Skip to content
فکاہیہ:انسان چاہتا ہے کہ کتا یا گائے ہو
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
کتوں کے حوالے سے ۱۱؍ دن کے اندر عدالت عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں ترمیم کردی ۔ ایسی ہمدردی اور خیرخواہی تو انسانوں سے بھی نہیں کی جاتی ۔ ان کے شکایت گزاروں کو نچلی عدالت میں بھیج دیا جاتا ہے یا پھر تاریخ پہ تاریخ کی سولی پر چڑھا کر لٹکا دیا جاتا ہے۔اس سے قبل گیارہ اگست کے اپنےسابقہ فیصلےکے تحت کتوں کے کاٹنے میں اضافے کی وجہ سے سپریم کورٹ نے نئی دہلی کی سڑکوں سے آوارہ کتوں کو ہٹانے کا حکم دیا تھا۔ دارالحکومت میں ان کتوں کی صحیح تعداد تو کوئی نہیں جانتا کیونکہ جس ملک میں مردم شماری کو برسوں سے ٹالا جارہا ہے وہاں سگ شماری کون کرے؟ مگرسرکاری وحقوق حیواں کے محافظین کا تخمینہ ہے کہ شہر میں 8 سے 10 لاکھ کتے آوارگی کرتے پھرتے ہیں۔ان کی سب کو بڑی فکرہے مگرروزگار کی تلاش میں در بدر ٹھوکریں کھانے والے نوجوانوں کے بارے میں کوئی نہیں سوچتا۔ اتنی بڑی تعداد میں کتوں پر قابوپانا چونکہ مشکل ہے اس لیے عدالت نے دومہینےکے اندر ”ہائی رسک ایریاز‘‘ سے 5,000 کتوں کو پکڑکر نسبندی کے بعدپناہ گاہوں میں منتقل کرنے کی ہدایت دی۔
سپریم کورٹ کے اس حکم سےیہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہائی رسک ایریا سے کیامراد ہے؟ ظاہر ہے وہ ایسے علاقے ہوں گے جہاں اہم شخصیات اپنی قیمتی گاڑیوں سے اتر کر بحالتِ مجبوری صحت کے لیےچہل قدمی کرتے ہیں۔ عدالت نے ان ’ لو رسک ایریاز‘کے لیے کوئی حکم دینے کی زحمت نہیں کی جہاں عام لوگ کتے کی طرح زندگی گزارتے ہیں ۔ آئین کی حفاظت کا دم بھرنے والے سب سے اعلیٰ ادارے کے اندر تفریق و امتیاز کا یہ عالم ہو تو بقیہ اداروں کا اللہ ہی حافظ ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، نئی دہلی میں روزآنہ تقریباً 2,000 لوگوں کو کتے کاٹتے ہیں۔ امسال اپریل میں ایوانِ پارلیمان کے اندر پیش کردہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں ملک کے اندر 37 لاکھ سے زائد کتوں کے کاٹنے کامعاملہ درج ہوا اور 54 انسانی اموات رپورٹ ہوئیں۔اس کے برعکس نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو (NCRB) کی تازہ ترین رپورٹ "کرائم ان انڈیا-2022″ کے مطابق،ملک میں 2022 کے اندر قتل کے کل 28,522 واقعات ریکارڈ کیے گئے،یعنی اوسطاً ہر دن 78 یا 3فی گھنٹہ سے زیادہ قتل کی وارداتیں ہوئیں۔
جرائم کے معاملے میں بالترتیب اتر پردیش 3,491 قتل کی ایف آئی آ کے ساتھ سب سے آگے رہی، اس کے بعد بہار (2،930)، مہاراشٹر (2،295)، مدھیہ پردیش (1،978)، راجستھان (1،834)، اور مغربی بنگال (1،696)رہے۔اتفاق سے ان میں مغربی بنگال کے علاوہ اوپرکی چاروں ریاستوں پربی جے پی کا پرچم لہرا رہا ہے۔ دہلی میں 2022 کے اندرقتل کے 509 واقعات رپورٹ ہوئے یعنی اوسطاًہر دو دن میں تین افرادکا قتل ہوا مگر عدالت عظمیٰ کے نزدیک کتوں کی فلاح وبہبود ان عام لوگوں سے زیادہ اہم ہے ۔ ملک میں ہزاروں لوگ مختلف وجوہات کی بناء پر نقل مکانی کے لیے مجبور ہیں لیکن عدالت کا ترمیم شدہ فیصلہ کہتا ہے کہ آوارہ کتوں کی نسبندی کرانے بعد ٹیکہ لگاکر انہیں کے علاقہ میں چھوڑا جائے۔ اس فیصلے سے ایسا لگتا ہے کہ عدالت کی نظر میں عام لوگوں کی حیثیت کتے سے بھی بدتر ہے ایسے میں فیض کی نظم کتے یاد آتی ہے؎
نہ آرام شب کو ، نہ راحت سویرے،غلاظت میں گھر ، نالیوں میں بسیرے جو بگڑیں تو ایک دوسرے سے لڑا دو،ذرا ایک روٹی کا ٹکڑا دکھا دو
یہ ہر ایک کی ٹھوکریں کھانے والے،یہ فاقوں سے اکتا کر مر جانے والے
عدالت عظمیٰ نے اب تمام اس نوعیت کے مقدمات کو اپنے پاس منتقل کرکے ان پر ملک گیر پالیسی تیار کرنے کا عندیہ دیا ہے۔اس تبدیلی کے پسِ پشت گیارہ اگست والے حکم کے خلاف دہلی اور ملک بھر میں حقوق حیواں کی خاطرسرگرمِ عمل کارکنوں کا شدید احتجاج کارفرما ہے۔ ان رحمدل لوگوں نے عدالت کےحکم کو ”غیر منطقی، غیر عملی، غیر انسانی اور غیر قانونی‘‘ قراردیا تھا۔ ان کارکنوں نےہی آوارہ کتوں کو نسبندی اور ٹیکہ لگانے کے بعد دوبارہ اسی علاقہ میں چھوڑنے کا مطالبہ کیا تھا ۔ان واقعات کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اب قومی سیاست میں گائے کےساتھ کتے کا بول بالا ہوگا بلکہ سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کے بعد تو ایسا ہے لگتا ہے کہ گائے پر کتا بھاری پڑ گیا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر گائے ماتا ہے تو کتا کیا ہے؟ اس کے ساتھ بھی چاچا یا ماما جیسا مقدس رشتہ استوار ہونا چاہیے کیونکہ ہندو مذہب میں آبا و اجداد کومرنے کے بعد نجات دلانے کی خاطر کتے کو بھی کھانا کھلایا جاتا ہے ۔ ویسے تو کتا اناج اور گوشت دونوں کھاکر اپنا پیٹ بھرتا ہے مگرکچے اناج پر منہ نہیں مارتا جبکہ گوشت کے معاملے میں وہ کسی تفریق کا قائل نہیں ہے۔ کچا پکا ّ دونوں گوشت شوق سے نوش فرماتا ہے۔ اس لیے ہندو دھرم کے مطابق جو لوگ اپنےپُرکھوں کو ثواب پہنچانے کے لیے کتے کی ضیافت دال چاول سے کرتے ہیں ان کوتو وہ با دلِ ناخواستہ ہی دعا دیتا ہوگا جبکہ گوشت کھلانے والوں کےلیے اس کے دل سے خوب دعائیں نکلتی ہوں گی۔
ہندو مذہب میں ویسے تو گائے کا بڑا تقدس ہےلیکن کتا بھی کم نہیں ہے۔ پورانک کتھاوں میں کتا شیو کے اوتار بھیرو دیوتا کی سواری اور علامت مان کرقابلِ پرستش مانا جاتاہے۔ اسی لیے ملک میں کئی مقامات پر کتے کے مندر ہیں جہاں اس خیال سے خدمت و عبادت کی جاتی ہے کہ بھیرو دیوتا ساری آفات سے بچا لیں گے۔ دتاتریہ یعنی برہما، وشنو اور مہیش کے ساتھ بھی کتا دکھائی دیتا ہے اور یہ عقیدہ ہے کہ چاروں مل کر چار ویدوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اندر دیوتا کے ساتھ سرما نام کی کتیا نظر آتی ہے جس نےشیطانوں کے ذریعہ چرائی جانے والی گائے کو واپس لانے میں دیوتاوں مدد کی تھی۔ اس لیے یہ عقیدہ ہے کہ سرما کی اولادیں یم دیوتا(یعنی ملک الموت) کی شیطانوں سےحفاظت کرتی ہیں یہی وجہ ہے کہ اس کے ساتھ بھی کتا نظر آتا ہے۔ مہابھارت میں دھرم راج جنت کی جانب ایک کتے کے ساتھ رواں دواں ہوتا ہے۔ دیو مالائی حکایت کے مطابق راجہ اندر دیو نے جب یدھشٹر کے ساتھ اندر جانے سے کتے کو روکا تو وہ یم دیو بن گیا اور یہ دیکھ کر اسے بھی سورگ میں جانے کی اجازت مل گئی ۔ ہندو مذہبی صحیفوں میں تواتنی قدرو منزلت گائے کی بھی نہیں ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ پتر پکش یعنی پُرکھوں کے لیے اسے کھلانا پلانا پونیہ سمجھا جاتا ہے۔
جیوتش ودیا ّ (ہندو علمِ نجوم) کے مطابق کتےکو روٹی اور بسکٹ کھلانے سے شنی اور کیتو کے برے اثرات زائل ہوجاتے ہیں۔ ہندو راشٹر بن جانے کے بعدجب ان عقائد کا بول بالا ہوگا انگریزوں کو بھی اپنی کتا پروری پر حقیر نظر آئے گی ۔ ہندو مذہب میں ویدوں کے بعد پُرانوں کو سب سے زیادہ مقدس صحیفہ مانا جاتا ہے۔ سناتن دھرم کی کتابیں شائع کرنے والے سب سے بڑے ادارے گیتا پریس کی شائع کردہ مارکنڈے پرُان میں صفحہ نمبر 237 پر شرادھ(یعنی بعدازمرگ رسوم) کے حوالے سے ایک نہایت دلچسپ حکایت درج ہے۔ اس میں 40سالہ روچی نام کا ایک برہمچاری رشی کو ویدوں کے مطابق عبادت وریاضت کے دوران اپنے آباو اجداد میں سے چار لوگ نظر آئے جو صحیفوں کے خلاف من مانے اعمال کرنے کے سبب پس مرگ عذاب کا شکار تھے۔ان لوگوں نے کہا بیٹا روچی ہمارا شرادھ کرو ہم لوگ سوگوار ہیں۔ اس پر روچی رشی نے پوچھا ویدوں میں کرم کانڈ یعنی شرادھ وغیرہ کو احمقوں کی ریاضت کہا گیا ہے اس لیے آپ مجھے شاستروں کے خلاف ان غلط کامون میں کیوں لگا رہے ہیں ؟ اس پر پُرکھوں نے کہا بیٹاآپ کی بات سچ ہے ویدوں میں آبا و اجداد اور بھوت پریت کی پوجا کے ساتھ ساتھ دیوی دیوتاوں کی پرستش کو بھی جہالت کہا گیا ہے۔ ویدوں کے خلاف جب ہندوتوا کا بول بالا ہو جائے تو کرم کانڈ کے وارے نیارے نہیں ہوں گے تو کیا ہوگا؟ اوریہی وجہ ہے کہ عدالت سے سیاست تک یہی سب ہورہا ہے۔
سناتن دھرم میں اگر کتے کو اس قدر اہمیت حاصل ہے تو بھلا سپریم کورٹ اسے انسانوں سے زیادہ اہمیت کیوں نہ دے ؟ شاستروں کے مطابق شودروں کی حیثیت تو کتے سے بھی گئی گزری ہے۔ایسے میں ان پر ہونے والے مظالم پر سپریم کورٹ کا تڑپ جانا فطری امرہے؟ ویسے سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں انتظامیہ سے کتوں کو کھانا کھلانے کے لیے مخصوص مقامات متعین کرنےکا حکم بھی دیاہے ۔ یہ بھی شاستروں کے مطابق ہے کیونکہ ان میں کتوں کو چھونے اور اس کے چاٹنے کو بہت ہی منحوس مانا گیا ہے۔ اسے گھر میں داخل کرنے کی اجازت نہیں بلکہ اس کی نظر بھی معیوب ہے۔ کتوں کی غذا گاہ ایسی ہی ہے جیسے ہوائی اڈے وغیرہ پر سگریٹ کشوں کے لیے کمرہ مختص کیا جانا ۔وہاں وہ جی بھر کے مرغولے اڑا سکتے ہیں لیکن اس کے باہر ایسا کرنا ممنوع ہے۔ عدالت نےدیگر مقامات پر کتوں کے آگے روٹی ڈالنے پر سخت کارروائی کا حکم دیا ہے۔ اس سے گودی میڈیا فکرمند ہوگیا ہوگا کیونکہ اسے ہر جگہ بھونکنے کی تو کھلی چھوٹ ہوگی مگر بسکٹ کھانے کے لیے مخصوص مقامات پر جانا ہوگا۔ویسے آج کل گودی میڈیا کو عوام نہ صرف دھتکار رہی ہے بلکہ دوڑا دوڑا کر ماربھی رہی ہے ان بیچاروں کی حالت فیض کے ان اشعارکی مصداق ہے؎
یہ گلیوں کے آوارہ بےکار کتے،کہ بخشا گیا جن کو ذوقِ گدائی زمانے کی پھٹکار سرمایہ اُن کا،جہاں بھر کی دھتکار ان کی کمائی
Post Views: 3
Like this:
Like Loading...