Skip to content
شہید صحافی
تاریخ کے امانت دار مؤرخ
✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040
میدانِ جنگ میں صحافی کا کردار محض ایک راوی کا نہیں بلکہ ایک "امانت دار مؤرخ” کا ہوتا ہے۔ وہ گولی نہیں چلاتا، توپ نہیں داغتا، لیکن اس کی قلم اور کیمرہ میدان جنگ کی آگاہی کو آئندہ نسلوں تک پہنچاتے ہیں۔ روایتی بین الاقوامی اصولوں کے مطابق، جیسے جنیوا کنونشن اور عالمی انسانی قوانین، صحافی کو عام شہری کا درجہ حاصل ہے۔ اس کے ہاتھ میں بندوق نہیں، بلکہ قلم اور کیمرہ ہے، جو صداقت کی گواہی دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قدیم جنگوں میں بھی "کاتب” یا "مورخ” کو عموماً محفوظ سمجھا جاتا تھا۔ مگر اسرائیل نے اس اصول کو یکسر پلٹ دیا ہے۔ گویا اس نے یہ اعلان کر دیا کہ "جس کے پاس سچائی کا چراغ ہو، وہ ہماری نظر میں سب سے بڑا خطرہ ہے”۔
اسرائیلی جارحیت کے ہاتھوں شہید ہونے والے 238 صحافی اس بات کے زندہ استعارے ہیں کہ اب "پریس جیکٹ” اور "پریس ہیلمٹ” حفاظت کی علامت نہیں بلکہ نشانے کا مرکز بن چکے ہیں۔ یہ صورتحال کچھ ایسی ہے جیسے جنگل میں وہ چراغ جو رات کی تاریکی میں مسافروں کو راستہ دکھاتا ہے، درندوں کو کھٹکتا ہے، اور وہ چراغ کو ہی بجھا دینے پر تُل جاتے ہیں تاکہ اندھیرا ہی اندھیرا باقی رہے۔ دنیا کے مختلف خطوں میں مثالیں بھری پڑی ہیں کہ جب صحافیوں نے سچائی کو آشکار کیا تو طاقتور قوتوں نے ان کی زبان بند کرنے کی کوشش کی۔ روس کے زمانۂ زار میں نیکولائی گوگول جیسے ادیب اور لکھاریوں پر پابندیاں لگیں، برصغیر میں صحافیوں کو کالے پانی کی سزائیں دی گئیں، اور آج کے دور میں فلسطین کی سر زمین پر یہی تاریخ ایک اور خونیں باب لکھ رہی ہے۔
یہ ایک ایسا المیہ ہے جسے یوں بیان کیا جا سکتا ہے جیسے کوئی بادشاہ آئینے سے ڈرتا ہو، کہ وہ اس کے چہرے کی بدصورتی دکھا دیتا ہے۔ صحافی وہی آئینہ ہے، اور صیہونی حکومت کے لئے یہی سب سے بڑی بے چینی ہے۔ وہ چاہتی ہے کہ ظلم کا چہرہ دنیا کی آنکھوں سے اوجھل رہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا سچائی کو واقعی ہمیشہ کے لیے دبایا جا سکتا ہے؟ خون کی سرخی کاغذ پر سیاہی سے زیادہ نمایاں ہوتی ہے۔ شہید ہونے والے یہ صحافی دراصل وہ "چراغ” ہیں جو بجھائے جانے کے باوجود ہزاروں نئے چراغ جلا جاتے ہیں۔ ان کا خون ایک ایسی سیاہی بن جاتا ہے جو دنیا کی تاریخ پر ہمیشہ کے لئے لکھ دیتا ہے کہ "صحافت کی بقا قیمت مانگتی ہے، اور یہ قیمت کبھی کبھی جان سے بھی بڑی ہوتی ہے”۔
یہ المیہ محض چند شہادتوں کی خبر نہیں بلکہ پوری صحافت، انسانی ضمیر اور بین الاقوامی اقدار پر ایک کاری ضرب ہے۔ غزہ میں جاری جنگ نے صرف عمارتوں کو ملبے کا ڈھیر نہیں بنایا بلکہ سچائی کے چراغوں کو بھی ایک ایک کر کے بجھانے کی کوشش کی ہے۔ غزہ سٹی میں الجزیرہ کے صحافیوں اور کیمرا آپریٹرز کی شہادت کوئی اچانک حادثہ نہیں تھی، بلکہ یہ ایک سوچی سمجھی حکمتِ عملی کا حصّہ ہے۔ انس الشریف، محمد قریقہ، محمد ظاہر، محمد نوفل اور مومین علیوا جیسے نام آج تاریخ کے صفحات پر خون سے لکھے گئے ہیں۔ یہ محض افراد نہیں تھے، بلکہ یہ "غزہ کی آواز” تھے، وہ کان اور آنکھیں تھے جو دنیا کو دکھا رہے تھے کہ سر زمینِ فلسطین پر ظلم کیسے ڈھایا جا رہا ہے۔
ان کی شہادت ہمیں یہ باور کراتی ہے کہ اصل جنگ ٹینکوں اور توپوں کی نہیں بلکہ بیانیے کی جنگ ہے۔ دشمن اچھی طرح جانتا ہے کہ اگر بیانیہ قابو میں نہ رہے تو بندوقوں کی گھن گرج بھی اپنی وقعت کھو دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ بار بار صحافیوں کے خیمے، ان کے دفاتر اور ان کے گھروں کو نشانہ بناتا ہے۔ دنیا نے دیکھا کہ "پریس” کی جیکٹ پہننے والا انس الشریف بھی محفوظ نہ رہا، حالانکہ وہ بندوق نہیں بلکہ کیمرہ اٹھائے ہوئے تھا۔
انس الشریف کی شہادت کو اگر ایک تمثیل میں ڈھالیں تو یہ یوں ہے جیسے ایک راوی جلتے ہوئے شہر کے بیچ میں بیٹھا داستان لکھ رہا ہو اور ظالم کو یہ خوف ہو کہ اگر یہ داستان مکمل ہو گئی تو دنیا اس کے ظلم کو بھلا نہیں پائے گی۔ لہٰذا وہ راوی کو ہی مار ڈالتا ہے تاکہ کہانی ادھوری رہ جائے۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ خون کی سیاہی سے لکھی کہانیاں کبھی ادھوری نہیں رہتیں۔ وہ نسلوں تک بولتی ہیں، اور ان کی بازگشت وقت کے سینوں میں گونجتی رہتی ہے۔
انس الشریف کی وصیت اس باب کی سب سے دردناک اور بلیغ صدا ہے، "خدایا گواہ رہنا ان لوگوں پر جو خاموش رہے، جنہوں نے ہمارے قتل پر رضامندی ظاہر کی، اور جن کے دل ہمارے بچوں اور عورتوں کی بکھری لاشوں سے نہیں دہلے”۔ یہ وصیت دراصل پوری دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہے۔ یہ ہمیں اس قرآن کی آیت یاد دلاتی ہے کہ "وَلَا تَرْكَنُوا إِلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ” (اور ظالموں کی طرف نہ جھکو، ورنہ آگ تمہیں اپنی لپیٹ میں لے گی)۔ خاموش رہنے والا بھی ظالم کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے، اور انس الشریف کی وصیت اسی اخلاقی نکتے کو دنیا کے سامنے کھول دیتی ہے۔
یہ صحافی گویا اس صدی کے "حسان بن ثابتؓ” ہیں، جو ظلم کے خلاف کلمۂ حق بلند کرتے ہیں۔ اگر ان کے ہاتھوں میں تلوار نہیں تو کیا ہوا؟ ان کے کیمرے اور قلم ہی سب سے بڑی تلوار ہیں۔ لیکن دشمن کو یہی تلوار سب سے زیادہ کھٹکتی ہے۔ وہ جانتا ہے کہ بندوق کی گولی چند لمحوں میں ختم ہو جاتی ہے، مگر قلم کا لکھا اور کیمرے کی آنکھ سے دیکھا ہوا منظر نسلوں کے حافظے میں نقش ہو جاتا ہے۔ یہ تمام شہداء اس بات کا زندہ ثبوت ہیں کہ جنگ صرف مٹی اور زمین کے لئے نہیں، بلکہ بیانیے کے لئے لڑی جا رہی ہے۔ اسرائیل چاہتا ہے کہ ظلم کی تصویریں اور آوازیں دنیا تک نہ پہنچیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ انس الشریف اور اس کے ساتھیوں نے اپنے خون سے وہ بیانیہ لکھ دیا ہے جسے کوئی طاقت کبھی مٹا نہیں سکتی۔
یہ جملہ محض ایک تحریری ریکارڈ نہیں بلکہ عہدِ حاضر کی ایک تاریخی دستاویز ہے۔ ایک ایسی دستاویز جو خطے کے عرب میڈیا کی خاموشی اور بے حسی پر مہرِ تصدیق ثبت کرتی ہے۔ یہ خاموشی کسی پیشہ ورانہ غیر جانبداری کا نام نہیں، بلکہ دراصل ایک شریکِ جرم سکوت ہے، وہی سکوت جس کے بارے میں انس الشریف نے اپنی وصیت میں کہا تھا کہ یہ خاموشی ظالم کے ساتھ رضامندی اور معصوموں کے قتل پر دستخط ہے۔
غزہ کے شہید صحافیوں کی فہرست کو اگر ورق بہ ورق پڑھا جائے تو ہر نام ایک داستان ہے، ایک علامت ہے، ایک چراغ ہے جسے خون کے طوفان میں بجھا دیا گیا۔ آزاد فوٹوگرافر اور فلم ساز اسماعیل ابو حاطب، جس نے اپنے کیمرے سے غزہ کی بربادی کو آئندہ نسلوں کے لئے محفوظ کیا؛ الاقصیٰ ریڈیو کی دعا شرف، جو اپنی گود میں چھوٹے بچّے کے ساتھ شہید ہوئی؛ محمد قریقہ، محمد ظاہر، محمد نوفل اور مومین علیوا—یہ سب صرف صحافی نہیں تھے، بلکہ وہ راوی تھے جنہوں نے آخری سانس تک اپنی داستانِ حق پر یقین رکھا اور اس یقین کے بدلے اپنی جان نچھاور کر دی۔
ان میں سے ہر ایک نام گویا ایک آیتِ شہادت ہے، اور ان سب کو جوڑ کر پڑھا جائے تو ایک طویل "کتابِ صداقت” وجود میں آتی ہے۔ ان کے لہو سے یہ حقیقت روشن ہوتی ہے کہ جنگ کی اصل سرحدیں اب خندقوں یا سرنگوں سے نہیں بلکہ بیانیے سے متعین ہو رہی ہیں۔ یہ بیانیہ وہ تلوار ہے جسے دشمن سب سے زیادہ خطرناک سمجھتا ہے۔ کیونکہ توپ اور بندوق وقتی ہیں، لیکن سچائی کے الفاظ اور تصویریں صدیوں زندہ رہتی ہیں۔
یہاں سوال یہ نہیں کہ کتنے صحافی مارے گئے، بلکہ سوال یہ ہے کہ ان کے ساتھ ساتھ عالمی میڈیا کی غیرت کہاں دفن ہوگئی؟ جو ادارے خود کو حق کے علمبردار کہتے ہیں وہ آج خاموش ہیں۔ یہ خاموشی دراصل ایک ڈھکی چھپی زبان ہے جو کہتی ہے: "ہم ظلم کو قبول کرتے ہیں۔” یہ وہی سکوت ہے جو سفاکیت کو مزید حوصلہ بخشتا ہے۔ پریس کی مخصوص جیکٹ، جسے بین الاقوامی قانون نے جنگ کے بیچ بھی تحفّظ کی علامت بنایا تھا، آج الٹا ایک نشانیِ موت بن چکی ہے۔ جو جیکٹ کل تک ایک ڈھال تھی، آج ہدف ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا جیکٹ کا تقدس مٹانے سے صداقت بھی مٹ سکتی ہے؟ ہرگز نہیں۔ کیونکہ صداقت ایک ایسی روشنی ہے جو اندھیروں کے باوجود اپنا راستہ ڈھونڈ لیتی ہے۔
صحافی کا اصل کام سپاہی یا جرنیل کا نہیں، بلکہ "حق کے قاصد” کا ہے۔ وہ اپنی آنکھوں اور آواز سے وہ سچ عوام تک پہنچاتا ہے جو بندوقوں اور توپوں کے شور میں دبایا جا رہا ہوتا ہے۔ جب دشمن قلم کو ہی گولی سے خاموش کرنے پر تُل جائے تو سمجھ لیجیے کہ جنگ صرف زمین کی نہیں، بلکہ سچائی اور بیانیے کی جنگ ہے۔ یہ شہداء ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ تاریخ کے سینے میں صرف وہی زندہ رہتے ہیں جنہوں نے حق کے لئے قربانی دی۔ ان کے لہو سے جو تحریر لکھی گئی ہے، وہ ہمیشہ آنے والی نسلوں کو یہ سبق دے گی کہ خاموش رہنا ظلم کی حمایت ہے۔ صحافت کا اصل ہتھیار بندوق نہیں، سچائی ہے۔ اور پریس کی جیکٹ اگرچہ آج چھلنی ہے، مگر یہ چھلنی جیکٹ خود تاریخ کے لئے ایک پرچمِ شہادت ہے۔
شہید صحافیوں کا خون صرف غزہ کی گلیوں میں نہیں بہا، بلکہ اس نے پوری انسانیت کے ضمیر پر دستک دی ہے۔ یہ شہداء ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ سچائی کو دبانے کی ہر کوشش بالآخر ناکام ہوتی ہے۔ بندوق کی گولی جسم کو خاموش کر سکتی ہے، مگر قلم کی روشنائی اور کیمرے کی آنکھ کو کبھی فنا نہیں کر سکتی۔ آج "پریس جیکٹ” اگرچہ نشانے پر ہے، لیکن یہی چھلنی جیکٹ کل تاریخ کے صفحات پر ایک پرچمِ صداقت بن کر لہرائے گی۔
یہ قربانیاں ہمیں یہ سبق دیتی ہیں کہ صحافت محض پیشہ نہیں، امانت ہے؛ اور یہ امانت خون کے چراغوں سے روشن رہتی ہے۔ انس الشریف اور اس کے ساتھیوں نے ہمیں دکھایا کہ قلم کی عظمت گولیوں سے کہیں بڑھ کر ہے۔ ان کا مشن ادھورا نہیں رہا، کیونکہ وہ اپنی جان دے کر سچائی کو امر کر گئے۔ وقت کے اوراق گواہ رہیں گے کہ تاریخ کے اصل فاتح وہی ہیں جنہوں نے ظلم کے اندھیروں میں بھی حق کا چراغ جلایا۔ شہید صحافی اسی چراغ کے امین تھے، اور ان کی قربانیاں ہمیں یہ صدا دے رہی ہیں، سچائی کو قتل کیا جا سکتا ہے، مگر دفنایا نہیں جا سکتا۔
(16؍ اگست 2025ء)
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com
Like this:
Like Loading...