Skip to content
جمعہ نامہ:ظلم و فساد اور قیامت کا انکار
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
ارشادِ ربانی ہے:’’جب سورج لپیٹ دیا جائے گا‘‘۔ قیامت کی اس بے مثال منظر نگاری کو پڑھ کر بے ساختہ نبی کریم ﷺ کی وہ حدیث یاد آتی ہے:’’اللہ کے کلام کو سارے کلاموں پر ایسی ہی فضیلت ہے جیسے خود اللہ تبارک و تعالیٰ کو تمام مخلوق پرہے‘‘۔ کسی انہونی واردات کو بیان کرنے کا اس سے بہتر اور موثر انداز ناممکن ہے۔ دینا کی ساری طاقتیں مل کر بھی سورج کی گردش کونہ روک سکتی ہیں اور نہ وہ اس کے نظام الاوقات میں لحظ برابر تبدیلی کی قدرت رکھتی ہیں مگرجب قادر اسے تخلیق کرنے والی مطلق ہستی ہی اس کو لپیٹنے کا فیصلہ کرلے تو کس کی مجال کہ رکاوٹ کرے؟ تاروں بھرے آسمان میں ہر شئے کی گردش ایسےنظام میں جکڑی ہوئی ہے کہ اس سے لمحہ برابر انحراف ممکن نہیں۔ خالق ِ کائنات کی مقرر کردہ سمت و رفتار پر وہ بلا چوں چرا رواں دواں ہیں لیکن بروزحشر اذنِ خدواندی سے بکھرنے کا حکم ملے گا تو سب کچھ درہم برہم ہوجائے گا۔ فرمانِ قرآنی ہے:’’ جب تارے بکھر جائیں گے‘‘۔ آسمان کی بات کو زمین پر لاکر فرمایا:’’اور زمین کی پشت پر گڑے ہوئے پہاڑ چل پڑیں گے‘‘۔
اٹل پربت وکہسارجس زمین پر گڑے ہوئے ہیں وہ خود گردش میں مگر ان کی جگہ نہیں بدلتی۔ پہاڑ کی طرح ساکت و جامد ایک ایسامحاورہ ہے جو اس وقت استعمال ہوتا ہے جب کسی شخص کی مضبوطی، استقامت اور پختگی کو بیان کرنا مقصود ہو۔ مثلاً اگر کوئی شخص کسی مشکل صورتحال میں بھی اپنے موقف پر قائم رہتا ہے اور اسے کوئی ہلا نہیں سکتا، تو اسے "پہاڑ کی استقامت” قرار دیا جاتا ہےکیونکہ پہاڑ اپنی جگہ پر قائم رہتا ہے اور کسی بھی آندھی یا طوفان سے نہیں ہلتا۔ پہاڑ کی شکل و صورت پر حالات تبدیلی اثر انداز نہیں ہوتی۔اس کومٹایا تو جاسکتا ہے لیکن اپنی جگہ سے ہٹانا ممکن نہیں ہے اس لیے وہ مضبوطی، استحکام اور ناقابلِ تغیر حالت کا استعارہ ہیں۔ اس مثال کو سورج سیاروں کے ساتھ ملاکر دیکھیں تو گویا چلنے والوں کا رک جانا اور ٹھہرے ہوےکے چل پڑنے جسی ناممکنات کا بپا ہوجانا گویا قیامت ہے۔
یہ سب تو بے جان تخلیقات کے ساتھ ہوگا مگر اس آسمانی سلطانی کے زمین پر بسنے والی ذی روح مخلوقات پر مرتب ہونے والے اثرات کو یوں بیان کیا گیا کہ:’’اور جب دس مہینے کی حاملہ اونٹنیاں اپنے حال پر چھوڑ دی جائیں گی‘‘ یعنی مناظر قیامت کو دیکھ کر گھبراہٹ کے عالم میں انسان ایسا حواس باختہ ہوجائے گا کہ اسے قیمتی سے قیمتی دنیوی سرمایہ کی کوئی پروا نہیں ہو گی ۔ عرب معاشرے میں دس مہینے کی حاملہ اونٹنی کا بے حد خیال رکھا جاتا تھا کیونکہ اس سے ایک نئے اونٹ کے بچے کی امید وابستہ ہوتی تھی لیکن جب انسان قیامت کو برپا ہوتے ہوئے دیکھے گا تو اس کی نظر میں دینا کی ساری نعمتیں ہیچ اور بے قیمت ہوکر رہ جائیں گی گویا اس جہانِ فانی کی حقیقت کھل جائے گی۔ وحشی جانوروں کی بابت فرمایا کہ درندےجودوسروں کو کھا کر اپنی بھوک مٹاتے ہیں اور مویشی جو جان بچانے کر بھاگتے پھرتے ہیں ایک گھاٹ پر جمع کردئیے جائیں گے۔ ارشادِ قرآنی ہے:’’ اور جب جنگلی جانور سمیٹ کر اکٹھے کر دیے جائیں گے‘‘۔ یعنی کوئی کسی کو نقصان نہیں پہنچائے گا۔ اس کے بعد ایک ایسی حقیقت بیان کی گئی جس تصور چارسو سال قبل بھی محال تھا۔ فرمانِ خداوندی ہے:’’ اور جب سمندر بھڑکا دیے جائیں گے‘‘۔
سترہویں صدی کے اواخر تک حضرت انسان کے لیے پانی کے ذخائر کا بھڑک جانا ناقابلِ یقین بات تھی لیکن پھرہنری کیونڈش نے اپنی تجربہ گاہ میں ہائیڈروجن اور آکسیجن کو ملایا تو یہ انکشاف ہوا کہ پانی جیسامرکب بن گیا۔ اس کی اجزائے ترکیبی میں سےہائیڈروجن جلتی اورآکسیجن جلاتی ہے۔ اس لیے ان آبی ذخائر کو بھڑکانے کے لیے بس ان ہیں الگ کردینا کافی ہے۔ محدود پیمانے پر انسان بھی تجربہ گاہ میں یہ کام کرسکتا ہے تو بے پناہ قوتوں کے مالک اللہ عزو جل کا تو اس کی خاطر کلمۂ کُن کافی ہے کہ پھر فیکون ہوجائے۔ اس تخریبی عمل کے دوران جو تعمیری کام ہوگا اسے یوں بیان کیا گیا کہ:’’ اور جب جانیں (جسموں سے) جوڑ دی جائیں گی‘‘۔ یہی اس پورے مکافاتِ عمل کا نقطۂ عروج ہے کہ ان تمام روحوں کو جنھیں ایک مدت خاص کے بعدیعنی مہلت عمل مکمل ہوجانے پر اپنے جسموں سے الگ کردیا گیا تھا پھر سے باہم جوڑ دیا جائے گا۔ یہی تو قیامت کی غرض و غایت اورانسان کا مقصدِ وجود ہے۔ ارشادِ ربانی ہے :’’ جس نے موت اور زندگی کو (اِس لئے) پیدا فرمایا کہ وہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون عمل کے لحاظ سے بہتر ہے، اور وہ غالب ہے بڑا بخشنے والا ہے‘‘۔دنیا میں تو آزمائش یا امتحان تو ہوجاتا ہے مگر اس کے نتیجے اور حساب کتاب کے لیےقیامت لازمی ہے۔
مناظرِ آخرت بیان کرنے کی غرض و غایت یہ دعوت ہےکہ:’’وہی ہے جو تمہیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور تمہارے لئے آسمان سے رزق اتارتا ہے، اور نصیحت صرف وہی قبول کرتا ہے جو رجوع (الی اﷲ) میں رہتا ہے، پس تم اللہ کی عبادت اس کے لئے طاعت و بندگی کو خالص رکھتے ہوئے کیا کرو، اگرچہ کافروں کو ناگوار ہی ہو‘‘۔آگےانبیائے کرام کی بعثت کا مقصد یوں بیان کیا گیا :’’درجات بلند کرنے والا، مالکِ عرش، اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے روح (یعنی وحی) اپنے حکم سے القاء فرماتا ہے تاکہ وہ (لوگوں کو) اکٹھا ہونے والے دن سےخبردارکرے، جس دن وہ سب (قبروں سے) نکل پڑیں گے اور ان (کے اعمال) سے کچھ بھی اللہ پر پوشیدہ نہ رہے گا، (ارشاد ہوگا:) آج کس کی بادشاہی ہے؟ اللہ ہی کی جو یکتا ہے سب پر غالب ہے، آج کے دن ہر جان کو اس کی کمائی کا بدلہ دیا جائے گا کوئی نا انصافی نہ ہوگی‘‘۔ یوم الحساب سے لاعلمی اور غفلت کے سبب دنیا ظلم و فساد سے بھر گئی ہے ایسےمیں امت مسلمہ کا وہی فرض منصبی ہےجس کا حکم محمدﷺ کودیا گیا کہ:’’ آپ ان کو قریب آنے والی آفت کے دن سےخبردار کریں جب ضبطِ غم سے کلیجے منہ کو آئیں گے۔ ظالموں کے لئے نہ کوئی مہربان دوست ہوگا اور نہ کوئی سفارشی جس کی بات مانی جائے‘‘۔بشارتِ خداوندی ہے:’’بے شک اللہ بہت جلد حساب لینے والا ہے ‘‘۔
Post Views: 3
Like this:
Like Loading...