Skip to content
یورپی یونین11اگسٹ
یورپی یونین نے روس اور یوکرین کے درمیان جنگ بندی کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بالواسطہ تجویز کی مخالفت کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ روسی افواج کے زیر قبضہ تمام علاقے یوکرین کو واپس کیے جائیں۔
یورپی کمیشن کی نائب صدر اور خارجہ پالیسی کی اعلیٰ رابطہ کایا کالاس نے اتوار کو کہا کہ "تمام عارضی قبضہ شدہ علاقے یوکرین کے ہیں”۔ انھوں نے مزید کہا کہ "امریکہ کے پاس روس کو سنجیدگی سے مذاکرات پر مجبور کرنے کی صلاحیت موجود ہے”۔
کالاس نے واضح کیا کہ ماسکو اور واشنگٹن کے درمیان کسی بھی معاہدے میں یوکرین اور یورپی یونین کو شامل ہونا چاہیے اور یہ معاہدہ روس کی مزید جارحیت کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے۔
انھوں نے اعلان کیا کہ یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کا ایک خصوصی اجلاس پیر کو منعقد ہو گا۔
اس سے قبل یورپی رہنماؤں نے گزشتہ شام روسی اور امریکی حکام کے ممکنہ مذاکرات میں یوکرین کو شامل کرنے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ یہ مذاکرات آئندہ جمعے کو الاسکا میں ہونے والی صدر ٹرمپ اور صدر پوتین کی متوقع ملاقات کی روشنی میں ہو رہے ہیں۔
یوکرینی صدر نے یورپی موقف کو سراہتے ہوئے اپنے ایک بیان میں یورپی رہنماؤں کا شکریہ ادا کیا کہ انھوں نے اس جنگ کے خاتمے کے لیے یوکرین کی شمولیت کی حمایت کی۔ یوکرین کو خدشہ ہے کہ روس اور امریکہ جنگ ختم کرنے کے لیے اس پر شرائط عائد کر سکتے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے دو روز قبل کہا تھا کہ ممکنہ معاہدے میں "کچھ علاقوں کا تبادلہ دونوں فریقوں کے فائدے کے لیے ہو گا”۔ اس بیان سے یوکرین کی تشویش میں اضافہ ہو گیا ہے۔
وقت مطالعہ
گھنٹے
یورپی یونین نے روس اور یوکرین کے درمیان جنگ بندی کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بالواسطہ تجویز کی مخالفت کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ روسی افواج کے زیر قبضہ تمام علاقے یوکرین کو واپس کیے جائیں۔
یورپی کمیشن کی نائب صدر اور خارجہ پالیسی کی اعلیٰ رابطہ کایا کالاس نے اتوار کو کہا کہ "تمام عارضی قبضہ شدہ علاقے یوکرین کے ہیں”۔ انھوں نے مزید کہا کہ "امریکہ کے پاس روس کو سنجیدگی سے مذاکرات پر مجبور کرنے کی صلاحیت موجود ہے”۔
کالاس نے واضح کیا کہ ماسکو اور واشنگٹن کے درمیان کسی بھی معاہدے میں یوکرین اور یورپی یونین کو شامل ہونا چاہیے اور یہ معاہدہ روس کی مزید جارحیت کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے۔
انھوں نے اعلان کیا کہ یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کا ایک خصوصی اجلاس پیر کو منعقد ہو گا۔
اس سے قبل یورپی رہنماؤں نے گزشتہ شام روسی اور امریکی حکام کے ممکنہ مذاکرات میں یوکرین کو شامل کرنے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ یہ مذاکرات آئندہ جمعے کو الاسکا میں ہونے والی صدر ٹرمپ اور صدر پوتین کی متوقع ملاقات کی روشنی میں ہو رہے ہیں۔
یوکرینی صدر نے یورپی موقف کو سراہتے ہوئے اپنے ایک بیان میں یورپی رہنماؤں کا شکریہ ادا کیا کہ انھوں نے اس جنگ کے خاتمے کے لیے یوکرین کی شمولیت کی حمایت کی۔ یوکرین کو خدشہ ہے کہ روس اور امریکہ جنگ ختم کرنے کے لیے اس پر شرائط عائد کر سکتے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے دو روز قبل کہا تھا کہ ممکنہ معاہدے میں "کچھ علاقوں کا تبادلہ دونوں فریقوں کے فائدے کے لیے ہو گا”۔ اس بیان سے یوکرین کی تشویش میں اضافہ ہو گیا ہے۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق یورپی حکام نے اس تجویز کے جواب میں ایک متبادل منصوبہ تیار کیا ہے، مگر اس کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں۔
روس نے فروری 2022 میں یوکرین پر وسیع حملہ کیا اور اس کے تقریباً پانچویں حصے پر قبضہ کر لیا۔ روس نے لوگانسک، ڈونیٹسک، خییرسن اور زاپوریجیا کو اپنے زیرِ کنٹرول علاقہ قرار دیا ہے اگرچہ وہ آخری تینوں علاقوں کا تقریباً 70 فی صد حصہ کنٹرول میں رکھتا ہے۔ ماسکو حکومت چاہتی ہے کہ مذاکرات میں یہ علاقے یوکرین کی حکومت کے کنٹرول سے دور رہیں۔
Like this:
Like Loading...