Skip to content
ساورکر کا طلوع، گاندھی کا غروب:
یومِ آزادی کے پوسٹر کے پیچھے پوشیدہ بیانیہ
بقلم: ڈاکٹر محمد عظیم الدین
(صدر شعبہ اردو، آرٹس کامرس کالج ییودہ، امراوتی، مہاراشٹر)
بھارت کے 79ویں یومِ آزادی کے موقع پر سرکاری سطح پر جاری کردہ ایک پوسٹر نے ملک کی تاریخ اور اس کی جمہوری روح پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اس پوسٹر میں جدوجہدِ آزادی کے عظیم مجاہدین، مہاتما گاندھی اور شہیدِ اعظم بھگت سنگھ، کے ناموں اور تصویروں کو نسبتاً نیچے رکھتے ہوئے وِنایک دامودر ساورکر کو نمایاں طور پر سب سے اوپر دکھایا گیا ہے۔ بظاہر یہ ایک سادہ علامتی اقدام نظر آتا ہے، مگر اس کے پسِ پردہ ایک گہری نظریاتی اور سیاسی جنگ چھپی ہوئی ہے، جس کا مقصد بھارت کی تاریخ کو از سرِ نو ترتیب دینا اور اس کے سیکولر اور کثرت پسندانہ ڈھانچے کو ‘ہندوتوا’ کے فکری سانچے میں ڈھالنا ہے۔ یہ اقدام محض ایک تصویری غلطی نہیں، بلکہ ایک وسیع تر منصوبے کا حصہ ہے جس کے تحت بھارت کے بنیادی بیانیے کو تبدیل کیا جا رہا ہے۔
آزادی کی تحریک کا سب سے بڑا استعارہ مہاتما گاندھی ہیں، جنہوں نے عدم تشدد اور ستیہ گرہ کے فلسفے کے ذریعے دنیا کو دکھایا کہ کس طرح سچائی اور استقامت کی طاقت سب سے بڑے سامراج کے سامنے بھی سر جھکا سکتی ہے۔ گاندھی کی جدوجہد کی بنیاد اخلاقی اقدار اور انسانیت کی مساوات پر تھی، جس نے کروڑوں بھارتیوں کو مذہب، ذات اور طبقے سے بالا ہو کر ایک قوم کے طور پر متحد کیا۔ ان کی قربانیوں اور نظریات کو عالمی سطح پر نہ صرف سراہا گیا بلکہ کئی ممالک میں آزادی کی تحریکوں کے لیے ایک مشعلِ راہ قرار دیا گیا۔ دوسری جانب، بھگت سنگھ جیسے انقلابی رہنما تھے، جن کی سیکولر اور سوشلسٹ فکر نے نوجوانوں کو ایک نئے، مساوات پر مبنی اور استحصال سے پاک سماج کا خواب دکھایا۔ ان کی شہادت نے نوجوانوں میں آزادی کے شعلے کو مزید بھڑکایا اور ثابت کیا کہ وہ صرف برطانوی راج سے ہی نہیں بلکہ سامراجی اور سرمایہ دارانہ نظام سے بھی آزادی چاہتے ہیں۔ یہ دونوں شخصیات، اپنی مختلف فکری پوزیشنوں کے باوجود، بھارت کی آزادی کی تحریک کے دو مختلف مگر لازم و ملزوم دھارے تھے۔ ان کی قربانیوں اور نظریات نے آزادی کے بعد بھارت کے دستور کی تشکیل کی بنیاد فراہم کی، جس میں سیکولرزم، مساوات اور جمہوری اقدار کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔
اس کے برعکس، ساورکر کی تاریخ ایک الگ ہی بیانیے کی نمائندگی کرتی ہے۔ وہ ہندو قوم پرستی کے نظریے ‘ہندوتوا’ کے بانی ہیں، جس نے ہندو اکثریتی شناخت کو بھارت کی قومی شناخت کے طور پر پیش کیا۔ ساورکر کا سیاسی سفر متنازعہ رہا ہے۔ وہ نہ صرف ہندو مہا سبھا کی قیادت کرتے تھے، بلکہ ان کی طرف سے برطانوی حکمرانوں کو رحم کی درخواستیں بھیجی گئیں، جنہیں ان کے ناقدین ان کی سیاسی کمزوری اور انگریزوں کے ساتھ تعاون سے تعبیر کرتے ہیں۔ مشہور مورخ آر سی مجمدار، اپنی کتاب "History of the Freedom Movement in India” میں اس بات کا ذکر کرتے ہیں کہ ساورکر اور ان کی تنظیم نے ‘بھارت چھوڑ دو تحریک’ کی کھلم کھلا مخالفت کی اور اس دوران مسلم لیگ کے ساتھ مل کر برطانوی حکمرانی کے تحت کام کیا۔ ان تاریخی حقائق کے علاوہ، ساورکر کا نام مہاتما گاندھی کے قتل کے مقدمے میں بھی آیا تھا۔ اگرچہ انہیں مقدمے میں بری کر دیا گیا تھا، لیکن کپور کمیشن جو کہ گاندھی کے قتل کی دوبارہ تحقیقات کے لیے بنایا گیا تھا، نے اپنی رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی کی کہ "تمام حقائق پر غور کرنے کے بعد، یہ ثابت ہوتا ہے کہ ساورکر اور ان کے گروپ نے گاندھی کے قتل کی سازش رچی تھی۔” یہ سنگین الزام ان کے کردار پر ایک ہمیشہ رہنے والا سوالیہ نشان ہے۔ ان کی تاریخی پوزیشن کا موازنہ گاندھی اور بھگت سنگھ جیسے رہنماؤں سے کرنا، جنہوں نے بلا کسی شک و شبہ کے اپنی زندگیاں ملک کے لیے قربان کر دیں، تاریخی طور پر غیر منصفانہ ہے۔
مودی حکومت کا یہ قدم ایک وسیع تر ‘ریاستی تاریخ نویسی’ کے منصوبے کا حصہ ہے جس میں سرکاری اداروں، نصابی کتب اور عوامی یادگاروں کے ذریعے تاریخ کو ایک نئے نظریاتی تناظر میں پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ اقدام اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ حکومت صرف سیاسی میدان میں ہی نہیں بلکہ ثقافتی اور فکری میدان میں بھی ہندوتوا کو ملک کے مرکزی دھارے میں شامل کرنا چاہتی ہے۔ یہ رجحان صرف پوسٹر تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس کا اثر تعلیمی نصاب میں تبدیلیوں، تاریخی مقامات کے ناموں کی تبدیلی اور عوامی مقامات پر مخصوص نظریات کو فروغ دینے میں بھی نظر آتا ہے۔ یہ کوششیں بھارت کی کثیر الثقافتی، کثیر المذہبی اور کثیر لسانی شناخت کے خلاف ایک چیلنج ہیں، جو اس کے جمہوری ڈھانچے کا بنیادی جزو ہے۔
حکومت کی یہ پالیسیاں ایک ایسے بھارت کی تصویر کشی کرتی ہیں جو اپنی کثرت میں وحدت کے بجائے یکسانیت پر زور دیتا ہے۔ یہ علامتی سیاست اقلیتوں کو بے دخل محسوس کراتی ہے اور سماجی تقسیم کو گہرا کرتی ہے۔ جب تاریخ کو محض سیاسی مقاصد کے لیے مسخ کیا جاتا ہے تو اس کے نتیجے میں معاشرے کے مختلف گروہوں کے درمیان اعتماد میں کمی آتی ہے اور مشترکہ قومی بیانیے کی بنیادیں کمزور ہو جاتی ہیں۔ بھارت کے پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے اپنی کتاب "Discovery of India” میں اس بات پر زور دیا تھا کہ بھارت کی اصل طاقت اس کی وحدت میں نہیں بلکہ اس کی کثرت میں پوشیدہ ہے۔ یہ پوسٹر نہرو کے اس فلسفے کے برخلاف ہے اور ایک ایسے بھارت کو پیش کرتا ہے جو اپنی تاریخی وحدت کو ایک مخصوص نظریے کے تحت دوبارہ ترتیب دینا چاہتا ہے۔
اس طرح کی علامتی سیاست کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ یہ جمہوریت کے بنیادی اصولوں، یعنی مساوات، برداشت اور تنوع کو پامال کرتی ہے۔ ایک ایسے نظریے کو سرکاری سرپرستی دینا جو مذہب کو سیاست میں مرکزی حیثیت دیتا ہے، آئین کی بنیادی روح کے خلاف ہے۔ بھارت کا آئین، جیسا کہ ڈاکٹر بی آر امبیڈکر اور دیگر دستور سازوں نے تصور کیا تھا، ایک ایسے آزاد اور جامع بھارت کی عکاسی کرتا ہے جہاں ہر شہری کو اس کی ذات، مذہب اور لسانی پس منظر سے قطع نظر برابر کے حقوق حاصل ہوں۔ "The Indian Constitution: Cornerstone of a Nation” میں مورخ گرینویل آسٹن نے اس بات پر روشنی ڈالی ہے کہ بھارت کے دستور کا بنیادی مقصد ایک ایسی جمہوری ریاست کا قیام تھا جو نہ صرف سیاسی آزادی کو یقینی بنائے بلکہ سماجی اور اقتصادی مساوات کو بھی فروغ دے۔
موجودہ صورتحال میں یہ پوسٹر محض ایک تصویر نہیں، بلکہ ایک انتباہی علامت ہے کہ بھارت کی آزادی کی تاریخ کو نظریاتی طور پر تبدیل کرنے کی کوششیں زوروں پر ہیں۔ اس قسم کی سیاست میں مہاتما گاندھی، بھگت سنگھ اور دیگر حقیقی مجاہدین کی قربانیوں کو پستی پر دھکیل دیا جاتا ہے اور ان کی عظمت کو کم تر کر دیا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسی کوشش ہے جس میں تاریخ کو حقیقت کی بجائے سیاسی سہولت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ صرف اس لیے کیا جا رہا ہے تاکہ حکومت ایک مخصوص بیانیے کو فروغ دے سکے، جو اس کی نظریاتی بنیادوں سے ہم آہنگ ہے۔
اس تناظر میں، دانشوروں، صحافیوں اور سول سوسائٹی کو ایسے اقدامات کے خلاف ایک مضبوط علمی، عدالتی اور سماجی مزاحمت کی ضرورت ہے تاکہ ہماری جمہوریت، آزادی کی اصل روح اور تاریخ کے حقائق کو برقرار رکھا جا سکے۔ تاریخ کی کثرت اور تعدد ہی جمہوریت کی جان ہے اور کسی ایک نظریے کی برتری کو تسلیم کرنا عین اسی کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔ اس پس منظر میں مودی حکومت کی جانب سے ساورکر کو سب سے اوپر رکھنا یہ سوالات ایک بار پھر اٹھاتا ہے کہ آیا بھارت کی جمہوری قدریں واقعی کمزور ہو رہی ہیں یا یہ صرف ایک نظریاتی مقابلہ ہے جہاں اکثریت کی سیاسی قوت تاریخی حقائق کو پس پشت ڈال رہی ہے۔
اس سارے معاملے میں سب سے بڑی تشویش کا پہلو یہ ہے کہ آزادی کی جدوجہد کی قربانیوں کا سیاسی استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ ایک مخصوص طبقے کے نظریاتی بیانیے کو تقویت دی جا سکے۔ یہ نہ صرف تاریخی حقائق کا مسخ ہے بلکہ مستقبل میں بھی سماجی ہم آہنگی کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ گاندھی اور بھگت سنگھ کی میراث صرف ایک نظریاتی بیانیے کا حصہ نہیں، بلکہ یہ ایک ایسے ملک کی بنیاد ہے جو اپنے تنوع اور مساوات پر فخر کرتا ہے۔ انہیں پسِ پشت ڈال کر کسی متنازعہ شخصیت کو نمایاں کرنا، تاریخ سے منہ موڑنے کے مترادف ہے۔
Like this:
Like Loading...