Skip to content
ملک کی ازادی اور اردو نظم
از قلم: ڈاکٹر صدیقی نسرین فرحت
مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا
ہندی ہیں ہم وطن ہے ہندوستاں ہمارا
اردو ادب میں اصناف شاعری میں نظم کو ایک نہایت خصو صی اہمیت حاصل ہے۔ عام اصطلاح میں نظم سے مراد شاعری ہے۔اصناف اور اسالیب ہیں۔جن میں کسی خاص موضوع پر ربط و تسلسل کے ساتھ اظہار خیال کیا گیا ہو۔اس اعتبار سے غزل کے علاوہ اردو شاعری کی بیشتر نمائندہ اصناف مثلاً قصیدہ،مثنوی،اور رباعی وغیرہ اس کے دائرے میں آجاتی ہیں۔قدیم کلاسیکی اصناف کی اپنی روایات،اپنے اصول اور اپنی تاریخ ہے۔ان میں سے اکثر کچھ خاص موضوعات کے لیے مخصوص ہیں اور اپنے زمانے کے مخصوص حالات میں ان کو مقبولیت حاصل ہوئی۔موضوع سے قطع نظر ہیئت یعنی مصرعوں اور بندوں کی ترتیب کے اعتبار سے بھی دور قدیم میں نظم کے کچھ خاص اسالیب کا رواج رہا ہے۔ مثال کے طور پر مسدس،مخمس،ترجیع بند وغیرہ۔ان قدیم اصناف اوراسالیب نظم کے فنی آداب و اصول اتنے سخت تھے کہ ان میں کسی شاعر کو اصلاح و ترمیم کی جرات نہیں ہوتی تھی اور بالعموم وہ ان روایات اور ضابطوں کے پابند رہ کر ہی طبع آزمائی کرتے تھے۔
جب زندگی اور زمانے نے کروٹ بدلی ملک میں نئے حالات اور نئے مسائل پیدا ہوئے۔سیاسی، سماجی ،تعلیمی اور تہذیبی میدان میں نئی تبدیلیاں رونما ہوئی اور نئے خیالات عام ہوئے تو اردو نظم کے روایتی اسالیب میں بھی تبدیلی کی ضرورت محسوس ہوئی۔اس طرح نظم جدید کا آغاز ہوا۔نظم جدید کے قدیم اصناف اور اسالیب میں ان تمام فنی ضابطوں کی پابندی کے ساتھ طبع ازمائی کی لیکن ان کی تعداد بتدریج کم ہو گئی اور نظم جدید کی مقبولیت بڑھتی گئی۔موضوع یا نفس خیال کے اعتبار سے نظم جدید اس نظم کو کہتے ہیں ۔جس میں دور جدید کی زندگی کے مسائل،خیالات جذبات اور احساسات کی ترجمانی کی گئی ہو فنی ساخت کے اعتبار سے جدید نظم کہی جانے گی۔جس میں شاعر نے شاعری کی قدیم اصناف میں بندھےٹکے ضابطوں کا پابند نہ رہ کر کسی مسئلہ اور مانوس یا نئی اور اچھوتی ہیئت میں اپنے تجربات اور خیالات کو ربط و تسلسل کے ساتھ پیش کیا ہو۔اس طرح جدید نظم کو فنی ساخت کے اعتبار سے تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔
١-جدید ہئیت کے اعتبار سے جن میں کسی روایت صنف یا اسلوب نظم مثلا،مثنوی مسدس مخمس قطعہ وغیرہ کی کی تقلید کی گئی ہو۔
2-ایسی نظم جس میں مصرعوں بندوں اور قوافی کی ترتیب کا ایک نیا اچھوتا التزوم ہو یعنی ہیئت کے اعتبار سے جو کلاسیکی اسالیب نظم سے مختلف ہوں لیکن جن میں اوزان اور قوافی کے مروجہ اصولوں کی پابندی کی گئی ہو۔
3- ایسی نظمیں جو صرف قافیہ ردیف کی پابندی سے آزاد ہیں۔ لیکن جن میں ابتدا ءسے اخر تک ہر مصرعہ میں وزن کے تقاضوں کی پوری پابندی کی گئی ہے ۔اس قسم کی نظموں کو نظم اور یا نظم بے قافیہ کہا گیا ہے۔
4-ایسی نظمیں جو وزن اور قافیہ کے روایتی ضابطوں سے ایکسر آزاد ہیں۔اس قسم کی نظموں کو نظم آزاد کہا گیا ہے۔
جدید اردو نظم کے اغاز و ارتقاء کے سلسلے میں پنجاب کے ایک انگریزی عہدے دار کرنل الرائڈ اور محمد حسین ازاد کی کوششوں کا ذکر کرنا ضروری ہے۔ان کی تحریک سے لاہور میں 1874ء انجمن پنجاب کے زیر اہتمام مشاعرے کی جگہ میں جس قسم کے مناظمہ کا اغاز ہوا وہ اردو تاریخ میں سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔محمد حسین ازاد نے جلسوں میں غزل کے بجائے نظم یا کلام موزوں
کی ترویج کے سلسلہ میں جو خیال افروز تقریریں کیں انہوں نے اس زمانے کے نئے شعرا کو متاثر کیا۔نہ صرف یہ کہ انجمن کے جلسوں میں مختلف موضوعات پر نظمیں پڑھی جانے لگی بلکہ اخبارات و رسائل میں بھی موضوعاتی نظم شائع ہونے لگیں۔
پہلی جنگ عظیم کے بعد سارے ہندوستان میں سیاسی بیداری کے نئے اثار پیدا ہو رہے تھے۔1917ء میں روس میں اشتراکی انقلاب کی کامیابی سے گویا دنیا میں محنت کش طبقے کے اقدار کا سورج طلوع ہوا تھا۔مغرب کی جمہوری فکر اور سماجی و سائنسی علوم کی ترویچ وہ اشاعت سے بھی نوجوان متاثر ہو رہے تھے۔الغرض آزادی ،جمہوریت،سما جی انصاف،فن و ادب اور عشق و محبت کے تصورات لے کر ایک نیا ذہن نئے احساس،میں شعور طلوع ہو رہا تھا۔
ان نوجوانوں میں وطن پرستی کا جذبہ قومی جذبات ابھر رہے تھے۔نوجوان شعراء میں وطن پرستی کی نظمیں لکھی جن میں جوش ملیح آبادی،سیماب حفیظ،ساغر نظامی،احسان دانش جیسے شاعر تھے۔جو مغربی شعراء ادب سے نسبتا بیگانہ رہ کر نظم کو قومی جذبات اور خیالات سے ہم آہنگ بنا رہے تھے۔دوسری جانب عبدالرحمن بجنوری،عظمت اللہ خان،اختر شیرانی،تصدیق،
حسین خالد ڈاکٹر تاثیر تھے۔جو مغربی فکر و فن سے متاثر ہو کر نظم کو جذبہ احساس اور نئے شعری تجربات کو اچھوتے سانچوں میں ڈھال رہے تھے۔اس دور میں نظم ایک طرف قومی زندگی کی قومی زندگی کی کروٹوں اور دوسری طرف فرد کے بدلتے ہوئے کردار کے ائینہ دار بن گئی۔
سر فروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے۔
دیکھنا ہے زور کتنا بازوۓ قاتل میں ہے۔
*حب الوطنی اور اردو ادب
ملک کی ازادی میں اردو کی خدمت۔
سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا۔
ہم بلبلیں ہیں اس کی یہ گلستاں ہمارا۔
اردو ادب میں حب الوطنی کا تصور ابتدا ہی سے ملتا ہے۔اردو کا ادبی سرمایہ حب وطنی، وطن الو پرستی اور ملک سے محبت اور دوستی کے جذبات سے مالا مال ہے۔بیسویں صدی کے آغاز میں تحریک ازادی کے اثرات نمایاں تھے۔ترقی پسند شعراء کے قلم نے تحریک ازادی کو عروج پر پہنچا دیا۔ملک کی ازادی میں جن شعراء نے حب الوطنی کی نظمیں لکھیں جن میں علامہ اقبال کی نظم "ہندوستانی بچوں "کا گیت،حالی کی نظم حب وطن،اسماعیل میٹھی کی نظم "وطن کا راگ” مخدوم محی الدین کی نظم آزادی وطن،فیض احمد فیض کی نظم نثار تیری گلیوں پہ،جوش ملیح ابادی کی نظم،شکست زندہ کا خواب ،اسرار الحق مجاز کی نظم، نوجوانوں ،سے،علی سردار جعفری کی نظم،اٹھو نوجوانو۔ ،جاوید اختر کی نظم 15 اگست،پنڈت برج نارائن چکبست کی نظم،خاک ہند،برق دہلوی کی نظم،ہندوستان کے جاں بازسپاہی،سرورجہاں آبادی کی نظم گلزار وطن،غضمفر کی نظم،خوبصورت ہے میرا وطن۔تلوک چند کی نظم خوشبو وطن ۔جیسے اردو ادب کے عظیم شعراء نے ازادی کی آمنگ کو اپنے شاعری میں ابھارنےکر نعرہ انقلاب کو بلند کیا۔انقلابی شعرا نے اپنےقلم سے حبب وطنی کی نظمیں لکھ کر اتحاد کے پیغام کو عام کیااور ازادی کے مجاہدوں کی حو صلہ افزائی کیں۔اس طرح اردو ادب میں حب الوطنی کی شاعری کو خوب سرایا گیا۔
Post Views: 30