحیت یا ظلم روا نہیں رکھا جائے گا۔ یہ وعدے سن کر دنیا نے سوچا کہ شاید تاریخ کا پہیہ اب انصاف کی سمت گھومے گا۔ لیکن جلد ہی یہ خواب طاقتور ممالک کے مفادات کی زنجیروں میں جکڑ گیا۔
اقوامِ متحدہ کے انصاف کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ سلامتی کونسل کا وہ ویٹو اختیار ہے جو پانچ مستقل ارکان—امریکہ، برطانیہ، فرانس، روس اور چین—کو حاصل ہے۔ یہ اختیار گویا عالمی سیاست کا جادوئی ہتھیار ہے، جس سے وہ کسی بھی قرارداد کو چاہیں تو زندگی دے سکتے ہیں اور چاہیں تو موت کے گھاٹ اتار سکتے ہیں۔ یہ صورتحال ایک ایسے منصف کی مانند ہے جو عدالت میں دونوں فریق کو سننے کا دعویٰ تو کرتا ہے، مگر فیصلہ ہمیشہ اپنے دوست کے حق میں سناتا ہے۔ جب مفاد کا تقاضا ہو تو انصاف کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں، اور جب مصلحت اجازت دے تو اصول بدل کر نئے معنی پہن لیتے ہیں۔
یوں لگتا ہے کہ اقوامِ متحدہ کے ترازو میں انصاف کا وزن طاقتور کی انگلیوں سے قابو میں ہے۔ جس طرف وہ جھکانا چاہیں، ترازو اسی سمت ڈھلک جاتا ہے۔ اگر دنیا کو واقعی امن اور مساوات کا گہوارہ بنانا ہے تو اس ترازو کی زنجیریں مفادات سے آزاد کرنی ہوں گی، ورنہ یہ ادارہ تاریخ میں صرف ایک اور ناکام تجربے کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔
مسلم اُمّت: سب سے زیادہ متاثرہ فریق
اقوامِ متحدہ کے بلند و بانگ دعوؤں اور چمکتے ہوئے ایوانوں میں اگر کوئی قوم بار بار مظلوم اور بے بس بن کر پیش ہوئی ہے تو وہ مسلم اُمّت ہے۔ دنیا کے ہر خطے میں جہاں بھی مسلمانوں پر ظلم ڈھایا گیا، انصاف کے بجائے دوہرے معیار کا کھیل کھیلا گیا۔ یہ المیہ صرف ایک خطے کا نہیں، بلکہ ایک پوری اُمّت کا ہے وہ اُمّت جو کبھی علم و تہذیب کی معمار تھی اور آج ظلم کے ایوانوں میں پکار پکار کر بھی جواب نہیں پاتی۔
فلسطین کا نہ ختم ہونے والا کرب: 1948ء سے آج تک درجنوں قراردادیں اسرائیل کے خلاف اقوامِ متحدہ میں پاس ہوئیں، مگر ہر بار ایک طاقتور ملک کا ویٹو ان قراردادوں کو محض کاغذی تحریر میں بدل دیتا ہے۔ نہ صرف فلسطینی عوام بلکہ ان کی پوری نسل گولیوں، بمباری اور محاصروں کے سائے میں زندگی گزار رہی ہے۔ اقوامِ متحدہ کی جانب سے "تشویش” کے رسمی بیانات جاری ہوتے ہیں، مگر عملی اقدامات کا باب ہمیشہ بند رہتا ہے۔
بوسنیا کا خونی باب: 1990ء کی دہائی میں بوسنیا کے مسلمانوں پر قیامت ٹوٹی۔ سرب افواج نے نسل کشی کی انتہا کر دی، ساری دنیا دیکھتی رہی، اور اقوامِ متحدہ نے امن فوج بھیجی تو وہ تماشائی بن کر رہ گئی۔ سربرینیتسا کے قتلِ عام میں ہزاروں معصوم مسلمانوں کو ذبح کر دیا گیا، مگر عالمی انصاف کا ترازو اس وقت بھی طاقتور کے مفاد میں جھکا رہا۔
عراق کی بربادی: 2003ء میں عراق پر "تباہ کن ہتھیاروں” کے الزام کے تحت حملہ کیا گیا—وہ ہتھیار جو کبھی ملے ہی نہیں۔ لاکھوں انسان مارے گئے، ایک مستحکم ملک کھنڈرات میں بدل گیا، اور صدیوں پرانی تہذیبی وراثت مٹی میں مل گئی۔ لیکن جب حقیقت سامنے آئی کہ یہ جنگ جھوٹے الزامات پر لڑی گئی، تو نہ اقوامِ متحدہ نے کوئی مؤثر کارروائی کی اور نہ ہی مجرموں کو کٹہرے میں لایا گیا۔
لیبیا کا انجام: 2011ء میں "انسانی حقوق کے تحفّظ” کے نام پر لیبیا پر حملے کیے گئے، حکومت گرائی گئی، اور ملک کو خانہ جنگی میں دھکیل دیا گیا۔ آج لیبیا مختلف دھڑوں میں بٹا ہوا ہے، اس کی معیشت تباہ اور عوام دربدر ہیں۔ اقوامِ متحدہ نے یہاں بھی طاقتور ممالک کے ایجنڈے کو تحفّظ دیا، مگر حقیقی امن بحال نہ کرا سکی۔
یمن کا انسانی المیہ: یمن میں برسوں سے جاری خانہ جنگی نے لاکھوں انسانوں کو فاقہ کشی اور وباؤں کا شکار بنا دیا ہے۔ اسپتال ملبے میں، اسکول کھنڈرات میں اور بچّے بھوک سے مر رہے ہیں۔ لیکن چونکہ اس جنگ میں شامل فریقوں میں کچھ طاقتور ممالک کے قریبی اتحادی ہیں، اس لیے اقوامِ متحدہ کی کارروائی صرف امدادی اعلانات تک محدود ہے۔
یہ تمام مثالیں اس حقیقت کو عیاں کرتی ہیں کہ مسلم اُمّت، اقوامِ متحدہ کے ایوانوں میں سب سے زیادہ متاثرہ اور سب سے کم سنی جانے والی آواز ہے۔ طاقتور ممالک کے مفادات جب مسلم دنیا کے خلاف ہوں، تو انصاف کی ترازو ہمیشہ دوسری سمت جھک جاتا ہے۔
دوہرا معیار: انصاف یا مفاد پرستی؟
اقوامِ متحدہ کا طرزِ عمل اس تلخ حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں انصاف اور اصول محض کتابی جملے ہیں، اصل کھیل طاقت اور مفاد کا ہے۔ قوانین اور ضوابط اس ترازو کے پلڑے ہیں جنہیں طاقتور اپنے ہاتھ کی جنبش سے جھکا دیتے ہیں۔ جب یہی قوانین کمزور اقوام پر لاگو ہوتے ہیں تو وہ لوہے کی زنجیروں کی طرح جکڑ لیتے ہیں، اور جب طاقتور پر باری آتی ہے تو نرم موم کی طرح شکل بدل لیتے ہیں۔ یہ دوہرا معیار ایک ایسے منصف سے مشابہ ہے جو عدالت میں برابری کا حلف تو اٹھاتا ہے، مگر فیصلہ ہمیشہ اپنے عزیز کے حق میں سناتا ہے۔
دفاع یا دہشت گردی؟: جب کوئی مسلم ملک اپنی بقا اور آزادی کے لیے دفاعی اقدام کرتا ہے، تو اس پر فوراً "دہشت گردی” کا لیبل چسپاں کر دیا جاتا ہے۔ فلسطینی نوجوان اگر اپنے گھروں کے انہدام اور اپنے بچوں کی شہادت کے بعد مزاحمت کریں تو دنیا انہیں مجرم ٹھہراتی ہے۔ اسی طرح شام یا یمن کے مظلوم جب حملوں سے بچنے کے لیے جوابی کارروائی کرتے ہیں تو عالمی میڈیا اور ایوانِ اقوام انہیں خطرہ قرار دیتے ہیں۔
جنگ یا مقدس فریضہ؟: اس کے برعکس، جب کوئی طاقتور ملک اپنے مفاد کے لیے فوج کشی کرتا ہے تو اسے "انسدادِ دہشت گردی” یا "انسانی حقوق کے تحفظ” کا مقدس فریضہ قرار دے کر پیش کیا جاتا ہے۔ 2003ء میں عراق پر حملہ اس کی واضح مثال ہے—تباہ کن ہتھیاروں کا الزام لگا کر پورا ملک برباد کر دیا گیا، لاکھوں لوگ مارے گئے، مگر بعد میں دنیا نے تسلیم کیا کہ وہ ہتھیار موجود ہی نہیں تھے۔ اس کے باوجود کسی کو مجرم نہ ٹھہرایا گیا، اور جنگ کو ایک "ضروری اقدام” کہہ کر تاریخ کے صفحات پر لپیٹ دیا گیا۔
انسانی حقوق کی تنظیمیں: خاموش تماشائی
انسانی حقوق کے نام پر کام کرنے والی بڑی تنظیمیں اکثر وہیں اندھی اور بہری بن جاتی ہیں جہاں مصلحت یا طاقتور کے مفاد کا سوال ہو۔ برما (میانمار) میں روہنگیا مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم، یا بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ کھلے عام ہونے والا امتیازی سلوک، سب کے سب عالمی ضمیر کے کونے میں دھکیل دیے جاتے ہیں۔ وہاں نہ ہنگامی اجلاس بلائے جاتے ہیں، نہ سخت پابندیاں لگتی ہیں، اور نہ ہی انسانی ہمدردی کے نعرے سنائی دیتے ہیں۔
یہی وہ رویہ ہے جو اقوامِ متحدہ کے دوہرے معیار کو عیاں کرتا ہے—ایک معیار طاقتور کے لیے، دوسرا کمزور کے لیے۔ جب تک عالمی سیاست کا یہ توازن بدل نہیں جاتا، انصاف محض ایک خواب اور مساوات ایک نعرہ ہی رہے گا۔
مسلم اُمّت کی کمزوری کی وجوہات
یہ حقیقت کڑوی سہی، مگر ناقابلِ انکار ہے کہ مسلم اُمّت کے زخموں میں سب سے گہرا زہر اندرونی بکھراؤ کا ہے۔ دشمن کی گولی سے پہلے ہماری صفوں میں بچھڑے فاصلے ہمیں کمزور کرتے ہیں۔ دنیا میں 57 مسلم ممالک پر مشتمل ایک ایسا گروہ موجود ہے جو اگر یکجا ہو جائے تو اپنی آبادی، جغرافیائی محلِ وقوع، اور قدرتی وسائل کے باعث عالمی سیاست میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتا ہے۔ لیکن عملی طور پر یہ اُمّت ایک ہی ایوان میں بیٹھ کر بھی الگ الگ سمتوں میں چلتی ہے۔
کوئی ملک طاقتور بلاک کے معاشی مفاد کے لیے اپنی پالیسی بدل لیتا ہے۔
کوئی دوسرا ملک سیاسی تحفّظ کے لیے مخالف کی صف میں جا کھڑا ہوتا ہے۔
اور کوئی ملک اپنے مقامی مفاد کے لیے اُمّت کے اجتماعی موقف کو قربان کر دیتا ہے۔
یوں اجتماعی آواز بکھر جاتی ہے، اور جب اقوامِ متحدہ جیسے فورمز پر مسلم اُمّت کا مقدمہ پیش ہوتا ہے تو یہ ایک بکھرے ہوئے جملے کی مانند ہوتا ہے—جس کے نہ معنی واضح ہوتے ہیں، نہ اثر گہرا۔
ضرورتِ اصلاح: اقوامِ متحدہ اور مسلم اُمّت
1. اقوامِ متحدہ کی اصلاح: سلامتی کونسل کا ویٹو اختیار عالمی انصاف کے گلے میں وہ پھندا ہے جو طاقتور کے ہاتھ میں ہے۔ جب تک اس اختیار میں جمہوری توازن پیدا نہیں کیا جاتا یا اسے ختم نہیں کیا جاتا، عالمی فیصلے کبھی بھی حقیقی انصاف کی بنیاد پر نہیں ہوں گے۔ یہ اصلاح محض مسلم اُمّت ہی نہیں بلکہ دنیا کے تمام مظلوم ممالک کے لیے ضروری ہے۔
2. مسلم اُمّت کا اتحاد: او آئی سی جیسے ادارے اس وقت زیادہ تر بیانات تک محدود ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ یہ پلیٹ فارمز سفارت کاری، معیشت اور دفاع میں عملی اقدامات کریں۔ مثال کے طور پر اگر تیل پیدا کرنے والے مسلم ممالک مل کر کسی جارح ملک پر معاشی دباؤ ڈالیں تو وہ اثر ڈال سکتے ہیں جو بیانات سے ممکن نہیں۔
3. میڈیا اور بیانیہ: آج کی جنگیں صرف سرحدوں پر نہیں لڑی جاتیں بلکہ میڈیا کے میدان میں بھی ہوتی ہیں۔ عالمی میڈیا میں مسلم اُمّت کا مؤقف پہنچانے کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی اپنانا ضروری ہے۔ اگر دنیا فلسطین کے ایک بچّے کے زخم کو دہشت گردی کا ردعمل سمجھے، یا یمن کے قحط کو محض خانہ جنگی کا نتیجہ کہہ دے، تو یہ ہماری بیانیہ سازی کی کمزوری ہے۔ ترکی، ملائیشیا اور قطر جیسے ممالک نے اس میدان میں کچھ کامیاب مثالیں قائم کی ہیں، لیکن یہ کوشش پوری اُمّت کی سطح پر ہونی چاہیے۔
یہ سب اقدامات اس وقت تک خواب رہیں گے جب تک مسلم ممالک اپنے ذاتی مفادات کو امت کے اجتماعی مفاد پر قربان کرنے کا حوصلہ پیدا نہ کریں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب صفیں جڑ جاتی ہیں تو دشمن کی دیواریں گر جاتی ہیں، لیکن جب دل بکھر جاتے ہیں تو قلعے بھی اپنے ہی باسیوں کے ہاتھوں ٹوٹ جاتے ہیں۔
اقوامِ متحدہ: انصاف یا مفاد کی عدالت؟
اقوامِ متحدہ کا موجودہ کردار ہمیں بار بار اس منظر کی یاد دلاتا ہے جہاں ایک جج عدالت کی کرسی پر بیٹھا ہے، ہاتھ میں قانون کی کتاب ضرور ہے، مگر نگاہ ہمیشہ دولت اور تعلقات کے پلڑے پر ٹکی رہتی ہے۔ جب کسی کمزور کا مقدمہ پیش ہوتا ہے تو وہ کتاب کے صفحات کو سخت اور غیر لچکدار قانون کی طرح پڑھتا ہے، مگر جب طاقتور کا کیس آتا ہے تو انہی صفحات کو نرم موم کی طرح موڑ لیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فلسطین میں خون بہتا ہے، یمن میں بچّے بھوک سے مر رہے ہیں، شام کھنڈرات میں بدل چکا ہے، اور برما میں نسل کشی کے زخم تازہ ہیں لیکن عالمی ایوانوں میں خاموشی چھائی رہتی ہے، کیونکہ یہاں انصاف سے زیادہ مفاد کی گونج سنائی دیتی ہے۔
اگر دنیا واقعی امن چاہتی ہے تو اسے یہ ماننا ہوگا کہ پائیدار امن صرف اس وقت ممکن ہے جب اصول مفاد پر غالب ہوں۔ جس دن عالمی فیصلے طاقتور کی جیب اور تعلقات کے بجائے حق و صداقت کی بنیاد پر ہوں گے، اسی دن اقوامِ متحدہ کے ایوان انصاف کے منبر بنیں گے، نہ کہ طاقت کے سوداگر بازار۔ تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ جب اصول قربان کر دیے جاتے ہیں تو سلطنتیں بظاہر تو قائم رہتی ہیں مگر اندر سے کھوکھلی ہو جاتی ہیں۔ سلطنتِ روم ہو یا سپر پاور برطانیہ طاقت کے عروج کے باوجود جب انصاف اور مساوات کو پسِ پشت ڈالا گیا تو زوال نے دروازہ کھٹکھٹا دیا۔
مسلم اُمّت کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ اس عالمی نظام میں عزّت و وقار کسی خیرات کا نام نہیں جو طاقتور اپنی مرضی سے بانٹ دے۔ عزّت صرف اس کو ملتی ہے جو اپنے پاؤں پر کھڑا ہو، اپنے وسائل پر انحصار کرے، اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرے، اور ظلم کے خلاف بلا خوف و خطر آواز بلند کرے۔ قرآن نے بھی یہی سبق دیا: "وَلِلَّهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ”۔ "عزّت تو اللّٰہ، اس کے رسول، اور مؤمنوں کے لیے ہے”۔ یہ عزّت تلوار کے سائے میں نہیں بلکہ ایمان، اتحاد اور حق پر قائم رہنے کے عزم میں پوشیدہ ہے۔
جب 1973ء کی عرب-اسرائیل جنگ کے دوران چند عرب ممالک نے تیل کی سپلائی روک کر مغربی طاقتوں پر معاشی دباؤ ڈالا تو پوری دنیا نے محسوس کیا کہ وسائل اگر یکجا ہو جائیں تو طاقتور کو بھی جھکنا پڑتا ہے۔ مگر افسوس کہ یہ اتحاد وقتی تھا، اور جیسے ہی ذاتی مفادات غالب آئے، اثر ماند پڑ گیا۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ اقوامِ متحدہ کے موجودہ رویے کو بدلنے کا پہلا قدم دنیا کی طاقتوں کا نہیں بلکہ خود مسلم اُمّت کا ہے۔ اگر ہم اپنی کمزوری کو پہچان کر اسے قوت میں بدل لیں، تو نہ صرف ہم اپنے لیے بلکہ دنیا کے ہر مظلوم کے لیے آواز بلند کر سکیں گے اور تب شاید عالمی عدالت کا جج بھی قانون کی کتاب کو اس کے اصل مفہوم میں پڑھنے پر مجبور ہو جائے۔
دنیا کا ہر منصف اور ہر ادارہ وقت کی کسوٹی پر پرکھا جاتا ہے۔ اقوامِ متحدہ آج اسی کسوٹی پر کھڑی ہے۔ یا تو یہ ادارہ اپنے وعدوں، منشور اور انصاف کے اصولوں کو حقیقت کا روپ دے کر تاریخ میں عزت کا مقام حاصل کرے، یا پھر طاقت کے غلام بن کر ایک اور ناکام تجربہ کہلائے۔
مسلم اُمّت کے لیے پیغام یہ ہے کہ کسی بیرونی نجات دہندہ کا انتظار نہ کرے۔ اپنی بقا، عزت اور وقار کے لیے ہمیں خود اپنی صفیں درست کرنی ہوں گی، اپنے وسائل کو مشترکہ قوت بنانا ہوگا، اور ہر سطح پر سفارت کاری، معیشت اور ابلاغ کے محاذ پر مؤثر حکمتِ عملی اختیار کرنی ہوگی۔ جب اُمّت اپنی داخلی کمزوریوں کو طاقت میں بدل لے گی تو نہ صرف اپنے حقوق کا تحفّظ کر سکے گی بلکہ عالمی انصاف کی بازی کو بھی بدلنے کی صلاحیت رکھے گی۔
دنیا میں پائیدار امن اور حقیقی مساوات اسی وقت ممکن ہیں جب مفاد کے کھیل پر اصول کی حکمرانی قائم ہو۔ اور یہ تبدیلی تبھی آئے گی جب کمزور اپنی کمزوری مان کر مضبوط ہونے کا عزم کریں، اور طاقتور یہ سمجھ لیں کہ انصاف کے بغیر طاقت کا دوام ممکن نہیں۔ اگر ہم نے یہ سبق سیکھ لیا تو وہ دن دور نہیں جب اقوامِ متحدہ کا ایوان واقعی انسانیت کے وقار کا منبر بنے گا، اور دنیا ایک ایسے نظام کو دیکھے گی جس میں نہ مسلم مظلوم ہوگا اور نہ ہی کوئی کمزور بے آواز۔
(9 اگست 2025ء)
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com
Post Views: 4
Like this:
Like Loading...