Skip to content
بعثتِ محمدی ﷺ:
تاریخ کے دھارے پرایک عالمگیر تہذیبی انقلاب کی بنیاد
——
بقلم: ڈاکٹر محمد عظیم الدین (اکولہ، مہاراشٹر)
——
تاریخ کا مطالعہ درحقیقت انسانیت کے اجتماعی شعور کے سفر کی وہ روداد ہے، جس میں چند لمحات محض وقت کے تسلسل کا حصہ نہیں رہتے، بلکہ خود وقت کے دھارے کا رخ اور تہذیب کا معیار متعین کرتے ہیں۔ یہ وہ فیصلہ کن موڑ ہیں جہاں فکر کی پرانی وادیاں ختم اور شعور کے نئے براعظم دریافت ہوتے ہیں۔ ساتویں صدی عیسوی میں جزیرہ نمائے عرب کے افق پر حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت، اسی نوعیت کا ایک ایسا فیصلہ کن اور تاریخ سازلمحہ تھا، جو محض دینِ حنیف کی تجدید کا اعلان نہ تھا، بلکہ انسانیت کے فکری، اخلاقی، سماجی اور تہذیبی ڈھانچے کی مکمل قلبِ ماہیت کا نقط? آغاز تھا۔ یہ تاریخ کا کوئی اتفاقی موڑ نہ تھا، بلکہ یہ خالقِ کائنات کا اپنی بھٹکی ہوئی مخلوق پر وہ عظیم ترین احسان تھا، جسے قرآن نے ان الفاظ میں ابدی بنا دیا:
ترجمہ: ”یقیناً اللہ نے اہل ایمان پر بہت بڑا احسان فرمایا جب اس نے انہی میں سے ایک (ایسا عظیم) رسول مبعوث فرمایا جو ان پر اس کی آیتیں تلاوت کرتا ہے، انہیں (نفسًا و روحًا) پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے، اگرچہ وہ اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے”۔ (سورۃ آل عمران، 164)
پس، یہ ایک ایسا انقلاب تھا جس کی گونج، اسی خدائی احسان کے طفیل، آج چودہ صدیاں گزر جانے کے بعد بھی دنیا کے ہر حساس ذہن اور بیدار ضمیر میں پوری قوت کے ساتھ سنائی دیتی ہے۔
اس نورِ انقلاب کی نبض کو محسوس کرنے کے لیے لازم ہے کہ پہلے اس سخت جاں اندھیرے کی گہرائی میں اترا جائے جسے چیر کر یہ آفتاب ِمبین طلوع ہوا۔ ساتویں صدی کا عالمی منظرنامہ دو عظیم، مگر اپنی ہی عظمت کے بوجھ تلے دم توڑتی ہوئی تہذیبوں(ساسانی ایران اور بازنطینی روم) کی کھوکھلی شان و شوکت کا لاحاصل تماشا تھا۔ صدیوں پر محیط ان کی بے مقصد جنگوں اور داخلی خلفشار نے، جیسا کہ مؤرخ جان کیگن (John Keegan) اپنی شہرہ آفاق تصنیف ”جنگ کی تاریخ” (A History of Warfare) میں نقشہ کھینچتے ہیں، دنیا کو ایک ایسے تہذیبی خلا اور اخلاقی افلاس سے دوچار کر دیا تھا جہاں امید کی آخری کرن بھی دم توڑ رہی تھی۔
اور اس عالمی زوال کا مرکز تھا خطہ عرب، جو قبائلی عصبیت کا دہکتا آتش کدہ، نسلی تفاخر کا بے روح بت خانہ اور جہالت کی تاریکیوں میں ڈوبا ہوا انسانیت کا ایک گہرا زخم تھا۔ یہ وہ دنیا تھی جہاں اقدار کا پیمانہ الٹ چکا تھا؛ جہاں بیٹی کو زندہ درگور کرنا غیرت کا معیار اور کمزوری جرم تھی۔ جہاں انصاف طاقتور کی لونڈی تھا اور رحم دلی ایک قابلِ ملامت عیب۔ یوں لگتا تھا کہ گویا انسانیت خود اپنی تعریف بھول چکی تھی اور زمین اپنی محور پر آ کر ٹھہر گئی تھی،گویا ایک ایسی صدائے رحمت کی منتظر ہو،جو دائمی سکوت کو توڑ کر اسے پھر سے زندگی کا نغمہ سکھا دے۔یہ ایک ایسا فکری صحرا اور روحانی قحط تھا جس میں انسانیت اپنی بقا کی آخری سانسیں لے رہی تھی۔ اسی عالمگیر مایوسی کے بطن سے، غارِ حرا کی خلوتوں میں وہ صدائے ربانی گونجی جس نے کائنات کے ازلی سکوت کو توڑ دیا: ”اقراء ” (پڑھو)۔ یہ محض ایک لفظ نہ تھا، بلکہ جہالت کے خلاف علم، گمان کے خلاف یقین اور جبر کے خلاف شعور کا پہلا حرفِ انقلاب تھا۔ یہ اس عظیم تہذیبی منشور کا دیباچہ تھا جسے انسان کا رشتہ اپنے خالق سے، خود اپنی ذات (عرفانِ نفس) سے، اور پوری کائنات (تسخیرِ کائنات) سے از سرِ نو استوار کرنا تھا۔
اس انقلاب کا سب سے اساسی اور پہلا ستون توحید کے عقیدے سے جنم لینے والا انسانی مساوات کا آفاقی تصور تھا۔ جس معاشرے کی رگ رگ میں نسلی تفاخر اور قبائلی عصبیت کا زہر سرایت کر چکا تھا، وہاں یہ اعلان کہ تمام انسان ایک آدم کی اولاد ہیں اور کسی کالے کو گورے پر یا عربی کو عجمی پر کوئی فضیلت حاصل نہیں، ایک ناقابلِ تصور فکری دھماکہ تھا۔ قرآنِ کریم نے اس اصول کو ابدی بنیاد فراہم کرتے ہوئے فرمایا: ”اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہیں قوموں اور قبیلوں میں تقسیم کیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔ بے شک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہے” (سورۃ الحجرات، آیت 13)۔ یہ نظریہ محض کتابی یا فلسفیانہ نہ تھا، بلکہ رسولِ اکرم ﷺ نے اسے مدینہ کی نوزائیدہ ریاست میں ایک زندہ اور دھڑکتی ہوئی حقیقت بنا کر دکھایا۔ جب حبشہ کے بلال رضی اللہ عنہ کی اذان قریش کے سرداروں پر حجت بن جاتی ہے، جب ایران کے سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کو ”اہلِ بیت” کا معزز درجہ عطا ہوتا ہے، اور جب روم کے صہیب رضی اللہ عنہ کو سابقون الاولون میں شمار کیا جاتا ہے، تو تاریخ یہ منظر دیکھتی ہے کہ رنگ، نسل اور جغرافیہ کے تمام بت پاش پاش ہو رہے ہیں اور انسانیت کی وحدت کا ایک نیا کعبہ تعمیر ہو رہا ہے۔ انسانی وقار کا یہ وہ میثاق تھا جسے دنیا نے بہت بعد میں اقوامِ متحدہ کے منشور کی صورت میں اپنانا تھا، لیکن اس کی روح چودہ صدیاں قبل خطبہ حجۃ الوداع کی صورت میں پوری آب و تاب کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کی جا چکی تھی۔
تاہم، انسانیت کی تکریم کا یہ عالمگیر منشور اس وقت تک ایک تشنہ تعبیر خواب رہتا، جب تک اس کا اطلاق معاشرے کے اس نصف حصے پر نہ ہو جاتا جسے صدیوں سے پامال کیا جا رہا تھا: یعنی عورت۔ عہدِ جاہلیت میں عورت کی حیثیت محض ایک شے، بلکہ وراثت میں مویشیوں کی طرح تقسیم ہونے والی ایک بے زبان ملکیت سے زیادہ نہ تھی۔ اس کی کوئی انفرادی قانونی شناخت نہ تھی اور اس کی پیدائش کو خاندان کے لیے نحوست اور ذلت کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ بعثتِ محمدی ﷺ نے اس ظالمانہ اور فرسودہ ڈھانچے کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا اور عورت کو وہ قانونی، سماجی اور معاشی حقوق عطا کیے جن کا اس دور کی مہذب ترین سمجھی جانے والی اقوام میں بھی تصور محال تھا۔ قرآنِ کریم نے اسے وراثت میں ایک متعین اور لازمی حصہ دار ٹھہرایا (سورۃ النساء، 4: 7)، نکاح میں اس کی رضامندی کو عقد کی صحت کے لیے شرطِ لازم قرار دے کر اس کی شخصی آزادی کو سند بخشی (صحیح البخاری، 5136)، اور مہر کو اس کا ناقابلِ تصرف ذاتی حقِ ملکیت بنا کر اس کی معاشی خود مختاری کی بنیاد استوار کی، اور پھر ‘ماں کے قدموں تلے جنت’ کا فرمان جاری کر کے اسے تقدیس کے اس اعلیٰ ترین منصب پر فائز کر دیا جہاں تہذیبیں اس کے احترام میں سرنگوں ہو جاتی ہیں(سنن النسائی، 3104)۔
اس تاریخی تناظر کو عالمی شہرت یافتہ تاریخ نگار برائے مذاہب، کیرن آرمسٹرانگ (Karen Armstrong)، اپنے تجزیے میں واضح کرتی ہیں کہ اسلام نے ساتویں صدی میں خواتین کو جو حقوقِ ملکیت و وراثت عطا کیے، وہ مغرب کی عورت کو انیسویں صدی کے اواخر میں منظور ہونے والے ‘شادی شدہ خواتین کے حقوقِ ملکیت ایکٹ’ (Married Women’s Property Acts) تک میسر نہ آسکے۔ اس سے قبل انگریزی قانون (Common Law) کے تحت ‘Doctrine Of Coverture’ کے نظریے کے مطابق شادی کے بعد عورت کی قانونی شناخت اپنے شوہر میں ضم ہو جاتی تھی۔ لہٰذا، یہ حقوق کی بحالی محض ایک سماجی اصلاح نہ تھی، بلکہ انسانی تہذیب کی اساس کو انصاف کے اصول پر از سرِ نو استوار کرنے کا ایک الہامی اور انقلابی عمل تھا، جس کے بغیر کوئی بھی معاشرہ صحیح معنوں میں مہذب کہلانے کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔
فرد کی عظمت کے تحفظ اور معاشرتی انصاف کی ضمانت کے لیے تیسرا، اور شاید سب سے فیصلہ کن، انقلابی قدم قانون کی بالادستی (Supremacy of Law) کا غیر متزلزل قیام تھا۔ ایک ایسے سماجی ڈھانچے میں جہاں ہر قبیلے کا اپنا قانون اور ہر طاقتور کی اپنی عدالت تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آفاقی اصول قائم کیا کہ قانون کا ترازو سب کے لیے برابر ہے، خواہ وہ شاہ ہو یا گدا، امیر ہو یا غریب یا پھر عالم و فاضل یا جاہل مطلق۔ یہ اصول اس وقت اپنی عملی معراج اور ابدی مثال بن گیا جب قبیلہ بنی مخزوم کی ایک معزز خاتون کے جرمِ سرقہ پر حد جاری کرنے کا معاملہ پیش آیا۔ قریش کے اشراف نے اپنی خاندانی وجاہت کو بچانے کے لیے آپ ﷺ کے محبوب، حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے سفارش کروائی۔ اس پر آپ ﷺ کا چہر? مبارک جلال سے متغیر ہو گیا اور آپ نے کھڑے ہو کر وہ تاریخی خطبہ ارشاد فرمایا جس نے نظامِ عدل کی پیشانی پر ہمیشہ کے لیے یہ اصول نقش کر دیا: ”تم سے پہلی قومیں اسی لیے ہلاک ہوئیں کہ جب ان میں کوئی معزز شخص چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے، اور جب کوئی کمزور چوری کرتا تو اس پر حد قائم کرتے۔ اللہ کی قسم! اگر محمد (ﷺ) کی بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو میں اس کا ہاتھ بھی کاٹ دیتا۔” (صحیح البخاری، کتاب الحدود، حدیث رقم 6788)۔
یہ اعلان محض ایک جذباتی ردِ عمل نہ تھا، بلکہ یہ اس تصور کو ہمیشہ کے لیے دفن کر دینا تھا کہ قانون کا اطلاق سماجی حیثیت دیکھ کر کیا جاتا ہے۔ یہ ذاتی پسند، قبائلی تعلق یا سیاسی مصلحت سے ماورا ہو کر قانون کی غیر شخصی حاکمیت (Impersonal Supremacy of Law) کا قیام تھا۔ یہی وہ عملی کامیابی تھی جس نے مؤرخ مائیکل ہارٹ (Michael H. Hart) کو مجبور کیا کہ وہ آپ ﷺ کو اپنی شہرہ آفاق کتاب ‘The 100’ میں انسانی تاریخ کی سب سے مؤثر شخصیت قرار دیں۔ ہارٹ کا استدلال یہ تھا کہ آپ ﷺ کی کامیابی محض روحانی نہ تھی، بلکہ آپ نے ایک قابلِ عمل اور عادلانہ سماجی و سیاسی نظام کی بنیاد رکھی، اور یہ اصول درحقیقت اس نئی اسلامی تہذیب کا وہ سنگِ بنیاد تھا جس پر اعتماد، مساوات اور اجتماعی فلاح کی عمارت تعمیر کی گئی۔
اس فکری و سماجی انقلاب کی پائیداری کو محض شمشیر و سناں کا مرہونِ منت نہیں، بلکہ علم و حکمت کی ناقابلِ تسخیر بنیادوں پر استوار کیا گیا تھا۔ بعثت کا آغاز ہی ایک ایسے الہامی حکم سے ہوا جس کی تاریخِ مذاہب میں کوئی نظیر نہیں ملتی: ”اِقْرَأْ” (پڑھو)۔ اس ایک لفظ نے علم کے حصول کو محض ایک دنیاوی عمل نہیں، بلکہ معرفتِ الہٰی کا اولین زینہ اور ایک مقدس ترین عبادت قرار دے دیا۔ اس الہامی تحریک نے علم کو کاہنوں، راہبوں اور اشرافیہ کی اجارہ داری سے نکال کر ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض قرار دیا، جس کا نتیجہ ایک ایسے تہذیبی معجزے کی صورت میں رونما ہوا جس نے تاریخ کے دھارے کو موڑ دیا: وہی غیر مہذب قوم، جو علم سے بے بہرہ تھی جسے دنیا علم سے بے بہرہ سمجھتی تھی، چند ہی صدیوں کے اندر تحقیق و جستجو کی وہ عالمگیر امام بن کر ابھری کہ تہذیب کا کارواں اس کی رہنمائی میں چلنے لگا۔
بغداد کا بیت الحکمہ، اندلس میں جامعہ قرطبہ اور غرناطہ کے علمی مراکز وہ روشن مینار تھے جہاں سے پھوٹنے والی علم کی کرنوں نے قرونِ وسطیٰ کے تاریک یورپ کو منور کیا۔ الخوارزمی (Al-Khwarizmi) نے الجبرا کے اصول وضع کیے؛ ابن الہیثم (Ibn al-Haytham) نے بصریات (Optics) کی بنیادیں رکھ کر جدید سائنسی طریق? کار کی راہ دکھائی؛ الزہراوی (Al-Zahrawi) نے علمِ جراحت (Surgery) کو ایک نئی زندگی بخشی؛ اور ابن سینا (Ibn Sina/Avicenna) کی شہرہ آفاق تصنیف ”القانون فی الطب” صدیوں تک یورپ کی جامعات میں طب کی سب سے مستند کتاب کے طور پر پڑھائی جاتی رہی۔ یہی وہ گراں قدر علمی میراث تھی جس نے تاریک ترین ادوار میں یورپ کے لیے مشعلِ راہ کا کام دیا اور بالآخر اس کی نشاۃِ ثانیہ (Renaissance) کو مہمیز بخشی: ایک ایسا تاریخی سچ جس کا اعتراف رابرٹ بریفالٹ (Robert Briffault) جیسے متعدد غیر متعصب مغربی مؤرخین نے برملا کیا ہے۔ یہ اس حقیقت کا بین ثبوت تھا کہ بعثتِ محمدی ﷺ کا اصل معجزہ انسانی ذہن کو توہمات اور تقلیدِ جامد کی فکری زنجیروں سے آزاد کر کے اسے تحقیق، استدلال اور مشاہدے کی لامتناہی شاہراہ پر گامزن کرنا تھا۔
فرد اور معاشرے کی داخلی اصلاح سے ایک قدم آگے بڑھ کر، آپ ﷺ نے ریاستوں کے مابین تعلقات کے لیے بھی ایک ایسا انقلابی نمونہ پیش کیا جس کی بنیاد جنگ پر نہیں، امن پر تھی۔ آپ ﷺ نے توسیع پسندی پر مبنی عالمی سیاست کے برعکس، امن، معاہدے اور سفارت کاری کو خارجہ پالیسی کی اصل قرار دیا۔ صلح حدیبیہ کا معاہدہ اس کی وہ مثال ہے جسے خود قرآن نے ”فتحِ مبین” قرار دیا (سورۃ الفتح، 1)۔ بظاہر دب کر کیا گیا یہ معاہدہ، جو جلیل القدر صحابہ کرام کے لیے بھی ایک آزمائش تھا، درحقیقت آپ ﷺ کی غیر معمولی سیاسی بصیرت اور الہامی دور اندیشی کا نقطہ عروج تھا۔ اسی معاہدے نے دس سالہ امن کی ضمانت دے کر اسلام کے پرامن پیغام کی اشاعت کے لیے وہ دروازے کھول دیے جو تلوار کے سائے میں کبھی نہ کھلتے، اور بالآخر بغیر خون بہائے فتحِ مکہ کی راہ ہموار کی۔اور پھر تاریخ کا وہ ناقابلِ فراموش دن! جب دس ہزار قدسیوں کا لشکر فاتحانہ مکہ میں داخل ہوا تو انتقام کی آگ بھڑکانے کے بجائے آپ ﷺ نے اپنے خون کے پیاسوں کے لیے عفو و درگزر کا وہ اعلان فرمایا جو انسانیت کی تاریخ میں بے مثال ہے۔ آپ ﷺ نے حضرت یوسف علیہ السلام کا اپنے بھائیوں سے کہا گیا وہ تاریخی قرآنی جملہ دہرایا:
(آج تم پر کوئی ملامت نہیں… جاؤ، تم سب آزاد ہو۔) (بحوالہ: سورۃ یوسف، 92 و سیرت ابن ہشام)
طاقت کے عروج پر عفو کا یہ عمل محض ایک اخلاقی کرشمہ نہ تھا، بلکہ یہ مستقبل کی دنیا کے لیے بین الاقوامی قانون، جنگی اخلاقیات اور مابعد جنگ مفاہمت (Post-Conflict Reconciliation) کا ایک لازوال معیار قائم کر گیا۔ جیسا کہ پروفیسر جان اسپوزیٹو (John L. Esposito) نے بھی تسلیم کیا ہے، آپ ﷺ نے بین الریاستی تعلقات کے لیے ایسے پائیدار اصول وضع کیے جو آج بھی قابلِ عمل ہیں۔
آج اکیسویں صدی کی انسانیت بظاہر مادی ترقی اور سائنسی کامیابیوں کے عروج پر کھڑی ہے، لیکن روحانی طور پر ایک گہرے بحران کا شکار ہے۔ نسلی امتیاز، معاشی استحصال، ماحولیاتی تباہی، خاندانی نظام کی شکست و ریخت اور عالمی جنگوں کے سائے نے ہمارے سیارے کے مستقبل کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ ایسے میں بعثتِ محمدی ﷺ کا پیغام ایک بار پھر تازہ اور حیات بخش محسوس ہوتا ہے۔ یہ پیغام ہمیں سود پر مبنی استحصالی نظام کے مقابلے میں زکوٰۃ اور صدقات پر مبنی ایک منصفانہ معاشی ماڈل دیتا ہے؛ یہ ہمیں طبقاتی تقسیم کے بجائے تقویٰ پر مبنی انسانی اخوت کا درس دیتا ہے؛ یہ ہمیں بے لگام خواہشات کے بجائے میانہ روی اور اعتدال کی زندگی گزارنے کی تلقین کرتا ہے؛ اور یہ ہمیں تصادم کے بجائے مکالمے اور مفاہمت کی راہ دکھاتا ہے۔
بلاشبہ، حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد تاریخ میں محض ایک واقعہ نہ تھی، بلکہ یہ ایک زندہ اور متحرک انقلاب تھا جس نے انسانیت کے سفر کا رخ موڑ دیا۔ آپ ﷺ نے جہالت کو علم سے، ظلم کو عدل سے، استحصال کو مساوات سے، اور نفرت کو محبت اور رحمت سے بدل دیا۔ آپ ﷺ کی سیرت ایک ایسا مکمل ضابطہ حیات ہے جس میں نظریہ اور عمل کا کامل امتزاج ملتا ہے، جہاں فرد کی روحانی بلندی اور معاشرے کی مادی فلاح ایک دوسرے سے جدا نہیں۔ آج کی انسانیت، چاہے اس کا شعوری طور پر اعتراف کرے یا نہ کرے، انہی آفاقی اصولوں سے کسی نہ کسی شکل میں فیضیاب ہو رہی ہے، اور مستقبل کی پائیدار نجات بھی انہی سنہری تعلیمات کی طرف رجوع کرنے میں مضمر ہے۔ آپ ﷺ کی بعثت پوری انسانیت کے لیے اللہ کا ایک ابدی احسان اور ایک لازوال رحمت ہے، اور یہی آپ ﷺ کے ‘رحمۃ للعالمین’ ہونے کا عملی ثبوت ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Post Views: 3
Like this:
Like Loading...