Skip to content
آپریشن سیندور سے ایس آئی آر تک
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
بی جے پی پہلگام سانحہ اور آپریشن سیندور کی مدد سے بہار کا الیکشن جیتنا چاہتی تھی مگر اب ایس آئی آر اور الیکشن کمیشن اس کے گلے کی ہڈی بن گیا ہے۔ یہ ایک اہم سوال ہے کہ آخر2019؍کے سرجیکل اسٹرائیک کی مانند اس بار کامیابی کیوں نہیں ملی ؟ دراصل ہوا یہ کہ آپریشن سیندور پر حزب اختلاف ایوانِ پارلیمان کے خصوصی اجلاس کا مطالبہ کررہا تھا مگر اس کے بجائے مانسون اجلاس کو معجل کیا گیاجوحکومت کے عدم اعتماد کامہین اشارہ تھا۔اس سیشن میں آپریشن سیندور پر بحث کے لیے مخصوص وقت طے کیا گیا۔اس موقع پرلوک سبھا میں سرکار کی جانب سے بحث کا آغاز کرتے ہوئے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے آپریشن سیندور پر سوال اٹھانے والے اپوزیشن رہنماوں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے آگ بگولا ہوکرجو تقریر کی وہ تاریخ کا حصہ ہے۔انہوں نے کہا کہ اس آپریشن میں کتنے ہندوستانی طیارے مار گرائے گئے، یہ پوچھنے کے بجائے کہ یہ پوچھا جانا چاہیے کہ دشمن کے کتنے طیاروں کو ملکی افواج نے مار گرایا؟ یہ اچھا سوال ہے ۔ اپوزیشن نے اسے نہیں پوچھا تب بھی وزیر دفاع سے لے کر وزیر داخلہ اور وزیر اعظم تک نے اس کا جواب کیوں نہیں دیا؟ انہوں نے حزب اختلاف کو یہ نصیحت تو کی کہ انہیں کیا کیا پوچھنا چاہیے لیکن آگے بڑھ کر ان سوالات کے جوابات نہیں دئیے۔ مثلاً راجناتھ سنگھ نے کہا اگر آپ سوال پوچھنا چاہتے ہیں تو پوچھیں کہ کیا بہادر سپاہیوں کا کوئی نقصان ہوا؟ چلیے حزب اختلاف نے نہیں پوچھا پھر بھی اس اہم سوال کا جواب دینے سے راجناتھ سنگھ یا امرپریت سنگھ کو کس نے روکا؟
وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے بنیادی سوالات کا جواب دینے کے بجائے یہ کہہ کر معاملہ رفع دفع کیا کہ اگر کوئی بچہ امتحان میں اچھے نمبر لے رہا ہو، تو اس کے نمبر اہم ہیں۔ ہمیں اس بات پر توجہ نہیں دینی چاہیے کہ امتحان میں اس کی پنسل ٹوٹ گئی یا اس کا قلم ضائع ہو گیا۔ اس کے بعد حزب اختلاف کی جانب سے جو سوالات کی بمباری ہوئی تو وزیر دفاع سمیت سرکار اس کا جواب نہیں دے سکی ۔ اسے اپنی مدافعت کی خاطر ائیر چیف کو میدان میں اتارنا پڑا۔ انہوں نے اپنی گفتگو کا آغاز اس بڑی خبر سے نہیں کیا بلکہ اختتامیہ میں دشمن کے قلم اور پنسل کا حساب تو دے دیا مگر اپنا نہیں دیا۔دشمن کے نقصان کی تعداد اگراہم ہے تو اپنے خسارے کی اہمیت کیسے کم ہوجاتی ہے؟ فضائیہ کے سربراہ نےپاکستان کے بہاولپور میں جیش محمد کا ہیڈکوارٹر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ تصاویر سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہاں کوئی اضافی نقصان نہیں ہوااور ارد گرد کی عمارتیں تقریباً مکمل طور پر محفوظ ہیں۔ یہی بات 13؍مئی (2025) کو حکومتِ ہند کی جانب سے پہلی وضاحت میں ایئر مارشل اودھیش کمار بھارتی نے قوم سے خطاب میں کہی تھی۔
جنرل اے کے بھارتی نے میڈیا کوبتایا تھاکہ کس طرح پاکستانی افواج اور عام شہریوں کے جانی نقصان کو کم کرنے کی کوشش کی گئی ۔ کیا پاکستانی افواج کا نقصان کم کرنے کی کوشش کا دعویٰ اور ہینگر سے لٹکے جہازوں کو تباہ کرنا باہم متضاد دعوے نہیں ہیں؟ ایئر مارشل اے کے بھارتی نے بھی راجناتھ سنگھ کی طرح اعتراف کیا تھا کہ نقصانات جنگ کا حصہ ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا تھااگر میں رافیل کے گرنے کا اعتراف کرلوں تو اس کا فائدہ پاکستان کو ہوگا۔اس بیان کے بعد رافیل جہاز بنانے والی فرانسیسی کمپنی ’ڈاسو ایوی ایشن‘ کے شیئرز 10.33 فیصد گرگئے تھے۔ آگے چل کر رافیل والوں نے بھی اونچی اڑان کے سبب جہاز گرنے کا اعتراف کرکےالٹا ہندوستانی فوجیوں کو موردِ الزام ٹھہرادیا۔اس بابت ایوان پارلیمان میں ایک رکن نے بھی بھٹنڈا کے قریب ملبے کا ذکر کیا مگر حکومت اور فضائیہ خاموش ہے۔پاکستان کے ایئر وائس مارشل اورنگزیب احمد نےاسی وقت 0-6 سے کامیابی کا اعلان کیا اور ہندوستانی فضائیہ کے سربراہ نے تقریباً ۳؍ماہ بعد جواب دیا۔ایسے میں دنیا کس کی بات کا اعتبار کرے گی؟
راہل گاندھی آج کل مودی سرکار پر ووٹ چوری کا الزام لگا کر بمباری کررہے ہیں۔ انہوں نے دہلی میں پریس کانفرنس کے بعد بنگلورو جاکر اس کے ثبوت پیش کیے۔ یہ حسنِ اتفاق ہے کہ فضائیہ کے سربراہ امر پریت سنگھ نے بھی انکشافات کے لیے بنگلورو شہر کا انتخاب کیا مگر اس سے حکومتِ وقت شکوک و شبہات میں گھرتی ضرور ہے۔ حکومتِ ہند کی جانب اس بیان کو دینے میں تاخیر کروانے کے سبب درمیانی وقفے میں مختلف عالمی خبر رساں اداروں نے پاکستانی بیانیہ کی توثیق کردی کیونکہ ان کے پاس اسے چیلنج کرنے والا موادنہیں تھا ۔ اس کوتاہی کے لیے مودی سرکار کو پوری طرح ذمہ دار ہے۔ ابھی حال میں 2؍ اگست 2025کو معروف برطانوی خبررساں ایجنسی رائٹرز نے انکشاف کیا کہ 7 مئی کو پاکستان اورہندوستان کے درمیان ہونے والی فضائی جھڑپ کو جدید دور کی سب سے بڑی فضائی جنگ تھی کیونکہ اس میں 110 کے قریب طیاروں نے حصہ لیا تھا۔ رائٹرز کے مطابق اس معرکے میں پاکستان کے پاس موجودچینی جے-10 سی طیارے اورہندوستان کے فرانسیسی رافیل کے درمیان امتحان تھا یعنی ایک طرح سے یہ جنگ فرانس و چینی اسلحہ فروشوں کی تجربہ گاہ بن گئی تھی جس میں دونوں اپنی برتری ثابت کرکے کاروبار چمکانا چاہتے تھے۔
مذکورہ بالارپورٹ کے مطابق پاکستانی ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابرپہلے کئی دنوں (پہلگام حملے کے بعد)سے ممکنہ بھارتی حملے کی توقع کررہےتھے۔ ویسے ہندوستانی وزیر خارجہ جئے شنکرنے خودپاکستان کو اطلاع دینے کا اعتراف بھی کیا ہے۔ اس لیے جیسے ہی ہندوستانی طیارے ریڈار پر نمودار ہوئے ایئر چیف نے فوری طور پر جے-10 سی طیاروں کو رافیل گرانے کا حکم دیا۔چینی جے-10 سی طیارے PL-15 میزائل نظام سے متعلق ہندوستانی پائلٹس کو یقین تھا کہ وہ ان کی رینج (150 کلومیٹر) سے باہر ہیں مگر وہ اندازہ غلط تھا۔ یہ میزائل تقریباً 200 کلومیٹر دور ایک رافیل طیارے کو نشانہ بنانے میں کامیاب رہا۔رائٹرز نے امریکی حکام کے حوالے سے تصدیق کی کہ ایک رافیل واقعی گرایا گیا اور اس کے بعد انڈونیشیانے رافیل کے بجائے چینی جے-10 خریدنے پر غوروخوض شروع کردیا۔رپورٹ میں یہ انکشاف بھی کیا گیا کہ پاکستان نے’کِل چین‘ سٹیلائیٹ سسٹم کے ’’لائیو فیڈ‘‘کااستعمال کرکے معلومات حاصل کی نیز’ڈیٹا لنک 17‘( چینی اور سویڈش ٹیکنالوجی) کی مدد سے طیاروں کو بغیر ریڈار آن کیے خود کو پوشیدہ رکھا۔رپورٹ کہتی ہے مختلف ممالک سے لیے گئے آلات کی وجہ سے ہندوستانی نظام پیچیدہ اور غیر مربوط ثابت ہوا جس کی بہتری پراب کام ہوگا۔ دنیا کے ماہرینِ حرب ائیر چیف امرپریت سنگھ کے دعویٰ کو اس تناظر میں بھی دیکھیں گے۔
میدان جنگ میں برسرِ پیکار ممالک کا میڈیا غیر جانبدار نہیں ہوسکتا مگرہند پاک تصادم میں رائیٹرز یا بی بی سی پر جانبداری کا الزام نہیں لگانا مشکل ہے۔بی بی سی ویریفائی نے 9 مئی 2025 کو ہی تین ایسی ویڈیوز کی تصدیق کردی تھی کہ ان میں سے ایک کا ملبہ فرانسیسی رفال طیارے کا تھا ۔بی بی سی کے مطابق وہ ویڈیو پنجاب میں بھٹنڈہ کاتھا۔ برطانوی فوج کے سابق افسر جسٹن کرمپ نے بی بی سی ویرفائی کو بتایا تھا کہ ویڈیو میں نظر آنے والا یہ ملبہ فرانسیسی میزائل کا لگتا ہے جو میراج اور رفال لڑاکا طیاروں میں ہی استعمال ہوتا ہے۔ ایک اور تصویر میں ایک لڑاکا طیارے پر بی ایس زیرو زیرو ون اور رفال لکھا ہوا تھا۔ بی بی سی پنجابی کے نامہ نگار راجیش کمار جب جائے حادثہ پر پہنچے تو انتظامیہ نے میڈیا کو تقریباً ایک کلومیٹر کے فاصلے پر روک دیا۔ پاکستانی ڈی جی آئی ایس پی جنرل احمد شریف نےاسی وقت پریس کانفرنس کے دوران دعویٰ کردیا تھا کہ فضائیہ نے’تین رفال طیارے ، ایک مگ 29 لڑاکا طیارہ اور ایک ایس یو گرایا ہے۔ پاکستانی فوج کے ترجمان نے کہا تھا ’یہ طیاروں کو عمومی طور پر بھٹنڈہ، جموں ، اونتی پور ، اکھنور اور سری نگر میں مار گرایا گیا۔‘ یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ ان میں لڑاکا ڈرون بھی شامل ہے۔سوال یہ ہے کہ ہندوستانی فضائیہ کے سربراہ کو ایسا کرنے سے کس نے اور کیوں روکا؟
حکومتِ ہندنے چونکہ اس وقت تک کسی قسم کی تصدیق یا تردید نہیں کی تھی اس لیے بی بی سی نامہ نگار نے پلوامہ کے قصبے پام پور میں گرنے والے ایک طیارے کے ملبے کو بلڈوزر کی مدد سے منتقل ہوتے ہوئے دیکھنےکی خبر دی۔بی بی سی کےایک نامہ نگار نے جموں کے ضلع رام بن سے بھی ایک طیارہ تباہ ہونے کی تصدیق کردی۔ اخبار ’دی ہندو‘ اوررائٹرز کو کشمیر سے چار سرکاری حکام نے بتایا کہ تین طیارے الگ الگ علاقوں میں گرے ہیں۔ اس وقت چونکہ ساری دنیا میں طرح طرح کی افواہوں کا بازار گرم تھا اس لیے حزب اختلاف نے ایوانِ پارلیمان کے ایک خصوصی اجلاس کا مطالبہ کیا ۔ مودی سرکار حقائق کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار نہیں تھی اس لیے پارلیمان کے مانسون اجلاس میں تعجیل کرکےاس مطالبہ کو دبایا گیا۔ ایوان کے باہر کھڑے ہوکر پارلیمانی اجلاس کو وزیر اعظم نےآپریشن سیندور کا جشن قرار دیا مگراندر صرف ۶؍ منٹ بیٹھ غیر ملکی دورے پر نکل گئے ۔ اس طرح جشن میں ان کی دلچسپی واضح ہوگئی۔ لوٹنے کے بعد بھی موصوف اپنی تقریر کے علاوہ ایوان میں شاذو نادرہی نظر آئے۔ حزب اختلاف کے رہنما راہل گاندھی تو دور پرینکا گاندھی تک کی تقریر سننے کی زحمت گوارہ نہیں کی تو ان کے سوالات کا جواب کیا دیتے؟آپریشن سیندور کے بعد ایس آئی آر کے معاملے میں بھی جوسرکار منہ چھپاتی پھر رہی ہووہ بھلا الیکشن کیسے جیت سکتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اب زعفرانیوں کے ستارے گردش میں آگئے ہیں۔
Post Views: 3
Like this:
Like Loading...