Skip to content
ووٹ چور گدی چھوڑ:نعرہ نہیں تحریک بن گیا
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
بی جے پی نے اس بار الیکشن کمیشن کو بہار انتخاب میں کامیابی کی سپاری دی لیکن بدقسمتی سے وہ راز کھل گیا۔ اس سے بہار میں حزب اختلاف کو سنجیونی بوٹی یعنی نئی زندگی مل گئی۔ ریاست میں بہار یاترا کے پہلے ہی دن ایمرجنسی کے خلاف مکمل انقلاب کی یاد تازہ ہوگئی ۔ کانگریس کے رہنما راہل گاندھی اور آر جے ڈی نے تو گویا تہلکہ مچا دیااور پہلے ہی دن یہ مہم سوپر ڈوہر ہٹ ہوگئی۔ اس کی ویڈیوز میں عوام کا جوش و خروش دیکھ کر مودی و شاہ کی نیند حرام ہوگئی ہوگی۔ بہار کے ساسارام سےاس 16 روزہ’ووٹر ادھیکار یاترا‘ کا آغاز ہوا۔ یہ یاترا تقریباً 1300 کلومیٹر طویل کا فاصلہ طے کرنے کے بعد یکم ستمبر کو پٹنہ میں ایک بڑی ریلی کے ساتھ اختتام پذیر ہوگی۔ اپوزیشن اتحاد یعنی انڈیا بلاک نے بی جے پی کے ’ون نیشن ون الیکشن ‘ کے جواب میں ’ون پرسن، ون ووٹ‘ کا نعرہ بلند کیا ہے اور عوام کو احساس دلانے میں کامیاب ہوگئی ہے کہ ان بھارتیہ جنتا پارٹی اور اس کے رہنما نریندر مودی ووٹ چوری کرکے اقتدار پر قابض ہوئے ہیں۔ اس طرح ووٹ چور گدی چھوڑ والا نعرہ اب ایک زبردست انقلابی تحریک میں تبدیل ہوچکا ہے۔ ان شعلوں کی تپش ملک کے طول و عرض میں محسوس کی جائے گی۔
حکومتِ وقت الیکشن کمیشن کے ذریعہ ایس آئی آر کو بہار سے نکال کر پورے ملک میں پھیلانا چاہتی ہے۔ اس سے ظاہر ہے کہ اس کی مخالفت ملک گیر ہوجائے گی۔ اس یاترا کے آغاز سے قبل ایک ریلی میں راہل گاندھی نے نہایت سخت لہجے میں کہا کہ، ’’پورے ہندوستان میں آر ایس ایس اور بی جے پی آئین کو مٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ لڑائی صرف انتخابی نتائج کی نہیں بلکہ آئین کو بچانے کی ہے۔ ہر الیکشن میں بی جے پی اور وزیر اعظم نریندر مودی جیت جاتے ہیں لیکن اس جیت کے پیچھے ووٹوں کی ہیرا پھیری ہے۔‘‘ اپنے دعویٰ کی دلیل میں راہل گاندھی نے مہاراشٹر کی مثال پیش کرتے ہوئے کہا کہ، ’’وہاں سبھی اوپینین پولز کہہ رہے تھے کہ انڈیا اتحاد جیتے گا۔ لوک سبھا انتخابات میں ہمارا اتحاد جیتا بھی لیکن محض چار ماہ بعد اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کا اتحاد سویپ کر گیا۔ جب ہم نے جانچ کی تو پتہ چلا کہ لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات کے درمیان ایک کروڑ نئے ووٹر جادوئی طور پر پیدا ہو گئے۔ یہ تمام ووٹ بی جے پی کے کھاتے میں گئے، جبکہ ان کے اتحاد کا ووٹ کم نہیں ہوا۔‘‘ راہل گاندھی نے’الیکشن کمیشن پر الزام لگایا کہ اس نے شکایت پر سنجیدگی نہیں دکھائی۔ اس سے سی سی ٹی وی فوٹیج اور ویڈیوگرافی مانگی گئی تو جواب میں انکارملا۔
راہل گاندھی کی مہم کا یہ اثر تو ضرور ہوا کہ الیکشن کمیشن کو خصوصی پریس کانفرنس منعقد کرکے ان الزامات کی تردید کرنی پڑی۔اس نے راہل گاندھی سے ایک ہفتے میں حلف نامہ داخل کرنے یا معافی مانگنے کا مطالبہ کردیا۔ موجودہ سیاسی نظام کے تین ستون مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ ہیں۔ ان میں سے پہلے دو کی بابت کوئی کنفیوزن نہیں پایا جاتا ۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ مقننہ سے وابستہ لوگ اقتدار میں آنے اور اس میں رہنے کے لیے شتر بے مہار کی مانند کچھ بھی کرسکتے ہیں ۔ مودی اور شاہ کی جوڑی نے اس خیال تقویت پہنچائی ۔ انتظامیہ کے بارے میں یہ عام رائے ہے کہ وہ اپنے سیاسی آقاوں کے اندھے تابعدارہونے کے سبب ان کی خوشنودی حاصل کرکے ذاتی مفاد کی خاطر کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں۔ اس کی جیتی جاگتی مثال الیکشن کمیشن ہے لیکن عدلیہ کے حوالے سےاختلاف پایا جاتاہے۔ ایک رائے تو یہ ہے کہ وہ گھما پھرا کر حکومت وقت کے حق میں فیصلے سنا دیتا ہے۔ دوسری رائے ہے کہ عوامی جذبات و احساسات سے متاثر ہوکر اپنی رائے بناتا ہے اور تیسرا خیال ہے کہ وہ ان سب سے بے نیاز ہوکر آئین کے مطابق اپنا فرضِ منصبی نبھاتا ہے۔ بہت ممکن ہے کہ مختلف اوقات میں الگ الگ لوگوں کے ساتھ ججوں کی انفرادی اصول پسندی یا ابن الوقتی نے یہ کنفیوژن کھڑا کردیا ہو۔ اس کا نظارہ بہار کے ایس آئی آر معاملے خوب ہوا۔
بہار میں ایس آئی آر یعنی خصوصی ووٹر فہرست نےراہل گاندھی کی قیادت میں حزب اختلاف کو سرکار کے خلاف متحد کردیا۔ ایوانِ پارلیمان کے اندر اور باہرایسی زوردار مہم چلائی گئی کہ حکومت کے ہوش ٹھکانے آگئے۔ اس کی شروعات دہلی کی پریس کانفرنس سے ہوئی جس میں راہل گاندھی نےالیکشن کمیشن پر نہایت سنگین قسم کے الزامات لگائے گئے۔ اگلے دن بنگلورو میں ایک حلقۂ انتخاب کو منتخب کرکے گھپلے بازی کے بہت ہی واضح شواہد پیش کردیئے ۔ اس دوران چونکہ ایوانِ پارلیمان کا مانسون اجلاس جاری تھا اس لیے پورے حزب اختلاف نےمتحد ہوکر الیکشن کمیشن کے دفتر پر چڑھائی کردی اور پھر واپس آکرایوان کو سر پر اٹھالیا ۔ اس ہنگامۂ آرائی نے عدالتِ عظمی کو بری طرح متاثر کیاکیونکہ وہاں بھی تو گوشت و پوست کے انسان ہی فیصلہ کرتے ہیں ۔بہار میں ایس آئی آر کو روکنے کے لیے جب لوگ باگ عدالت عظمیٰ میں پہنچے تو پہلے کہا گیا کہ یہ اس کا حق اور ذمہ داری ہے۔ یہ سن کر بھاجپائی خوش ہوگئے۔ پہلی سماعت میں عدالت عظمیٰ نے آدھار کارڈ کو تسلیم کرنے کا مشورہ تو دیا مگر حکم نہیں دیا ۔ اس کے برعکس الیکشن کمیشن تائید میں یہاں تک کہہ دیا کہ آدھار کارڈ کو شہریت کا ثبوت نہیں سمجھا جا سکتا ۔ یہ سن کر گودی میڈیا میں شادیانے بجنے لگے۔ اسی دوران بامبے ہائی کورٹ نے اور بھی آگے بڑھ کر کہہ دیا کہ آدھار کارڈ کے ساتھ ساتھ پین کارڈ اور ووٹر شناختی کارڈ کو بھی شہریت کا ثبوت نہیں مانا جا سکتا۔
مذکورہ بالا فیصلوں نے مرکزی حکومت اور پنجرے میں بند الیکشن کمیشن کو اس خوش فہمی کا شکار کردیاکہ سب کچھ ان کے منشاء کے مطابق ہورہا ہے۔ آگے چل بابری مسجد کی طرح کا فیصلہ آئے گا اورالیکشن کمیشن کی نئی فہرست کی خامیاں بیان کرنے کے بعد بالآخر اسے جائز قرار دے دیا جائے گا۔ ایڈوکیٹ ابھیشیک منو سنگھوی نےجب سماعت کے دوران کہا کہ پاسپورٹ اور دیگر دستاویزات کم لوگوں کے پاس موجود ہیں۔ عدالت نے ناراض ہوکر جواب دیا بہار کو اس طرح بدنام نہ کریں۔ انتظامی خدمات میں بہار نژاد لوگوں کی بھاری موجودگی کودلیل بناکر کہا گیا کہ بہار کے لوگوں کو کم نہ سمجھیں۔بہار کی زمینی حقیقت کے تعلق سے بینچ کے دونوں ججوں میں اختلاف بھی نظر آیا۔ جسٹس باغچی بہار کو ایک غریب ریاست کے طور پر پیش کرنے سے خوش نہیں تھے حالانکہ یہ ناقابلِ تردید حقیقت ہے اور وہاں سے بڑے پیمانے پر محنت کشوں کا نقل مکانی کرنا اس حقیقت کا اظہار ہے۔ انہیں اس پر بھی اعتراض تھا کہ ایسے دکھایا جارہا ہےگویا وہاں کچھ بھی ڈیجیٹل نہیں ہے،ہر جگہ سیلاب ہے، کوئی سرٹیفکیٹ دستیاب نہیں ہے۔ وہ اندھیروں کے دور میں جی رہا ہے۔ اس کی تردید میں وہ بولے پہلے صدرِ مملکت بہار سے تھے، یہ علم کی سرزمین ہے لیکن اس پدرم سلطان بود کی دلیل سے کیا ہوتا ہے؟ گوتم بدھ نے وہاں اپنی زندگی گزاری تھی مگر سوال یہ ہے کہ سمراٹ اشوک کے بعد بدھ مت کے ساتھ بہار سمیت پورے ملک میں کیا سلوک ہوااور اب کیا حالت ہے؟ موجودہ جرائم کو دیکھ کر بہار میں لالو کے جنگل راج کی بات کرنے والوں کا سر فی الحال شرم سے جھکا ہوا ہےْ ۔
جسٹس باغچی کے ساتھی جسٹس سری کانت نے حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئےبہار اور دیگر ریاستوں میں غریب آبادی کی مجبوریوں کو تسلیم کیااور مانا کہ دیہی علاقوں کو انٹرنیٹ وغیرہ کو بحال ہونے میں ابھی وقت لگے گا۔ ویسے یہ ایک حقیقت ہے کہ بہار کو انقلاب کی سرزمین کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔ گاندھی جی سے لے کر جئے پرکاش نارائن تک سبھی کو یہاں کے لوگوں نے بڑا تعاون کیا۔ یہاں تک کہ اڈوانی کی نفرت انگیز رام رتھ یاترا کو بھی یہیں روکا گیا۔ اس کا قلق سنگھ پریوار کو اب بھی ہے کہ وہ وہاں زعفرانی پرچم لہرانے میں ناکام رہا ہے۔ ایس آئی آر کے خلاف تحریک بھی جس زور و شور سے بہار میں چلی وہ کسی اور ریاست میں نہیں چل سکتی تھی ۔ اس متاثر ہو کر ایس آئی کو آر ووٹرز کے خلاف نہیں بلکہ ووٹر دوست کہنے والے سپریم کورٹ نے اپنی رائے بدل دی۔ اس کی کسی کو یہ امید نہیں تھی یومِ آزادی سے ایک دن پہلے عدلیہ کی جانب سے مودی سرکار پر ایسا زبردست سرجیکل اسٹرائیک ہوجائے گا کہ اس کے ہوش ٹھکانے آجائیں گے۔ بی جے پی بہار الیکشن ہار چکی ہے۔عدالت عظمیٰ کایہ حتمی فیصلہ نہیں ہے بلکہ اگلی سماعت 22 اگست کو ہوگی۔یعنی آپریشن سیندورکی طرح یہ عمل آگے بھی جاری ر ہے گا۔ یہ حسن اتفاق ہے کہ آپریشن سیندور کے دوران 22 منٹ میں 22؍ اپریل کا انتقام لیا گیا تھا اور اب 22 لاکھ مردہ قرار دینے والے ووٹرس کی زندگی کا فیصلہ 22 ؍ اگست کو ہوگا۔
بہار کی ووٹرادھیکاریاترا کے آغاز لالو یادو بولے ’’ہم آئین کو مٹنے نہیں دیں گے، عوام باشعور ہیں اور انصاف کے متمنی ہیں۔‘‘رکن پارلیمنٹ پپّو یادو نے کہا، ’’راہل صرف اقتدار کے فائدے کے لیے نہیں نکلے بلکہ آئین، نوجوانوں کے روزگار، کسانوں کی خوشحالی اور انتخابی نظام کی شفافیت کے لیے لڑ رہے ہیں۔‘‘ پرتیجسوی یادو نے کہا، ’’لالو جی اور لوہیا جی ہمیشہ کہتے رہے ہیں کہ ووٹ کا راج مطلب چھوٹے آدمی کا راج لیکن آج بی جے پی الیکشن کمیشن کے ذریعے یہ عوامی اختیار چھین رہی ہے۔‘‘ تیجسوی یادو نے تو چراغ پاسوان کے ووٹ بنک میں سیندھ لگاتے ہوئے کہہ دیا کہ امبیڈکر نے ہمیں ووٹ کا حق دے کر اقتدار دیا، لیکن بی جے پی ہم سے یہ حق چھین رہی ہے۔ وہ بولے یہ چوری نہیں بلکہ ڈکیتی ہے۔ انہوں نے بی جے پی کوخبردار کیا کہ بہار میں لوگ صرف کھینی نہیں کھاتے بلکہ کھینی کے ساتھ چوناکو رگڑ کر چبالیا جاتا ہے۔ اس طرح کے بیانات ایک بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ہے جو بہار سے نکل کر پورے ملک میں پھیل جائے گی۔
Post Views: 8
Like this:
Like Loading...