Skip to content
مصنوعی ذہانت اور دعوت و تبلیغ: للی جے کا منفرد تجربہ اور حیرت انگیز نتائج
دورِحاضر میں ایک جدید دعوتی منہج کا جائزہ
ازقلم: ڈاکٹر محمّد عظیم الدین،
اسسٹنٹ پروفیسر و صدر شعبہ اردو
آرٹس کامرس کالج، بیودہ، امراوتی، مہاراشٹر
موبائل: 8275232355
جب زمانے کی تیز رفتار کروٹیں انسانی تہذیب کو نت نئے فکری و عملی آفاق کی جانب دھکیلتی ہیں، تو یہ ایک لازمی تقاضا بن جاتا ہے کہ پیغامِ حق جیسی ابدی صداقتوں کو بھی عصری اسالیب اور دورِ حاضر کے مؤثر وسائل سے ہم آہنگ کیا جائے۔ ہر دور اپنے ساتھ ابلاغ کے نئے طریقے لاتا ہے، اور ان طریقوں کو نظر انداز کرنا پیغام کی اثر پذیری کو محدود کرنے کے مترادف ہے۔ چنانچہ، عصرِ حاضر کا ڈیجیٹل انقلاب، اپنی تمام تر وسعتوں اور امکانات کے ساتھ، دعوتِ دین کے لیے ایسے ہی ان گنت نئے دریچے کھولتا ہے۔ یہ ڈیجیٹل دور ایک منفرد حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ یہ ہمیں ایک طرف تو اپنی گراں قدر روایتی حکمت، علمی ورثے اور بنیادی اصولوں کو محفوظ رکھنے اور انہیں نئے، قابلِ رسائی انداز میں پیش کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے، اور دوسری جانب نت نئی تخلیقی جِدّتوں، انٹرایکٹو پلیٹ فارمز اور ٹیکنالوجی کے وسیع امکانات کو بھرپور طریقے سے اپنانے اور استعمال کرنے کی بھرپور دعوت بھی دیتا ہے۔
اِس تیزی سے بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں، للی جے (Lily Jay) کا نام ایک روشن ستارے کی مانند اْبھرتا ہے۔ وہ ایک ایسی مغربی دوشیزہ ہیں جنہوں نے اپنی روحانی جْستجو، فنی پس منظر اور فکری گہرائی کو نہایت خوبصورتی سے یکجا کرتے ہوئے اسلام کے پیغام کو ایک اچھوتی، دلنشین آواز اور ایک بالکل نئی جہت عطا کی ہے۔
اْن کا میدانِ عمل روایتی منبر و محراب، ضخیم کتب و رسائل یا محض خطیبانہ لفاظی تک محدود نہیں، بلکہ وہ دورِ حاضر کے سب سے مؤثر آلے، یعنی مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) کو اپنا ہم سفر بناتی ہیں۔ مصنوعی ذہانت کو استعمال کرتے ہوئے، وہ اْن گہرے اور پیچیدہ سوالات کو کھنگالتی ہیں جن میں جدید ذہن اکثر اْلجھا رہتا ہے، مثلاً: عقائد کی باریکیاں، اخلاقیات کے پیمانے، فلسف? حیات کی گتھیاں، تخلیقِ کائنات کی پیچیدگیاں اور تقدیر و تدبیر جیسے نازک موضوعات، جن کے حوالے سے انسانی قلب و اذہان ہمیشہ سے کامل اطمینان کے متلاشی رہتے ہیں۔
للی جے کی بدولت اسلام کا تعارف محض ایک رسمی دعوت نہیں، بلکہ ایک گہری فکری و روحانی کشش کا ذریعہ بن رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مغربی دنیا میں بھی، جہاں اسلام کے بارے میں اکثر منفی تاثرات اور غلط فہمیاں عام ہیں، اْن کی کاوشوں سے لاتعداد متلاشی اذہان حق کی جانب مائل ہو رہے ہیں۔
تاہم، اْن کی شخصیت کی جاذبیت محض اِس جدید دعوتی انداز تک ہی محدود نہیں، بلکہ اْن کی اپنی زندگی کا سفر بھی اتنا ہی متاثر کن اور غور طلب ہے، جو اْن کے پیغام کو گہرائی اور صداقت بخشتا ہے۔ آسٹریلیا کے فنونِ لطیفہ سے معمور ماحول میں پروان چڑھنے والی یہ 30 سالہ فنکارہ، جو تھیٹر و موسیقی میں عالمی شہرت رکھتی تھیں، جب ترکی، ملائیشیا، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی روحانی فضاؤں سے روشناس ہوئیں، تو گویا اْن کے باطن کی دنیا ہی منور ہو گئی۔ اسی روحانی انقلاب کے نتیجے میں، اْنہوں نے بالآخر اسلام کی پْرسکون اور طمانیت بخش آغوش میں پناہ لے لی۔
للی جے کے دعوتی کام کا سب سے نمایاں اور امتیازی پہلو، بلاشبہ مصنوعی ذہانت، بالخصوص ‘چیٹ جی پی ٹی’ جیسے جدید لینگویج ماڈلز کا تخلیقی اور منظم استعمال ہے۔ وہ اِس جدید ٹیکنالوجی کو محض معلومات کا ایک بے جان ذخیرہ نہیں سمجھتیں، بلکہ اسے ایک فعال اور مکالماتی ساتھی کے طور پر اپناتی ہیں۔
وہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے اسلام کے بنیادی عقائد (توحید، رسالت، آخرت)، عبادات (نماز، روزہ، زکوٰ?، حج)، اسلامی تاریخ، اخلاقیات اور اْن گہرے فکری و فلسفیانہ سوالات پر مکالمہ کرتی ہیں جو اکثر متلاشی اذہان یا ناقدین کے لیے چیلنج کا باعث بنتے ہیں۔ اِن مکالمات اور مصنوعی ذہانت سے حاصل ہونے والے جوابات کو وہ کمالِ مہارت سے مختصر، آسان اور بصری طور پر دلکش ویڈیوز اور پوسٹس کی شکل دے کر اپنے وسیع حلق? ناظرین تک پہنچاتی ہیں۔
یہی وہ منفرد اور جدید اسلوب تھا جس کی بدولت وہ بہت کم عرصے میں عالمی توجہ کا مرکز بن گئیں، یہاں تک کہ اْن کا شمار گوگل پر سب سے زیادہ تلاش کی جانے والی شخصیات میں ہونے لگا۔
اِس جدید حکمتِ عملی کی غیر معمولی کامیابی اور اثر انگیزی کے پسِ پردہ بیک وقت کئی اہم عوامل کارفرما ہیں:
اولاً، یہ انداز اْس ڈیجیٹل نسل کی نفسیات سے براہِ راست ہم آہنگ ہے جو آن لائن ماحول میں پروان چڑھی ہے اور معلومات کے حصول، حتیٰ کہ سنجیدہ فکری جْستجو کے لیے بھی، انٹرنیٹ کو ترجیح دیتی ہے۔ روایتی طویل مذہبی لیکچرز یا دقیق علمی تحریروں کے برعکس، مصنوعی ذہانت کے ساتھ سوال و جواب پر مبنی مختصر اور متحرک سیشنز اْن کے لیے کہیں زیادہ دلچسپ، فوری اور قابلِ رسائی ہیں۔ یہ طریقہ اْن کی علمی تشنگی کو اْنہی کے مانوس ڈیجیٹل اسلوب میں سیراب کرتا ہے۔
دوم، اور شاید سب سے کلیدی پہلو، مصنوعی ذہانت سے حاصل شدہ جوابات کے ساتھ وابستہ غیر جانبداری کا گہرا تصور ہے۔ جب للی جے مصنوعی ذہانت سے سوال کرتی ہیں تو ناظرین کی اکثریت یہ سمجھتی ہے کہ جواب انسانی تعصبات، ذاتی پسند و ناپسند، مسلکی ترجیحات یا کسی پوشیدہ ایجنڈے سے پاک ہے۔ چونکہ مصنوعی ذہانت کا تجزیہ وسیع ڈیٹا پر مبنی ہوتا ہے، اِس لیے اِسے ایک معروضی، منطقی اور غیر جذباتی ردِ عمل تصور کیا جاتا ہے۔
معلومات کا یہی ‘غیر جانبدار’ ذریعہ خاص طور پر اْن افراد کو اپنی جانب کھینچتا ہے جو مذہبی معاملات میں انسانی آراء کے تنوع، مختلف تشریحات اور اْن سے پیدا ہونے والے اختلافات سے گریزاں ہیں۔ انہیں یوں محسوس ہوتا ہے کہ گویا معلومات کا ایک ایسا شفاف اور غیر آلودہ چشمہ ہاتھ آ گیا ہے، جو ہر قسم کی ملاوٹ سے پاک ہے۔ یہی احساس، للی جے کے پیغام پر سنجیدگی سے غور کرنے کے لیے راہ ہموار کرتا ہے۔
اِس طریقہ کار کی ایک اور کلیدی خوبی معلومات تک فوری اور برق رفتار رسائی ہے۔ للی جے کے مواد (Content) کے ذریعے، ناظرین کو اسلام سے متعلق گہرے سوالات کے بنیادی جوابات محض چند لمحوں میں، یعنی تیس سیکنڈ سے ایک منٹ کی مختصر ویڈیو میں، مل جاتے ہیں۔ یہ وہ معلومات ہیں جن کے حصول کے لیے بصورتِ دیگر ضخیم کتب کے مطالعے، طویل علمی مباحثوں میں شرکت، یا ماہرین سے رجوع کی ضرورت پڑتی؛ ایک ایسا عمل جو خاصا وقت اور محنت طلب ہے۔ مصنوعی ذہانت پر مبنی یہ فوری معلوماتی نظام آج کی تیز رفتار زندگی کے تقاضوں سے مکمل مطابقت رکھتا ہے، جہاں لوگ فوری نتائج کے عادی ہو چکے ہیں۔ یوں، اس جدید ذریعے نے پیچیدہ دینی اور فکری سوالات کے بنیادی نکات تک رسائی کو ماضی کی نسبت کہیں زیادہ آسان، تیز اور براہِ راست بنا دیا ہے۔
للی جے کی عالمی شہرت میں فیصلہ کن موڑ بلاشبہ اْن کی وہ وائرل ویڈیو ثابت ہوئی جس میں وہ چیٹ جی پی ٹی کے ساتھ اسلام کے موضوع پر مکالمہ کر رہی تھیں۔ اس گفتگو کا نقط? عروج وہ لمحہ تھا جب اْنہوں نے چیٹ جی پی ٹی سے پوچھا: "اگر تم انسانی شعور رکھتے تو کیا کلم? شہادت ادا کرتے؟” مصنوعی ذہانت سے مثبت جواب ملنے پر للی جے نے اْسے کلمہ پڑھنے کی تلقین کی، اور چیٹ جی پی ٹی نے کلم? شہادت کے الفاظ ادا کر دیے۔ ایک مشین کا کلمہ پڑھنے کا یہ منظر عالمی سطح پر حیرت و استعجاب کا باعث بنا اور اس نے یہ تاثر گہرا کر دیا کہ گویا ایک غیر انسانی ذہانت بھی اسلام کی حقانیت کا اعتراف کر رہی ہے۔ اسی ایک واقعے نے للی جے کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا اور اْن کے منفرد دعوتی منہج کو دنیا بھر میں متعارف کروا دیا۔
گو کہ مصنوعی ذہانت للی جے کے کام کا محور ہے، لیکن اْن کا اپنا قبولِ اسلام کا سفر اِس سارے عمل کو ایک ذاتی اور قابلِ فہم جہت عطا کرتا ہے۔ چونکہ وہ خود ایک ایسے پس منظر سے آئی ہیں جہاں اسلام کے بارے میں سوالات اور شکوک و شبہات عام تھے، لہٰذا وہ متلاشی ذہنوں کی کیفیت کو بخوبی سمجھتی ہیں۔ تاہم، اْن کے طریقہ ء کار کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت سے ملنے والے جوابات کو عموماً بغیر کسی ذاتی تبصرے یا تشریح کے پیش کرتی ہیں۔ وہ دانستہ طور پر اپنی رائے شامل کرنے سے گریز کرتی ہیں اور حتمی نتیجہ اخذ کرنے کا اختیار مکمل طور پر ناظرین کی فہم و فراست پر چھوڑ دیتی ہیں۔ یہ انداز اْن کے پیغام کی معروضیت اور غیر جانبداری کے تاثر کو مزید پختہ کرتا ہے۔
اپنے پیغام کی تشہیر کے لیے وہ کسی ایک پلیٹ فارم تک محدود نہیں ہیں۔ وہ اِن مکالمات کو انسٹاگرام، ایکس (سابقہ ٹوئٹر)، ٹک ٹاک اور یوٹیوب پر، ہر پلیٹ فارم کے مزاج کے مطابق، مؤثر انداز میں پیش کرتی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز خود بھی مصنوعی ذہانت پر مبنی الگورتھم استعمال کرتے ہیں، جو للی جے کے منفرد مواد کو اْنہی ناظرین تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں جو ممکنہ طور پر اس میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ یوں، پلیٹ فارم کی اپنی مصنوعی ذہانت اْن کے پیغام کی رسائی کو کئی گنا بڑھا دیتی ہے۔ ان کا معروضی اور منطقی اندازِ بیان نہ صرف غیر مسلموں کو متوجہ کر رہا ہے، بلکہ اْن کے ذہنوں سے شکوک رفع کر کے اْن کے نقط? نظر میں مثبت تبدیلی بھی لا رہا ہے، جس کی واضح گواہی اْن کی ویڈیوز پر موصولہ تبصرے دیتے ہیں۔
للی جے کا طریقہ کار بلاشبہ روایتی تبلیغی اسالیب سے یکسر مختلف ہے۔ روایتی دعوت کا انحصار ہمیشہ سے براہِ راست تعلیم، عوامی خطبات، علمی مباحثوں اور ذاتی رہنمائی پر رہا ہے، وہیں للی جے نے ڈیجیٹل دور کے سب سے طاقتور عطیے، یعنی مصنوعی ذہانت، کو دعوتِ دین کے عمل میں ضم کر کے ایک نئی راہ متعین کی ہے۔ یہ معلومات کی تلاش، تصدیق اور ترسیل کا ایک ایسا منہج ہے جو مکمل طور پر اکیسویں صدی کی ٹیکنالوجی پر استوار ہے۔ اِسی لیے یہ کہنا بالکل درست ہے کہ اْنہوں نے وہ کام کیا جو پہلے کسی نے نہیں کیا، کیونکہ دعوتی مقاصد کے لیے مصنوعی ذہانت کا ایسا منظم اور مرکزی استعمال فی الحقیقت ایک انقلابی قدم ہے۔
الغرض، للی جے کا کام محض ایک نو مسلم کے ذاتی سفر کی داستان یا روایتی دینی گفتگو نہیں ہے۔ اْن کی اصل شناخت اور روز افزوں مقبولیت کا راز اْن کے اْسی اختراعی دعوتی طریقہ کار میں پوشیدہ ہے، جس میں وہ جدید ترین ٹیکنالوجی کو اسلام سے متعلق سوالات کے جوابات تلاش کرنے اور پھر انہیں ایک معروضی، غیر جانبدار اور سہل انداز میں پیش کرنے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ یہی مرکزی خصوصیت، یعنی مصنوعی ذہانت کا شعوری اور مرکزی دعوتی استعمال، انہیں آج کے ڈیجیٹل دور میں اسلام کی ایک منفرد اور مؤثر عالمی آواز بناتی ہے۔ اْن کا یہ دلکش اور جدید اسلوب نہ صرف نئی نسل کو دین کی طرف راغب کر رہا ہے، بلکہ اسلام کے متعلق شکوک و شبہات اور غلط فہمیوں کے ازالے میں بھی ایک کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔
نوٹ: اس مضمون کے قارئین لیلی جے کو Youtube پر جاکر LilyJay نام کے ساتھ سرچ کر سکتے ہیں۔
==========
Post Views: 2
Like this:
Like Loading...