Skip to content
قول و عمل کا تضاد: والدین کی تربیت.
اور اسلامی پیرینٹنگ کا بحران
✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040
"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا”
"اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو اُس آگ سے بچاؤ!”۔ (سورۃ التحریم، آیت 6)۔ اسلام ایک ایسا کامل و جامع دین ہے جو صرف انفرادی عبادات یا چند مخصوص احکام کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک ایسا ہمہ گیر نظامِ حیات ہے جو انسان کی زندگی کے ہر پہلو، ہر موڑ، ہر مقام پر رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اس نظام میں خاندان، خاص طور پر والدین کی ذمّہ داریاں نہایت اہم اور مقدّس سمجھی گئی ہیں، کیونکہ نسلوں کی فکری اور اخلاقی آبیاری کی بنیاد یہیں سے پڑتی ہے۔ حضور نبی کریمﷺ نے فرمایا: "كلُّكم راعٍ وكلُّكم مسؤولٌ عن رعيَّتِه”۔ "تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے، اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال کیا جائے گا” (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
اسلامی تعلیمات کے مطابق والدین کا کردار صرف اولاد کو جنم دینے اور ان کی جسمانی ضروریات پوری کرنے تک محدود نہیں، بلکہ وہ روحانی معمار بھی ہیں، جو اپنے بچّوں کے کردار، عقیدہ، مزاج اور نظریے کی بنیاد رکھتے ہیں۔ اس بنیاد میں اگر خلوص، تقویٰ، سنّتِ نبویﷺ اور شعورِ دینی نہ ہو، تو پوری عمارت کمزور اور بے وزن ہو جاتی ہے۔ تاہم افسوس کہ عصرِ حاضر میں ایک فکری انحراف نے اسلامی خاندانوں کو شدید متاثر کیا ہے۔ ایسے افراد جو زبان سے دین کی باتیں کرتے ہیں، مگر عمل میں مغربی تہذیب کے رنگ میں رنگے ہوئے ہیں، آج کل پیرینٹنگ، تربیتِ اولاد اور اسلامی خاندانی نظام پر رہنمائی کے دعوے دار بنے بیٹھے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کی اپنی زندگی، ان کی اولاد، ان کے شوق، ان کے ایونٹس اور ان کا طرزِ تفریح سب کچھ دین کی روح کے منافی ہوتا ہے۔ مگر پھر بھی وہ اصلاحِ اُمّت کا پرچم اٹھائے کھڑے ہیں۔ یہی وہ المیہ ہے جس پر یہ مضمون روشنی ڈالتا ہے۔
یہ ہمارے عہد کا ایک المناک پہلو ہے کہ جو افراد والدین کی تربیت، اولاد کی پرورش، اور اسلامی اقدار کی روشنی میں ‘پیرینٹنگ’ جیسے نازک اور اہم موضوعات پر لیکچر دیتے ہیں، مضامین تحریر کرتے ہیں، یا کتابیں مرتب کرتے ہیں وہی اکثر و بیشتر اپنی عملی زندگی میں ایسے متضاد رویوں کے حامل نظر آتے ہیں جو اسلامی تعلیمات کی روح کے بالکل برعکس ہیں۔ تعجب تو اس پر ہے کہ جن کے گھروں میں موسیقی کے آلات بجتے ہیں، جن کی خوشیوں کی محفلیں ناچ و سرود کے بغیر ادھوری سمجھی جاتی ہیں، جن کی مجالس میں قرآن و حدیث کے بجائے فلمی مکالمے اور گیت گونجتے ہیں وہی لوگ اس دور کے "مصلح” اور "راہ نما” بن کر ابھرتے ہیں۔ ان کے سوشل میڈیا صفحات پر اہلِ خانہ کے ساتھ سنیما گھروں میں بنائی گئی تصویریں اور ویڈیوز محض دکھاوے کی نہیں ہوتیں بلکہ یہ ان کی افتخار آمیز زندگی کے وہ مظاہر ہوتے ہیں جن پر وہ فخر کرتے ہیں۔
یہ وہ طبقہ ہے جس کی زندگی میں اسلامی نظریہ حیات کی بنیادیں متزلزل ہیں۔ جن کی فکر و نظر مغربی تہذیب کے سانچوں میں ڈھل چکی ہے۔ جن کی گفتگو میں تو اسلامی اصطلاحات کی گونج ہوتی ہے، مگر عمل میں مغرب زدگی کا غلبہ ہوتا ہے۔ ان کے بچّے آلات موسیقی کا استعمال کرکے جب داد پاتے ہیں تو وہ اسے "ٹیلنٹ” اور "کریئیٹوٹی” کا نام دے کر دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں، جیسے یہی ان کی تربیت کا حاصل ہو۔ مغربی اقدار کی نقالی کی مثال، ایک بچّی TikTok پر گانوں پر lipsync کر رہی ہے، اور اس کے والد تبصرہ کرتے ہیں: "میری بچّی بہت expressive ہے، ہم اس کو judge نہیں کرتے، وہ اپنی personality بنا رہی ہے!”۔ یہی والد ایک اسلامی سیمینار میں "اسلام میں عورت کی عزّت” پر لیکچر دے رہا ہوتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ جب خود مربّی کا دامن اقدار سے خالی ہو، جب معلّمِ اخلاق کی اپنی زندگی تضاد و تناقض کا شکار ہو، جب دعوتِ اصلاح محض زبانی جمع خرچ بن جائے تو کیا ایسی شخصیات نئی نسل میں اسلامی تعلیمات کی سچی آبیاری کر سکیں گی؟ کیا ایسا ممکن ہے کہ جس کے اپنے افکار میں کوئی اصولی موقف ہی نہ ہو، وہ دوسروں کو اصولوں کی تلقین کرے؟ جس کی اپنی زندگی میں فلم و موسیقی، فیشن و فحاشی، اور سوشل میڈیا کی نمائش گری غالب ہو، وہ اُمّتِ مسلمہ کی آئندہ نسل کو دین کے حقیقی راستے پر استوار کر سکے؟
اسلام محض چند ظاہری علامات کا نام نہیں ہے، بلکہ ایک ہمہ گیر طرزِ حیات ہے جو عقیدہ، عبادت، اخلاق، معاملات، حتیٰ کہ تفریح اور جمالیات میں بھی پاکیزگی اور حدود کا مطالبہ کرتا ہے۔ والدین کی ذمّہ داری صرف جسمانی پرورش تک محدود نہیں، بلکہ روحانی تطہیر، فکری تربیت اور اخلاقی تزکیہ بھی اس کا جزو لاینفک ہے۔ اور یہ سب تبھی ممکن ہے جب خود والدین کے دل میں ایمان کی حرارت ہو، ان کے عمل میں تقویٰ کی جھلک ہو، اور ان کی زندگی میں رسولِ اکرمﷺ کی سنّت کی پیروی کا جذبہ ہو۔ متوازن اسلامی طرزِ زندگی کی مثبت مثال، ایک والد اپنی اولاد کے ساتھ مل کر سیرت کی کہانیاں سنتا ہے، بچّوں کو مسجد لے جاتا ہے، ان کے سوالات کا احترام سے جواب دیتا ہے، اور ہر تفریح کو اسلامی دائرے میں رکھتا ہے۔ اس کے بچّے دینی اور دنیاوی تعلیم میں توازن کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں۔ ایسے والدین کی زندگی دعوتِ دین بن جاتی ہے! زبانی نہیں، عملی۔
لہٰذا وقت کا تقاضا یہی ہے کہ جو لوگ اصلاحِ معاشرہ کا بیڑا اٹھاتے ہیں، وہ پہلے اپنی اصلاح کریں۔ ان کی زندگی، ان کا گھر، ان کا طرزِ تفریح، ان کے رجحانات سب کچھ دین کے سانچے میں ڈھلا ہوا ہو۔ تبھی ان کے الفاظ میں تاثیر پیدا ہو سکتی ہے، اور تبھی ان کی دعوت نئی نسل کے دل میں گھر کر سکتی ہے۔ ورنہ وہ دن دور نہیں جب یہ ‘نیم متعلّم مصلحین’ اپنی متضاد زندگیوں سے نہ صرف امت کو گمراہ کریں گے، بلکہ اسلام کے نام پر ایک ایسا مغالطہ چھوڑ جائیں گے جو نسلوں کو تباہ کر دے گا۔ اصلاحِ ذات سے غفلت کی مثال، ایک معروف مقرر کی ویڈیوز لاکھوں میں دیکھی جاتی ہیں، مگر اسی کی بیوی سوشل میڈیا پر "ماڈرن مسلمہ” بن کر lifestyle influencers کے ساتھ تصویریں پوسٹ کر رہی ہے۔ ان کے بیٹے کا انسٹا bio ہے: "Faith + Fashion + Fun = Me!”۔ جب معاشرہ ظاہری دین داری سے متاثر ہو کر باطنی اصلاح سے غافل ہو جائے، تو دعوت بے اثر رہ جاتی ہے۔
اسلامی معاشرے کی بنیاد اخلاصِ نیت، تطہیرِ عمل اور اتباعِ سنّت پر قائم ہوتی ہے۔ اگر اس بنیاد کو کھوکھلا کر دیا جائے، تو ظاہری خطابت، کتابیں، اور ورکشاپس محض فریبِ نظر بن کر رہ جاتی ہیں۔ سچی تربیت اس وقت تک ممکن نہیں جب تک مربّی خود صادق، عمل میں متقی، اور فکر میں واضح نہ ہو۔ آج وقت کا سب سے بڑا مطالبہ یہی ہے کہ والدین، اساتذہ، اور دعوتِ دین سے وابستہ افراد پہلے اپنے باطن کی اصلاح کریں۔ اپنی زندگی کو اللّٰہ اور اس کے رسولﷺ کے فرمان کے مطابق ڈھالیں۔ ہمیں سمجھنا ہوگا کہ بچّوں کو صرف دینی اصطلاحات سکھانا کافی نہیں، بلکہ وہ ہمارا طرزِ زندگی دیکھ کر سیکھتے ہیں۔ اگر ہمارے گھروں میں سنّتِ نبویؐ کی خوشبو نہ ہو، اگر ہم اپنے بچّوں کو حلال و حرام کا شعور نہ دے سکیں، اگر ہمارے دل و دماغ مغربی افکار کے اسیر بنے رہیں، تو ہم صرف ایک نئی نسل نہیں کھو رہے بلکہ ایک پوری اُمت کے مستقبل کو تباہی کے سپرد کر رہے ہیں۔
سید قطب شہیدؒ نے کہا تھا "جب ہم مغرب سے متاثر ہو کر ان کے نظامِ زندگی کو اپناتے ہیں، تو ہم اپنی روحانی شناخت کھو بیٹھتے ہیں”۔ امام حسن البنّاؒ نے فرمایا "ہمارے نوجوانوں کے ہاتھ میں اگر قرآن کی جگہ فیشن میگزین ہوں، تو ہم اُمّت کی رہنمائی نہیں کر سکتے”۔ علامہ محمد اقبال فرماتے ہیں:
یورپ کی غلامی پہ رضا مند ہوا تُو
کیا چیز ہے افکار کی سوداگری آخر؟
اللّٰہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں بارہا ہمیں تقویٰ، سچائی، اخلاص اور تربیتِ اولاد کی اہمیت کا درس دیا ہے۔ نبی کریمﷺ نے قیامت کے دن والدین سے ان کی "رعیت” کے بارے میں سوال کیے جانے کی وعید سنائی ہے۔ کیا ہم تیار ہیں اس جواب دہی کے لیے؟ پس، ہمیں چاہیے کہ ہم خود کو فکری و روحانی طور پر اس قابل بنائیں کہ نئی نسل کو ایک پاکیزہ، بااصول اور صالح اسلامی ماحول فراہم کر سکیں۔ ہمیں قول و عمل کے تضاد سے نکل کر خالص دینی تربیت کا سفر شروع کرنا ہوگا۔
◉ مربوط مطالعہ کے لیے سفارش کردہ کتب:
اسلام میں خاندانی نظام از مولانا سید ابوالاعلی مودودیؒ، تربیت اولاد اسلام کے سائے میں از ڈاکٹر عبد اللّٰہ ناصح علوانؒ، اسلامی تہذیب اور اس کے اصول و مبادی از مولانا مفتی تقی عثمانیؒ، دور حاضر میں بچّوں کی تربیت از ناعمہ صہیب، مزید اور بھی کتب ہوسکتی ہیں۔}
دعا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ ہمیں سچائی کے ساتھ جینے، خلوص کے ساتھ دعوتِ دین دینے، اور تقویٰ کے ساتھ نسلوں کی تربیت کرنے کی توفیق عطاء فرمائے۔ "رَبِّ اجْعَلْنِي مُقِيمَ الصَّلَاةِ وَمِن ذُرِّيَّتِي ۚ رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَاءِ”۔ "اے میرے ربّ! مجھے اور میری اولاد کو نماز قائم کرنے والا بنا، اے ہمارے ربّ! اور میری دعاء قبول فرما”۔ (سورۃ ابراہیم: 40)۔ آمین یا ربّ العالمین۔
(10 اگست 2025ء)
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com
Like this:
Like Loading...