Skip to content
ہندوستان کی آزادی میں مسلمانوں کا کردار
از قلم مفتی عبیدالرحمن قاسمی ظہیرآبادی
استاذ حدیث جامعہ حنفیہ للبنات ظہیرآباد
ہمارا ملک ہندوستان جسے ایک جنت نشاں ملک کہا جاتا ہے جو برسہا برس سے مختلف تہذیب وتمدن کا گہوارہ رہا ہے اور جس کی تاریخ نہایت ہی قدیم ہے بلکہ اس دنیا میں سب سے پہلے انسان اور سب سے پہلے نبی نے جس سرزمین پراپنا پہلا قدم رکھا وہ ہندوستان ہی ہے اس ملک کو مسلم حکمرانوں نے اپنے خون جگرسے سینچا اور اس گلشن کی آبیاری میں کوئ کسر نہیں چھوڑا اور عظمت رفتہ کے ساتھ اس کی مختلف تہذیب وثقافت کو بھی پروان چڑھایا لیکن بد قسمتی سے اس سرزمین نے وہ دن بھی دیکھے جب یہاں پر انگریزوں کا ناپاک اور منحوس سایہ پڑا اور انہوں نے سونے کی چڑھیا کہے جانے والے اس ملک کی شان وشوکت کے تانے بانے بکھیر دییے گئے اور ملک کو غلامیکی زنجیروں میں جکڑ دیا اور یہاں کے باشندوں پر ظلم وستم جبروتشدد کے وہ پہاڑ توڑے جسے تاریخ کبھی بھلا نہیں سکتی لیکن اس ملک سے پیار و محبت کرنےوالے خصوصا مسلم حکمرانوں نے علماء کرام اور مجاہدین نے سر پر کفنباندھ کر دوسال تک مسلسل جنگوں پہ جنگیں لڑتے رہے تحریکوں پہ تحریکیں چلاتے رہے اپنے جانوں کے نذرانے پیش کرتے رہے تب جاکر آزادی کی فضاء ہموار ہوئ اور ہمارا ملک آزاد ہوا زیر نظر تحریر میں مختصر انداز میں جنگ کے آزادی کے حوالے سے مسلمانوں اور علماء کرام کی بے مثال قربانیوں کو پیش کیا گیا ہے کسی شاعر نے کہا
سامنا ظلم، کا بے خوف و خطر ہم نے کیا
وقت آیا تو فدا، ہند پہ سر ہم نےکیا
آج جو پھول نظر آتے ہیں آزادی کے
ان گلوں کے لیے، کانٹوں کا سفر ہم نے کیا
انگریزوں کی ہندوستان آمد اور ان کا تسلط
1498ء میں واسکوڈی گاما کی قیادت میں پرتگال کے ملاحوں نے سب سے پہلے سرزمین ہند کو اپنے ناپاک قدموں سے آلودہ کیا اور صوبہ بنگال کے شہر کلکتہ اور جنوبی ہند کے شہر کالی کٹ کواپنی تجارتی سرگرمیوں کا مرکز بنایا، یہ لوگ تجارت کے مقصد سے یہاں آئے تھے مگر مذہب کی اشاعت میں بھی سرگرم ہو گئے ، اس وقت ہندوستان سونے کی چڑیا کہلاتا تھا، اس ملک میں تجارت کے بے شمار مواقع تھے، مالی ترقی کے وسیع تر امکانات نے انگلستان کے تاجروں کو بھی ادھر متوجہ کیا، انہوں نے تیس ہزار پاؤنڈ سے ایسٹ انڈیا کمپنی کی بنیاد رکھی اور 1601ء میں پہلی مرتبہ اس کمپنی کے تجارتی جہاز ہندوستان کے ساحلوں پر لنگر انداز ہوئے 1612ء میں جہانگیر کے عہد حکومت میں ان انگریز تاجروں نے شہنشاہ کی اجازت سے گجرات کے شہر سورت میں اپنا اقتصادی مرکز بنالیا اور بہت جلد اس کی شاخیں احمد آباد، اجمیر، برہان پور اور آگرہ میں قائم کر دیں، یہ شہر اس زمانے میں تجارت کے لیے کلیدی حیثیت رکھتے تھے، اور بڑے تجارتی مراکز میں شمار کئے جاتے تھے، حضرت اور نگ زیب عالمگیر رحمہ اللہ کے عہد حکومت تک انگریزوں کی سرگرمیاں صرف تجارت تک محدود رہیں، اور نگ زیب عالمگیر رحمہ اللہ کے انتقال کے بعد مغلیہ حکومت کا شیرازہ بکھرنے لگا یہاں تک کہ ملک طوائف الملو کی کا شکار ہو گیا، بہت سے صوبوں نے اپنی خود مختاری کا اعلان کر دیا، ایسٹ انڈیا کمپنی نے جواب تک صرف ایک تجارتی کمپنی تھی پورے ملک پر حکومت کا خواب سجانے لگی اور رفتہ رفتہ اس کمپنی نے تجارت کی آڑ میں اپنی فوجی طاقتوں میں اضافہ کرنا شروع کر دیا اور اپنی سیاسی قوت بڑھانی شروع کر دی یہاں تک کہ اس نے کلکتے میں اپنا ایک مضبوط فوجی قلعہ بھی تیار کرلیا ( آزادی سے جمہوریت تک)
پلاسی کے جنگ اورنواب سراج الدولہ کی محاذ آرائی
جب انگریزوں نے اپنے شاطرانہ وعیارانہ چالوں سے پورے ہندوستان کو غلامی کی زنجیروں میں جکڑنا چاہا تو سب سے پہلے وہ مرد مجاہد جنہوں نے انگریزوں سے نبرد آزمائی کے لیے میدان عمل میں کود پڑے وہ بنگال کے رئیس نواب سراج الدولہ تھے
لیکن وہ اس مقابلے میں دیرپا ثابت نہیں رہے اس لئے کہ انگریزوں نے خفیہ طور پر نواب کی فوج کے سپہ سالار میر جعفر سے ایک خفیہ معاہدہ کیااور جب 1757ءمیں نواب سراج الدولہ اور انگریزوں کے درمیان پلاسی کے میدان میں جنگ ہوئی تو اس موقع پر میر جعفر نے غداری کرکے اپنی فوجوں کو عین وقت پر میدان میں جانے سے روک دیا جس کے نتیجے میں نواب سراج الدولہ کو انہیں کے اہل کاروں کی سازش اور سپہ سالار میر جعفر کی غداری سے شکست کا سامنا کرناپڑا
اور اس طرح انگریز پورے بنگال پر قابض ہو گئے اور ایک وسیع خطہ قبضے میں آجانے کے بعد تجارت کے ساتھ ساتھ حکومت کا بھی دور شروع ہوگیا
سلطان حیدر علی اور ٹیپو سلطانکا کردار
انگریزوں نے مشرقی و شمالی ریاستوں پر اپنے بڑھتے اثرات دیکھ کر اطمینان کی سانس بھی نہیں لی تھی کہ جنوبی ہند کے دور دراز علاقہ سے ایک ایسی طاقت ابھری جس کے وجود سے ان کے پیروں تلے زمین پھسل گئ اور جس سے ان کے عزائم کو زبردست جھٹکا لگا
یہ میسور کی سلطنت خداداد تھی جس کے سپہ سالارسلطان حیدر علی اور ان کے بعد ان کے بیٹےٹیپو سلطان تھے انہوں نے انگریزوں کے خلاف چار جنگیں لڑی پہلی جنگ 1767 سے 1769 تک ہوئ جس میں انگریزوں کو چار مقامات پر شکست فاش ہوئ اور دوسری جنگ 1780 تا 1782ء میں ہوئ اسی جنگ میں سلطان حیدر علی نے جام شہادت نوش کیا اس کے بعد تیسری جنگ سلطان ٹیپو کی براہ راست قیادت میں 1790 تا 1792 میں لڑی گئ جس میں بھی انگریزوں کو شکست فاش ہوئ اور چوتھی جنگ 1799ء میں سرنگا پٹنم میں لڑی گئ لیکن اپنوں کی درپردہ سازش میر صادق کی غداری اپنوں کی بے وفائی کی وجہ سے ٹیپو سلطان رحمہ اللہ یہ کہتے ہوئے شہید ہوگئے کہ گیدڑ کی سوسالہ زندگی شیر کی ایک سالہ زندگی سے بہتر ہے سلطان کی شہادت کے ساتھ ہی ہندوستان کی آزادی کا چراغ گل ہو گیا اور وطن کے دشمنوں کو للکارنے والا کوئ مردمجاہد باقی نہ رہا تو انگریز جنرل ہارس فرط مسرت سے چلا اٹھا کہ آج سے ہندوستان ہمارا ہے (ہندوستان کی جنگ آزادی میں مسلمانوں کا حصہ )
انگریزوں کا اگلا ہدف دہلی کا پایہ تخت
اور آہستہ آہستہ پورے ہندوستان کو بلواسطہ یا بلاواسطہ زیر نگیں کرنے کے بعد انگریزوں نے اگلا ہدف دہلی کے پائے تخت کو بنایا جہاں مغلیہ سلطنت اپنے اخری سانس لے رہی تھی چنانچہ 1800 کے آخر میں لارڈ لیک کی قیادت میں انگریز فوجیں دہلی کی طرف بڑھنے لگیں مغلیہ اقتدار کی محافظ مرہٹہ فوجیں انگریزوں کے سامنے ٹھہر نہ سکی اور 1803 میں انگریز فاتحانہ شان میں دہلی میں داخل ہوئے اور مجبور و مقہور بادشاہ شاہ عالم سے بہ جبر وقہر یہ معاہدہ لکھوایا کہ خلق خدا کی ملک بادشاہ سلامت کا اور حکم کمپنی بہادر کا یہ معاہدہ اس بات کا اعلان تھا اب ہندوستان سے اسلامی اقتدار رخصت ہو چکا ہے اسلامی تہذیب و تمدن کا نشان مٹ چکا ہے ظلم و بربریت کی گھٹائیں چھا چکی ہیں اور باشندگان ہند انگریزوں کی غلامی میں آچکے ہیں ادھر ہندوستان کی عوام اور حکمران ان کی منصوبوں اور سازشوں کو کھلے عام دیکھ رہے تھے لیکن ان انگریزوں کو روکنے اور ان سے مقابلہ کرنے کی ہمت کسی میں نہ تھی حکمران اپنی بچی کچھی حکمرانی اور عہدہ کی فکر میں تھے اور عوام اپنی جان بخشی کی فکر میں تھی ( ہندوستان کی ازادی میں مسلم عوام اور حکمرانوں کا کردار)
حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمہ اللہ کا کردار
حالات کے ان تناظر میں ہندوستان کی راجدھانی دہلی سے ایک آواز اٹھی کہ اب ہندوستان دارالحرب ہو چکا ہے اور ہندوستان کے ہر مسلمان پر جہاد فرض ہو چکا ہے یہ ایک آواز تھی یاکہ بجلی کا کڑکا جس نے پورے ہندوستان کو ہلا دیا یہ اواز کسی اور کی نہیں بلکہ مسند الہند حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ کے سچے جانشین اور فرزند ارجمند حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کی تھی جو اپنی بے مثال چشم بصیرت سے ہندوستان کے مستقبل کا نقشہ دیکھ رہے تھے اس فتوے کا یہ اثر ہوا کہ آپ کے شاگردوں نے خصوصا حضرت سید احمد شہید رحمہ اللہ اور حضرت سید اسماعیل شہید رحمہ اللہ نے ملک کے گوشے گوشے میں پہنچ کر ہندوستان کے مسلمانوں میں انگریزوں کے خلاف جذبہ جہاد کو بیدار کیا اور انگریزوں کی غلامی سے اس ملک کو چھڑانے پر آمادہ کیا اور یہی فتوی ہندوستان کی جدوجہد آزادی کا نقطہ آغاز بنا اور اسی کی وجہ درد مندان قوم و ملت کے قلب وجگر میں انگریزوں کی خلاف جہادکا جوش ولولہ پیدا ہوا اور مسلمانوں نے دین اسلام کی حفاظت کے لیے اور اپنے تہذیب و تمدن کی بقا کے لیے انگریزوں کے خلاف عالم بغاوت کو بلند کیا
1857ء کی جنگ آزادی
1757ء 1857ء تک مکمل ایک صدی تک مسلمانوں نے تنہا مختلف مقامات پر انگریزی سے مقابلہ کیا اور اور اپنی جانوں کا نظرانہ پیش کر کے اس وطن سے عقیدت و محبت کا ثبوت دیتے رہے اس کے بعد انگریزوں نے1857ء میں دہلی کے نام نہاد مغلیہ سلطنت کو بالکل ختم کر کے بادشاہ بہادر شاہ ظفر کو برما رنگون میں قید کر دیا کیا اورمکمل دہلی پر قابض ہوگئےاور ان کی طرف سے ظلم و ستم لوٹ مار قتل و غارت گری کا وہ لامتناہی سلسلہ شروع ہوا کہ جس کے وجہ سے ملک کے مختلف مقامات پر علماء کرام نے اور وطن سے محبت کرنے والے مسلمانوں نے برادران وطن کے ساتھ دوبارہ منظم انداز میں انگریزوں سے جنگ کا سلسلہ شروع کیا جس کو انگریزوں نے1857ء جنگ غدر کا نام دیا اور یہ حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمہ اللہ کے فتوے کا ہی اثر تھا کہ پورے ملک میں علماء کی نگرانی میں انگریزوں سے مقابلہ کرنے کے لیے مسلمانوں کی کئی جماعتیں تیار ہوئی اوراسی سال شاملی کے میدانمیں حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمہ اللہ کے قیادت میں حضرت مولانا رشید احمد گنگوھی رحمہ اللہ حضرت مولانا قاسم نانوتوی رحمہ اللہ اور حافظ ضامن شہید رحمہ اللہ جیسے اکابر علماء نے انگریزوں سے جنگ کی اور یہ سلسلہ آگے بڑھتا رہا
جنگ آزادی میں دارالعلوم دیوبند کا کردار
انگریز ہندوستان صرف اس لیے نہیں ائے تھے کہ اس ملک سے حکومت کا خاتمہ کر دیا جاۓ بلکہ وہ ہندوستان سے اسلامی تشخص اور تہذیب اسلامی کو ختم کرنے اور یہاں کے مسلمانوں کے دین و ایمان پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کر رہے تھے اس کے لیے عیسائیت کی مشنریں کام کر رہی تھی جس کا جواب دینے کے لیےبوریہ نشیں دل درد مند رکھنے والے علماء کرام نے ایک طرف تو انگریزوں سے مناظرے کرکے اسلام کی حقانیت کو ثابت کرنے کے لیے میدان عمل میں کود پڑے دوسری طرف نئی نسل کے دین و ایمان کی حفاظت کے لیے اور ہندوستان میں اسلامی تہذیب و تشخص کی برقراری کے لیے اور جنگ آزادی کے اس مشن کو آگے بڑھانے کے لیے اور مجاہدین آزادی کو پیدا کرنے کے لئے1886ء میں دارالعلوم دیوبند کی بنیاد ڈالی گئی اور پھردارالعلوم دیوبند نے ایسے سپوتوں کو پیدا کیا جنھوں نے اس ملک کے اندر آزادیٔ وطن کی آگ جلائی اور دارالعلوم دیوبند کے سب سے پہلے سپوت
حضرت مولانا محمود الحسن دیوبندی رحمہ اللہ ہیں جو شیخ الہند کے نام سے مشہور ہوئے
شیخ الہند رحمہ اللہ دارالعلوم کے سب بڑے استاذ بنے ساتھ ہی انھوں نے آزادیٔ ہند کے لئے اپنے شاگردوں کی جماعت تیار کرکے باضابطہ تحریک آزادی شروع کی تاریخ میں یہ تحریک ’’ تحریک ریشمی رومال‘‘ کے نام سے مشہور ہوئ شیخ الہندؒ نے اس تحریک میں رنگ و روغن بھرنے کے لئے حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ کو کابل بھیجا، دوسری طرف شیخ الہندؒ خلافت ِ اسلامیہ سے تعاون حاصل کرنے کے لئے حجاز مقدس تشریف لے گئے، شیخ الہندؒ کی یہ تحریک اگر کامیاب ہوتی تو ہندوستان اسی وقت آزاد ہوجاتا لیکن قدرت ابھی اور قربانیاں چاہتی تھی آپ کے دل کے اندر آزادیٔ وطن کی جو آگ روشن تھی جس کا تصور نہیں کیا جاسکتا انگریز گورنر مسٹن کہتاتھا کہ اگر شیخ الہند کو جلاکر راکھ کردیا جائے تو ان کی راکھ کے اندر سے بھی انگریز دشمنی کی بو آئے گی چنانچہ اس تحریک کے پاداش میں اپ کو مالٹا میں قید و بند کی صعوبتوں جھیلنا پڑا اپ نے ہر طرح کی مشقت کو برداشت کیا لیکن انگریزوں کی غلامی کو ہرگز بھی برداشت نہیں کیا اور اس طرح دارالعلوم دیوبند سے ہزاروں جیالے پیدا ہوئے جنہوں نےپورے ملک کے اندر ازادی کی شمع روشن کی اور اس کے لیے ہر طرح کی قربانیاں دیتے رہے
تحریک آزادی کےلئے جمیعت علماء کا قیام
علماء کرام نے آزادی وطن کی تحریک کو آگے بڑھاتے ہوئے دہلی میں 1919ء میں خلافت کانفرنس کے نام سے ایک اجلاس منعقد کیا جس میں ملک کے گوشے گوشے سے علمائے کرام تشریف لائے، ایک جگہ سرجوڑ کر بیٹھے اور اس نتیجے پر پہنچے کہ حضرت شیخ الہندؒ کی مالٹا کی جیل سے رہائی بہت جلد ہونے والے ہے اس لئے ایک ایسا پلیٹ فارم ہونا چاہئے جس پر حضرت شیخ الہندؒ ہندوستان آکر مکمل آزادیٔ وطن کی تحریک کو چلا سکیں، چنانچہ اسی وقت فیصلہ لیا گیا اور امرتسر میں ہندوستان کے ممتاز علماء نے جمع ہو کر ’’جمعیۃ علماء‘‘ کی بنیاد 1919ء میں رکھی اور شیخ الہندؒ کے شاگرد حضرت مفتی کفایت اللہ صاحبؒ کو عارضی صدر بنایا گیا، حضرت شیخ الہندؒ 1920ء میں مالٹا سے ہندوستان تشریف لائے اور اسی سال دہلی میں جمعیۃ علماء ہند کا دوسرا سالانہ جلسہ ہوا جس میں ان کو جمعیۃ علماء ہند کا مستقل صدر بنایا گیا آپ نے اپنے خطبۂ صدارت میں خاص طور پر علماء کو جھنجوڑا اور فرمایا کہ اسلام ایک کامل ومکمل مذہب ہے اور تمام اجتماعی اور انفرادی شعبوں کو اپنے دامن میں لئے ہوئے ہے جو لوگ مدرسوں میں سبق پڑھا کر اپنے حجروں میں بیٹھے رہنے کو اسلام کے حق کی ادائیگی کے لئے کافی سمجھتے ہیں وہ لوگ اسلام کے پاک وصاف دامن پر داغ لگا رہے ہیں، اس اجلاس کے 12؍ روز کے بعد حضرت شیخ الہندؒ کا انتقال ہوگیا۔حضرت شیخ الہندؒ کے بعد جمعیۃ علماء ہند نے حالات کے مزاج کو سمجھتے ہوئے فراست ایمانی پر مبنی ایک حکمت عملی اختیار کی اور فرقہ وارانہ ذہنیت کے پھیلتے زہریلے اثرات کو روکنے کے لیے برادران وطن پر مشتمل تنظیم کانگریس سے اتحاد کرکے، ملک کی مکمل آزادی کے لئے فرقہ و مذہب کی قید سے آزاد ہوکرلڑائی شروع کی اور جمیعت علماء ہند کی یہ کوشش ملک کو کامیابی کی طرف لے جاتی رہی اور جیسے جیسے آزادی قریب آتی رہی جمعیت علماء کے اکابر انڈین نیشنل کانگرس سے وعدے لیتے رہے اور دستخط کراتے رہے کہ کہ وہ ملک کو ایک سیکولر اور جمہوری راہ پر گامزن کرینگے ان تمام تر علماء کرام کی جدوجہد اوران سے قبل مسلم عواماور حکمرانوں کی مسلسل 200 سال پر محیط عظیم بے مثال قربانیوں کے بعد لاکھوں مسلمانوں کے شہادت اور ہزاروں علماء کرام کی اپنی جانوں کا نظرانہ پیش کرنے کے بعد بالآ خر 1947 کو وہ صبح نمودار ہوئی کہ جس میں ہمارا ملک انگریزوں کی غلامی سے آزاد ہو گیا اور ایک سیکولر اور جمہوری ملک قرار دیا گیا
Post Views: 2
Like this:
Like Loading...