Skip to content
ووٹوں کی چوری کے خلاف راہل گاندھی کا بم دھماکہ
جس کی گونج سنسد سے سڑک تک سنائی دے رہی ہے
ازقلم:ـ عبدالعزیز
لوک سبھا کے اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے جس قاعدے کے ساتھ اعداد و شمار (Data) کی بنیاد پر الیکشن کمیشن پر چوری کا ثبوت پیش کیا ہے وہ بیان بازی نہیں ہے اور نہ لفاظی ہے بلکہ حقائق پر مبنی ہے۔ بنگلور سنٹرل لوک سبھا کے ایک اسمبلی حلقہ مہادیو پورہ میں ایک لاکھ پچیس ہزار ووٹوں کی چوری کی گئی ہے جس کی وجہ سے کانگریس کے امیدوار منصور علی خان کی شکست ہوئی ہے اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے امیدوار پی۔ سی موہن کی جیت ہوئی ہے۔ راہل گاندھی کی ٹیم نے 6مہینے کی مدت میں الیکشن کمیشن کی طرف سے بھیجے گئے دستاویز کی بنیاد پر ڈیٹا بیس پریزنٹیشن کیا ہے۔ کس طرح کرناٹک کے مہادیو پورہ حلقہ میں ایک لاکھ سے زیادہ فرضی ووٹروں کے انکشاف میں جو اعداد و شمار پیش کئے وہ انتہائی تشویشناک ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ صرف مہادیو پورہ حلقہ میں ساڑھے چھ لاکھ ووٹوں میں سے ایک لاکھ دو سو پچاس ووٹوں کی بڑے پیمانے پر چوری ہوئی ہے، جس میں گیارہ ہزار 965 ڈپلی کیٹ ووٹر، چالیس ہزار نو جعلی پتے والے ووٹر، دس ہزار چار باون بلک ووٹر (واحد پتہ پر متعدد ووٹرس)، چار ہزار ایک سو بتیس ووٹروں کی غلط تصاویر اور تین سو انہتر نئے ووٹرس کے فارم نمبر 6میں بے ضابطگیاں شامل ہیں۔ یہ وہ حقائق ہیں جو الیکشن کمیشن کے ڈیٹا سے اخذ کئے گئے ہیں۔ اس کے باوجود کمیشن نے 6ماہ تک راہل گاندھی کی ٹیم کو سی سی ٹی وی فوٹیج اور الیکٹرونک ووٹر لسٹ فراہم کرنے سے انکار کرتی رہی۔
الیکشن کمیشن کا رویہ انتہائی شرمناک ہے۔ کمیشن نے جان بوجھ کر نان مشین ریڈ ایبل دستاویزات فراہم کیں تاکہ ڈیٹا تجزیہ ناممکن بنایا جاسکے۔ راہل گاندھی کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن ڈیٹا الیکٹرونک شکل میں دیتا تو میں فرضی ووٹروں کا پتہ لگانے میں تیس سیکنڈ لگتے مگر کاغذی دستاویز کے ذریعے یہ عمل 6ماہ تک جاری رہا۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ کمیشن شفافیت سے گریز کر رہا ہے۔ راہل گاندھی نے 7 اگست 2025ء کو ایک پریس کانفرنس میں نہ صرف ووٹوں کی چوری کا پورا ثبوت پیش کیا بلکہ رپورٹروں کے سوالوں کے بھی اطمینان بخش جوابات دیئے۔
کرناٹک الیکشن کمیشن کے سی او نے راہل گاندھی کے ایٹم بم کے اثرات کو زائل کرنے کے لئے اپنی ویب سائٹ پر یہ بیان دیا کہ راہل گاندھی جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ حلف نامہ کے ساتھ کہیں اور پیش کریں۔ راہل گاندھی نے پریس کانفرنس میں ہی اس کا جواب دیا کہ ’’میں اپوزیشن لیڈر ہوں ، میں نے پارلیمنٹ میں حلف اٹھایا ہے ۔ اس سے بڑا حلف اور کیا ہوسکتا ہے؟ میں جو کچھ کہہ رہا ہوں اپنی طرف سے نہیں بلکہ کمیشن کی طرف سے پیش کردہ کاغذی دستاویز کی بنیاد پر۔ اگر اس میں کوئی غلط بات ہے تو الیکشن کمیشن کو سلسلہ وار بتانا چاہئے‘‘۔ الیکشن کمیشن میں جو لوگ بڑے عہدوں پر فائز ہیں ان کو اچھی طرح معلوم ہے کہ ملک میں ایک قانون ہے "Right to Information” (معلومات جاننے کا حق)۔ جب یہ حق ہر شہری کو حاصل ہے تو ہر سرکاری عہدیدار کی ڈیوٹی ہے کہ وہ کسی شہری کے سوال کرنے پر متعلق معاملے کا تحریری جواب دے۔ کسی بھی عہدیدار کا کسی بھی محکمہ میں سوال یا شکایت کرنے پر شکایت کنندہ کو حلف اٹھانے کی بات کہنا محض نامعقول ہی نہیں ہے بلکہ جہالت اور نادانی ہے۔ اگر کوئی شخص اپنے کسی عزیز یا رشتہ دار کے قتل پر قاتل کے خلاف کسی تھانے میں شکایت درج کرانے جائے تو تھانیدار اگر اس سے یہ کہے کہ حلف نامہ لے کر آؤ تب تمہاری ڈائری درج کریں گے۔ تھانیدار کے اس عمل کو ایک مجرمانہ فعل ہی کہا جائے گا۔ یہی کام اگر کوئی دوسرے محکمے کا افسر یا ذمہ دار کرے یا کہے تو اس کا عمل بھی قانون کے خلاف ہوگا۔
راہل گاندھی نے 7 اگست سے پہلے اپنے کئی بیانوں میں کہا تھا کہ وہ ووٹوں کی چوری کا ایسا انکشاف کرنے والے ہیں کہ اس کا دھماکہ ایٹم بم بلاسٹ سے کم نہیں ہوگا۔ الیکشن کمشنر لاکھ پردے میں چھپنا چاہے گا جب بھی چھپ نہیں سکے گا۔ اس دھماکہ خیزی کا اثر کمیشن پر ضرور پڑے گا۔ راہل گاندھی نے 7 اگست کی پریس کانفرنس میں یہ بھی کہا تھا کہ ووٹوں کی چوری کمیشن کی طرف سے بی جے پی کو فائدہ پہنچانے کی غرض سے کی جارہی ہے۔ ہریانہ، مہاراشٹر کے اسمبلی الیکشن میں ووٹوں کی چوری کا بین ثبوت دے چکے تھے۔ مہادیو پورہ ووٹوں کی جو چوری ہوئی اس کے ساتھ انھوں نے مدھیہ پردیش، مہاراشٹر اور ہریانہ میں جو ووٹوں کی چوری کے بارے میں کہا تھا ان سب کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے ببانگ دہل کہا کہ الیکشن کمیشن نے کئی لوک سبھا حلقے میں ووٹوں کی چوری کی ہوگی۔ ہمارے ملک کا پردھان منتری لوک سبھا کے پچیس حلقوں کے ووٹوںکی چوری سے پردھان منتری بنا ہے۔ دیکھا جائے تو ووٹوں کی چوری کا حملہ الیکشن کمشنر پر راہل گاندھی کی طرف سے کیا جارہا ہے لیکن الیکشن کمیشن سے کہیں زیادہ بی جے پی کے خیمے میں ہلچل ہے۔ بی جے پی کے کارکن اور ترجمان راہل گاندھی کے ایٹم بم سے الیکشن کمشنر سے زیادہ گھائل ہوئے ہیں۔
راہل گاندھی نے ووٹوں کی چوری کے پانچ طریقے 7 اگست کو اپنی پریس کانفرنس میں بتائے تھے۔ ان میں سے ایک طریقہ یہ تھا کہ ایک ہی پتہ پر کئی سارے ووٹرس۔ بنگلور کے منی ریڈی گارڈن واقع ہاؤس نمبر 35 کے بارے میں انھوں نے دعویٰ کیا کہ وہاں 80 ووٹرس ہیں لیکن وہاں ان میں سے کوئی موجود نہیں پایا گیا۔ انھوں نے ہاؤس نمبر 35کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ وہ ایک کمرے کا گھر ہے اور بہت ہی چھوٹا گھر ہے۔ اَسی لوگ وہاں کیسے رہ سکتے ہیں۔ الگ الگ نام، الگ الگ خاندان کا ذکر ہے۔ جب ہم وہاں جاتے ہیں تو ہمیں بتایا جاتا ہے کہ ’’80 لوگ یہاں نہیں رہتے ہیں اور انھیں کوئی نہیں جانتا‘‘۔
انگریزی روزنامہ ’انڈیا ٹوڈے‘ نے راہل گاندھی کے انکشاف کی حقیقت جاننے کے لئے راہل گاندھی کے بیان کا فیکٹ چیک کیا۔ ان ثبوتوں کی جب جانچ ہوئی تو کانگریس لیڈر کی بات سچ ثابت ہوئی۔ ’انڈیا ٹوڈے‘ کی ٹیم نے ہاؤس نمبر 35 پہنچ کر تحقیقات کی اور اس کی ویڈیو رپورٹ بنائی۔ یہ ویڈیو کانگریس نے اپنے ایکس ہینڈل پر شیئر بھی کی ہے۔ اس ویڈیو کے ساتھ یہ بات بھی درج ہے کہ ’’اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے ثبوت دے کر بتایا کہ بی جے پی اور الیکشن کمیشن کس طرح ووٹوں کی چوری کر رہے ہیں‘‘۔ انڈیا ٹوڈے نے ان ثبوتوں کی جانچ کی تو درست پایا۔ بنگلور کے منی ریڈی گارڈن کے ہاؤس نمبر 35میں 80 ووٹرس ہیں۔ اس پوسٹ میں یہ جانکاری بھی دی گئی ہے کہ ایک کمرے کا مکان ہے جس کا مالک بی جے پی سے منسلک ہے۔ انڈیا ٹوڈے کی یہ رپورٹ ثابت کرتی ہے کہ الیکشن کمیشن بی جے پی کی شہ پر ووٹر چوری کروا رہا ہے۔ اسی بنیاد پر نریندر مودی وزیر اعظم بنے ہیں۔ الیکشن کمیشن کو ملک کے عوام کو جواب دینا ہوگا۔
راہل گاندھی نے ایک شخص کا نام لے کر اپنی پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ ’’چار ریاستوں کی ووٹر لسٹ میں اس کا نام ہے اور چاروں ریاستوں میں اس نے ووٹ دیئے ہیں جس میں اتر پردیش بھی شامل ہے‘‘۔ اتر پردیش میں بھی ایک رپورٹر نے سریواستو نامی ایک شخص کا فیکٹ چیک کیا تو دیکھا کہ اس کا نام ووٹر لسٹ میں شامل ہے۔
راہل گاندھی پہلے سے بھی ووٹوں کی چوری کے بارے میں بیان دے رہے تھے۔ مہاراشٹر میں ثبوتوں کی روشنی میں کئی کانفرنسیں کیں اور اس میں ووٹوں کی چوری کس طرح ہوئی ہے اسے پیش کیا ہے۔ انھوں نے مہاراشٹر کے بارے میں بتایا کہ پانچ سال میں ووٹروں کی فہرست میں جو اضافہ نہیں ہوا تھا وہ صرف پانچ مہینوںمیں اضافہ ہوا۔ جہاں جہاں ووٹروں کا اضافہ ہوا وہاں وہاں بی جے پی کے امیدواروں کو فائدہ ہوا۔ بی جے پی یا الیکشن کمیشن کی طرف سے نہ تو راہل گاندھی کے پیش کردہ ثبوتوں کے برخلاف فیکٹ چیک کرنے کی کوشش کی گئی اور نہ ہی دوسرے لوگ جو تحقیقات کرکے راہل گاندھی کے پیش کردہ ثبوتوں کو درست بتا رہے ہیں اس کا نوٹس لیا گیا۔ صرف دونوں طرف سے راہل گاندھی کے پریزنٹیشن کو جو اعداد و شمار کی روشنی میں پیش کیا گیا اسے غلط اور جعلی بتا رہے ہیں۔
راہل گاندھی کے ایٹم بم کے دھماکے کے نتائج سامنے آنے لگے ہیں۔ بہت سے ایسے لوگوں کا ذہن بدلا ہے جو برسوں سے بھارتیہ جنتا پارٹی کی حمایت کر رہے تھے۔ بی جے پی کے ایک سابق ایم اے نے بھی راہل گاندھی کے پیش کردہ ثبوتوں کو درست بتایا جس کی وجہ سے اسے پارٹی سے برطرف کردیا گیا۔ پورٹل کے ذریعے جو لوگ نوجوانوں سے انٹرویو لے رہے ہیں راہل گاندھی کی 7 اگست کی پریس کانفرنس سے متاثر ہوتے نظر آرہے ہیں۔ حالیہ سیشن جب سے شروع ہوا اس وقت سے لے کر آج تک اپوزیشن کی طرف سے بہار میں الیکشن کمیشن کی طرف سے خصوصی نظرثانی کے بعد ووٹروں کی جو لسٹ شائع ہوئی ہے اس میں 65 لاکھ لوگوں کے نام حذف کر دیئے گئے ہیں۔ اس کے خلاف بہار میں اور پارلیمنٹ میں ہر روز آواز بلند کی جارہی ہے اور پارلیمنٹ میں اس بحث کرانے کا مطالبہ بھی کیا جارہا ہے۔ پارلیمنٹ میں سیشن کا بار بار برخاست کرنے کی نوبت آرہی ہے۔ ان سب کے باوجود حکمراں جماعت پارلیمنٹ میں بحث کرانے کے تیار نہیں ہے۔ اس سے حکمراں جماعت کی کمزوری ثابت ہوتی ہے۔
7 اگست کو راہل گاندھی کی پریس کانفرنس ہوئی اور 8 اگست کو بہار، مدھیہ پردیش، مہاراشٹر دہلی، ہریانہ اور کرناٹک کے ووٹروں کی لسٹ الیکشن کمیشن نے اپنی ویب سائٹ ہٹا لی ہے۔ کیا اس سے الیکشن کمیشن کی چوری کا بین ثبوت نہیں ملتا؟ الیکشن کمیشن کی چوری ، سینہ زوری اور کمزوری کا بین ثبوت ملتا ہے۔ بی جے پی اور الیکشن کمیشن کی طرف سے ووٹوں سے متعلق جس طرح کے جوابات دیئے جارہے ہیں جس طرح کی آواز اٹھائی جارہی ہے اس سے ان کی کمزوریوں کا دن بدن ثبوت ملتا جا رہا ہے۔ راہل گاندھی نے پریس کانفرنس میں ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ ’’الیکشن کمیشن ہم پر حملہ نہیں کر رہا ہے بلکہ ملک کے نوجوانوں پر حملہ آور ہے، کیونکہ ہم جو کچھ کر رہے ہیں یا پیش کررہے ہیں وہ ملک کے نوجوانوں کے لئے ہے۔ ملک کے نوجوانوں کو موجودہ حکومت اور الیکشن کمیشن حکمراں جماعت کی ملی بھگت سے تباہی اور بربادی ہوسکتی ہے۔ ملک اور نوجوانوں کی تباہی کو بچانے کو ہم میدان عمل میں آئے ہیں۔ کمیشن کمشنر اور ان کے ماتحت افسران و کارکنان کو جو ووٹوں کی چوری میں ملوث ہیں ان کو ہم ہر گز نہیں چھوڑیں گے چاہے وہ عہدے پر فائز رہیں یا ریٹائر ہوجائیں۔ راہل گاندھی کے اس چیلنج کو قبول کرنے کے بجائے ووٹوں کی چوری میں ملوث ذمہ داران اسے راہل گاندھی کی دھمکی سے تعبیر کر رہے ہیں۔ راہل گاندھی کی دھمکی آمیز باتیں محض اس لئے ہیں کہ چور اپنی چوری سے باز آجائیں۔ اگر وہ باز نہیں آتے تو انھیں دیر سویر اس کی پاداش میں سزا بھگتنی پڑ سکتی ہے۔
E-mail:azizabdul03@gmail.com
Mob:9831439068
Like this:
Like Loading...