Skip to content
آزادیٔ وطن میں علماء کرام اور مسلمانوں کی قربانیوں کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔
جمعیۃ علماء ضلع کاماریڈی کے زیراہتمام جشنِ یومِ آزادیٔ ہند سے حافظ محمد فہیم الدین منیری کا خطاب۔
کاماریڈی 15 اگست (محمد فیروز الدین، پریس سکریٹری جمعیۃ علماء کاماریڈی) جمعیۃ علماء ضلع کاماریڈی کے زیراہتمام مدرسہ مصباح الہدیٰ، مسجد نور کاماریڈی میں جشنِ یومِ آزادیٔ ہند کا پُروقار پروگرام تزک و احتشام کے ساتھ منعقد ہوا۔ رسمِ پرچم کشائی کے بعد صدر جمعیۃ علماء ضلع کاماریڈی حافظ محمد فہیم الدین منیری نے اپنے خطاب میں کہا کہ وطنِ عزیز کی آزادی کے لئے علماء کرام اور مسلمانوں کی قربانیوں کو تاریخ کبھی فراموش نہیں کر سکتی، ہندوستان کی آزادی کی داستان، اکابر علماء کی جدوجہد اور بے مثال قربانیوں کے بغیر ادھوری ہے۔ انہوں نے کہا کہ برصغیر میں انگریز سامراج کے خلاف سب سے پہلی باضابطہ جدوجہد کا آغاز مسلمانوں نے کیا اور دو لاکھ سے زائد مسلمان آزادیٔ وطن کے لئے اپنی جانیں قربان کر گئے۔
اکابرینِ ملت، بالخصوص شیخ الہند مولانا محمود الحسن دیوبندیؒ، مولانا ابوالکلام آزادؒ اور دیگر جید علماء نے جان و مال کی پرواہ کئے بغیر تحریکِ آزادی کو تقویت دی، تمام مذاہب کے رہنماؤں کو متحد کیا اور ہندو، مسلم، سکھ و عیسائی سب کو ایک پلیٹ فارم پر لاکر جدوجہدِ آزادی کو کامیابی سے ہمکنار کیا، حافظ محمد فہیم الدین منیری نے مدارسِ دینیہ، خصوصاً دارالعلوم دیوبند اور اس کے فضلاء کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ علماء نے خطبات و تحریروں کے ذریعے عوام میں بیداری پیدا کی، قربانیوں سے تحریک کو جلا بخشی اور ہر محاذ پر قیادت کا حق ادا کیا۔
انہوں نے مولانا سید ارشد مدنی کا یہ قول بھی سنایا کہ ’’ملکِ ہندوستان کی کوئی تاریخ ہندوستان کے علماء کے ذکر کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتی، آزادی کی تحریک کا آغاز علماء نے اس وقت کیا جب عوام غلامی کے احساس سے بھی ناواقف تھی۔‘‘ اس موقع پر حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ کی خدمات کا خصوصی ذکر کیا گیا کہ انہوں نے مالٹا کی جیل کی صعوبتیں برداشت کیں، برادرانِ وطن کے ساتھ مل کر آزادی کی جدوجہد میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور ہندو مسلم اتحاد کو مضبوط بنیاد فراہم کی، جو تحریکِ آزادی کی کامیابی کا اہم سبب بنا، پروگرام میں حافظ محمد یوسف (نائب صدر ضلعی جمعیۃ علماء کاماریڈی)،
مولانا منظور احمد (جنرل سکریٹری منڈل جمعیۃ علماء کاماریڈی) نے بھی پُراثر خطابات کئے۔ اس کے علاوہ حافظ محمد شرف الدین، حافظ انتظار احمد، مولانا نظر الحق، مولانا شعیب خان، حافظ محمد تقی الدین، حافظ محمد علیم الدین، حافظ عبدالحلیم، محمد حمزہ زاہد، محمد اشرف علی اور دیگر معزز شخصیات موجود رہیں، مہمانانِ کرام کا پُرتپاک استقبال حافظ محمد مجاہد، مولانا ظہور، حافظ محمد سعد اللہ اور مدرسہ کے اساتذہ نے کیا، جبکہ اظہارِ تشکر حافظ محمد عبدالواجد (معاون ناظم مدرسہ) نے پیش کیا،
اس موقع پر مدرسہ مصباح الہدیٰ کے طلباء نے حب الوطنی پر مبنی دلچسپ تعلیمی مظاہرہ پیش کیا، جسے شرکاء نے سراہا۔ آخر میں شرکاء نے عہد کیا کہ آزادی کی حفاظت، ملک کی ترقی، امن و بھائی چارہ، فرقہ واریت کے خاتمے اور گنگا جمنی تہذیب کے فروغ کے لئے ہر ممکن کوشش کی جائے گی، تاکہ آنے والی نسلوں کو خوشحال، پُرامن اور ترقی یافتہ ہندوستان دیا جا سکے۔ہندوستان زندہ باد – سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا
Post Views: 2
Like this:
Like Loading...