Skip to content
دھرم ستھلا سے پرجول ریوناّ تک
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
ہندوتوا نواز بیانیہ کے مطابق اس وقت ملک کا سب سے بڑا مسئلہ ’لوجہاد‘ ہے۔اس کو روکنے کی خاطر مختلف ریاستوں میں بی جے پی حکومتیں قانون سازی کرتی رہتی ہیں۔ ہندو خواتین کو مسلمانوں کے نکاح میں جانے سے روکنا ان کا سب سے بڑا دھرم یدھ ہے۔ابھی حال میں ہریانہ کی بی جے پی حکومت کا مذہب تبدیل کر کے کی جانے والی شادیوں کے سلسلے میں ضلع کلکٹروں اور ایس پیز کو دیا جانے والا فرمان اس کی تازہ مثال ہے۔ مذکورہ قانون کے مطابق مذہب چھپا کر شادی کرنے والوں کے خلاف ’’مذہب تبدیلی روک تھام قانون 2022‘‘ کے تحت چار لاکھ روپے تک جرمانہ اور دس سال قید کی سزا کا اہتمام ہے مگر ہندو خواتین کے لیے فکرمند ٹولے کا سرغنہ وزیر اعظم نریندر مودی جب پرجول ریونا کی تشہیر کے لیے دہلی سے کرناٹک جاتا ہے تو کسی کو پریشانی نہیں ہوتی حالانکہ اس درندے نے2976(ہندو)خواتین کی عصمت دری کرکے ان کی ویڈیو بنائی تاکہ بلیک میل کیا جاسکے ۔ وہ جن بیچاری مظلوم خواتین کی ویڈیو نہیں بناسکا ان کا تو کوئی حساب کتاب ہی نہیں ہے۔
ہندو ہردیہ سمراٹ نریندر مودی آپریشن سیندور کے بعد بیکانیرجاکر فرماتے ہیں کہ ’’میری رگوں میں گرم سیندور دوڑ رہا ہے”۔ پہلگام میں 22؍ اپریل کو دہشت گردوں کے حملوں سے 140 کروڑ ہندوستانیوں کا سینہ چھلنی ہونے کی دہائی دے کر بہنوں کی مانگ کا سیندور مٹانے والے حملہ آوروں کو مٹی میں ملانے کا عزم دوہرانے والے وزیر اعظم کو کرناٹک کے دھرم ستھلا مندر میں سیکڑوں ہندو خواتین کی عصمت دری کے بعد قتل دکھائی نہیں دیتا۔ ان ہندو خواتین کا صرف سیندور ہی نہیں مٹا بلکہ عزت لوٹ کر انہیں صفحۂ ہستی سے مٹا دیا گیا لیکن ہر طرف پر اسرا ر سناٹا پسرا ہواہے۔ مسجدوں، مدرسوں اور درگاہوں پر چلنے والا بلڈوزر دھرم ستھل جیسے مندروں کی جانب آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتا جہاں سے آئے دن خواتین کے جنسی استحصال کی خبریں آتی ہیں۔کرناٹک کے جنوبی کنڑا ضلع میں نیترا وتی ندی کے کنارے حسین قدرتی مناظر کے درمیان منجوناتھ مندر واقع ہے۔ ویسے تویہ شیو مندر ہے لیکن اس کا انتظام ایک مشہور جین خاندان کرتا ہے۔ مادھوا فرقے سے تعلق رکھنے والے یہاں کے پجاری وشنو کواپنادیوتا مانتے ہیں۔
منجو ناتھ مندر کے مہتمم ویریندرا ہیگڑے کو پدم بھوشن سے نوازا جا چکا ہے اور نریندر مودی حکومت نے انہیں ایوانِ بالا کے لیے بھی نامزد کردیا ہے۔ ایسے مودی بھگت کا مندر فی الحال اجتماعی تدفین کے انکشاف کی وجہ سے سوشیل میڈیا پر چھایا ہوا ہے مگر گودی میڈیا نے اس کی جانب سے آنکھیں موند رکھی ہیں ۔ کیرالہ فائلس کا گجراتی پرڈیوسر وِپُل شاہ اس مسئلہ پر فلم نہیں بنانا چاہتا کہ جس میں کھدائی کے دوران انسانی ہڈیاں، کھوپڑیاں اور نمک سے بھری بوریاں برآمد ہوئی ہیں۔ یہ لاشیں چونکہ مندر سے اغوا کی جانے والی لڑکیوں کی ہیں اس لیے ظاہر ہے ہندووں کی ہوں گی لیکن چونکہ یہاں کوئی ہندو مسلم زاویہ نہیں بن رہا ہے اس لیے ان خبروں کو بھی دفنانے کی کوشش چل رہی ہے۔ فی الحال اس معاملہ کی تفتیش کے لیے ریاستی حکومت نے ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (SIT) تشکیل دی ہے کیونکہ وہاں کوئی بھگوادھاری یوگی اقتدار پر فائز نہیں ہے ورنہ مندر کو تحفظ فراہم کرکے اس کے کالے کارناموں کا راز فاش کرنے والوں کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے ٹھونس دیا جاتا۔
منجوناتھ مندر کے48 سالہ صفائی ملازم نےاپنی جان کو جوکھم میں ڈال کر ضمیر کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے 4 جولائی 2025 کو اپنے وکلاء کے ساتھ دھرم ستھلا کے پولیس تھانے میں اپنی شکایت درج کرائی۔ اس کا کہنا تھا کہ 1995 سے 2014 کے درمیان اس نے دباؤ میں آ کر سیکڑوں لاشیں دفنائیں، جن میں سے کئی لاشوں پر تشدد ، جنسی زیادتی، گلا گھونٹنے اور جلائے جانے کے نشانات تھے۔ اس نے تصویری ثبوت فراہم کرکے قریبی جنگلات میں کھدائی کی گزارش کی۔اس عینی شاہدنے بتایا کہ 2014 میں اپنے خاندان پر حملے کے بعد مہیں دور منتقل ہو کر روپوش ہو گیا تھا، مگر چونکہ خاموش نہیں جارہا ہے، اس لئے وہ از خود پولس کے سامنے حاضر ہوگیا ہے۔ اس کے بعد کئی ایسے لوگوں نے پرانے مقدمات کی ازسر نو تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے، جن کے اہل خانہ وہاں سے لاپتہ ہوگئے تھےکیونکہ انہیں قتل کا شبہ ہے۔اس معاملے کا تشویشناک پہلو ریاستی وزیر داخلہ جی پرمیشور کایہ الزام ہےکہ بی جے پی اس معاملے کی تفتیش نہیں چاہتی۔ اس طرح لوجہاد کے نام پر ہندوخواتین کے تحفظ کی دہائی دینے والوں کا اصلی چہرا بے نقاب ہوگیا ہے۔
سچ تو یہ ہے کہ اگر کرناٹک میں زعفرانی سرکار ہوتی یہ معاملہ منظرِ عام پر ہی نہیں آتالیکن پھر بھی اس قدربھیانک جرم کے باوجود کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی الٹا مندر انتظامیہ امیت شاہ کو خط لکھ کریہ تفتیش این آئی اے کو سونپنے کی گہار لگا رہاہے ۔ اسے امید ہوگی کہ مرکزی حکومت کے تحت کام کرنے والی این آئی اے ان کو بھی سادھوی پرگیہ کی مانند بری کردے گی ۔ 31 جولائی سےدھرم ستھلا میں گڑے مردے اکھاڑنے کا کام جاری ہے اور ہر دن نت نئی قبروں سے انسانی ہڈیاں اور دیگر باقیات نکل رہی ہیں۔ ایس آئی ٹی کے سامنے حاضر ہوکر بذاتِ خود لاشوں کودفنانے والا گواہی دے رہا ہے کہ مرنے والوں میں خواتین، بچے اور جنسی زیادتی کے شکار لوگ شامل تھے۔ یہ کسی میڈیا میں لگائے جانے والے الزامات نہیں بلکہ مجسٹریٹ کے سامنے درج شدہ حلفیہ بیان ہے۔
اس سنگین واقعہ کے باوجود مندر انتظامیہ کے حامی مظلومین کے اہل خانہ کی حمایت میں مظاہرہ کرنے والوں کے خلاف برسرپیکارہیں ۔ ایک یوٹیوبرنے متاثرہ خاندان کے گھر جانے کی کوشش کی تو حالات بگڑ گئے اور پولیس کسی ناخوشگوار واقعہ سے نمٹنے یعنی یوٹیوبر کو حملے سے بچانے کی خاطر میدان میں آنا پڑا۔ اس یو ٹیوبر کا قصور یہ تھا کہ وہ مظلوم ہندو خواتین کے اہل خانہ کا درد لوگوں تک پہنچانا چاہتا تھا تا کہ وہ عام لوگ انصاف کی حصولیابی میں تعاون کرسکیں مگر اس کی اجازت نہیں ملی۔مندر کے مہنت نے بھائی کی مدد سے 8842 آن لائن لنکس کو بلاک کرانے کا عدالتی حکم حاصل کر لیا ۔اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان مجرمین سے انتظامیہ کے علاوہ عدلیہ کی بھی ساز باز یا کم ازکم ہمدردی ضرور ہے۔ بنگلورو کی عدالت نےمہنت کے بھائی کی اپیل پر پرنٹ، ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا کو مندر یا اس کے منتظمین کے خلاف توہین آمیز مواد شائع کرنے پر روک لگادی ۔ اس حکم سے ’ڈیکن ہیرالڈ‘ اور ’دی ہندو‘ سمیت کئی یوٹیوب چینل، ویب سائٹس، فیس بک اور ریڈٹ کی پوسٹس بھی متاثر ہوئیں ۔
نچلی عدالت کے اس فیصلے کو چیلنج کرنے کی خاطر ’تھرڈ آئی‘ نامی یوٹیوب چینل نے سپریم کورٹ میں فریا د کی۔ اس نے مذکورہ عدالتی حکم کے خلاف یہ شکایت کی کہ انہیں یا دیگر متاثرہ فریقین کو سنے بغیر صرف تین گھنٹوں میں یہ یکطرفہ پابندی لگا دی گئی۔ یہ نہایت سنگین معاملہ ہے کیونکہ اس سے تقریباً 390 میڈیا ادارے اور 9000 سے زائد لنکس متاثر ہوں گے۔ا س معقول مطالبے پر بھی عدالتِ عظمیٰ کا دل نہیں پسیجا اور اظہار رائے کی آزادی کا راگ الاپنے والوں نے مدعی کو پہلے ہائی کورٹ میں جانے کا مشورہ دیا۔ اس طرح پنگ پانگ کا کھیل کرکے جرائم کی پردہ پوشی کی جارہی ہے۔ کسی مسلم نوجوان سے ہندو لڑکی کو بات کرتے دیکھ کر آگ بگولہ ہوجانے والی سنگھ پریوار کی تنظیم رام سینا کس بِل میں چھپی ہوئی ہے کوئی نہیں جانتا ۔ ویسے اگر وہ بفرضِ محال میدان میں آئے تب بھی مظلوم خواتین کے اہل خانہ کی مدد کرنے کے بجائے ظالم انتظامیہ کی پشت پناہی کرے گی اس لیے اس کا دور رہنا ہی بہتر ہے۔ یہ حسن اتفاق ہے کہ جب دھرم ستھل کی پرتیں کھل رہی تھیں تو اس دوران این ڈی اے میں شامل جے ڈی ایس کے رکن پارلیمان پرجول کو عمرقید کی سزا سنائی گئی ۔
سابق وزیر اعظم اور جے ڈی ایس کے سپریمو ایچ ڈی دیوے گوڑا کے پوتے ریونا نے اس عدالتی فیصلے کے بعد رو رہا تھا کاش کہ وہ ان خواتین کی آہ و بکا پر کان دھراہوتا کہ جن کی عصمت دری کرکے ویڈیو بنائی جاتی تھی اور بلیک میل کیا جاتا تھا تو آج اسے یہ دن نہیں دیکھنا پڑتا۔ پرجوال نے ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے۔اس قیدی نمبر 15528 پر عدالت نے مجموعی طور پر 11.50 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کرکے ہدایت کی ہےکہ یہ رقم متاثرہ گھریلو ملازم کو دی جائے۔یہ ان 2976 ویڈیوز میں نظر آنے والی خواتین میں سے ایک 48 سالہ خاتون ہے جو ہاسن ضلع کے ہولیناراسی پورہ میں گوڑا خاندان کے گنیکاڈا فارم ہاؤس میں گھریلو ملازمہ کے طور پر کام کر رہی تھی۔2021 میں فارم ہاؤس اور بنگلورو کی رہائش گاہ پر اس کے ساتھ مبینہ طور پر دو بار عصمت دری کی گئی تھی اور یہ حرکت ملزم نے اپنے موبائل فون پر ریکارڈ کی تھی۔ ایسے مجرمین کو کامیاب کرکے ان کی مدد سے حکومت سازی کرنے وزیر اعظم مودی جب دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کی رگوں میں گرم سیندور دوڑ رہا ہے تو ہنسی بھی آتی ہے اور رونا بھی آتا ہے۔ یہ لوگ ہندو خواتین کا ستحصال کرکے ان مظالم کی جانب سے توجہ ہٹانے کی خاطر لوجہاد کا شور مچاتے ہیں۔
Post Views: 3
Like this:
Like Loading...