Skip to content
ہندوستانی فضائیہ کے جوابات پر سرکار سے سوالات
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
ایوانِ پارلیمان کےحالیہ مانسون سیشن کو وزیر اعظم نریندر مودی نے ’آپریشن سیندور کی فتح کا جشن تو قرار دیا لیکن انہیں پتہ نہیں تھا کہ یہ آگے چل کرایک بھیانک خواب میں بدل جائے گا ۔ نریندرمودی کے مطابق آپریشن سیندور میں ہندوستانی فوج نے اپنے 100 فیصداہداف میں کامیابی حاصل کی اس کے برعکس حکومت ہر محاذ پر ناکام ہوگئی۔ 22 منٹوں میں ہندوستانی افواج نے دشمن کے ٹھکانوں کو تباہ کیا مگر حکومت یکے بعد دیگرے سیلف گول کرتی چلی گئی۔ لوک سبھا اسپیکر اوم برلا آپریشن سیندور پر بحث کیلئے جو16؍گھنٹے کا وقت مختص کیا تھا اس میں حزب اختلاف حکومت پر چھا گیا۔ اس اجلاس میں ہائی کورٹ کے جج جسٹس یشونت ورما کے خلاف پارلیمنٹ میں مواخذے کی تحریک پیش کی جانی تھی مگر اس چکر نائب صدر کی چھٹی کرنی پڑی اور بالآخر اسپیشل انٹینسف ریویو (SIR) پر ا لیکشن کمشنرکی ا حمقانہ پریس کانفرنس پراپوزیشن نے چیف الیکشن کمشنر کے خلاف مواخذے (Impeachment) کی تجویز لانےمیں جٹ گیا کیونکہ جھوٹ بولنے میں گیانیش کمار نے مودی کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔ سچ تو یہ ہے کہ اس تنازع نے انڈیا محاذ میں نئی روح پھونک دی۔
الیکشن کمیشن نے اتوار 17 اگست کو ایک پریس کانفرنس کی۔ اس نے کہا کہ ووٹ چوری کا الزام جھوٹا ہے اور نہ تو کمیشن اس سے ڈرتا ہے اور نہ ہی ووٹر لیکن ایک دن کے اندر اس کے اتنے جھوٹ کھلے کہ منہ چھپانا مشکل ہوگیا مثلاً گیانیش کمار نےدعویٰ کردیا کہ کمیشن کو ایک بھی حلف نامہ پر شکایت نہیں ملی۔ اس کے جواب میں اکھلیش نے اٹھارہ ہزار ایسے حلف نامہ پیش کردئیے جن پر الیکشن کمیشن نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ کمیشن نے راہل کے الزامات کا جواب دینے کے بعد دھمکی آمیز انداز میں معافی کا مطالبہ کردیا۔وزیر اعظم نریندر مودی خود الیکشن کمیشن کی دم میں ہنومان کی مانند آگ لگا کر میدان اتارہ تاکہ حزب اختلاف کا گھر اجاڑاجاسکے مگر نتیجتاً خود اس کی لنکا لگ گئی۔ بی جے پی نے اب کی بار جو غلطی الیکشن کمشنرسے کروائی وہی بھول چوک اس نےپہلے ہندوستانی فضائیہ کے سربراہ امر پریت سنگھ کےذریعہ آپریشن سیندور کے بنگلور میں خطاب کروایا تو مودی سرکارکی مشکلات میں اضافہ ہوگیا کیونکہ موصوف نےکہا یہ دھماکہ خیز انکشاف کیا کہ آپریشن سیندور کے دوران ہندوستانی فوج نے پاکستان کے چھ طیارے تباہ کردئیے۔ان مار گرائے جانے والے طیاروں میں پانچ پاکستانی لڑاکا طیارے اور ایک جاسوس طیارہ اواکس شامل تھا۔
ائیر مارشل کے جوابات نے سرکار کے سامنے نئے سوالات کھڑے کردئیے ہیں۔ ان میں سب سےپہلا یہ تھا ملک کے لوگوں کی خاطر اس بہت بڑی خوشخبری کو پہنچانے میں اس قدر طویل انتظار کیوں کروایا گیا؟ پاکستانی فوج اور حکومت نے تو اگلے ہی دن سے اپنے دعووں کی جھڑی لگا دی مگر ہمارے اہلکاروں سے پوچھا جاتا تو جواب دینے کے بجائے بات کو گول کردیتے ۔اس خوشخبری کا انکشاف کم ازکم آپریشن سیندورپر بحث کے دوران ایوان پارلیمان ہوسکتا تھا جب راہل گاندھی یہ پوچھ رہے تھے کہ ہمارے فوجیوں کے ہاتھ باندھ کر انہیں پاکستانی حملہ آوروں کے سامنے کیوں بھیجا گیا۔ امیت شاہ نے اگلے دن جواب دینے کا وعدہ تو کیا مگر کشمیر کے حالات میں بہتری اورپہلگام حملے کا راگ الاپنے لگے ۔ اسی وقت یہ جواب آجاتا تو فضائیہ کے سربراہ کو زحمت نہ کرنی پڑتی یا ان کا بیان سرکار کی تائید میں ہوتا۔وزیر دفاع نےبحث کی ابتداء کرتے ہوئے سوالات کے جوابات دینے کے بجائے یہ نصیحت لگائی کہ حزب اختلاف کو کیا پوچھنا چاہیے؟ یہ کہنے کا انہیں اختیار ہی نہیں ہے۔ لوگ وہ کیوں پوچھیں جو سرکار چاہتی ہے؟
کانگریس کے ڈپٹی لیڈر گورو گوگوئی نے حکومت سے پوچھا کہ آپریشن سیندور کیوں روکا گیا اور پہلگام کے دہشت گرد ابھی تک فرار کیوں ہیں؟ انہوں نے کہا کہ راج ناتھ سنگھ نے یہ نہیں بتایا کہ دہشت گرد پہلگام تک کیسے پہنچے؟ اور قتل عام کیا؟ راجناتھ سنگھ بتائیں کہ کتنے طیارے مار گرائے؟ حکومت کو سچائی سے نہیں ڈرنا چاہیے۔ وزیر داخلہ امیت شاہ کو پہلگام دہشت گردانہ حملے میں سیکورٹی کوتاہی کی اخلاقی ذمہ داری قبول کرنی چاہئے۔ کانگریس لیڈر نےپوچھا ہمارا مقصد جنگ کیوں نہیں تھا؟ پی او کے کیوں نہیں لیا؟ ان سوالات سے گھبرا کر امیت شاہ کی تقریر کے پہلے آپریشن مہاد یو کے نام پر تین عسکریت پسندوں کو مار کر کہہ دیا کہ وہی پلوامہ کے حملہ آور تھے حالانکہ مقامی انتظامیہ نے اس وقت تک شناخت بھی نہیں کی تھی۔حکومت چاہتی تھی راہل گاندھی اس کی مخالفت کریں تو انہیں ملک اور فوج کا دشمن قرار دے گھیرا جائے لیکنانہوں نے ساری توجہ ٹرمپ کے جنگ بندی والے دعویٰ پر مرکوز کرکے مودی کو گھیر لیا بلکہ نام لینے کا چیلنج کردیا ۔ مودی چونکہ ٹرمپ کا نام نہیں لے سکے اس لیے ان کی بزدلی پر مہر لگ گئی۔ مودی نےپنڈت نہرو کو موردِ الزام ٹھہرایا تو سنجے راوت نے پوچھا کیا وہ آکر استعفیٰ دیں گے؟
وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے جب ٹرمپ کا نام لیے بغیر ان کے دعویٰ کو مسترد کیا تو حزب اختلاف نے شور کیا۔ یہ دیکھ کر امیت شاہ آگ بگولا ہوگئے۔ امیت شاہ غصے میں اپوزیشن پر اعتراض کیا کہ وہ اپنے وزیر خارجہ پر بھروسہ کرنے کے بجائے کسی اور ملک پر اعتبار کیوں کرتا ہے؟انہوں تہمت باندھتے ہوئے کہا’’ میں ان کی پارٹی میں بیرونی ممالک کی اہمیت کو سمجھ سکتا ہوں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان کی تمام چیزیں یہاں ایوان میں تھوپ دی جائیں۔ کسی کی بات پر اعتماد اس کی شہریت یا حلف برداری پر منحصرنہیں ہوتی بلکہ اس کے بیان میں موجود سچائی پر کیا جاتا ہے۔ وہ خود حلف لے کر دن رات جھوٹ بولتے ہیں اور یہی کام وزیرخارجہ کرنےلگیں تو ان پر بھروسا کیسے کیا جائے؟ جے ڈی یو کے للن سنگھ نے سوالات کا جواب دینے کے بجائےیہ الزام لگا دیا کہ یو پی اے کے دور حکومت میں (2004 سے 2014 تک) ملک میں دہشت گردی پروان چڑھی۔ اس میں دہشت گردی سے لڑنے کی نہ ہمت ہے اور نہ ہی طاقت۔ وہ رسمی مگرمچھ کے آنسو بہاتی ہے۔ دراصل مشتعل للن سنگھ کو یہ بتاتے نا چاہیے تھا کہ آئین کی دفع 370کی منسوخی کے بعد بھی پہلگام کیوں ہوا ؟اورفی الحال جاری و ساری آپریشن مہا دیو کے ۹؍ ویں دن بھی دو فوجی اہلکار کیوں ہلاک ہوئے؟
بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ انوراگ ٹھاکر نے آپریشن سیندور پر گفتگو کرنے کے بجائے راہل گاندھی پر ذاتی نوعیت کے رکیک حملے شروع کردئیے۔ وہ بولے راہل گاندھی ‘ایل او پی’ (لیڈر آف اپوزیشن) سے ‘ایل او بی’ (ہندوستان کے مخالف لیڈر) بن گئے ہیں۔ ان کا ایجنڈا صرف ہندوستان ی فوج اور وزیراعظم کی مخالفت ہے۔ ٹھاکر نے ایوان میں قائد حزب اختلاف کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ معلوم نہیں ہے کہ وہ (راہل) کانگریس کے پوسٹر بوائے بن سکتے ہیں یا نہیں، لیکن وہ پاکستان کے ‘پروپیگنڈہ کے پوسٹر بوائے’ ضرور بن گئے ہیں۔انوراگ ٹھاکر نے کہا کہ جب ہندوستانی فوج پاکستان کو منہ توڑ جواب دے رہی تھی تو راہول گاندھی کیا کر رہے تھے؟ انوراگ ٹھاکر بھول گئے آپریشن سیندور پاکستان نے نہیں ہندوستان نے شروع کیا اس لیے جواب تو پاکستان دے رہا تھا۔وہ بولے ہندوستان ‘ڈھائی محاذوں’ پر لڑ رہا ہے۔ دو محاذوں کے بارے میں ہر کوئی جانتا ہے یعنی پاکستان اور چین۔’راہل کےزیر قیادت کانگریس’ کو دشمن کانصف محاذ کہنے والے انوار گ ٹھاکر کو بتا نا چاہیے کہ پاکستان کی کھلی پشت پناہی کے باوجود راجناتھ سنگھ چین کیوں گئے؟ َ جئے شنکر نے یہ کیوں کہا کہ چین سے تعلقات بہتر ہورہے ہیں اور ۷؍ سال بعد خود مودی کیوں جارہے ہیں؟ ٹھاکر نے کہا INC (انڈین نیشنل کانگریس) ‘اسلام آباد نیشنل کانگریس’ بن چکی ہے لیکن سچ تو یہ ہے کہ بی جے پی فی الحال ’بے شرم جھوٹی پارٹی ‘کا مخفف بنی ہوئی ہے۔
ہندوستان کے ایوان پارلیمان میں تو یہ سب ہوتا رہا مگرپاکستان کے وزیر اعظم نے تو ایوان کے اندر اور باہر پاک فضائیہ کے ذریعہ 6 جہاز گرانے کا اعلان کردیا۔ اس کے مقابلہ وزیر اعظم نریندر مودی نے بیکانیر میں اپنی شیخی بگھارتے ہوئےکہاپاکستان یہ بھول گیا کہ اب بھارت ماتا کا خادم مودی سر اونچا کیے یہاں کھڑا ہے، مودی کا دماغ ٹھنڈا ہے، لیکن مودی کا خون گرم ہے، اب تومودی کی رگوں میں خون کے بجائے گرم سیندور دوڑ رہا ہے، پاکستان کو ہر دہشت گرد حملے کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی اور یہ قیمت پاکستانی فوج ادا کرے گی۔پی ایم مودی نےیہ بھی کہا تھاکہ آپ کے آشیرواد اور فوج کی بہادری سے، ہم نے عہد پورا کر دیا ہے۔یہاں فوج کے بجائے خودستائی کرکے بہارالیکشن کی راہ آسان کی گئی تھی ۔ راہل گاندھی نے جب مودی سرکار کو ووٹ چور ثابت کرکےمدافعت پر مجبور کردیا ہے تو اسے فوج کے پیچھے چھپنا پڑاکیونکہ مودی کے ڈائیلاگ پر کہ ’’اس سرزمین پر قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں اس ملک کو جھکنے نہیں ہونے دوں گا‘‘ کوئی یقین نہیں کررہا ہے۔ بی بی سی اور رائیٹرس کی خبر کو پاکستانی بیانیہ کی ترجمانی کہہ کر مسترد کرنا شتر مرغ کی مانند ریت میں منہ چھپانے کے مترادف ہے۔فضائیہ کے سربراہ کا بیان ملک کی عوام کو تو خوش کرنے والاہے مگرکیا دنیااسے مانے گی؟ اسی طرح الیکشن کمیشن کی پریس کانفرنس کےجوابات نے بھی جو بے شمار سوالات پیدا کردئیے ہیں اس سے سرکارحیران پریشان ہے ۔ سرکار اب ایس آئی آر کے کمبل سے پیچھا چھڑانا چاہتی ہے لیکن اب کمبل جان نہیں چھوڑ رہاہے۔
Like this:
Like Loading...