Skip to content
میلاد النبیﷺ کا حقیقی پیغام:
فروعی اختلاف سے دعوتی اتفاق واتحادِامت تک
(ربیع الاول کوبطور” ماہِ دعوتِ محمدیﷺ” منائیں)
بقلم: ڈاکٹر محمّد عظیم الدین
(صدر شعبہ اردو، آرٹس کامرس کالج، ییودہ، امراوتی، مہاراشٹر)
——————–
ہر سال جب ماہِ ربیع الاول کا چاند طلوع ہوتا ہے تو امتِ مسلمہ کے قلوب و اذہان نبی آخر الزماں، رحمت اللعالمین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی یاد سے منور ہو جاتے ہیں۔ یہ وہ مبارک مہینہ ہے جس میں انسانیت کے سب سے بڑے محسن کی ولادت باسعادت ہوئی؛ ایک ایسی ہستی جس نے جہالت، ظلم اور وحشت کے اندھیروں میں ڈوبی دنیا کو علم و انصاف، تہذیب و اخلاق کی روشنی عطا کی۔ بلاشبہ، یہ مہینہ مسلمانوں کے لیے روحانی وابستگی اور محبت کے اظہار کا ایک اہم موقع فراہم کرتا ہے۔ تاہم، عصرِ حاضر، بالخصوص سوشل میڈیا کے اس پُر فتن دور میں، یہی مبارک مہینہ امت کے اندر ایک شدید فکری اور فقہی کشمکش کا مرکز بھی بنا ہوا ہے۔ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم منانے کی شرعی حیثیت پر بحث و مباحثہ، مناظرے،فتویٰ بازیاور الزام تراشیوں کا ایک ایسا لامتناہی سلسلہ شروع ہو جاتا ہے جو امت کی توانائیوں کو مثبت اور تعمیری کاموں میں صرف کرنے کے بجائے، داخلی انتشار اور گروہی و مسلکی عصبیت کو ہوا دینے کا سبب بنتا ہے۔
اس فکری خانہ جنگی کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جس نبی کی بعثت کا اولین مقصد انسانیت کو جوڑنا اور دلوں میں محبت پیدا کرنا تھا، اسی نبی کے یومِ ولادت پر ان کے نام لیوا ایک دوسرے سے دست و گریباں نظر آتے ہیں۔ یہ صورتِ حال نہ صرف امت کی اجتماعی قوت کو کمزور کرتی ہے بلکہ تعلیمات ِاسلام کا ایک منفی تاثر بھی دنیا کے سامنے پیش کرتی ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس داخلی کشمکش سے نکلنے اور اس مبارک مہینے کو امت اور انسانیت کے لیے زیادہ نتیجہ خیز بنانے کی کوئی سبیل بھی ہے؟ کیا ہم اپنی توانائیاں اس قسم کی مناظرانہ بحثوں میں ضائع کرنے کے بجائے کسی ایسے متفقہ اور اعلیٰ مقصد کے لیے صرف کر سکتے ہیں جو نہ صرف امتِ مسلمہ کو متحد کرے بلکہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے حقیقی مقاصد کی تکمیل میں بھی معاون ہو؟
اس کا جواب ہاں میں ہے، اور وہ راستہ قرآن و سنت کی روشنی میں بالکل واضح ہے۔ ہمیں اس حقیقت کو سمجھنا ہوگا کہ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا بہترین اور حقیقی جشن یہ ہے کہ ہم آپ کے دعوتی مشن کو آگے بڑھائیں۔ قرآن حکیم نے آپ کی بعثت کا مقصد ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے:
”وَمَا أَرْسَلْنَاکَ إِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعَالَمِینَ” (سورۃ الانبیاء، 107)، ترجمہ: اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔
اس آیت کی رو سے، رحمت اللعالمین ﷺ کی ولادت کا حقیقی جشن یہی ہے کہ اس رحمت کو تمام انسانوں تک پہنچایا جائے۔ لہٰذا، ربیع الاول کو محض شرعی مباحث کا اکھاڑا بنانے کے بجائے اسے ”ماہِ دعوتِ محمدی ﷺ” کے طور پر منانے کی عالمی تحریک شروع کی جانی چاہیے۔ یہ تجویز محض ایک جذباتی ردِ عمل نہیں، بلکہ اس کی بنیاد قرآن و سنت کی ان ٹھوس تعلیمات پر ہے جو اس امت کی اصل ذمہ داری متعین کرتی ہیں۔قرآنِ کریم نے امتِ مسلمہ کو ایک عالمی ذمہ داری سونپتے ہوئے فرمایا:
”وَکَذَٰلِکَ جَعَلْنَاکُمْ أُمَّۃً وَسَطًا لِّتَکُونُوا شُہَدَائَ عَلَی النَّاسِ وَیَکُونَ الرَّسُولُ عَلَیْکُمْ شَہِیدًا” (سورۃ البقرۃ، 143)، ترجمہ: اور اسی طرح ہم نے تمہیں ایک معتدل امت بنایا تاکہ تم تمام انسانوں پر گواہ ہو اور رسول (ﷺ) تم پر گواہ ہوں۔
اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ جس طرح رسول اللہ ﷺ نے ہم تک پیغام پہنچا کر اپنی گواہی پوری کر دی، اسی طرح اب اس امت کی اجتماعی ذمہ داری ہے کہ وہ اس پیغام کو باقی تمام انسانیت تک پہنچا کر ان پر گواہی پوری کرے۔ یہی ذمہ داری انفرادی سطح پر بھی ہر مسلمان پر عائد ہوتی ہے، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کا واضح فرمان ہے:
”بَلِّغُوا عَنِّی وَلَوْ آیَۃً” (صحیح البخاری، 3461)، ترجمہ: میری طرف سے (لوگوں کو) پہنچا دو، خواہ ایک آیت ہی ہو۔
ان واضح الہامی ہدایات کی روشنی میں، ‘ماہِ دعوت’ کا تصور ایک ایسی ذمہ داری کی ادائیگی کی صورت اختیار کر لیتا ہے جس سے غفلت برتنا ممکن ہی نہیں۔ خود نبی اکرم ﷺ نے اپنے یومِ ولادت کو منانے کا ایک حکیمانہ اور روحانی طریقہ سکھایا ہے۔ جب آپ ﷺ سے پیر کے دن روزہ رکھنے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا:
”ذَاکَ یَوْمٌ وُلِدْتُ فِیہِ، وَیَوْمٌ بُعِثتُ أَوْ أُنْزِلَ عَلَیَّ فِیہِ” (صحیح مسلم، 1162)، ترجمہ: یہ وہ دن ہے جب میں پیدا ہوا اور جس دن مجھ پر پہلی وحی نازل ہوئی۔
یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ آپ ﷺ نے اپنے یومِ ولادت کو اللہ کے شکر کے طور پر ایک عبادتی عمل (روزہ) سے منسوب کیا۔ آپ کا اپنی ولادت کے ساتھ اپنی بعثت اور نزولِ وحی کا ذکر کرنا اس امر کی جانب لطیف اشارہ ہے کہ آپ ﷺ کی آمد کا اصل مقصد اس پیغامِ الہٰی کو پوری انسانیت تک پہنچانا تھا۔ یہ نبوی ماڈل ہمیں سکھاتا ہے کہ جشنِ ولادت کا اصل جوہر شور شرابے اورنعرے بازی میں نہیں، بلکہ اللہ سے اپنے تعلق کو مضبوط کرنے اور بعثت کے عظیم دعوتی مشن کو یاد کرنے میں پوشیدہ ہے۔
آج کی دنیا، جو مادیت پرستی، روحانی خلا، بے انصافی اور اخلاقی بحران کا شکار ہے، پہلے سے کہیں زیادہ پیغامِ محمدیﷺ کی محتاج ہے۔ کروڑوں انسان ایسے ہیں جن کی روحیں سکون اور ہدایت کی تلاش میں بھٹک رہی ہیں، لیکن ان تک اسلام کا حقیقی اور خوبصورت پیغام پہنچ ہی نہیں پایا۔ اسلاموفوبیا کی عالمی لہر نے، جس میں میڈیا اور متعصب دانشوروں نے پیغمبرِ اسلام کی ایک مسخ شدہ تصویر دنیا کے سامنے پیش کی ہے، اس ضرورت کو اور بھی شدید کر دیا ہے۔ ان حالات میں ربیع الاول کا مہینہ ہمارے لیے ایک سنہری موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم منظم انداز میں دنیا کے سامنے سیرتِ طیبہ کے ان پہلوؤں کو پیش کریں جو امن، محبت، انسانی حقوق، مساوات، عدل و انصاف اور ماحولیاتی تحفظ سے متعلق ہیں۔
اس عظیم مقصد کے حصول کے لیے ہمیں روایتی طریقوں سے ہٹ کر ایک جامع اور عالمی حکمتِ عملی اپنانا ہوگی۔ مساجد اور اسلامی مراکز کو صرف مسلمانوں کے لیے وعظ و نصیحت تک محدود رکھنے کے بجائے، انہیں ”اوپن ہاؤسز” یا ”دعوتی سینٹرز” میں تبدیل کیا جائے جہاں غیر مسلموں کو خوش آمدید کہا جائے۔ سوشل میڈیا کے اس دور میں ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو دعوت کا سب سے مؤثر ہتھیار بنایا جا سکتا ہے۔ ربیع الاول میں #MercyToTheWorlds، #ProphetOfPeace، #MessageOfMuhammad جیسے ہیش ٹیگز کے ساتھ عالمی مہم چلائی جائے، جس میں مختصر ویڈیوز، انفوگرافکس اور مختلف زبانوں میں مضامین کے ذریعے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے درخشاں پہلوؤں کو اجاگر کیا جائے۔
دعوت کا ایک اور مؤثر ترین طریقہ ”دعوت بالحال” یعنی اپنے عمل اور کردار سے اسلام کی نمائندگی کرنا ہے۔ ربیع الاول میں امت مسلمہ کو چاہیے کہ وہ فلاحی اور سماجی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے۔ الحمدللہ، یہ وژن محض ایک خواب نہیں، بلکہ دنیا کے مختلف حصوں میں اس کی عملی تعبیریں نظر آ رہی ہیں۔ بھارت میں جماعتِ اسلامی کی دعوتی مہمات کے ساتھ ساتھ ”Meal at Masjid” اور ”Visit My Mosque” جیسی عوامی تحریکیں، جو COVA Peace Network جیسے اداروں کے تحت سیکڑوں مساجد تک پھیل چکی ہیں، میلاد کے ایام میں غیر مسلم پڑوسیوں کو مدعو کر کے مکالمے اور محبت کے نئے باب رقم کر رہی ہیں۔ برطانیہ میں UK Islamic Mission، منہاج القرآن انٹرنیشنل، دعوتِ اسلامی اور Karimia Institute جیسے ادارے عوامی سیرت پروگراموں کے ذریعے مقامی کمیونٹیز کو جوڑ رہے ہیں۔ اسی طرح World Memon Organisation اور Penny Appeal جیسی عالمی تنظیمیں ”پروجیکٹ محبت” کے نام پر فلاحی کاموں کے ذریعے سیرتِ نبوی کے پیغامِ خدمت کو عام کر رہی ہیں۔ یہ بکھری ہوئی کوششیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ امت اس سمت میں سوچ رہی ہے؛ ضرورت صرف ان تمام کاوشوں کو ایک عالمی اور اجتماعی تحریک میں ڈھالنے کی ہے۔
اس دعوتی حکمتِ عملی کا ایک اہم ستون معاشرے کے بااثر افراد تک پہنچنا بھی ہے۔ ربیع الاول کے مہینے میں سوشل میڈیا انفلواینسرز، لکھاریوں، سیاسی رہنماؤں، اساتذہ، فنکاروں اور صحافیوں سے رابطہ کر کے انہیں سیرتِ طیبہ اور پیغامِ قرآن سے متعلق خوبصورت اور مستند لٹریچر تحفتاً پیش کرنا ایک انتہائی مثبت اور دور رس قدم ثابت ہو سکتا ہے۔ جب غیر مسلم اپنے اردگرد مسلمانوں کو انسانیت کی خدمت میں مصروف دیکھیں گے اور ان تک اسلام کا حقیقی پیغام درست ذرائع سے پہنچے گا، تو ان کے دلوں میں موجود غلط فہمیاں خود بخود دور ہو جائیں گی۔
اس طرزِ فکر کو اپنانے کا ثمرہ محض سطحی نہ ہوگا، بلکہ یہ امت کی روح اور توانائی کا محور بدل کر رکھ دے گا۔ وہ تمام توانائیاں جو ہر سال باہمی مناقشوں کی بھینٹ چڑھ جاتی ہیں، وہ ایک مثبت، تعمیری اور متفقہ مقصد کے دھارے میں ڈھل جائیں گی۔ جب ہدف ایک ہو،یعنی پیغامِ محمدی کو دنیا تک پہنچانا،تو فروعی اختلافات خود بخود اپنی اہمیت کھو دیتے ہیں۔ ربیع الاول کو ”ماہِ دعوت” کے طور پر منانے کا فیصلہ دراصل امت کے لیے ایک تاریخ ساز اسٹریٹجک موڑ ثابت ہوگا، جو اسے داخلی دفاعی خول سے نکال کر عالمی قیادت کے پُراعتماد منصب پر فائز کرے گا۔پس آئیے! اسی عظیم مقصد کی خاطر، اس ربیع الاول میں ہم اپنے مسلکی خولوں سے باہر نکل کر، فروعی اختلافات کی زنجیروں کو توڑ کر، اور ایک امتِ واحدہ بن کر یہ عہدِ مصمم کریں کہ ہم اپنی زبان، اپنا قلم، اپنا مال اور اپنا وقت اس ایک متفقہ اور عظیم ترین مقصد کے لیے وقف کریں گے: یعنی اصل مدنی مشن کی تکمیل! وہ مشن جس کے لیے رحمت اللعالمین ﷺ نے اپنی پوری زندگی صرف کر دی؛ اللہ کے پیغامِ رحمت کو ان کروڑوں پیاسی روحوں تک پہنچانا جو روزِ ازل سے اسی سچائی کی منتظر ہیں۔ ہمیں یہ یاد رکھنا ہوگا کہ اگر ہم نے ان تک اسلام کا حقیقی پیغام ان کی اپنی زبان میں حکمت کے ساتھ نہ پہنچایا، تو کل میدانِ حشر میں، جب کوئی کسی کا پرسانِ حال نہ ہوگا، یہی لوگ ہمارا دامن تھام کر بارگاہِ الٰہی میں یوں فریاد کناں ہوں گے:
”اے ہمارے رب! تیرے ان بندوں نے ہم تک تیرا سچا پیغام کیوں نہیں پہنچایا؟ یہ ہماری دہلیز پر تو رہتے تھے، مگر ہدایت کا وہ نور جو ان کے پاس تھا، اس کی ایک کرن بھی ہم تک نہ پہنچنے دی!”
پس ذرا ٹھہر کر اپنے ضمیر سے پوچھیے! اس لرزہ خیز دن، جب ہر شخص اپنے اعمال کا بوجھ اٹھائے کھڑا ہوگا، ہمارے پاس اس سوال کا کیا جواب ہوگا؟ ہم جو آج اپنی قیمتی توانائیاں فروعی اختلافات کی خود ساختہ خندقوں میں دفن کر رہے ہیں، کل اس عظیم غفلت کی کیا قیمت چکائیں گے؟لہٰذا، آئیے اس سے پہلے کہ مہلت کا دروازہ بند ہو جائے، حق کے ان متلاشیوں تک پہنچیں جن کی فطرت آج بھی روزِ ازل کی اس گونج کو تلاش کر رہی ہے، جب ان کے رب نے ان سے پوچھا تھا:’أَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ؟’ (کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟)اور کائنات کی ہر روح نے یک زبان ہو کر گواہی دی تھی:’بَلَیٰ!’ (کیوں نہیں!)۔ (سورۃ الاعراف، 172)یہ بات اپنے دل و دماغ پر نقش کر لیجیے! ہر پیاسی روح تک اس کے رب کا پیغام پہنچانا ہی حقیقی عشقِ رسول ﷺ ہے۔ یہی ولادتِ نبوی ﷺ کا سچا، بامقصد اور نتیجہ خیز جشن ہے، اور اسی تڑپ میں ہماری اپنی نجات کا راز بھی پوشیدہ ہے۔
==
Post Views: 3
Like this:
Like Loading...