Skip to content
لہو دے کر ہم نے چمن کو سینچا ہے
ازقلم: مفتی عبدالمنعم فاروقی
استاذ فقہ دارالعلوم اشرفیہ
خطیب جامع مسجد اشرفی قلعہ گولکنڈہ حیدرآباد
پندرہ اگست باشندگان ہند کے لئے ایک سنہری، تاریخی ،یادگار اور ناقابل فراموش دن ہے، پندرہ اگست ۱۹۴۷ء کو ہمارا ملک عیار ومکار ،غاصب وقابض انگریزوں کی غلامی سے آزاد ہوا، پندرہ اگست ہر سال آتا ہے اور ہم کو اپنے آباء واجداد کی بے مثال و بے نظیر اور قابل رشک قربانیوں کی یاد دلاتا ہے کہ کس طرح سے انہوں نے چالاک وچالباز ، سفید فام، سیاہ دل اور دھوکہ باز قوم کے خلاف جانبازی وجرأ ت مندی اور قوت وتوانائی کے ساتھ مقابلہ کیا اور اپنا آخری خون کا قطرہ تک بہادیا لیکن ان غاصبوں کے سامنے ہرگز گردن نہیں جھکائی ،ان دیوانوں کی بس ایک ہی خواہش تھی کہ جلد از جلد وطن عزیز میں آزادی کا سورج طلوع ہوجائے اور پھر سے یہاں کے باشندے آزاد فضا ،خوشگوار ماحول،پُر سکون انداز اور آپس میں شیر وشکر بن کر زندگی گزار سکے، وہ دن رات اسی کا خواب دیکھتے تھے ،اسی کے لئے انگریزوں کے خلاف لڑتے ہوئے میدان کار ساز میں اتر تے تھے اور بڑی بہادری اور نہایت دلیری کے ساتھ ان کا مقابلہ کرتے تھے،انہیں معلوم تھا کہ دشمن کا مقابل اتنا آسان نہیں اور آزادی کی منزل تک پہنچنا اتنا سہل نہیں ، منزل مقصود تک پہنچنے کے لئے سحراؤں ،خاردار جھاڑیوں اور نا ہموار راستوں سے گزر نا ہوگا ،اس سفر میں خون بھی بہانا پڑے گا ،زخم بھی کھانے پڑیں گے اور ضرورت پڑنے پر جان بھی دینی ہوگی ، ان کے عزم وحوصلہ کے آگے چٹان کی استقامت معمولی نظر آنے لگی ، بلند وبالا پہاڑ کا قد چھوٹا دکھائی دینے لگا اور سمندر کی گہرائی معمولی معلوم ہونے لگی ، پھر کیا تھاان دیوانوں نے ،آزادی کے متوالوں نے اور ملک کے سچے سپاہیوں نے انگریزوں کو بھگانے کی ٹھان لی اور ان کے مقابلہ میں سینہ سپر ہوکر کھڑے ہوگئے ، انہوں نے کبھی تو تلوار کے نیچے سر رکھ کر آزادی کا نعرہ بلند کیا ،تو کبھی بندوق کی گولی کھاکر ترانہ ٔ آزادی گنگنایا ،تو کبھی توپ کے دہانے پر کھڑے ہوکر آزادی کا گیت گایا تو کبھی پھانسی کے پھند ے کو چوم کر آزادی کی آواز لگائی ۔
یہ وہ زمانہ کہ جس وقت جب ظالم وجابر ،عیار ومکار سفید فام بھیڑ یوں نے جنت نشاں ہندوستان پر اپنا تسلط قائم کرلیا اور آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کو قید کرکے پابجولاں رنگون (برما) کے قید خانہ میں مقید کردیا تھا ،لال قلعہ پر یونین جیک لہراکر اس بات کا اعلان کردیا تھا کہ اب ہندوستان ہندوستانیوں کے ہاتھ سے نکل کر سفید فام فولادی ہاتھوں میں آچکا ہے اور انگریز ہی اب ہندوستان کا خود مختار اور مالک ہے ،یہی وہ تاریخی فیصلہ تھا کہ جب علماء ہند نے وطن کی آزادی کا صور پھونک کر انگریزوں کے خلاف علی الاعلان علم ِ بغاوت بلند کیا تھا،تاریخ گواہ ہے کہ سب سے پہلے تحریک آزادی کا صور علماء کرام نے پھونکا تھا اور سب سے پہلے مسلمان ہی علماء کی قیادت میں میدان میں کود پڑے تھے ،جس وقت غاصب انگریز وں نے ایسٹ انڈیا کمپنی کی حکومت قائم کرکے یہ اعلان کیا کہ خلق خدا کی ،ملک بادشاہ کا اور حکم کمپنی بہادر کا ،تو اس پر محدث جلیل امیر الہند نازش وطن شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ نے ملک کی آزادی کیلئے سب سے پہلے جہاد کا فتویٰ جاری کرکے اسے فرض قرار دیا ،شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ کے فتوے نے پورے ملک میں زبردست ہلچل مچادی ، شہر شہر ،قریہ قریہ ،گلی گلی آزادی کے نعروں سے گونج اُٹھا ،ہر طرف بغاوت کے شعلے بھڑکنے لگے ،آزادی کے پرچم لہرانے لگے ،اس فتوے نے انگریز افسروں کی نیند حرام کردی ،یہ فتویٰ ان پر بجلی بن کر گر پڑا ،اس کے بعد مسلمانوں نے علماء ہند کی قیادت میں جہد مسلسل کے ذریعہ ہر جگہ آزادی کی تحریک شروع کرتے ہوئے جد وجہد شروع کردی ،۱۸۵۷ء کی تحریک میں بے شمار علماء نے اپنی جانبازی کے جوہر دکھائے اور مغرور انگریز وں کے غرور کو خاک میں ملا کر رکھ دیا ،اس تحریک میں جن نامور علماء نے شرکت کی ان میں نمایاں نام بانی دارالعلوم دیوبند حجۃ الاسلام مولانا محمد قاسم نانوتویؒ ، عالمِ ربانی فقیہ ہند مولانا رشید احمد گنگوہی ؒ سرپرست دارالعلوم دیوبند ،مولانا مملوک علی دیوبندی،حافظ ضامن شہیدؒاورمولانا جعفر تھا نیسری ؒ کا ہے ،انگریز افسروں نے اس تحریک میں شریک علماء اور جانباز محبان وطن پر انتقامی کاروائیوں کا آغاز کیا اور ان آزادی کے دیوانوں کے ساتھ ظلم وبربریت کا وہ دل ہلا دینے والا برتاو کیا جسے دیکھ کر درندے بھی شرمانے لگے ،جنگ آزادی کے دِل ہلا دینے والے درجنوں واقعات کو مشہور انگریز مصنف سر ایڈ وڈ ٹامسن نے اپنی مشہور کتاب ــ’’ دی اَوورسائڈ آف دی ماڈل ‘‘ میں نہایت تفصیل کے ساتھ لکھا ہے ،جسے پڑھ کر آنکھیں نم اور جسم لرزہ بر اندام ہوجاتا ہے ،مسٹر ٹامسن دہلی اور اس کے اطراف واکناف کے حالات کچھ اس طرح لکھتا ہے کہ دہلی اور دہلی کے باہر درختوں کی شاخوں سے پھانسی کے پھندے لٹکادئے جاتے تھے اور معزز علماء کو لاکر ہاتھی پر بٹھا کر درخت کے نیچے لایا جاتا تھا اور پھندے ان کے گردن میں ڈال کر ہاتھی کو آگے بڑھا دیا جاتا تھا ،لاش پھندے میں جھول جاتی ،آنکھیں اُبل پڑتیں ،زبان باہر نکل جاتی ، اس وقت ذبح کئے ہوئے مرغ کی طرح جانکنی کا ہیبت ناک منظر سامنے ہوتا تھا ، اسی طرح تحریک آزادی کے درد ناک اور کربناک حالات کو ایک انگریز عورت نے اپنی ڈائری میں کچھ اس طرح لکھا ہے کہ بسا اوقات ان پھا نسیوں پر لٹکائے جانے والوں کی لاشیں تڑپ تڑپ کر انگریزی ہندسے کا 8 بن جاتی تھیں ، مسٹر ٹامسن آگے لکھتا ہے کہ ایک مرتبہ میں نے جامع مسجد کے پاس کسی کے جلنے کی بو محسوس کی تو تحقیق حال کیلئے پیچھے گیا تو کیا دیکھا کہ بڑی بڑی دیگیں چولہوں پر چڑھائی گئی ہیں اور اس میں گرم پانی کھول رہا ہے اور قریب بڑی تعداد میں علماء کھڑے ہیں ان میں سے ایک ایک کو باری باری لایا جارہا ہے اور ان سے کہا جارہا ہے کہ صرف اتنا کہدو کہ تم ۱۸۵۷ء کی جنگ میں شریک نہیں تھے تمہیں چھوڑ دیا جائے گا ورنہ تمہیں اس کھولتے ہوئے پانی میں ڈالدیا جائے گا ،مسٹر ٹامسن کہتا ہے کہ مجھے پیدا کرنے والے کی قسم سبھوں نے گرم پانی میں جل کر جان دیدی مگر کسی ایک نے بھی انکار نہیں کیا ،مسٹر ٹامسن آگے مزید لکھتا ہے کہ ان میں سے بعضوں کو رسیوں سے جکڑ کر باندھ دیا جاتا اور ان پر توپ داغ دی جاتی جس کے نتیجہ میں جسم کا گوشت بوٹی بوٹی ہوکر فضا میں بکھر جاتا اور زمین پر ان کے خون کی بارش ہونے لگتی ۔
اتنے سب کچھ مصائب وآلام کے باوجود ان علماء کے پائے اقدس میں ذراسی جنبش نہیں آئی بلکہ وہ استقامت کا پہاڑ بن کر آزادی کی جد وجہد کرتے رہے ،عظیم مجاہد آزادی تحر یک ریشمی رومال کے بانی دارالعلوم دیوبند کے پہلے طالب علم اور اولین صدر المدرسین مولانا محمود حسن دیوبندی المعروف شیخ الہندؒ نے اپنی عالی ذہانت ، مدبرانہ سیاست اور قائدانہ قیادت کے ذریعہ تحریک آزادی کو ایک نئی جہت عطا کی آپؒ نے ریشمی رومال کے نام سے ایک عظیم تحریک چلائی اور جمعیۃ الانصار کے نام سے پورے ہندوستان کا ایک خاکہ مرتب کیا ،شیخ الہند کے ساتھ آپ کے شاگر د رشید شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنیؒ شیخ الحدیث دارالعلوم دیوبند اور دیگر تلامذہ نے پوری قوت کے ساتھ ملک میں آزادی کی تحریک چلائی اور اسی جرم کی پاداش میں کئی سال مالٹا (کالاپانی) اور دیگر جیلوں کی کوٹھریوں میں گذاردئے ،شیخ الاسلام حضرت مدنی ؒ نے ہندوستان چھوڑ وتحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور انگریز فوج میں مسلمانوںکی بھر تی کو حرام ہونے کا فتویٰ دیا اور باوجود گرفتاری وارنٹ کے کراچی میں تحریک آزادی کے جلسہ میں سر پر کفن باندھ کر شرکت فرمائی اور خطاب کے دوران یہ شعر پڑھا ؎
لئے پھر تی ہے بلبل چونچ میں گل
شہید ناز کی تربت کہاں ہے؟
ہند کے مشہور عالم دین مولانا جعفر تھانیسریؒکو انبالہ سازش کیس میں کالا پانی بھیج دیا گیا آپ ؒ کم وبیش بیس سال گذار کر وطن واپس ہوئے ،مولانا فضل حق خیر آبادی علمی دنیا کے بادشاہ مانے جاتے تھے انگریزوں کے خلاف جہاد کا فتویٰ دینے کے جرم میں گرفتار کرکے جزیرۂ انڈومان بھیج دیا گیا چنانچہ آپ ؒ نے وہاں پر قید وبند کی صعوبتوں کو برداشت کرتے ہوئے اسی جزیرہ میں جان ِ عزیز وطن عزیز کیلئے قربان کردی اور وہیں پیوند خاک ہوئے،مولانا یحییٰ علی ؒ کو بھی انبالہ سازش کیس میں کالے پانی کی سزا ہوئی آپؒ لاہور ،کراچی،ممبئی کی جیلوں میں منتقل ہوتے رہے ،آخر میں جزیرۂ انڈومان منتقل ہوئے یہاں پر دوسال ایک ماہ گذار کر آپ نے جان جانِ آفریں کے سپرد کردی اور وہیں پر سپرد خاک ہوئے ، مولانا عبید اللہ سندھی ؒ شیخ الہند کے شاگر د رشید اور تحریک ریشمی رومال کے علمبردار تھے ،آپ ؒ نے پوری زندگی جلاوطنی میں گذار دی ،آزادی کیلئے ہزاروں مصیبتوں کو برداشت کیا ،افغانستان ،ترکی ،روس ،عرب اور ایران جاکر تحریک آزادی کی کامیابی کیلئے راہیں تلاش کرتے رہے ۔
مولانا احمد علی لاہوری ؒ فن تفسیر میں اپنی مثال آپ تھے ،آپ ؒ تحریک آزادی میں حضرت شیخ الہند کے ساتھ وابستہ رہے ،سرکاری فائل میں جو ریشمی رومال تحریک سے متعلق ہے سب سے پہلے نام آپ ہی کا ہے ۔ مولانا حفظ الرحمن سیوہاری ؒ نیشنلسٹ مسلمانوں کے مجاہدِ اعظم ،شعلہ بیاں مقرر اور آتشِ نوا خطیب تھے مسلمانوں کے انتہائی طاقتور لیڈر جانے جاتے تھے ،گاندھی ،پنڈت جواہر لال نہرو کے معتمد اور کانگریس ورکنگ کمیٹی کے ممبر بھی تھے ،تحریک آزادی میں آپ کی بے مثال قربانیوں کی ایک لمبی فہرست ہے جو کتاب آزادی کے ہر صفحہ پر موجود ہے ،آزادی کے بعد آگ وخون کی بارش میں آپ نے ہندوستان اور ہندوستانی مسلمانوں کی عظیم الشان خدمت انجام دی ہے،مسلمانوں نے اپنے اس عظیم قائد کو مجاہد ملت کا خطاب دیا تھا۔مولانا ابوالکلام آزادؒ ہندوستان اور کانگریس کے بلند پایہ لیڈر تھے ،خدا داد صلاحیتوں کے مالک اور مفسر ،محدث ،شعلہ بیاں مقرر اور مایہ ناز صاحب ِ قلم تھے ،آپ کی تقریریں انگریزوں پر بم سے زیادہ خطر ناک ثابت ہوتی تھیں ،پوری زندگی انگریزی حکومت واقتدار کے خلاف جہاد میں گذار دی ،ہندوستان کے آزاد ہونے کے بعد نوسال تک مرکزی حکومت میں ویز تعلیم رہے ،مولانا سید محمد میاں ؒ مشہور عالم دین اور جامعہ قاسمیہ شاہی مرادآباد میں حدیث کے استاذ تھے ،آپ کو انگریزوں سے گویا ازلی دشمنی تھی ،آپ نے کئی بار برطانوی جیلوں کی سیر کی ،آپ کی اہم تصنیف’’علماء ہند کا شاندار ماضی‘‘پانچ جلدوں پر مشتمل ہے ۔
تحریک آزادی کے یہ چند سرخیل ہیں جنکے کارناموں کا سرسری تذکرہ کیا گیا ہے ،ان کے علاوہ اور بے شمار علماء مجاہد آزادی ہیں جنکی تفصیلات تاریخ کی معتبر کتابوں میں موجود ہیں ان میں سے چند یہ ہیں مولانا محمد علی جوہر ،مولانا حسرت موہانی ،مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی ،مفتی کفایت اللہ دہلوی،مولانا احمد سعید دہلوی،مولانا عطا ء للہ شاہ بخاری اور علامہ انور صابری رحمہم اللہ ۔
حقیقت نگاہی سے تحریک آزادی کی صحیح تصویر پر نظر ڈالی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ سب سے پہلے آزادی کیلئے جگانے والے ،مایوس اور شکستہ دلوں کو بیدار کرنے والے، جسم ِ ناتواں میں توانائی ڈالنے والے اور قوم کو وطن پرستی کا پاٹ پڑھاکر سفاک وچالاک اور ظالم وغاصب قوم سے لڑنے کا حوصلہ دلانے والے کوئی اور نہیں بلکہ علماء ہند ہی تھے ،غرض ان ہی حضرات نے تحریک آزادی کا آغاز بھی کیا اور تقریبا ً نصف صدی تک تن تنہا اس تحریک کو جاری بھی رکھا اور اس طویل مدت میں کبھی بھی انگریزوں کو تخت غاصب پر چین سے بیٹھنے نہیں دیا ،سچ یہ ہے کہ ہندوستان کی آزادی میں جتنا مسلمانوں اور ان کے مذہبی رہنماؤں یعنی علماء نے خون بہایا اتنا کسی دوسروں نے اپنا پسینہ بھی نہیں بہایا ؎
پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے
جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے
افسوس کہ بعد میں آنے والے متعصب مؤرخین نے تحریک آزادی کے سنہرے واقعات کو تحریر کرنے میں تعصب کا مظاہرہ کیا جس پر انہیں تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی ،یہ ان کی صرف علماء اور مسلم دشمنی نہیں بلکہ تحریک آزادی کے ہیروں سے دشمنی ہے اور آزادی کے جانبازوں سے دشمنی ملک سے دشمنی کے مترادف ہے،محسنوں کے احسانوں کو فراموش کر دینا سب سے بڑی احسان فراموشی ہے ، یہ کام تو بس وہی کر سکتے ہیں جن کے ذہن پراگندہ اور دل سیاہ ہوگئے ہوں،جن میںشرافت نام کی کوئی چیز باقی نہیں اور جن کے پاس انسانیت زندہ دفن ہوچکی ہو،ہندوستان بظاہر آزاد تو ہو گیا ہے لیکن یہ ذہنی اعتبار سے ابھی بھی غلام ہے ،تعصبیت کا سبق ان لوگوں نے پڑھایا تھا جنہیں باہر نکال کر ہم نے ملک کو پاک کیا تھا ،وہ جاتے ہو ئے یہاں کے باشندگان کے پیروں میں تعصبیت کی زنجیر ڈال کر چل دئیے ،اسی کا نتیجہ ہے کہ آزادی کے ستر سال گزرنے کے باوجود بھی ہم غلام باقی ہیں ،اگر ملک کو غلامی سے حقیقی معنوں میں آزاد کرنا ہے تو مذہب کا سہارا لے کر پیروں میں ڈالی گئی زنجیر کاٹنا وگا اور دلوں سے تعصبیت کو ختم کرنا ہوگا ، تعصبیت ملک کے امن وسکون اور اس کی کامیابی و ترقی کے لئے کسی زہریلے زہر سے کم نہیں ، جس طرح سبھوں نے مل کر ملک کو آزاد کرایا تھا اس کی ترقی بھی سب کے مل جل کر رہنے ہی میں مضمر ہے،افسوس تو اس بات کا ہے کہ جنہوں نے سب سے پہلے آزادی کا نعرہ لگا یا ،خون بہا کر اس کی آبیاری کی اور اپنی سانسیں دبا کر ہم کو آزادی کی کھلی فضا میں سانسیں لینے کا موقع فراہم کیا آج انہیں کو فراموش کر دیا جارہا ہے ،اسکولوں میں جہاں معصوموں کو سچائی کا پاٹ پڑھایا جاتا ہے ،آزادی کے مبارک دن پر ان کے سامنے جھوٹ کا سبق پڑھایا جارہا ہے ،جس اسکول کے معلم اور جس ملک کے حکمراں جھوٹ پر جھوٹ بولتے ہو ں وہاں صداقت اور سچائی کا کیونکر بول بالا ہوگا،اگر آپ سچے محب وطن ہیں تو ان علماء وقائدین اور مسلمانان ہند کے نام لیجئے اور ان کے کارناموں سے نوخیز نسل کو واقف کرائیے جنہوں نے ملک کی آزادی کی خاطر بیوی کو بیوہ،بچوں کو یتیم ،ماں باپ کو تنہا اور اپنے گھر کو ویران کر دیا تھا ، مسلمانوں میں سے صرف مولانا ابوالکلام آزادؒ ہی کا نام لیا جاتا ہے ،بے شک لینا بھی چاہیے یہ بھی تحریک آزادی کے عظیم ہیرؤں میں سے ایک ہیں ،لیکن ان کے علاوہ تاریخ آزادی ٔ ہند میں کسی اور کا نام نہیں ،تاریخ کے اوراق گواہ ہیں تحریک آزادی میں حصہ لینے والے اور وطن عزیزکے لئے قربان ہونے والے ایک دو نہیں بلکہ لاکھوں ابوالکلام آزاد ہیں جنہوں نے ملک کی آزادی کیلئے سر دھڑ کی بازی لگائی اور اپنا گرم خون بہاکر وطن کو آزاد کریا ،یہ مٹی میں دفن ہوگئے مگر ہند کے پر چم بلند کیا ،آج یہ آزادی اور اس کا جشن انہیں کی مر ہون منت ہے ۔
٭٭٭٭
Post Views: 6
Like this:
Like Loading...