Skip to content
یرغمالیوں کی ڈیل تیار، اسے قبول کرلینا چاہیے: اسرائیلی چیف آف سٹاف کا یاہو کا پیغام
اسرائیل،25اگسٹ(ایجنسیز)اسرائیلی فوج کے چیف آف سٹاف ایال زامیر نے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کو ایک براہ راست پیغام بھیجا ہے جس میں انہوں نے غزہ کی پٹی میں یرغمال بنائے گئے افراد کی رہائی کے لیے موجودہ دستیاب موقع سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
چیف آف سٹاف نے کہا ہے کہ غزہ پر مکمل قبضے کی طرف کوئی بھی قدم یرغمالیوں کی زندگیوں کو شدید خطرے میں ڈال دے گا۔ آپریشنل اور سکیورٹی وجوہات کی بنا پر اس مسئلے سے انتہائی احتیاط کے ساتھ نمٹنا ضروری ہے۔
انہوں نے اپنے پیغام میں واضح کیا کہ فوج گزشتہ مہینوں میں زمینی اور سکیورٹی کے ایسے سازگار حالات پیدا کرنے میں کامیاب رہی ہے جو ایک ڈیل کو ممکن بنا سکتے ہیں۔ انہوں نے سیاسی قیادت سے اس لمحے سے فائدہ اٹھانے اور اسے ضائع نہ کرنے کی اپیل کی۔
اسرائیلی وزیر اعظم پر غزہ کی پٹی میں باقی ماندہ یرغمالیوں کی رہائی کو یقینی بنانے اور فوج کے غزہ شہر پر حملے سے پہلے جنگ بندی تک پہنچنے کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے۔ اسرائیل اور حماس کے درمیان بالواسطہ جنگ بندی مذاکرات کے کئی مہینے اب تک کوئی نتیجہ نہیں نکال سکے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق نیتن یاہو کی حکومت کے دائیں بازو کے ارکان حماس کے ساتھ کسی بھی معاہدے تک پہنچنے کی سخت مخالفت کر رہے ہیں۔ دائیں بازو کے وزیر خزانہ سموٹریچ نے یرغمالیوں کے رشتہ داروں سے کہا ہے کہ اگر نیتن یاہو جنگ بندی پر راضی ہو جاتے ہیں تو وہ حکمران اتحاد سے باہر آ جائیں گے۔
ایک متبادل حل کے طور پر ایک نمایاں اسرائیلی اپوزیشن شخصیت، بینی گانٹز نے ہفتے کو ایک معاہدے کو ممکن بنانے کے لیے چھ ماہ کے لیے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے حکومت بنانے کی تجویز پیش کی۔ گانٹز، جو ایک سابق وزیر دفاع ہیں، نے 2024 میں کئی مسائل پر اختلافات کی وجہ سے نیتن یاہو کی حکومت چھوڑ دی تھی۔
بینی گانٹز نے ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ اگر نیتن یاہو راضی نہیں ہوتے تو ہم جان لیں گے کہ ہم نے سب کچھ کر دیا ہے۔ مبصرین کے مطابق نیتن یاہو کے اس تجویز کو قبول کرنے کا امکان نہیں ہے کیونکہ وہ اپنی سیاسی بقا کے لیے سموٹریچ جیسے دائیں بازو کے شراکت داروں کی حمایت پر انحصار کر رہے ہیں۔
وقت مطالعہ
4 منٹ
اسرائیلی فوج کے چیف آف سٹاف ایال زامیر نے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کو ایک براہ راست پیغام بھیجا ہے جس میں انہوں نے غزہ کی پٹی میں یرغمال بنائے گئے افراد کی رہائی کے لیے موجودہ دستیاب موقع سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
چیف آف سٹاف نے کہا ہے کہ غزہ پر مکمل قبضے کی طرف کوئی بھی قدم یرغمالیوں کی زندگیوں کو شدید خطرے میں ڈال دے گا۔ آپریشنل اور سکیورٹی وجوہات کی بنا پر اس مسئلے سے انتہائی احتیاط کے ساتھ نمٹنا ضروری ہے۔
انہوں نے اپنے پیغام میں واضح کیا کہ فوج گزشتہ مہینوں میں زمینی اور سکیورٹی کے ایسے سازگار حالات پیدا کرنے میں کامیاب رہی ہے جو ایک ڈیل کو ممکن بنا سکتے ہیں۔ انہوں نے سیاسی قیادت سے اس لمحے سے فائدہ اٹھانے اور اسے ضائع نہ کرنے کی اپیل کی۔
بڑھتا ہوا دباؤ
اسرائیلی وزیر اعظم پر غزہ کی پٹی میں باقی ماندہ یرغمالیوں کی رہائی کو یقینی بنانے اور فوج کے غزہ شہر پر حملے سے پہلے جنگ بندی تک پہنچنے کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے۔ اسرائیل اور حماس کے درمیان بالواسطہ جنگ بندی مذاکرات کے کئی مہینے اب تک کوئی نتیجہ نہیں نکال سکے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق نیتن یاہو کی حکومت کے دائیں بازو کے ارکان حماس کے ساتھ کسی بھی معاہدے تک پہنچنے کی سخت مخالفت کر رہے ہیں۔ دائیں بازو کے وزیر خزانہ سموٹریچ نے یرغمالیوں کے رشتہ داروں سے کہا ہے کہ اگر نیتن یاہو جنگ بندی پر راضی ہو جاتے ہیں تو وہ حکمران اتحاد سے باہر آ جائیں گے۔
تل ابیب میں احتجاج
تل ابیب میں احتجاج
یرغمالیوں کی رہائی کے لیے حکومت کی تشکیل
ایک متبادل حل کے طور پر ایک نمایاں اسرائیلی اپوزیشن شخصیت، بینی گانٹز نے ہفتے کو ایک معاہدے کو ممکن بنانے کے لیے چھ ماہ کے لیے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے حکومت بنانے کی تجویز پیش کی۔ گانٹز، جو ایک سابق وزیر دفاع ہیں، نے 2024 میں کئی مسائل پر اختلافات کی وجہ سے نیتن یاہو کی حکومت چھوڑ دی تھی۔
بینی گانٹز نے ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ اگر نیتن یاہو راضی نہیں ہوتے تو ہم جان لیں گے کہ ہم نے سب کچھ کر دیا ہے۔ مبصرین کے مطابق نیتن یاہو کے اس تجویز کو قبول کرنے کا امکان نہیں ہے کیونکہ وہ اپنی سیاسی بقا کے لیے سموٹریچ جیسے دائیں بازو کے شراکت داروں کی حمایت پر انحصار کر رہے ہیں۔
بینی گانٹز نے کہا ہے کہ قومی اتحاد کی حکومت کو ایک ایسے معاہدے تک پہنچ کر اپنا کام شروع کرنا چاہیے جو غزہ میں اب بھی قید تمام 50 یرغمالیوں کو واپس لے آئے۔
خیال کیا جارہا ہے کہ ان بچاس یرغمالیوں میں سے 20 زندہ ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کے بعد اگلے سال باہمی طور پر طے شدہ تاریخ پر نئے انتخابات کر لیے جائیں۔ اسی طرح یرغمالیوں کے رشتہ داروں نے بھی حکومت سے ایک معاہدہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے کیونکہ انہیں اپنے پیاروں کی قید میں زندگیوں کا خوف ہے۔
پیر کے روز حماس نے کہا تھا کہ اس نے مذاکرات کاروں کو ایک نئی جنگ بندی تجویز پر "مثبت ردعمل” دیا ہے۔ کہا جاتا ہے یہ نئی تجویز امریکی خصوصی نمائندے سٹیو وٹکوف کیطرف سے پہلے کی تجویز کا ایک ترمیم شدہ ورژن ہے۔ ااس نئی تجویز میں 60 دن کی جنگ بندی کی شرط ہے جس کے دوران 10 زندہ یرغمالیوں کو فلسطینی قیدیوں کے بدلے میں رہا کیا جائے گا۔
Like this:
Like Loading...