Skip to content
روس اور امریکہ کے درمیان
ہچکولے کھاتی خارجہ پالیسی
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
یہ عجب تماشا ہے کہ روس سے تیل خریدنے کے سبب امریکہ ہندوستان سے ناراض ہے اور نہ صرف ٹیرف دوگنا کرچکا ہے بلکہ جرمانہ بھی لگا رہا ہے لیکن اسی کے ساتھ ٹرمپ خود پوتن سے ملاقات کرنے کی خاطر الاسکا کا سفر کرتے ہیں۔ یہ بظاہر حیرت انگیز بات ہےلیکن جیسا کہ کسی بچے کو کڑوی گولی کھلانے کی خاطر اس کی ناک دباکر منہ کھلوانا پڑتا ہے اسی طرح روس کو مذاکرات پر مجبور کرنے کے لیے ہندوستان کو اس سے تیل خریدنے سے روکنا ضروری سمجھا گیا۔ یہ کوئی مفروضہ نہیں ہے بلکہ امریکہ کے نائب صدر وینس اعلان کرچکے ہیں کہ روس کو مذاکرات کی خاطر راضی کرنے کی خاطر ایسا کرنا امریکی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ اس طرح ہندوستان پر دباو ڈال کر پہلے امریکہ نے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی اور اب روسی صدر پوتن ہندوستانی وزیر خارجہ جئے شنکر کی پذیرائی کرکے ٹرمپ پر دباو ڈال رہے ہیں۔ ان دونوں ملاوں کے بیچ ہندوستانی خارجہ پالیسی حرام ہورہی ہےاور یہ لوگ فٹبال کی مانند ہمیں ایک دوسرے کی جانب اچھال رہے ہیں۔ یہ کھیل صدر ٹرمپ کے ذاتی عزائم ومنصوبوں کےتکمیل کی خاطر ہورہا ہے۔ان کا واحد ہدف عالمی امن انعام ہے۔ اس کے حصول کی خاطر انہوں نے جنگیں بند کروانے کا شوق پال رکھاہے۔وہ ابھی حال میں آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان قصر ابیض میں جنگ بندی معاہدہ پر دستخط کرواکے اپنی پیٹھ تھپتھپاچکے ہیں۔
ٹرمپ بار بار ہندو پاک جنگ بند کروانےکا دعویٰ کرتے ہیں مگر ہندوستان اس کی توثیق نہیں کرتا اور یہی انکاردونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کی وجہ بن گیا ہے۔ اس کے برعکس پاکستان اسے تسلیم کرکے ٹرمپ کی خاطر نوبیل امن انعام کی سفارش کردیتا ہے اس لیے جنرل عاصم منیر کو قلیل عرصے میں دوبار امریکہ بلا کر پذیرائی کی جاتی ہے۔ ان کو عظیم انسان کہہ کر چڑھایا جاتا ہے اور امریکہ کی سرزمین پر ہندوستان کو دی جانے والی ایٹمی جنگ کی دھمکی کو بھی نظر انداز کردیا جاتاہے۔ ٹرمپ کے نزدیک ان کے اپنے اور چہیتوں کے سارے قصور قابلِ معافی ہیں۔ ٹرمپ منفرد شاہانہ مزاج کے حامل حکمراں ہیں۔ وہ اختلاف ہضم نہیں کرپاتے اس لیے ہندوستان اور یوکرین سے ناراض ہیں ۔ اس کے برعکس پاکستان اور روس ان کی تعریف کرکے اپنا الو سیدھا کرلیتے ہیں۔ پاکستان کی طرح پوتن نے بھی یہ کہہ کر ٹرمپ کو خوش کردیا کہ اگر وہ پچھلا انتخاب جیت جاتے تو 2022میں جنگ نہ ہوتی حالانکہ یہ تنازع 2014سے جاری ہے ساڑھے تین سال قبل تو بس اس میں شدت آئی۔ صدر بننے سے قبل ٹرمپ 24 گھنٹے کے اندر جنگ بند کروانے کا دعویٰ کررہے تھے۔ اس کے بعدانہوں نے پوتن کو 8؍ اگست تک جنگ بند کرنے کی ڈیڈ لائن بھی دی تھی مگر جنگ تو بھڑکتی ہی چلی گئی۔
ٹرمپ پوتن کے درمیان حالیہ مذاکرات میں بظاہر پوتن فائدے میں نظر آتے ہیں ۔ ان کی سب سے بڑی کامیابی تو یہ ہے کہ انہوں اپنے اولین دشمن یوروپ اور امریکہ کے درمیان دراڑ ڈال دی ۔ ان کا دوسرا ہدف امریکہ کو یوکرین کی پشت پناہی سے محروم کرنا ہے۔اس کے علاوہ ٹرمپ سے زیلنسکی کی ملاقات کرنے پر راضی کرلیا۔ وہاں ان کے سامنے نہایت مشکل شرائط رکھی گئیں ۔ وہ اگر ان کو قبول کریں گے توایسا کرنا۹؍ سالہ جنگ میں شکست کے مترادف ہوگا اور ااگر انکار کریں گے تو امریکہ اس کے سر سے اپنا ہاتھ کھینچ لے گا۔ان شرائط کو منظور کروانے کی خاطریوکرینی صدر زیلنسکی کو وائٹ ہاؤس میں بلایا گیا۔ انہوں نے امریکی صدر ٹرمپ کے ساتھ میٹنگ کے بعد کہا، ’’میں نے تصدیق کی، اور تمام یورپی رہنماؤں نے میری حمایت کی، کہ ہم پوتن کے ساتھ دوطرفہ ملاقات کے لیے تیار ہیں۔‘‘ یوکرینی رہنما نے یہاں تک کہہ دیا کہ وہ ’’کسی بھی فارمیٹ‘‘ میں بغیر کسی پیشگی شرط کے پوتن کے ساتھ ملاقات کی خاطر راضی ہیں‘‘۔ یہ پوتن سمیت ٹرمپ کی بہت بڑی کامیابی ہے اس لیےامریکی صدر بولے کہ ان کی زیلنسکی اور یورپی رہنماؤں کے ساتھ ملاقات ’’انتہائیکامیاب ‘‘ رہی۔
صدرٹرمپ نےیہ مژدہ بھی سنا دیا کہ ملاقات کے بعد انہوں نے صدر پوتن کو فون کیا اور ان کے ساتھ صدر زیلنسکی کے درمیان ملاقات کا انتظام شروع کردیاگیا ہے۔ان مذاکرات کے انتظامات کرنے ذمہ داری انہوں نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، وزیرِ خارجہ مارکو روبیو اور خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کو سونپ دی۔ٹرمپ نے یہ اعلان بھی کیاکہ ’’اس ملاقات کے بعد ہم ایک سہ فریقی اجلاس کریں گے، جس میں دونوں صدور کے ساتھ میں بھی شامل ہوں گا۔‘‘ یوکرین اور روس کے درمیان امن معاہدہ چونکہ یوروپ کے لیے قابل قبول نہیں ہےاس لیے یورپی ممالک کی جانب سے یوکرین کے لیے سلامتی کی ضمانتوں پر بھی بات چیت کی۔جرمن چانسلر فریڈرش میرس نے انکشاف کیا کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن اور یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی کی ملاقات آئندہ دو ہفتوں کے اندر ہونے والی ہے۔لیکن ملاقات کا مقام ابھی طے نہیں ہوا ہے۔ان اعلانات کوٹرمپ کی بے پرکی کہہ کر اڑایا نہیں جاسکتا کیونکہ یورپی کمیشن کی صدر ارزولا فان ڈئر لاین نے بھی واشنگٹن میں یوکرین امن کے لیے ہونے والے مذاکرات ایک اہم لمحہ قرار دے کر سراہا اور اپنا تعاون پیش کیا۔
ارزولا فان ڈئر لاین نے یورپی رہنماؤں کے ساتھ وائٹ ہاؤس میں یوکرین کی جنگ ختم کرنے کے مقصد سے مذاکرات میں شرکت کی۔ انہوں نے اس بابت ایکس پر لکھا کہ، ”ہم یوکرین اور یورپ میں امن کے لیے یہاں(امریکہ میں) اتحادی اور دوست کے طور پر، موجود ہیںِ۔‘‘ ۔ امریکہ کی جانب سے یوکرین کے سامنے رکھی جانے والی تجاویز کا اندازہ ٹرمپ کے اس بیان سے ہوتا ہے جو انہوں نے الاسکا مین پوتن کے ساتھ ملاقات کے بعد دیا تھا۔انہوں نے کہا تھا کہ ’روس نے یوکرین کے بہت سے علاقے پر قبضہ کر رکھا ہے۔ ہم اس میں سے کچھ علاقہ یوکرین کو واپس کروانے کی کوشش کریں گے۔‘ اس جملے میں ’کچھ‘ اور ’کوشش‘ اہم الفاظ ہیں۔ ’کچھ علاقہ‘ سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اس وقت روس نے یوکرین کے جن علاقوں پر قبضہ کیا ہے، ٹرمپ اس کا ایک بڑا حصہ روس کو دینے کے حامی ہیں اور ’کوشش‘ عدم اعتماد کی چغلی کھاتا ہے۔ٹرمپ کا اعلان کچھ علاقوں کا لین دین ہوگا اشارہ کرتا ہے کہ مستقبل قریب میں طے ہونے والے معاہدے کے تحت یوکرین کو جملہ پانچ صوبے روس کے حوالے کرنا پڑیں گے۔ یہ پانچ مشرقی صوبےیوکرین کے تقریباً 20 فیصد حصے پر محیط ہیں۔
یوکرینی صدر ولودی میر زیلنسکی نےماضی میں یوکرین کی سرزمین کے حصے بخرے کے تمام منصوبوں کو مسترد کر دیا تھا۔ یورپی یونین بھی علاقوں کے ’تبادلے‘ کے خلاف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماضی میں ٹرمپ کو کوئی بڑی سفارتی کامیابی نہیں ملی تھی اور امن کے نوبیل انعام کا راستہ صاف نہیں ہوسکا تھا۔ اب تو ٹرمپ کھلے عام روس کے ذریعہ یوکرین پر سب سے بڑے اعتراض کی حمایت کررہے ہیں۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ یوکرین کو یوروپی یونین میں شامل ہونے کی درخواست نہیں کرنی چاہیے۔ وہ بولے یوکرین دراصل یوروپ اور روس کے درمیان ایک بفر زون ہے اور اس کی وہی حیثیت ہونی چاہیے۔ یہی تو روس کا سب سے بڑا مطالبہ تھا مگر چونکہ یوکرین نے اسے تسلیم کرنے سے انکار کرکے یوروپی ممالک سے پینگیں بڑھائی اس لیے روس نےاس کے بیس فیصد علاقے کو الگ کرکےنیا بفر زون بنادیا۔ یوکرین اگر اس شرط کو قبول کرلے تو جھگڑا ہی ختم ہوجائے گا لیکن روس اب ان نام نہاد آزاد علاقوں کو پھر سے یوکرین میں شامل نہیں ہونے دے گا۔بظاہر ایسا لگتا ہے کہ زیلنسکی کو اس کے لیے راضٰ کرلیا گیا ہے۔
الاسکا میں یوکرین کے حوالے ٹرمپ اور پوتن کے بیانات کو غور سے دیکھا جائے ان میں ایک خاص قسم کا فرق دکھائی دیتا ہے۔ٹرمپ کا کہناتھا کہ چند چھوٹے نکات کے سوا ایک اہم نکتہ باقی ہے۔اس سےمراد ظاہر ہے علاقوں کا لین دین ہوگا۔ اس کے بالمقابل پوتن امیدظاہرکی کہ’ہم جس سمجھوتے پر پہنچے ہیں وہ یوکرین میں امن کی راہ ہموار کرے گا۔‘ قصرِ ابیض میں یوکرین کے صدر ولودی میر زیلینسکی کے ساتھ ٹرمپ نے نہایت سخت لب و لہجہ اختیار کیا تھا لیکن الاسکا چوٹی کانفرنس میں ان کا رویہ یکسر مختلف تھا ۔امریکہ اور یوکرین کے درمیان وائٹ ہاؤس کی مجوزہ ملاقات میں ٹرمپ نے پھر سے یہ گیند صدر زیلینسکی کے پالے میں اچھال کر کہہ دیا تھا کہ ’اب یہ زیلنسکی پر منحصر ہے کہ وہ معاملے کو تکمیل تک پہنچائیں۔‘ الاسکا چوٹی کانفرنس کے بعد پوتن توخیر ٹرمپ کو اپنے کام میں لگا کر لوٹ گئے مگراس ملاقات کے بعد امریکی صدر کو واپسی پر واشنگٹن میں تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کو ہدفِ تنقید بنانے کی اہم وجہ یہ تھی کہ وہ مسئلہ کا حل تلاش کرنے میں کوئی خاص پیش رفت نہیں کرسکے اور اگر اندر خانے کچھ طے بھی ہوا ہو تو اسے اعلان کے قابل نہیں سمجھا گیا ۔یہی وجہ ہے کہ الاسکا کی مذاکرات کے بعد ہندی فلموں کی مانند خوشی کے شادیانے نہیں بجے اور ٹرمپ کے ڈرامہ کولی یا سانوریہ جیسی کامیابی نصیب نہیں ہوئی بلکہ وہ اودے پور فائلس کی مانند فلاپ ہوگیا۔ ٹرمپ کی ’امن کے سوداگر‘ والی شبیہ ٹوٹ پھوٹ کر بکھر گئی اور اب اسے سنوارنے کی سعی چل رہی ہے ۔ الاسکا چوٹی کانفرنس پر ٹرمپ کے حوالے سے آتش کا یہ شعر صادق آتاہے؎
بڑا شور سنتے تھے پہلو میں دل کا
جو چیرا تو اک قطرۂ خوں نہ نکلا
Post Views: 2
Like this:
Like Loading...