Skip to content
تلواروں کے حصار میں سراپا رحمتؐ
✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040
یہ موضوع اپنی معنوی وسعت اور فکری گہرائی میں نہایت نازک بھی ہے اور نہایت حسین بھی۔ کیونکہ یہاں ایک ایسا سوال ہے جو بظاہر تضاد معلوم ہوتا ہے، لیکن حقیقت میں وہ انسانی عقل کو روشنی عطاء کرتا ہے اور دل کو اطمینان بخشتا ہے۔ دنیا کی تاریخ میں اگر کسی شخصیت کو سراپا رحمت، محبت، عفو و درگزر اور انسان دوستی کا حقیقی مظہر کہا جا سکتا ہے تو وہ صرف اور صرف سیّد المرسلین حضرت محمّد مصطفیٰﷺ کی ذات اقدس ہے۔ قرآن نے آپﷺ کو وہ بلند ترین خطاب عطا فرمایا جو کسی اور بشر کو نصیب نہ ہوا: "وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ” ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر۔ یہ اعلان اس بات کا اعلان تھا کہ آپﷺ کی زندگی انسانیت کے ہر گوشے کے لیے محبت، خیر، برکت اور روشنی کا سر چشمہ ہے۔
لیکن تعجب خیز حقیقت یہ ہے کہ اس "رحمۃ للعالمین” کی حیاتِ طیبہ مسلسل تلواروں کے سائے میں گزری۔ غزوۂ بدر، احد، خندق اور حنین کے میدان… ہجرت کے کٹھن مراحل، دشمنوں کی ریشہ دوانیاں اور مکّہ و مدینہ کی سنگین سازشیں… یہ سب تاریخ کے صفحات پر ثبت ہیں۔ سوال پیدا ہوتا ہے: اگر آپﷺ رحمت اور محبت کے پیکر تھے تو یہ تلواریں کیوں اٹھیں؟ اور پھر ان تلواروں کی چمک میں بھی رحمت و شفقت کے انوار کیسے جھلکتے رہے؟
اس سوال کا جواب دراصل انسانی تاریخ کے سب سے بڑے سبق میں پوشیدہ ہے۔ رسول اکرمﷺ نے کبھی تلوار کو اپنی دعوت کا ذریعہ نہیں بنایا، بلکہ تلوار صرف اس وقت اٹھائی گئی جب دشمنانِ حق نے مظلوموں کا خون بہایا، حق کو کچلنے کی کوشش کی، اور ظلم و جبر کو نظامِ حیات بنانے پر تلے ہوئے تھے۔ گویا تلوار مظلوم کی ڈھال تھی، ظالم کے ہاتھ کو روکنے کا وسیلہ تھی۔ قرآن نے خود اعلان کیا: "وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّىٰ لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ” ان سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین صرف اللّٰہ کے لیے ہو جائے۔
یہاں بھی مقصد فتحِ زمین یا اقتدار کا حصول نہ تھا، بلکہ انسان کو ظلم و جبر کی زنجیروں سے آزاد کرنا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ہر معرکے میں آپﷺ کا کردار محض ایک فاتح سپہ سالار کا نہیں بلکہ ایک شفیق مربّی کا تھا۔ بدر کے قیدیوں کے ساتھ حسنِ سلوک، فتح مکّہ پر عام معافی کا اعلان، طائف کے سنگ باری کرنے والوں کے لیے بددعا کے بجائے دعا، یہ سب اس بات کی شہادت ہیں کہ تلوار کی نوک پر بھی آپ کا دل رحمت اور محبت سے لبریز تھا۔ اگر آپﷺ صرف فاتح ہوتے تو تاریخ میں آپ کی پہچان تلوار کے واروں سے ہوتی، لیکن آپ کا نام آج بھی رحمت و محبت کے ساتھ زندہ ہے۔ آپ نے تلوار کو خون بہانے کے لیے نہیں بلکہ خون بچانے کے لیے استعمال کیا۔ آپ نے جنگ کو مقصد نہیں بلکہ آخری علاج (Last Resort) کے طور پر اختیار کیا۔ اور پھر بھی جب کبھی میدان جنگ میں آپ کو غصّے کا موقع ملا، وہاں بھی عفو و درگزر کا چراغ جلایا۔
یہی وجہ ہے کہ غیر مسلم مؤرخین نے بھی اعتراف کیا کہ "محمدﷺ کی تلوار نے کبھی دلوں کو مجبور نہیں کیا، بلکہ دلوں کو آزاد کیا”۔ آپ کی حیاتِ طیبہ میں رحمت اور تلوار کا حسین امتزاج دراصل یہ پیغام دیتا ہے کہ حقیقی امن صرف اس وقت قائم ہوتا ہے جب ظلم کا قلع قمع کیا جائے، اور حقیقی محبت اسی وقت محفوظ رہتی ہے جب مظلوموں کو سہارا دیا جائے۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ رسولِ رحمتﷺ کی زندگی اس آیت کی عملی تفسیر تھی: "فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللَّهِ لِنتَ لَهُمْ” اللّٰہ کی رحمت کے باعث آپ ان کے لیے نرم دل ہیں۔ اور یہی نرم دلی تلواروں کے شور میں بھی اپنا رنگ دکھاتی رہی۔
مکّہ کی وادیوں سے مدینہ کی سر زمین تک
رسول اکرمﷺ کی بعثت کا آغاز اُس شہر میں ہوا جس کی وادیاں سکون و اطمینان کا پتہ دیتی تھیں، جہاں خانۂ کعبہ کے سائے میں لوگ اپنی قدیم روایات اور رسم و رواج پر فخر کرتے تھے۔ مکّہ کی فضائیں اپنے ظاہر میں پُرامن نظر آتی تھیں، مگر اس امن کے پردے کے پیچھے ظلم و جبر، طبقاتی تفاوت، معاشرتی ناانصافیاں اور مذہبی جمود کی ایک اندھیری دنیا آباد تھی۔ ایسے ہی ماحول میں نبی رحمتﷺ نے اعلانِ توحید کیا۔ یہ اعلان کسی تلوار کی جھنکار کے ساتھ نہیں تھا، نہ کسی زبردستی کے نعرے کے ساتھ، بلکہ ایک نرم صدا تھی جو دلوں کی گہرائیوں کو چھو لیتی تھی: "قولوا لا إله إلا الله تفلحوا” "لا الٰہ الا اللّٰہ کہو اور فلاح پاؤ۔” یہ پیغام محبت، اخوت، مساوات اور عدل کا تھا۔ ایک ایسا پیغام جس میں کمزور اور طاقتور، آقا اور غلام، امیر اور غریب سب ایک صف میں کھڑے ہوتے تھے۔ یہی مساوات قریش کے سرداروں کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن گئی۔
وہ جو اپنے اقتدار کو غلاموں کی بیڑیوں اور کمزوروں کی محرومیوں پر قائم کیے ہوئے تھے، وہ کیسے برداشت کرتے کہ ایک نبیﷺ ان کے خداؤں کو باطل قرار دے اور انسان کو صرف ایک خدا کی بندگی کی طرف بلائے؟ نتیجہ یہ ہوا کہ مکّہ کی گلیاں ظلم کے تماشے کا میدان بن گئیں۔ کبھی بلالؓ کو دہکتی ریت پر لٹایا جاتا اور ان کے سینے پر بھاری پتھر رکھا جاتا تاکہ وہ "احد، احد” کی صدا سے باز آئیں۔ کبھی سمیہؓ جیسی کمزور خاتون کو برچھیوں سے شہید کر دیا جاتا۔ کبھی خبابؓ کو دہکتے کوئلوں پر لٹا دیا جاتا۔ کبھی صحابہؓ کو گھسیٹ گھسیٹ کر رسوا کیا جاتا۔ اور خود نبی رحمتﷺ پر کوڑا کرکٹ پھینکا جاتا، ان کے راستے میں کانٹے بچھائے جاتے، اور طائف کی سنگلاخ گلیوں میں آپ کے پُر رحمت قدموں کو لہو لہان کیا جاتا۔
یہ وہ مقام تھا جہاں انسانی صبر کی ساری سرحدیں ٹوٹ جاتی ہیں، مگر رسول اللّٰہﷺ کا صبر ٹوٹا نہیں۔ آپ نے بددعا کے بجائے دعا کی: "اللّٰہم اهد قومی فإنہم لا یعلمون” "اے اللّٰہ! میری قوم کو ہدایت دے، یہ جانتے نہیں۔” لیکن ظلم کی تلواریں رکی نہیں۔ آخر وہ گھڑی آئی جب نبیٔ اکرمﷺ اور آپ کے ساتھیوں کو اپنی محبوب دھرتی، اپنی جائے پیدائش اور اپنے گھر بار کو چھوڑ کر ہجرت پر مجبور ہونا پڑا۔ مکّہ کی وادیوں نے ان کے آنسو دیکھے اور مدینہ کی فضاؤں نے ان کا استقبال کیا۔
مدینہ کی سر زمین گویا ایک نئی صبح کا پیام لے کر آئی۔ وہاں کے باسیوں نے محبت کے ساتھ استقبال کیا، مگر دشمنوں کی تلواریں مکہ سے چل کر مدینہ تک آپﷺ کا پیچھا کرتی رہیں۔ بدر، احد اور خندق کے میدان اس بات کی شہادت ہیں کہ دشمن نے ہر قدم پر نبیٔ رحمتﷺ کی دعوت کو خون سے روکنے کی کوشش کی۔ لیکن کمال یہ ہے کہ ان تلواروں کی جھنکار میں بھی نبی اکرمﷺ کا دل رحمت سے خالی نہ ہوا۔ بدر کے قیدیوں کے ساتھ حسنِ سلوک، احد کی وادی میں زخمی حالت میں بھی امت کے لیے دعا، اور فتح مکّہ کے دن عام معافی کا اعلان… یہ سب اس حقیقت کو روشن کر دیتا ہے کہ مکّہ سے مدینہ تک کا سفر صرف ہجرت نہیں بلکہ رحمت، صبر، استقامت اور انسان دوستی کا سفر تھا۔
دفاعی جنگیں اور رحمت کا مظاہرہ
مدینہ کی بابرکت سر زمین پر جب اسلامی ریاست کی بنیاد رکھی گئی تو اس کا مقصد نہ تو زمینوں پر قبضہ تھا، نہ طاقت کی نمائش اور نہ کسی قوم کو زیر کرنا۔ اس ریاست کی اساس قرآن کے اس اعلان پر تھی:
"لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ” دین میں کوئی جبر نہیں۔ لیکن دشمنانِ اسلام یہ برداشت نہ کر سکے۔ وہی قریش جنہوں نے مکّہ میں کمزوروں کو جلتی ریت پر لٹایا تھا، وہی سردار جو توحید کی آواز کو دبانے کے لیے دن رات سازش کرتے تھے، انہوں نے مدینہ پہنچ کر بھی سکون نہ لینے دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ جنگیں مسلّط کی گئیں: بدر، احد، خندق، حنین… یہ سب معرکے دراصل دشمن کے حملوں کے جواب میں تھے۔ مقصد دفاع تھا، نہ کہ جارحیت۔ مسلمان تلوار اس وقت اٹھاتے جب مظلوموں کی جان بچانا مقصود ہوتا اور عدل کے چراغ کو بجھنے سے بچانا ہوتا۔
لیکن ان جنگوں میں بھی رسول اکرمﷺ کی ذاتِ اقدس نے دنیا کو حیران کر دینے والے اصول عطاء کیے۔ آپﷺ نے لشکر کو روانہ کرتے وقت جو ہدایات دیں، وہ تاریخ کے صفحات پر سنہرے حروف سے لکھی ہوئی ہیں:
عورتوں پر ہاتھ نہ اٹھاؤ، بچّوں کو نقصان نہ پہنچاؤ، بوڑھوں کی جان نہ لی جائے۔
نہ درخت کاٹو، نہ کھیت جلاؤ، نہ باغ اجاڑو۔
عبادت گاہوں میں جو لوگ گوشہ نشین ہیں، انہیں کوئی گزند نہ پہنچے۔
دشمن کے قیدیوں کے ساتھ حسنِ سلوک کرو، انہیں کھانا دو، پانی دو، اور عزّت کے ساتھ رکھو۔
یہ وہ اُصول تھے جو اس وقت کی جنگی تہذیب سے بالکل مختلف تھے۔ دنیا میں اس سے پہلے جنگ کا مطلب قتل و غارت، لوٹ مار، زمین جلانا اور بستیاں ویران کرنا سمجھا جاتا تھا۔ لیکن رسول رحمتﷺ نے میدانِ جنگ کو بھی انسانیت کے احترام کا درسگاہ بنا دیا۔
غور کیجیے، بدر کے بعد قیدیوں کو فدیہ کے بجائے تعلیم دینے پر مامور کیا گیا، یعنی وہ لوگ جو کل تک تلواریں لیے مسلمانوں کے خلاف آئے تھے، آج مدینہ کے بچّوں کے استاد بن گئے۔ یہ تھی رحمتِ محمدیﷺ کی شان! یہی وجہ ہے کہ مسلمان کبھی جارح نہیں بنے، بلکہ ظلم کو روکنے والے اور عدل کے قیام کرنے والے بن کر ابھرے۔ ان کا مقصد زمین پر اللّٰہ کی بندگی کا نظام قائم کرنا تھا، نہ کہ زمین پر قبضہ کرنا۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ رسول اکرمﷺ کے ہاتھ کی تلوار کبھی ظلم کے لیے نہیں اٹھی، بلکہ ہمیشہ ظلم کو روکنے کے لیے اٹھائی گئی۔ اور یہی وہ اصول ہیں جنہوں نے اسلام کی جنگوں کو خونریزی کے بجائے انسان دوستی کے مینار بنا دیا۔
فتحِ مکّہ: رحمت کی بلند ترین مثال
تاریخ کے صفحات پر کچھ ایسے مناظر ثبت ہیں جو قیامت تک انسانیت کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ انہی میں سب سے درخشاں لمحہ فتحِ مکّہ ہے۔ وہی مکّہ… جہاں کے تنگ کوچوں نے نبیٔ رحمتﷺ کو کوڑے کھاتے دیکھا، وہی مکہ جس کی گلیوں نے آپ کے جسمِ اطہر کو لہو لہان ہوتے دیکھا، وہی شہر جس نے آپ کو اپنی محبوب سر زمین سے بے دخل کر دیا، آپ کے ساتھیوں پر ظلم ڈھائے، کمزوروں کو سولی پر لٹکایا اور آگ کے انگاروں پر جلایا۔ آج وہی مکّہ آپﷺ کے سامنے تھا۔ آپ فاتح کی شان کے ساتھ شہر میں داخل ہوئے۔ ہزاروں کے لشکر کی تلواریں آپ کے ایک اشارے کی منتظر تھیں۔ دشمن، جو کل تک خون کے پیاسے تھے، آج لرزتے لبوں اور جھکی گردنوں کے ساتھ بے بس کھڑے تھے۔ اگر اس لمحے عام دنیاوی فاتح کی جگہ کوئی اور ہوتا تو انتقام کی آگ اس کے دل میں دہک رہی ہوتی، اور تلواروں کا سیلاب بہا کر صدیوں کے زخم بھرنے کی کوشش کی جاتی۔
مگر یہ محمدﷺ تھے وہی رحمتِ دو عالمﷺ جن کے سینے میں انسانیت کے لیے بے مثال شفقت اور دریا سے بھی زیادہ گہری رحمت موجزن تھی۔ آپﷺ نے اپنے دشمنوں کو دیکھا اور وہ الفاظ ادا فرمائے جنہوں نے تاریخ کا دھارا بدل دیا: "لَا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ، اِذْهَبُوا فَأَنْتُمُ الطُّلَقَاء”۔ "جاؤ، آج تم پر کوئی مواخذہ نہیں، تم سب آزاد ہو”۔ یہ الفاظ کسی عام فاتح کے الفاظ نہ تھے، یہ اُس ہستی کے کلمات تھے جسے خدا نے رحمۃ للعالمین بنا کر بھیجا تھا۔ انتقام کی جگہ معافی، غضب کی جگہ رحمت، اور قتل کی جگہ زندگی کا پیغام۔ یہی وہ اعلان تھا جس نے دشمنوں کے دلوں کی برف کو پگھلا دیا۔ ہزاروں کی تعداد میں وہی دشمن، جو کل تک اسلام کے خون کے پیاسے تھے، اسی دن اسلام کے دامن میں سمٹ آئے۔
فتحِ مکّہ کا یہ منظر دراصل یہ اعلان تھا کہ اسلام کی اصل روح محبت اور رحمت ہے۔ اگر تلوار اٹھتی بھی ہے تو وہ ظلم کے خلاف اٹھتی ہے، اور جب اقتدار ہاتھ آتا ہے تو وہ دلوں کو معاف کرنے کے لیے آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مؤرخین لکھتے ہیں: "محمدﷺ فاتح بن کر مکّہ میں داخل ہوئے، لیکن اس دن کوئی خون نہیں بہا”۔ دنیا کے بڑے سے بڑے فاتحین نے شہروں کو روند ڈالا، بستیاں اجاڑ ڈالیں، مگر محمدﷺ کی فتح نے بربادی نہیں بلکہ نئی زندگی کو جنم دیا۔ یہ واقعہ آج بھی اس بات کا زندہ ثبوت ہے کہ رحمت کی طاقت تلوار کی طاقت سے کہیں زیادہ قوی ہے۔ اور یہی وہ لمحہ ہے جس نے اسلام کو دلوں کی سلطنت عطاء کی۔
تلوار کے سائے میں اُبھرتی روشنی
یہ ایک ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ رسولِ اکرمﷺ کی حیاتِ مبارکہ کا بڑا حصّہ تلواروں کے سایے میں گزرا۔ بدر، احد، خندق اور حنین جیسے معرکے تاریخ کا حصّہ ہیں۔ مگر یہ تلواریں کبھی خونخواری یا اقتدار کی ہوس کی علامت نہ بنیں، بلکہ وہ رحمت اور عدل کی محافظ رہیں۔ یہ تلواریں اٹھیں تو صرف اس لیے کہ کمزوروں کو سہارا ملے، مظلوموں کو انصاف ملے، اور انسانیت کو ظلم و جبر کے شکنجے سے نجات حاصل ہو۔ رسولِ اکرمﷺ کی تلوار کبھی جبر کے لیے نہیں، بلکہ جبر کو ختم کرنے کے لیے چمکی۔ وہ تلوار کسی معصوم کے خون کے لیے نہیں، بلکہ معصوموں کے خون کو بچانے کے لیے نیام سے نکالی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں میدانِ جنگ میں تلواروں کی جھنکار سنائی دیتی تھی، وہیں انہی سائے تلے مسجد نبوی کی تعمیر کی صدائیں بلند ہو رہی تھیں۔ ایک طرف دفاعی جنگوں کا شور تھا تو دوسری طرف قرآن کی تلاوت کا نور نازل ہو رہا تھا۔
یہ ایک عجیب منظر ہے کہ تلوار کے سائے میں رحمت کی سب سے بڑی درسگاہ وجود میں آئی۔ وہی مدینہ جہاں کبھی خندق کھودی گئی، وہیں انسانیت کی سب سے عظیم دستاویز — قرآن — نازل ہوا۔ وہی مدینہ جہاں کبھی دشمن کے حملوں کے اندیشے تھے، وہیں نبی رحمتﷺ نے ایسا نظامِ عدل قائم کیا جو تاریخ کا رُخ بدل گیا۔
سوچیے! اگر یہ تلواریں نہ ہوتیں تو اسلام کے چراغ کو بجھا دیا جاتا، اور اگر رحمت نہ ہوتی تو یہ تلواریں ظلم کی علامت بن جاتیں۔ مگر اللّٰہ کے رسولﷺ نے دونوں کو اس طرح یکجا کیا کہ تلوار، رحمت کی محافظ بن گئی اور رحمت، تلوار کی رہنما۔ اسی لیے کہا جا سکتا ہے کہ رسول اللّٰہﷺ کی زندگی میں تلوار کے سائے میں جو روشنی اٹھی، وہ صرف مدینہ کی فضاؤں تک محدود نہ رہی۔ وہ روشنی اندلس کے محلوں تک پہنچی، بغداد کے کتب خانوں میں جلوہ گر ہوئی، اور برِ صغیر کی بستیوں کو منور کرتی رہی۔ وہ روشنی آج بھی اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ اصل عظمت تلوار کے وار میں نہیں، بلکہ اس روشنی میں ہے جو تلوار کے سائے میں عدل، امن اور انسانیت کے لیے قائم کی گئی۔
رسول اکرمﷺ کی زندگی کا ہر لمحہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ جنگ کا مقصد کبھی جنگ نہیں، بلکہ امن کا قیام ہے۔ تلوار کا مقصد کبھی خون بہانا نہیں، بلکہ ظلم کا خاتمہ اور کمزوروں کی حفاظت ہے۔ اگر تلوار اٹھتی ہے تو وہ نفرت کے لیے نہیں، بلکہ محبت کو محفوظ رکھنے کے لیے؛ اگر میدان جنگ سجتا ہے تو وہ تباہی کے لیے نہیں، بلکہ عدل و انصاف کے چراغ جلانے کے لیے۔
نبی اکرمﷺ نے دنیا کو یہ نیا تصور دیا کہ رحمت اور تلوار کا امتزاج ممکن ہے مگر اس شرط کے ساتھ کہ تلوار عدل کے لیے اٹھے اور دل رحمت سے لبریز ہو۔ یہی وجہ ہے کہ آپﷺ کی جنگیں انسانیت کے روشن اصولوں کی امین ہیں۔ عورتوں، بچّوں اور بوڑھوں کو قتل نہ کرنے کی ہدایت، کھیتوں اور درختوں کو نقصان نہ پہنچانے کی تاکید، قیدیوں کے ساتھ عزّت و احترام کا سلوک… یہ سب اس بات کا اعلان تھے کہ نبیٔ رحمتﷺ کے ہاتھ میں تلوار ظلم کی علامت نہیں، بلکہ عدل اور کرم کی محافظ تھی۔
یہی وجہ ہے کہ جہاں دوسری قوموں کے فاتحین خون اور انتقام کی داستانیں چھوڑ گئے، وہاں رسول اللّٰہﷺ نے فتح مکّہ جیسے موقع پر معافی اور عفو کی ایک لازوال مثال قائم کی۔ دشمن حیران کھڑے تھے، تلواریں آپ کے اشارے کی منتظر تھیں، لیکن آپﷺ کی زبان سے یہ جملہ نکلا: "جاؤ، آج تم پر کوئی مواخذہ نہیں، تم سب آزاد ہو۔” یہ اعلان بتاتا ہے کہ رحمت کا دریا تلواروں کے شور پر بھی غالب ہے۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ رسول اکرمﷺ کی پوری حیاتِ طیبہ ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ اصل عظمت اس میں نہیں کہ دشمن کو زیر کیا جائے، بلکہ اس میں ہے کہ دشمن کو معاف کر کے دوست بنا لیا جائے۔ اسی لیے تاریخ گواہ ہے کہ "رسولِ رحمتﷺ تلواروں کے سائے میں بھی امن، عفو اور محبت کی چلتی پھرتی تصویر تھے”۔
🗓 (30.08.2025)
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com
Like this:
Like Loading...