Skip to content
جمعہ نامہ:
یہ مال و دولتِ دنیا یہ رشتہ و پیوند
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
ارشادِ ربانی ہے:’’ لوگوں کو مرغوب چیزوں کی محبت نے فریفتہ کیا ہوا ہے جیسے عورتیں اور بیٹے اور سونے اور چاندی کے جمع کیے ہوئے خزانے اور نشان کیے ہوئے گھوڑے اور مویشی اور کھیتی (وغیرہ) ‘‘۔یہی وجہ ہے کہ ہر کس و ناکس دنیا کا دیوانہ ہوکر اپنی ذات اور اپنے خالق و مالک سے غافل ہوجاتا ہے۔ مقصدِ زندگی سے بیگانہ انسان بھول جاتا ہے کہ :’’یہ(سب) دنیوی زندگی کا سامان ہے، اور اللہ کے پاس بہتر ٹھکانا ہے ‘‘۔ یہاں تودنیا و عقبیٰ کے فرق کی جانب ایک ہلکا سا اشارہ ہے مگر دیگر مقام پر فرمایا گیا:’’ دنیوی زندگی (کی عیش و عشرت) کھیل اور تماشے کے سوا کچھ نہیں اور یقینا آخرت کا گھر ہی ان لوگوں کے لیے بہتر ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں، کیا تم (یہ حقیقت) نہیں سمجھتے ‘‘۔ اللہ تبارک و تعالیٰ سے محبت کرنے والے اور اس کی نافرمانی سے ڈرنے والے متقیوں کے سامنے بھی دنیا خوب آب و تاب کے ساتھ آتی ہے مگر وہ جانتے ہیں:’’مال اور اولاد (تو صرف) دنیاوی زندگی کی زینت ہیں اور (حقیقت میں) باقی رہنے والی (تو) نیکیاں (ہیں جو) آپ کے رب کے نزدیک ثواب کے لحاظ سے (بھی) بہتر ہیں اور آرزو کے لحاظ سے (بھی) خوب تر ہیں ‘‘۔
انیل امبانی کی زندگی کے نشیب و فرازاس آیت کی زندہ تفسیر ہیں کہ :’’ (اے لوگو!) یہ دنیا کی زندگی کھیل اور تماشے کے سوا کچھ نہیں ہے، اور حقیقت میں آخرت کا گھر ہی (صحیح) زندگی ہے۔ کاش! وہ لوگ(یہ راز) جانتے ہوتے‘‘۔موصوف نے2004 میں کہا تھا:’’’ایک بار کامیابی مل جائے تو اگلی کامیابی آسان ہو جاتی ہے۔‘‘۔یہ اس وقت کی بات ہے جبترقی کی بلندیوں پرفائز ریلائنس انڈسٹریز کےمالک دھیرو بھائی امبانی کےاس چشم و چراغ کے لیے ناکامی کا تصور بھی محال تھا۔ آگے چل کر بڑے بھائی مکیش کےساتھ خاندانی کاروبارمنقسم ہوا توانیل امبانی کو اپنی پسند کے ٹیلی کام، مالیاتی خدمات اور توانائی جیسے نئے دور کے شعبے ملے اگرچہ ریلائنس گروپ کا بنیادی کاروبار پیٹرو کیمیکل تھا لیکن پر اعتماد انیل امبانی کو نئے دور کی تجارت میں ترقی کے روشن امکانات کا انتخاب کیا۔اس وقت ملک میں ٹیلی کام انقلاب کے عروج پر تھا اور توانائی، انشورنس اور مالیاتی خدمات میں بیرونی سرمایہ کاری کے لیے معیشت کے دروازے کھولےجا رہے تھے۔ ریلائنس فون کا نعرہ ’کرلو دنیا مٹھی میں‘ دراصل انیل امبانی کے عزائم کا مظہر تھا۔
ارشادِ ربانی ہے: ’’انسان کا حال یہ ہے کہ جب ہم اس کو نعمت عطا کرتے ہیں تو وہ اینٹھتا اور پیٹھ موڑ لیتا ہے۰۰۰‘‘۔دنیا کی بے ثباتی سے غافل اور آخرت سے بے نیاز انیل امبانی نے 2008 میں ریلائنس پاور کا آئی پی او لانچ کیاتو صرف چند منٹ میں وہ اوور سبسکرائب ہو گیا۔پیش کردہ حصص کی تعداد سے تقریباً 69 گنا اضافی بولیاں لگائی گئیں۔ یہ اس وقت ہندوستان کا سب سے بڑا آئی پی او تھا۔ فلمی دنیا کے شوقین انیل امبانی نے اداکارہ ٹینا منیم سے شادی کی اور عالمی سطح کے بڑے فلم ساز سٹیون سپیلبرگ کے ڈریم ورکس سٹوڈیوز کے ساتھ شراکت داری میں فلموں کا کاروبار شرع کیا۔اپنی فتحمندی کا پرچم لہرانے والے انیل نے ایڈلیب خریدلی اور2008 تک وہ ہندوستان اور بیرون ملک 700 پردہٌ سیمیں کے ساتھ سب سے بڑے ملٹی پلیکس کمپنی کے مالک بن گیا۔اسی سال معروف عالمی جریدے فوربز میگزین نے انیل امبانی کو 42 ارب ڈالر کی مجموعی مالیت کے ساتھ دنیا کا چھٹا امیر ترین شخص قرار دے دیالیکن پھر زوال شروع ہواتویہ ہوا کہ:’’۰۰۰اور جب ذرا مصیبت سے دو چار ہوتا ہے تو مایوس ہونے لگتا ہے‘‘۔
انیل امبانی کوپہلا جھٹکا2011 میں لگا جب مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) نے مبینہ ٹو جی سپیکٹرم بدعنوانی میں ان سے پوچھ گچھ کی لیکن پھر سرکار بدل گئی اور اچھے دن لوٹ آئے۔ارشاد قرآنی ہے:’اگر کبھی ہم انسان کو اپنی رحمت سے نوازنے کے بعد پھر اس سے محروم کر دیتے ہیں تو وہ مایوس ہوتا ہے اور ناشکری کرنے لگتا ہے۔ اور اگر اُس مصیبت کے بعد جو اُس پر آئی تھی ہم اسے نعمت کا مزا چکھاتے ہیں تو کہتا ہے میرے تو سارے دلدر پار ہو گئے، پھر وہ پھولا نہیں سماتا اور اکڑنے لگتا ہے ۔‘‘ انیل امبانی نے 2015 میں پیپاو ڈیفینس اینڈ آف شور انجینئرنگ کو 2,082 کروڑ روپے میں خریدکر دفاعی شعبے میں قدم رکھا اور وزیر اعظم کے ساتھ فرانس جاکر رافیل طیاروں کی سودے بازی میں حصے دار بن گیا۔راہل گاندھی نے 7 مارچ 2019 الزام لگایا تھاکہ ’ انیل امبانی کو 30 ہزار کروڑ روپئے کا فائدہ پہنچانے کے لیے رافیل ڈیل میں تاخیر کی گئی‘‘ لیکن وزیر اعظم کا آشیرواد بھی اس ڈوبتے جہاز کو نہیں بچا سکا اور اب تو وہ سرکار نہا دھو کر انیل امبانی کے پیچھے پڑ گئی ہے۔
ارشادِ فرقانی ہے:’’اس دن پرہیز گاروں کے سوا گہرے دوست بھی ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں گے ‘‘۔ قیامت کے اس منظرکی ہلکی سی جھلک دنیا میں اس وقت نظر آئی ہے جب انیل امبانی کی ہمدردوخیرخواہ سرکارنےان کے خلاف تفتیش کے لیے ای ڈی بھیج دی۔ انیل امبانی اپنا سامراج بچانے کی خاطر سارے ٹیلی کام اثاثےاپنے بھائی مکیش کے ریلائنس جیو کو 18,000 کروڑ روپئے میں فروخت کرنے پر رضامندہوگئے تھے۔ یہ بات بھی نہیں بنی کیونکہ سرکار ی محکمہ نے ریلائنس جیو کو ریلائنس کمیونیکیشن کے واجبات بھی ادا کرنےکا پابند کردیا تو اس سے بچنے کے لیے بھائی نے قصائی کی طرح ساتھ چھوڑ دیا۔فی الحال انیل امبانی 17000 کروڑ روپے قرض فراڈ سے لے کر منی لانڈرنگ تک کئی مقدمات میں گھرا ہوا ہے۔اس کی دو سب سے بڑی کمپنیوں کے حصص میں بالترتیب 28 اور 20 فیصد کی کمی آئی ہے۔ ویسے2020 میں ہی چینی بینکوں کے قرض سے متعلق ایک تنازعہ پر انگلینڈ کی ہائی کورٹ میں انیل نے اپنے دیوالیہ ہونے کے سبب قرض کی ادا ئیگی سے معذوری ظاہر کی تھی۔یہ عبرتناک انجام اس فرمان کا ترجمان ہے کہ: ’’اور جو چیز بھی تمہیں عطا کی گئی ہے سو (وہ) دنیوی زندگی کا سامان اور اس کی رونق و زینت ہے۔ مگر جو چیز (ابھی) اللہ کے پاس ہے وہ (اس سے) زیادہ بہتر اور دائمی ہے۔ کیا تم (اس حقیقت کو) نہیں سمجھتے؟ ‘‘یہی بات علامہ اقبال نے کیا خوب انداز میں کہی ہے کہ ؎
یہ مال و دولتِ دنیا، یہ رشتہ و پیوند
بُتانِ وہم و گُماں، لَا اِلٰہَ اِلّاَ اللہ
Like this:
Like Loading...