Skip to content
دھرمستھلا سے دھرالی تک
فسادِ انسانی اور قہرِ قدرت کا المیہ
✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040
انسان کی تخلیق ایک مقصد کے تحت ہوئی ہے، اور وہ مقصد خالقِ کائنات کی بندگی اور زمین پر عدل و رحمت کا قیام ہے۔ قرآنِ کریم انسان کو بار بار یاد دلاتا ہے: "وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِی حَرَّمَ اللّٰہُ إِلَّا بِالْحَقِّ”۔ (اور اس جان کو قتل نہ کرو جسے اللّٰہ نے محترم قرار دیا ہے مگر حق کے ساتھ) (الأنعام: 151)۔ اسلام کی نظر میں ایک بے گناہ انسان کا قتل پوری انسانیت کے قتل کے برابر ہے، اور ایک جان کی حفاظت پوری انسانیت کی زندگی کے ہم معنی ہے۔ مگر تاریخ کے اوراق اور موجودہ دنیا کے حالات گواہ ہیں کہ جب انسان اپنے ربّ کی ہدایت سے منہ موڑتا ہے، تو اس کے ہاتھ خون سے تر اور زمین ظلم سے بھر جاتی ہے۔ کبھی یہ ظلم اور تباہی خود انسان کے ہاتھوں برپا ہوتی ہے، اور کبھی یہ بغاوت قدرت کے قہر کو دعوت دیتی ہے، جیسے عاد و ثمود اور فرعون کے انجام میں ہم دیکھتے ہیں۔
کرناٹک کی نیتراوتی کے پُرسکون کناروں سے لے کر اترکاشی کی گنگوتری کے برفانی دامن تک، دھرمستھلا سے دھرالی تک کا منظر اسی قرآنی حقیقت کی یاد دلاتا ہے کہ جب زمین فساد سے بھر جاتی ہے تو موت اور تباہی کا رنگ ایک ہو جاتا ہے، چاہے وہ انسانی درندگی کا نتیجہ ہو یا آسمانی فیصلے کا۔ نیتراوتی ندی کے سنگت میں بسی دھرمستھلا کی خاموش وادیوں میں گمنام قبریں آج بھی ایک بے آواز چیخ کی مانند ہیں۔ ان مٹی کے ٹیلوں کے نیچے دفن ہر جسم اس لمحے کا گواہ ہے جب زندگی کے معمولات یکایک رک گئے، اور زمین نے اپنے سینے کو پھاڑ کر سب کچھ نگل لیا۔ یہاں ہر قبر ایک سوال ہے اور ہر خاک کا ڈھیر ایک ایسا زخم جو لفظوں میں بیان نہیں ہو سکتا۔
اور ادھر، ہزاروں میل دور، اترکاشی کی برفانی وادی میں بہتی گنگوتری ندی کے کنارے بسا چھوٹا سا قصبہ دھرالی… جہاں پانی کا نیلاپن اس وقت سرخی مائل ہے، نہ جانے کس کس کا خون اس کے ساتھ مل کر بہہ گیا۔ گلیوں میں بکھری لاشیں، ٹوٹے مکان، اور کھنڈر بنتی بستیاں… یوں لگتا ہے جیسے قیامت نے دو مختلف سمتوں سے قدم رکھا ہو، ایک انسان کے ہاتھوں برپا ہوئی اور دوسری براہِ راست قدرت کے قہر سے۔
دھرمستھلا میں ظلم و جبر کی داستانیں انسان کے حریص اور ظالم چہرے کو بے نقاب کر رہی ہیں۔ جیسے تاریخ کے اوراق میں جلتی ہوئی بستیوں کے پیچھے مسکراتے لشکر کا عکس ملتا ہے۔ چنگیز کی یلغار یا ہلاکو کے سیلاب کی طرح، جہاں تلوار کے نیچے نہ بچّے محفوظ رہے نہ بوڑھے۔ دھرالی میں منظر کچھ اور ہے، مگر انجام ایک جیسا۔ یہاں انسان کا ہاتھ نہیں، لیکن قدرت کا غیظ و غضب ہے۔ ایسا قہر جو نوح علیہ السلام کے طوفان یا لوت علیہ السلام کی بستیوں پر الٹ جانے والے آسمان کی یاد دلاتا ہے۔ زمین پھٹتی ہے، پانی طوفان بن کر اترتا ہے، پہاڑ کے پتھر گولے بن کر گھروں کو روند ڈالتے ہیں۔
لاشوں کی تلاش کا منظر بھی دونوں جگہ مختلف وسائل کا آئینہ ہے۔ دھرالی میں جی پی آر (Ground Penetrating Radar) جیسے جدید آلات زمین کے اندر انسانی وجود کی باقیات تلاش کر رہے ہیں۔ میکانیکی آنکھیں جو مٹی کے پردے کے پیچھے جھانک سکتی ہیں۔ اور دوسری طرف، دھرمستھلا میں، وسائل کی کمی یا انتظامی ناکامی کے باعث، آج بھی کدال، پھاوڑے اور گھمیلے سے ملبہ ہٹایا جا رہا ہے۔ جیسے صدیوں پہلے کوئی تباہ شدہ بستی میں تلاشِ مفقودین کے لیے ہاتھوں سے کھدائی کرتا تھا۔ یہ مناظر نہ صرف انسانی بے بسی کی عکاسی کرتے ہیں بلکہ نظام کی کمزوری کا کھلا اعتراف بھی ہیں۔ ترقی اور جدید ٹیکنالوجی کے دعوے کاغذ پر مضبوط دکھائی دیتے ہیں، لیکن عملی میدان میں کبھی کدال اور پھاوڑا ہی آخری سہارا رہ جاتے ہیں۔
دھرمستھلا سے دھرالی تک پھیلا یہ المیہ ہمیں یہ بھی بتاتا ہے کہ موت کا چہرہ ایک ہی ہے، چاہے وہ انسانی درندگی کے ناخنوں سے نوچا ہوا ہو یا قدرت کی سخت آزمائشوں سے گزرا ہوا۔ دونوں صورتوں میں سوال ایک ہی ہے: انسان کب سیکھے گا کہ زندگی کا احترام ہی اس کی بقاء ہے؟ ان مناظر پر غور کرنے والا ہر حساس دل اس حقیقت کو محسوس کرتا ہے کہ زندگی ایک امانت ہے، جو خالقِ کائنات نے ہمیں عدل، رحمت اور امن کے قیام کے لیے عطاء کی ہے۔ مگر جب یہ امانت انسان کی خود غرضی، ظلم، اور غفلت کی نذر ہو جاتی ہے تو زمین خون پی کر بھی سیراب نہیں ہوتی، اور آسمان کا سکوت بھی قہر میں بدل جاتا ہے۔
دونوں جانب چمکتے ہوئے سیاحتی مراکز، رنگا رنگ بازار، اور فنِ تعمیر کے شاہکار معبد—جہاں عقیدت مندوں کی بھیڑ اور سیاحوں کا ہجوم دن رات رواں دواں ہے۔ پتھروں پر کندہ مورتیاں، رنگین جھنڈیاں، گھنٹوں کی گونج، اور رسومات کا سلسلہ ایسا کہ گمان ہوتا ہے یہ خطہ روحانیت اور امن کا گہوارہ ہوگا۔ مگر انہی مناظر کے پسِ پردہ ایک تلخ حقیقت دھڑکتی ہے: انسانیت غیر محفوظ ہے۔ وہی انسان، جس کے لیے یہ سب مذہبی مظاہر بظاہر وجود میں آئے، آج خوف، ناانصافی اور موت کے سائے میں جی رہا ہے۔ کبھی یہ موت انسان کے ہاتھوں آتی ہے—ظلم، قتل، اور استحصال کی شکل میں؛ اور کبھی غفلت و بدانتظامی قدرت کے قہر کو دعوت دیتی ہے۔
یہ ایک عجیب تضاد ہے، ایک طرف لاکھوں کا سرمایہ معبد خانوں کو سنوارنے پر صرف ہو رہا ہے، اور دوسری طرف انسان کا جسم و جان محفوظ رکھنے کے لیے درکار بنیادی سہولتیں میسر نہیں۔ جہاں عقیدے کے نام پر لالٹینیں اور دیے جل رہے ہیں، وہاں زندگی کی شمعیں بجھ رہی ہیں۔ جہاں معبدوں میں ہر روز گھنٹیاں بجتی ہیں، وہاں سڑک پر لاشوں کے لیے کوئی سائرن بروقت نہیں بجتا۔ یہ مناظر سوال اٹھاتے ہیں: کیا عبادت کا اصل مفہوم دیواروں اور ستونوں کی تزئین میں ہے، یا اس انسان کی حفاظت میں جسے خالق نے سب سے محترم قرار دیا؟ کیا روحانیت کا نور انسانیت کی شمع کے بغیر ممکن ہے؟
قرآنِ کریم ہمیں خبردار کرتا ہے: "وَمَا كَانَ رَبُّكَ لِيُهْلِكَ الْقُرَىٰ بِظُلْمٍ وَأَهْلُهَا مُصْلِحُونَ”۔ (اور آپ کا ربّ کبھی بستیوں کو اس حال میں ہلاک نہیں کرتا جب کہ ان کے لوگ اصلاح پر قائم ہوں) (ہود: 117)۔ یہ آیت بتاتی ہے کہ بستیوں کی بقاء اور سلامتی کا راز عدل اور اصلاح میں ہے، نہ کہ عمارتوں کی شان و شوکت یا عبادت گاہوں کی کثرت میں۔
تاریخ بھی اسی سچائی کی گواہ ہے۔ بابل کے بلند معابد، مصر کے عظیم اہرام، اور جنوبی امریکہ کے مایا مندر۔ سب اپنے وقت کے روحانی اور تہذیبی مراکز تھے، مگر جب وہاں انسانی جان کی حرمت پامال ہوئی، ظلم عام ہوا، اور انصاف مٹ گیا، تو یہ سب اینٹ اور پتھر کے ڈھیر میں بدل گئے۔ اسلام نے عبادت کو محض رسومات تک محدود نہیں رکھا، بلکہ انسان کی جان، مال اور عزّت کی حفاظت کو عین دین کا حصّہ قرار دیا۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا: "المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده”۔ (مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں) (بخاری و مسلم)۔
یہ اصول صرف مسلمانوں تک محدود نہیں بلکہ انسانیت کے ہر فرد پر لاگو ہے۔ لہٰذا جب عبادت گاہیں آباد ہوں مگر انسان کا دل خوف سے خالی نہ ہو، جب گھنٹیاں بجیں مگر دلوں میں عدل و رحمت کی گونج نہ ہو، تو یہ سب روحانیت کا خول ہے، جو اندر سے کھوکھلا ہے۔ یہ منظر ہمیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے: کیا خالق کو ہماری عبادت گاہوں کی زیبائش درکار ہے یا اس کی سب سے بڑی تخلیق—انسان—کی حفاظت و عزّت؟ اگر ہم نے جواب نہ دیا، تو تاریخ ہمیں انہی گمنام کھنڈرات کی فہرست میں شامل کر دے گی، جو کبھی عبادت و تہذیب کے مرکز کہلاتے تھے۔
قرآن ہمیں خبردار کرتا ہے: "وَلَا تُفْسِدُوا فِی الْأَرْضِ بَعْدَ إِصْلَاحِهَا”۔ (اور زمین میں اصلاح کے بعد فساد نہ پھیلاؤ) (الأعراف: 56)۔ دھرمستھلا کے گمنام ٹیلے اور دھرالی کی تباہ شدہ بستیاں آج بھی انسان کو پکار رہی ہیں: ظلم و جبر، لالچ اور غفلت کا انجام ایک ہی ہے چاہے وہ انسان کے ہاتھوں برپا ہو یا قدرت کے فیصلے سے۔ اگر انسان نے اپنی روش نہ بدلی تو کل کے دھرمستھلا اور دھرالی شاید کسی اور خطے میں نمودار ہوں۔
لہٰذا وقت کا تقاضا ہے کہ ہم زندگی کے احترام کو محض ایک اخلاقی نعرہ نہیں بلکہ عملی رویہ بنائیں۔ اپنی ذات، اپنے معاشرے اور اپنے نظام کو اس عدل و امن کے سانچے میں ڈھالیں جو ربِّ کائنات نے اپنی کتاب اور اپنے نبیﷺ کے ذریعے ہمارے لیے مقرر کیا ہے۔ کیونکہ جب انسان خالق کے حکم کے تابع ہو جاتا ہے تو زمین امن کا گہوارہ بن جاتی ہے، اور جب سرکشی اختیار کرتا ہے تو دھرمستھلا اور دھرالی کی داستانیں بار بار دہرائی جاتی ہیں۔
دھرمستھلا کی خاموش قبروں سے لے کر دھرالی کی برف پوش بلندیوں تک پھیلے سانحات ہمیں یہ یاد دلاتے ہیں کہ تباہی صرف جغرافیہ نہیں دیکھتی، بلکہ انسان کے رویّے اور اعمال کو بھی گنتی ہے۔ کہیں یہ تباہی انسانی درندگی، ظلم اور بے حسی کی شکل میں اترتی ہے، تو کہیں قدرت کے قہر اور فطرت کے انتقام کی صورت میں۔ مگر دونوں ہی صورتوں میں یہ صرف مقامی لوگوں کا امتحان نہیں ہوتے، بلکہ پوری انسانیت کے لیے ایک اخلاقی اور روحانی چیلنج بن کر آتے ہیں۔
قرآنِ مجید پچھلی امتوں — قومِ نوحؑ، عاد، ثمود اور لوتؑ — کی ہلاکت کا ذکر اسی لیے کرتا ہے کہ انسان ظلم، غرور اور گناہ سے باز آجائے، اور جان لے کہ زمین پر امن و عدل ہی بقاء کی ضمانت ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم دھرمستھلا اور دھرالی کے خونچکاں اسباق کو سنجیدگی سے لیں گے، یا تاریخ کو خود کو دہرانے کا موقع دیتے رہیں گے؟ اگر ہم نے دھرمستھلا اور دھرالی جیسے واقعات سے سبق نہ لیا تو تاریخ کا پہیہ ہمیں بھی اسی انجام کی طرف گھسیٹ سکتا ہے، بس نام اور جغرافیہ بدل جائیں گے، انجام وہی رہے گا۔
اس پورے مضمون کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ انسان کی بقاء صرف اس وقت ممکن ہے جب وہ زندگی کی حرمت، عدل، اور رحمت کو عملی طور پر اپنائے، ورنہ ظلم، لالچ، اور غفلت چاہے انسان کے ہاتھ سے ہو یا قدرت کے فیصلے سے، انجام ہمیشہ تباہی اور بربادی ہی ہوتا ہے۔ قرآن اور تاریخ دونوں بتاتے ہیں کہ قومیں اس وقت تک سلامت رہتی ہیں جب وہ انصاف اور اصلاح پر قائم ہوں، اور جب یہ اصول ٹوٹتے ہیں تو بابل، عاد، ثمود، اور فرعون کی سلطنتوں کی طرح زوال ناگزیر ہو جاتا ہے۔ دھرمستھلا اور دھرالی کی مثالیں یاد دلاتی ہیں کہ تباہی کا جغرافیہ بدل سکتا ہے، مگر اس کا سبب ہمیشہ انسانی رویّے اور اعمال میں چھپا ہوتا ہے۔ یعنی، عبادت گاہوں کی رونق اور تہذیب کی چمک انسانیت کی حفاظت کے بغیر بے معنی ہے۔ اصل روحانیت انسان کے خون اور عزّت کی حفاظت میں ہے، نہ کہ صرف عمارتوں اور رسومات میں۔
(اس ضمن میں میرے ان مضامین کا بھی مطالعہ کریں۔ 30 جولائی کے ••دھرمستھلا کی گمنام قبریں: ایک اجتماعی ضمیر کا مقدمہ•• اور 6 اگست 2025ء کے ••پانی کی من مانی — پہاڑوں کی آغوش میں ماتم کناں ندی••۔ جزاکم اللّٰہ خیرا کثیرا!)
(12 اگست 2025ء)
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com
Post Views: 3
Like this:
Like Loading...