Skip to content
دوسری کیس اسٹڈی.
بین مذہبی شادی(Interfaith Marriage) و انجام
تجزیہ کار : نجیب الرحمن خان
(مہاراشٹر – انڈیا ) 9657233166
ایک دن مجھے اپنے کئی ساتھیوں کے میسیج اور فون آئے کہ ایک لڑکی کی بین مذہبی شادی ( Interfaith Marriage ) کی درخواست سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے۔ آپ جا کر تحقیق کریں اور انہیں سمجھائیں۔
میں اپنے ایک بزرگ ساتھی کو ساتھ لے کر دیئے گئے پتے پر پہنچا، مگر معلوم ہوا کہ وہ مکان بدل چکے ہیں۔ پڑوسیوں کی رہنمائی سے کئی جگہ تلاش کرنے کے بعد آخرکار ان کے موجودہ پتے پر پہنچے۔
گھر کے باہر اور اندر بھیڑ تھی، مگر ہمیں راستہ دے دیا گیا۔ لڑکی کی والدہ نےچٹائی بچھائی اور بٹھایا، اور بیٹی کی کہانی سنانا شروع کیا۔ درمیان میں لڑکی نے خود کہا:
"میری کوئی غلطی نہیں، میں پہلے سے شادی شدہ ہوں، یہ میرا نکاح نامہ ہے۔ شاید کسی نے میرے آدھار کارڈ کی فوٹو کاپی غلط استعمال کی ہو۔ میں اس لڑکے کو نہیں جانتی۔”
میں نے اس کی پوری بات سننے کے بعد کہا کہ بیٹا ! یہ نوٹس آپ کی تحریری درخواست کے بغیر سوشل میڈیا پر نہیں آسکتی۔ یقیناً درخواست آپ ہی کی طرف سے دی گئی ہے۔ اس پر اس کے چہرے کے تاثرات بدل گئے۔
نکاح نامہ دکھایا گیا، جسے میں نے باریکی سے دیکھا۔ اس میں لڑکے کا مقام، ریاست اور گواہوں کی عمر جعلی لگ رہی تھی۔ مجھے شک ہوا کہ نکاح کے وقت وہ غیر کلمہ تھا اور اب چند پیسوں کے لالچ میں بین مذہبی شادی (Interfaith Marriage) کر رہا ہے۔
بچی مزید تفصیلات بتانے کو تیار نہ تھی۔ ایک بہترین داعی ،جو امت کا درد لیے 45 کلو میٹر کا سفر طے کرکے آئے وہاں موجود تھے، انہوں نے بار بار کہا کہ شوہر سے بات کروا دو۔ مگر وہ انکار کرتی رہی۔ آخرکار اس نے فون ملا دیا، اور شوہر کی زبان سے "کاکا اور اوپر والے کی کرپا” سن کر ہمارا شک مزید پکا ہو گیا۔
عشاء کی نماز کے بعد میں نے لڑکی کے نانیہالی و دادیہالی رشتہ داروں کو مسجد بلا کر سمجھانے کی کوشش کی، مگر سب کے سمجھانے کے باوجود وہ اپنی ضد پر قائم رہی۔ میرے خدشات کو لواحقین نے درست قرار دیا اور نکاح کی روداد سنائی۔
شہر کے چند غیور افراد کے دباؤ پر بچی بونڈ پیپر لکھنے پر راضی ہوئی کہ یہ سب غلط ہے، مگر بونڈ پیپر لانے میں تاخیر ہوئی اور وہ گھر بند کر کے غائب ہو گئ۔
چند سال بعد جب واپس آئی تو حالات بگڑ چکے تھے۔ والد کا انتقال ہو چکا تھا، گھر میں اختلافات اور بے سکونی تھی، رشتے دار دور ہو گئے، اور انجام یہ ہوا کہ شوہر نے خودکشی کر لی۔
اس کیس اسٹڈی سے سبق
یہ سچا اور حقیقی واقعہ ہمیں کئی باتوں کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ یہ واقعہ ہمیں جھنجھوڑتا ہے کہ:
1. والدین اولاد کی تربیت پر خصوصی توجہ دیں :-
افسوس! آج سوشل میڈیا اور سیریلز ہمارے بچوں کی تربیت کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے سماج میں بگاڑ پیدا ہو رہا ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کے لئے وقت نکالیں، قرآن و احادیث کی روشنی میں ان کی تربیت کریں، بہتر اخلاق پیدا کریں اور دینی سرگرمیوں میں انہیں شریک کریں۔
حضرت لقمان نے اپنے بیٹے سے کہا تھا:
"بیٹا! دنیا میں اپنا حصہ فراموش نہ کر اور آخرت کو مت بھول۔”
2. بلوغت کے بعد فوراً نکاح کر دینا چاہیے :-
ایمان، نگاہ اور عزت کی حفاظت کے لئے فوری نکاح ضروری ہے۔ ورنہ تاخیر ذہنی دباؤ، بے چینی اور مایوسی کا باعث بن سکتی ہے۔ نکاح برکت کا ذریعہ بھی ہے، جس کے بعد شوہر اور بیوی ایک دوسرے کی مدد کر سکتے ہیں اور مل کر معاشی مسائل کا حل نکال سکتے ہیں۔
محض غربت اور تنگدستی کی وجہ سے نکاح میں تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"پاکدامنی کی غرض سے جو بندہ نکاح کرتا ہے اللہ اس کی مدد فرماتا ہے۔” (جامع ترمذی 1655)
3. غیر اسلامی رسومات کا خاتمہ وقت کی ضرورت ہے۔ :-
* منگنی (Engagement) :-
لفظ "منگنی” ہندی زبان کا ہے، "موجودہ زمانے میں یہ شادی کی نسبت ایک رسم ہے، جس میں لڑکی اور لڑکے کو ایک دوسرے کے ساتھ منسوب کر دیا جاتا ہے۔”
آج کل جس طرح دھوم دھام سے اس کا اہتمام ہوتا ہے وہ فضول خرچی اور بے پردگی کا ذریعہ ہے۔ جس کی وجہ سے امت مسلمہ معاشی کمزوری کا شکار ہورہی ہیں۔ مرد کے لئے سونے کی انگوٹھی حرام ہے، لہٰذا انگوٹھی کی رسم کو ختم کیا جانا چاہیے۔
* نکاح کے موقع پر دعوت طعام :-
ڈاکٹر اسرار احمد کے مطابق نکاح کے موقع پر اسلام میں کوئی دعوت طعام نہیں ہے۔ حتیٰ کہ لڑکی کے والدین پر ایک پیسہ کا بوجھ بھی اسلام نے نہیں ڈالا۔ رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کی بیٹیوں کے نکاح ہمارے لیے نمونہ ہیں، جن میں کوئی دعوت طعام نہیں تھی۔ دعوت صرف "ولیمہ” ہے، جس کے متعلق کئی احادیث موجود ہیں۔
* جہیز ( Dowry ) :-
اسلام میں جہیز کا کوئی تصور نہیں ہے ۔ عربی زبان میں جہیز کے لیے کوئی لفظ ہے ہی نہیں ۔ عہد نبویﷺ
میں جتنی شادیاں ہوئیں ، کسی میں بھی جہیز کا تذکرہ نہیں ملتا ۔
جہیز ایک لعنت ہے، یہ ہندوانہ رسم ہے جو رفتہ رفتہ مسلمانوں میں بھی سرایت کر گئی ہے۔آج جہیز کی وجہ سے ہزاروں غریب و متوسط گھرانوں کی بچیاں شادی سے محروم ہیں۔ غربت کے باعث کئی لڑکیاں غیر مسلموں سے شادی یا فرار ہو کر ایمان کھو رہی ہیں اور ارتداد کا شکار ہو رہی ہیں، جبکہ بعض مایوسی میں خودکشی کر رہی ہیں۔
لہٰذا اس سماجی ناسور کا مکمل خاتمہ ضروری ہے۔
* بارات :-
لفظ "بارات” عربی یا اسلامی اصطلاح نہیں ہے۔ یہ ہندی/سنسکرت الاصل لفظ ہے، جو برصغیر کی تہذیب میں رائج ہوا۔ قرآن و حدیث میں اس کا کوئی تصور نہیں۔ مسلمانوں میں یہ رسم ہندو معاشرت کے اثر سے آئی۔
لہٰذا بارات کے نام پر گاڑیاں بھر بھر کر لے جانا اور لڑکی والوں پر بوجھ ڈالنا غیر اسلامی ہے۔
مسنون نکاح میں ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی صاحب لکھتے ہیں کہ
” آج کل باراتیوں کی لمبی لسٹ بنتی ہے۔لڑکے کے چچا اور چچیاں ، خالو اور خالائیں ، پھوپھا اور پھوپھیاں ، پڑوسی ، دوست و احباب ، غرض ایک لمبی فہرست تیار ہوتی ہے ۔ اس موقع پر کسی کو نظر انداز کیا جاتا ہے ، یا بھول کر اس کا نام چھوٹ جاتا ہے تو وہ ناراض ہوجاتا ہے ۔ پھر لڑکے والے لڑکی والوں سے کہتے ہیں کہ ہمیں کچھ نہیں چاہیے ۔ ہم تو صرف یہ چاہتے ہیں کہ ہمارے ساتھ جو باراتی آپ کے یہاں پہنچیں ان کی خوب اچھی طرح خاطر داری ہو ۔ غور کریں ، یہ کتنی بڑی زیادتی اور بے شرمی کی بات ہے کہ لڑکے والے اپنے مہمانوں کو زبر دستی لڑکی والوں کا مہمان بنا دیتے ہیں ۔ عہد نبویﷺ
میں ہونے والی شادیوں میں بارات کا کوئی تصور نہیں تھا ۔ حضرت عبد الرحمن بن عوفؓ کا شمار مدینہ کے انتہائی مال داروں میں ہوتا تھا ۔ اس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ انتقال کے وقت انھوں نے جو سونا چھوڑا اسے کلہاڑی سے کاٹ کاٹ کر ان کے ورثہ میں تقسیم کیا گیا تھا ۔ ان کا جب نکاح ہوا تو انھوں نے اللہ کے رسول ﷺ کو بھی بلانے کی ضرورت نہیں سمجھی ۔ بعد میں جب آپ ؐ کو معلوم ہوا توان سے فرمایا : "اے عبد الرحمن ! ولیمہ کرو،چاہے اس میں ایک بکری ہی ذبح کرو”۔ (بخاری:2048، مسلم:1427) ہم غور کریں ، اللہ کے رسول ﷺ کی ذات کتنی با برکت اور محترم تھی ۔ ایک چھوٹی بستی میں نکاح کی مجلس ہوتی ہے ، لیکن آپؐ کو بلانے کی ضرورت نہیں محسوس کی جاتی۔”
4. بین مذہبی شادی – (Interfaith Marriage). کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں :-
چند سالوں سے اس میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرنے والوں کی فتنہ انگیزیاں، مسلمانوں کی نئی نسل کی دین سے بے خبری، تعلیم اور ملازمت کی جگہوں میں آزادانہ اختلاط، دینی واخلاقی تربیت سے محرومی یا کمی اورمختلف وجوہ سے شادی میں تاخیر اس کے اہم اسباب ہیں۔ یہ وقتی محبت کا انجام اکثر تباہی ہوتا ہے۔ سورۃ البقرة، آیت 221 میں ارشاد ہے:
ترجمہ:
"تم مشرک عورتوں سے ہرگز نکاح نہ کرنا، جب تک کہ وہ ایمان نہ لے آئیں ۔ ایک مومن لونڈی مشرک شریف زادی سے بہتر ہے، اگرچہ وہ تمہیں بہت پسند ہو۔ اور اپنی عورتوں کے نکاح مشرک مردوں سے کبھی نہ کرنا، جب تک کہ وہ ایمان نہ لے آئیں۔ ایک مومن غلام مشرک شریف سے بہتر ہے اگرچہ وہ تمہیں بہت پسند ہو۔ یہ لوگ تمہیں آگ کی طرف بلاتے ہیں اور اللہ اپنے اذن سے تم کو جنت اور مغفرت کی طرف بلاتا ہے، اور وہ اپنے احکام واضح طور پر لوگوں کے سامنے بیان کرتا ہے، توقع ہے کہ وہ سبق لیں گے اور نصیحت قبول کریں گے” ؏
ساتھیوں! ارتداد وقتی میٹھا مگر انجام میں زہر ہے۔ یہ دنیا و آخرت دونوں کی بربادی ہے۔
5. ہر مسجد میں فیملی کونسلنگ سینٹر قائم کیا جائے :-
موجودہ دور میں جب خاندانی نظام بگڑ رہا ہے اور رشتے کمزور ہو رہے ہیں، ایسے میں فیملی کونسلنگ سینٹر ضرورت ہیں۔ یہ مراکز خاندان کو بہتر فیصلہ سازی، جذباتی سکون اور خوشگوار ماحول فراہم کر سکتے ہیں۔امام مسجد یا تجربہ کار کونسلر کی رہنمائی حاصل کی جائے اس سے معاشرہ بہتر ہو سکتا ہے۔
6. عصری اداروں میں خصوصی نصاب :-
علماء کرام و کاونسلر حضرات مل کر ملکی تناظر میں نکاح سے قبل اور بعد کی زندگی، ارتداد کے خطرات، امورِ خانہ داری اور احساس ذمہ داری پر مبنی ایک جامع نصاب مرتب کریں اور اسے ہائی اسکول، جونیئر کالج اور اعلیٰ تعلیمی اداروں میں پڑھانے کا اہتمام کیا جائے۔ امید ہے کہ اس سے سماج میں بیداری آئے گی۔
7.نکاح کی کاروائی سے قبل مساجد میں تحقیق لازمی ہو :-
ہر مسجد میں نکاح سے پہلے لڑکے اور لڑکی کی مکمل تحقیق کی جائے تاکہ غیر کلمہ افراد کا اس کیس کی طرح نکاح مساجد میں نہ ہو۔ نکاح نامہ جدید طرز پر مکمل دستاویزات کے ساتھ ہونا چاہیے۔
آخری بات
آئیے اپنے گھروں میں تربیت کی روشنی جلائیں، نکاح کو آسان بنائیں اور اپنی نسل کو ایمان و عزت کی حفاظت کا شعور دیں، تاکہ کل کا پچھتاوا آج کی بیداری سے بچ سکے۔اللہ کے رسول ﷺ کے ارشادات ، آپؐ کا اسوہ اور صحابہ کا عمل ہماری ہر موقع پر رہ نمائی کرتے ہیں۔ آپؐ کا ارشاد ہے :
أعظَمُ النِّکَاحِ بَرَکَۃً أیسَرُہ مَئُونَۃً (احمد: 24529)
”سب سے زیادہ با برکت نکاح وہ ہے جس میں کم سے کم خرچ ہو“۔
Post Views: 0
Like this:
Like Loading...