Skip to content
ناانصافی کی تصویر اور میڈیا کی خاموشی
از۔مدثراحمد۔شیموگہ۔
کرناٹک۔9986437327
ناگپور کی عدالت کا تازہ فیصلہ ایک بار پھر ہمارے سماج کے زخموں کو کھولتا ہے اور ان سوالوں کو جنم دیتا ہے جن کا جواب نہ تو ہمارے نظام انصاف کے پاس ہے اور نہ ہی ہمارے خود ساختہ "ضمیر فروش” میڈیا کے پاس۔ اٹھارہ سال، جی ہاں، اٹھارہ طویل برسوں تک آٹھ افراد کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے رکھا گیا، صرف اس جرم میں کہ ان کے پاس کچھ
"لٹریچر” تھا۔ عدالت نے واضح کیا کہ یہ لٹریچر رکھنا کوئی جرم نہیں، نہ ہی کوئی ثبوت ملا کہ یہ لوگ کسی میٹنگ، پروپیگنڈے یا مالی سرگرمی میں ملوث تھے۔ پھر سوال یہ ہے کہ اٹھارہ سال کس جرم کی سزا تھی؟ محض شک، الزام، یا ایک خاص طبقے سے تعلق؟ یہ فیصلہ ہمارے نظام کی ناکامی اور تعصب کی کھلی تصویر ہے۔جب یہ گرفتاریاں ہوئیں تو میڈیا نے واویلا مچایا۔ "دہشت گرد پکڑے گئے”، "ملک خطرے میں” جیسے شہ سرخیوں نے ٹی وی سکرینوں اور اخبارات کو بھر دیا۔ راتوں رات پورے طبقے کو کٹہرے میں کھڑا کیا گیا، ان کی شناخت پر داغ لگائے گئے، اور معاشرے میں خوف اور نفرت کا بیج بویا گیا۔ لیکن جب وہی لوگ، جنہیں "ملزم” بنا کر پیش کیا گیا تھا، اٹھارہ سال بعد بے گناہ ثابت ہوئے، تو کہاں گیا وہ میڈیا؟ کہاں ہیں وہ بڑے بڑے اینکرز اور ان کے "بریکنگ نیوز” والے پروگرام؟ ایک سرخی، ایک مختصر خبر تک شائع کرنے کی زحمت کیوں نہ کی گئی؟ یہ خاموشی صرف لاپرواہی نہیں، بلکہ ایک گھناؤنا منصوبہ ہے جو معاشرے کو تقسیم کرنے اور ایک طبقے کو مسلسل نشانہ بنانے کے لیے بنایا گیا ہے۔صحافت کا دعویٰ ہے کہ وہ سچ کی آواز ہے، لیکن یہ سچ صرف وہی ہے جو میڈیا ہاؤسز کے ایجنڈوں کے مطابق ہو۔ جب الزام لگانے کی بات آتی ہے تو رات بھر کے مباحثے، ماہرین کے پینل، اور سنسنی خیز سرخیاں تیار ہوتی ہیں۔ لیکن جب انصاف کی بات آتی ہے، جب برسوں جیل میں سڑنے والے بے گناہ رہا ہوتے ہیں، تو یہ میڈیا اپنی زبان گم کر بیٹھتا ہے۔ یہ دوہرا معیار صرف صحافتی اخلاقیات کی موت نہیں، بلکہ جمہوریت پر ایک کاری وار ہے۔ یہ رویہ معاشرے میں نفرت، بداعتمادی اور تقسیم کو ہوا دیتا ہے۔ ایک طرف الزامات کی بوچھاڑ، دوسری طرف بے گناہی پر مجرمانہ خاموشی—یہ ہے ہمارے میڈیا کی اصلیت۔یہ صرف آٹھ افراد کی کہانی نہیں ہے۔ یہ ان سینکڑوں، شاید ہزاروں لوگوں کی کہانی ہے جو سالہا سال جیلوں میں بغیر کسی جرم کے قید رہتے ہیں۔ ان کے خاندان ٹوٹ جاتے ہیں، ان کی زندگیاں برباد ہو جاتی ہیں، اور ان کا وقار پامال ہوتا ہے۔ اور جب عدالت انہیں بے گناہ قرار دیتی ہے، تو کیا ملتا ہے؟ ایک کاغذی فیصلہ، اور بس۔ نہ کوئی معافی، نہ کوئی معاوضہ، نہ ہی کوئی ایسی آواز جو ان کی رہائی کو اتنی ہی شدت سے پیش کرے جتنی شدت سے ان پر الزام لگائے گئے تھے۔اب وقت ہے کہ میڈیا اپنی ذمہ داری کو سمجھے۔ اگر الزام ایک خبر ہے، تو رہائی بھی خبر ہونی چاہیے۔ اگر ایک طبقے کو کٹہرے میں کھڑا کیا جا سکتا ہے، تو اس کی بے گناہی کو بھی اتنی ہی عزت کے ساتھ پیش کیا جائے۔ انصاف صرف عدالتوں کے فیصلوں میں نہیں، بلکہ معاشرے کے اعتماد اور اتحاد میں جھلکتا ہے۔ لیکن اگر میڈیا اپنا یہ یکطرفہ بیانیہ جاری رکھے گا، تو وہ معاشرے کو جوڑنے کے بجائے توڑنے کا ذمہ دار ہوگا۔ یہ وقت ہے کہ ہم سب، بطور شہری، اس نظام سے سوال کریں، میڈیا سے جواب مانگیں، اور ایک منصفانہ سماج کے لیے آواز اٹھائیں۔ ورنہ، یہ تلخ سچ ہم سب کے ضمیر پر بوجھ بن کر رہے گا۔
Post Views: 3
Like this:
Like Loading...