Skip to content
مہابھارت کےاساطیری تناظرمیں مودی کا بھارت
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
وطن عزیز کو وزیر اعظم نریندر مودی آگے نہیں لے جا پارہے ہیں اس لیے انہوں پیچھے کی جانب کا رخ کرلیا ہے لیکن یہ معاملہ بھی علامت کی حد تک ہے مثلاً پہلگام حملے کا انتقام لینے کے لیے ’آپریشن سیندور‘ اور دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کی خاطر ’آپریشن مہادیو‘ تک محدود ہے۔ سوئے اتفاق سے گوں ناگوں وجوہات کے سبب بی جے پی کے دونوں مشن ناکام ہو گئے۔سیندور کا معاملہ جب تک ٹیلی ویژن کے پردے پر تھا تب تک تو ٹھیک تھا ۔ گودی میڈیا اسلام آباد اور لاہو ر کو فتح کررہا تھا ۔ کراچی سے کامیابی خوشخبری نشر ہورہی تھی سارے ملک میں جشن و مسرت کا ماحول تھا لیکن درمیان میں ڈونلڈ ٹرمپ آ گیا ۔ وہ اب تک کم از کم چالیس بار جنگ رکوانے کا دعویٰ کرچکا ہے اور ہندوستان کی جانب سے انکار ہورہا ہے لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ جنگ بندی کا اعلان سب سے پہلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیا۔ اس کے بعد پاکستان کی جانب سے اس کی تائید ہوئی اور پھر بادلِ نخواستہ ہندوستانی وزیر خارجہ کے ترجمان کو ان کی پیروی کرنی پڑی ۔ اس طرح رنگ میں بھنگ پڑ گیا ۔
اس کے باوجود بی جے پی والے نہیں مانے کیونکہ انہیں تو اسی آپریشن کی مدد سے بہار الیکشن جیتنا تھا اس لیے سیندور کو ووٹ میں بدلنے کی خاطر زعفرانیوں نے ’گھر گھر کمل چھاپ سیندور کی ڈبیا‘ پہنچانے کا ارادہ کیا ۔ بس وہیں سے بات بگڑگئی کیونکہ اس سے نادانستہ طور پر ’پتی ورتا ہندو ناری ( فرمانبردار اور اطاعت گزار ہندو عورت ) کا اپمان(توہین) ہوگیا‘۔ آر ایس ایس میں برہما چریہ یعنی تجرد کا رواج ہے۔ اس کے سارے دانشور ازدواجی زندگی سے دور رہتے ہیں۔ اس لیے انہیں ہندوتوا کے بلند بانگ نعروں کے باوجود ہندو رسوم و رواج کا علم و فہم کم ہے۔ ہندو مذہب میں ویسے خاتون کی کوئی انفرادی شناخت نہیں ہے بلکہ وہ ایک بے اختیار مخلوق کا ہے۔ شادی سے قبل وہ اپنے والد کی ملکیت ہوتی ہے تبھی توبیٹی کو خیرات ( کنیا دان) کرکے شوہر کے بیاہ میں دیا جاتا ہے ۔ اس کے بعد وہ پتنی بن جاتی ہے یعنی اسے ایک پتی کے حوالے ہوجاتی ہے۔ پتی کے معنیٰ مالک کے ہوتے ہیں جیسے لکھ پتی یا کروڈ پتی ؟ ہندو مذہب میں شوہر کا درجہ نعوذباللہ پرمیشور یعنی اعلیٰ ترین معبود کا ہے اس لیے پتی پرمیشور کی اصطلاح عام ہے۔ اس پر کسی کو حیرت یا تعجب نہیں ہوتا اور وہی اپنی زوجہ کی مانگ میں سیندور بھرتا ہے نیز اس کے گلے میں منگل سوتر ڈالتا ہے۔
انتخاب سے قبل وزیر اعظم نریندر مودی نے ہندو خواتین کو ڈرایا تھا کہ حزب اختلاف ان کے گلے کا منگل سوتر چھین کر زیادہ بچے پیدا کرنے والے یعنی مسلمانوں کو دے دیں گے۔ ایسے میں ہندو عوام نے سوچا ہوگا کہ یہ تو ان کی توہین ہے کیونکہ اگر ایسا ہوگیا تو کیا وہ ہاتھوں میں سہاگ کی نشانی یعنی چوڑیاں پہن کر مودی جی کے انتظار میں بیٹھے رہیں گے۔ اس توہین کا انتقام اس طرح لیا گیا کہ چارسو پار کا خواب دیکھنے والی بی جے پی دو سوچالیس پر سمٹ گئی۔بی جے پی نے اپنی اس شکست سے سبق نہیں سیکھا اور آپریشن سیندور کے بعد زعفرانی ڈبیا لے کر نکلنے کا عزم کیا مگر اس بار بھی ایسا کرارہ طمانچہ پڑا کے بغیر سیندور کے گال لال ہوگئے اور امیت مالویہ کواپنے ناپاک ارادوں سے ہی مکرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ اس کے بعد ایوان پارلیمان میں وزیر داخلہ کی تقریر سے قبل ’آپریشن مہادیو‘ کے تحت مبینہ دہشت گردوں کی ہلاکت پر ٹائمنگ کی وجہ سے شکوک و شبہات پیدا ہوگئے۔ اکھلیش یادو کو یہ چٹکی لینے کا موقع مل گیا کہ کاش یہ اجلاس دوماہ قبل ہوجاتا تو اسی وقت وہ ہلاک کردئیے جاتے۔ ارکان نے یہ سوالات بھی کیے کہ اتنے دنوں تک انہیں اپنے ملک میں حفظ و امان کیونکر حاصل رہا؟ اسی طرح کا تحفظ پہلگام کے سیاحوں کو ملتا تو وہ سانحہ ہی رونما نہیں ہوتا۔
بھارتیہ جنتا پارٹی پر فی الحال جوہندووں کے مذہبی جذبات سے کھیل کر استحصال کرنے کا جنون سوار ہے اس کے تحت وزیر اعظم نریندر مودی نے فرمایاکہ مذکورہ بالا مشن کےلیے انہیں شری کرشن کے سدرشن چکر سے تحریک ملی اور ان سے متاثر ہو کر،’سدرشن چکر مشن‘ شروع کرنے کا فیصلہ کیاگیا۔ اس سدرشن چکر سے متعلق بھی بہت دلچسپ داستانیں ہیں۔وزیر اعظم اس کو خود کفالت سے جوڑ رہے ہیں مگراس کو خود وشنو دیوتا نے ایجاد نہیں کیا بلکہ وہ اس ہتھیار کو شیوا دیوتا سے وردان کے طور پر لے کر آئے تھے۔ سناتن صحیفوں کے مطابق ایک ایسا وقت آیا جب سارے دیوتا اپنے دشمنوں کے حملوں سے گھبرا کر شیوا کی خدمت میں حاضر ہوئے کوئی ایسا ہتھیار طلب کیا جس سے شیطانوں کا مقابلہ کیا جاسکے۔ شیوا نے کم مائیگی کا اظہار کرنے کے بعد وشنو سے رجوع کیا۔ برسوں تک ان کی تپسیاّ کے بعدانہیں اپنی کمل جیسی خوبصورت آنکھ نکال کردے دی تو خوش ہوکر مہادیو نے سدرشن چکرعطاکر دیا جسے کال چکر بھی کہتے ہیں ۔ دیومالائی داستانوں میں یہ ناقابلِ تسخیر ہتھیار ہے۔ اس کے استعمال کی کہانی بھی کم دلچسپ نہیں ہے۔
شیو کے اوتار کرشن کے پاس بھی یہ ہتھیار تھا اور انہوں نے اس کی مدد سے ارجن کو اپنے بیٹے کا انتقام لینے میں مدد کی تھی۔ پانڈو کے خلاف کورو کو تحفظ فراہم کرنے کی خاطر گرو درونا چاریہ نے ایک چکر ویوہ بنایا۔ یہ وہی گرو درونا چاریہ ہے جس نے ایک لویہ کو ذات پات کی بنیاد پر تیر اندازی کی تعلیم دینے سے انکار کردیا تھا ۔ اس کے باوجود وہ اپنی ریاضت کےسبب ارجن سے بہتر تیر انداز بن گیا ۔ درونا چاریہ نے دیکھا کہ ایک قبائلی نوجوان اس کے شاگرد سے آگے بڑھ گیا ہے تو گرو دکشنا کے طور پر اس کا انگوٹھا مانگ کر اسے مفلوج کردیا ۔ یہی وہ ہندو راشٹر ہے جس کےمتعلق آر ایس ایس سربراہ کا دعویٰ ہے کہ اس میں کسی کے خلاف تفریق و امتیاز نہیں ہوتا ۔ یہ برہمن استاد اتنا بے غیرت تھا کہ اس کی آنکھوں کے سامنے اس کے شاگرد جوا کھیلتے رہے مگر اس نے منع نہیں کیا۔ اس کے بعد پانڈووں نے اپنی مشترکہ زوجہ دروپدی کو داوں پر لگا دیا اس کے باوجود اس گرو کو غیرت نہیں جاگی اور اس نے انہیں روکنے کی زحمت نہیں کی ۔
دھرت راشٹر کی خانوادہ میں شامل کورووں نے بازی جیت کر بھرے دربار میں اپنے عم زاد بھائیوں کی زوجہ کو برہنہ کرنے کا ناپاک منصوبہ بنایا۔ اس کھیل میں دونوں جانب ایک ہی خاندان کے ہندو تھے پھر بھی درونا چاریہ خاموش تماشائی بنے رہے ۔فی زمانہ ایسے گرو کے نام سے اساتذہ کو تمغہ دے کر ان کی پذیرائی کی جاتی ہے۔ یہ عزت افزائی ہے یا توہین اس فیصلہ ہر انصاف پسند انسان کرسکتا ہے۔ اساتذہ کے سامنےایسے شخص کو نمونہ بناکر پیش کیا جاتا ہے۔ ہندو راشٹر کے حامیوں کو یہ بتانا ہوگا کہ گرو درونا چاریہ کے ذریعہ سماج کے اندر کس طرح کے اخلاقیات کا فروغ ہوتا ہے؟ اسی میں بی جے پی کے اقتدار پر فائز ہونے کے بعدان خواتین پر بڑھتے مظالم کا راز بھی پنہاں ہے جنہیں کبھی لاڈلی بہنا کے نام پر رشوت دے کر ان سے ووٹ لیا جاتا ہے تو کبھی سیندور کا انتقام پر بہلایا اور منگل سوتر کا ڈر دکھایا جاتا ہے۔ خیرمہابھارت جنگ کے دوران گرو درونا چاریہ نے کورووں کی حفاظت کے لیے چکرویوہ بنایا اور وہ جہاں چل رہا تھا اس سےلوگوں کو بچانے کے لیے سندھ کے راجہ جئے درتھ کو چوکیدار بنا کر بیٹھا دیا۔ جئے درتھ بھی کل یگ کے چوکیدار سے کم نہیں تھا اس نے سارے لوگوں کو تو روک دیا مگر ارجن کے بیٹے ابھیمنیو کو اندر جانے دیا تاکہ وہ چکر ویوہ میں پھنس کر ہلاک ہوجائے۔
مہابھارت کی جنگ کے بارہویں دن ارجن نے اپنے بیٹے کا انتقام لینے کی قسم کھائی کہ اگر وہ شام تک جئے درتھ سے بدلہ نہیں لے سکا تو خود سوزی کرلے گا۔ کورو خوش ہوکر جئے درتھ کے تحفظ میں آگئے یہاں تک کہ سورج غروب کے قریب پہنچ گیا مگر جئے درتھ ارجن کے ہتھے نہیں چڑھا۔ ایسے میں مہا بھارت کہتی ہے کہ کرشن نے اپنے سدرشن چکر سے سورج کو ڈھانپ دیا ۔ اس زمانے میں رات کے وقت جنگ بندی ہوجاتی تھی۔ جئے درتھ نے سوچا اب کوئی خطرہ نہیں ہے اس لیے ازخود سامنے آگیا تو کرشن نے ارجن کو اسے قتل کرنے کا حکم دیا ۔ اب اس داستان کی روشنی میں دیکھیں کہ جو حفاظتی نظام بنایا جارہا ہے اس کا سدرشن چکر سے کیا واسطہ؟ لیکن بیچارے وزیر اعظم اور ان کے مشورہ دینے والے اگر خود اپنی مذہبی تعلیمات سے واقف ہوتے تو پاکستان سے انتقام کے مہم کا نام آپریشن سیندور نہیں رکھتے۔ امیتاب بھ بچن کی اہلیہ جیا بھادوری کو اس نام پر اعتراض ہے مگر اندھ بھگت بھی چونکہ اپنے إزہب سے نابلد ہیں اور ان میں تو ایک سے بڑھ کر ایک اناڑی بیٹھے ہوئے ہیں۔ ایک نے تو ابھی حال میں ہنومان کو دنیا کا پہلا خلاباز کہہ کر اپنا مذاق بنوا لیا اس لیے ایک غلط نام سے چلائی جانے والی مہم کا حال یہ ہے خود وزیر اعظم نریندو مودی نے بھی بہار دورے کے دوران اس کا حوالہ دینے سے گریز کیا یعنی رافیل کی طرح سنگھ پریوار کا جوش بھی زمین پر آگیا۔
Like this:
Like Loading...