Skip to content
مشن سدرشن:دیر آید درست آید
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
آپریشن سیندور کے اندر ہوائی جہازوں کی تباہی کا علان صرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نہیں بلکہ وطن عزیز کے فوجی سربراہوں اور خود وزیر دفاع نے بھی ایوانِ پارلیمان کے اندر کیا ۔ وزیر دفاع نے فرمایا کہ کوئی بچہ امتحان میں اچھے نمبر لے رہا ہو، تو اس کے نمبر اہم ہیں۔ ہمیں اس بات پر توجہ نہیں دینی چاہیے کہ امتحان میں اس کی پنسل ٹوٹ گئی یا اس کا قلم ضائع ہو گیا۔ یہ بلا واسطہ اپنے طیاروں کے ضائع ہونے اعتراف تھا۔مذکورہ آپریشن کے تین ہفتے بعد ہندوستان کے چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل انیل چوہان نے سنگاپور میں جاری شنگریلا ڈائیلاگ کے موقع پر بلوم برگ ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہاتھا: ’’میری نظر میں اہم بات یہ نہیں کہ طیارہ گرایا گیا، بلکہ یہ ہے کہ وہ کیوں گرایا گیا؟‘‘ جب ان سے زور دے کر پوچھا گیا کہ کیا ہندوستان نے کوئی طیارہ کھویا ہے تو انہوں نے کوئی واضح تفصیل تو نہیں دی، تاہم ان کے بیان سے ساری دنیا کو اشارہ مل گیا کہ ہندوستان کو طیارے کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔جنرل چوہان نے مزید کہا: ’’اچھی بات یہ ہے کہ ہم نے اپنی حکمتِ عملی میں ہونے والی غلطی کو پہچانا، اسے درست کیا، اور دو دن بعد دوبارہ تمام طیارے کامیابی سے اڑائے، اور طویل فاصلے پر اہداف کو نشانہ بنایا۔‘‘ یہ تو ایک عارضی پہلو ہے مگر اس آپریشن کے بعد حکومتِ کو قومی تحفظ کے حوالے سےفکر محسوس ہوئی اور اس کا اظہار لال قلعہ سے ہونے والے خطاب میں کیا۔
کمانڈر چیف کا یہ کہنا کہ ایوانِ پارلیمان میں آپریشن سیندور اور آپریشن مہادیو کی کامیابی کا اعلان ہونے کے بعد یوم آزادی کی تقریبات کا موقع آیا تو وزیرِاعظم نریندر مودی نے امسال 15 اگست(2025) کو جشنِ آزادی مناتےہوئے لال قلعہ سے روایتی خطاب میں حسبِ توقع اپنا پرانا ریکارڈ توڑ دیا ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انہیں اس بابت یقین کے ساتھ کچھ کہنا مشکل ہے۔ ان کے دونوں جانشین امیت شاہ اور یوگی ادیتیہ ناتھ کی بے چینی میں ہر روز اضافہ ہوتا جارہا ہے کیونکہ انہیں یقین ہے اگلی بار نہ ووٹ چرانے کا موقع ملے گا اور نہ وہ لوگ انتخاب جیت پائیں گے۔ خیر اس بار وزیر اعظم نے لال قلعہ سے اپنی طول طویل تقریر میں ایک انقلابی دفاعی منصوبہ یعنی مشن سدرشن چکرکا شوشا چھوڑ دیا۔ یہ منصوبہ 2035 تک ایک مکمل دیسی اور مربوط فضائی دفاعی نظام قائم کرنے کا ہدف رکھتا ہے، جو ہندوستانکے فوجی اور شہری انفرا اسٹرکچر کو یکساں طور پر تحفظ فراہم کرے گا۔ یہ نظام اسرائیل کے آئرن ڈوم اور امریکہ کے گولڈن ڈوم سے متاثر ضرور ہے، لیکن اسے ہندوستانکی مخصوص جغرافیائی و دفاعی ضروریات کے مطابق ڈھالا گیا ہے۔ اس کا مقصد محض حملوں کو روکنا نہیں، بلکہ حملہ آوروں کو فوری اور مؤثر جواب دینا بھی ہے۔ مشن سدرشن کے لیے جس اسرائیلی آئرن سے ترغیب لی گئی ہے اس کو ایران اور یمن کے حوثی بری طرح ناکام کرچکے ہیں ایسے میں وہ ہماری حفاظت کیسے کرے گا ؟ یہ ایک فطری سوال ہے کیونکہ اتنے بڑے ملک میں چپے چپے کی حفاظت کے دعویٰ اور حقیقت میں بہت بڑا فرق ہے۔
وزیرِ اعظم کے مطابق’سدرشن چکر مشن‘ کا مقصد انڈیا کے سٹریٹجک، شہری اور مذہبی مقامات کو دشمن کے ممکنہ حملوں سے بچانے کے لیے ایک مضبوط دفاعی ڈھال بنانا ہو گا۔ یہ مشن جدید نگرانی، حملے کو روکنے اور جوابی کارروائی کی صلاحیتوں کو یکجا کرے گا تاکہ فضائی، زمینی اور سمندری خطرات کا فوری تدارک ممکن ہو سکے۔ آپریشن سیندور کے جواب میں پاکستان اس صلاحیت کا مظاہرہ کرچکا ہے۔ اس کی وجہ معروف ماہر جنگ اشوِن ساہنی یہ بتاتے ہیں کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے پچھلے دس سالوں سے ایک سوچے سمجھے فیصلے کے تحت فوج کوجنگ لڑنے کے پیش نظر تیار نہیں کیا۔ وہ کہتے ہیں اجیت ڈوول کی حکمت عملی یہ تھی کہ دہشت گردوں کو دنیا مختلف حصوں میں انفرادی طور پر ہلاک کردیا جائے گا اور اس پر عمل ہوتا رہا ۔ اسی کے تحت کناڈا اور امریکہ کے ساتھ خالصتان نواز نجرّ اور پنو کے حوالے سے تعلقات خراب ہوگئے۔ پاکستان اس کی تیاری کرتا رہا اور یہی وجہ ہے کہ چین کی مدد سے اس نے آپریشن سیندور کے مقابلے بنیان المرصوس کی مہم چلائی ۔ اس کے بعد وزیر اعظم کو ہوش آیا تو انہوں نےلال قلعہ کی اپنی تقریر میں جنگی طیاروں کے لیے جیٹ انجن تیار کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا، اور کہا کہ دفاعی مینوفیکچرنگ کے شعبے میں آگے بڑھنا ضروری ہے۔
سدرشن چکر ایک نہایت آرزومند مشن ہے۔ یہ تین سطحی فضائی دفاعی ڈھانچے پر مبنی ہے۔ اس کے بیرونی پرت میں S-400 جیسے سسٹمز شامل ہیں جو 400 کلومیٹر تک کے خطرات کا مقابلہ کرتے ہیں۔ درمیانی پرت میں DRDO کا پروجیکٹ ’’کُشا‘‘ موجود ہے اور اندرونی پرت میں آکاش پرائم جیسے سسٹمز اہم تنصیبات کو 45 کلومیٹر کے اندر تحفظ فراہم کرتے ہیں۔یہ نظام جدید سینسرز، AI، کوانٹم کمپیوٹنگ اور ڈرون ٹیکنالوجی کے ذریعے خطرات کی فوری شناخت، تجزیہ اور جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ محض ایک دفاعی ڈھال نہیں، بلکہ ’’شیلڈ اینڈ سورڈ‘‘ کے نظریہ پر مبنی ہے یعنی خطرے کی صورت میں، براہموِس جیسے میزائلوں کے ذریعے فوری جوابی کارروائی بھی شروع کروا دے گا۔ یہ مشن خاص طور پر پاور گرڈز، اسپتالوں، ریلوے اسٹیشنز اور مذہبی مقامات وغیرہ کو سائبر اور ڈرون حملوں سے محفوظ بنانےکے لیے تیارکیا گیا ہے۔ پاکستان کے ساتھ مسلسل کشیدگی، چین کی LAC پر سرگرمیاں اور بنگلہ دیش میں حالیہ عدم استحکام نے ہندوستان کو اس مشن کےلیے مجبور کیا یعنی اگر پڑوسی ممالک سے تعلقات اچھے ہوتے تو اس پر ہزاروں کروڈ صرف کرنے کی چنداں ضرورت نہیں پڑتی ۔
ماہرین جنگ کے مطابق مودی سرکاراپنی طاقت کے زعم میں مبتلا رہی مگر ’آپریشن سیندور‘ کے دوران پاکستانی جوابی حملوں میں شہری انفرا اسٹرکچر کو جو خطرہ لاحق ہوگیا، اس کے بعد ’مشن سدرشن چکر‘ کی ضرورت محسوس ہوئی۔ یہ اول الذکر ہندوستان کے دفاعی نظریے میں جوہری تبدیلی ہے۔ اسے خود انحصاری، ٹیکنالوجی میں خود کفالت اور قومی سلامتی کو مربوط کرنے کی سمت ایک فیصلہ کن قدم مانا جارہاہے۔ اس منصوبےکی کامیابی اپنی تکمیل یعنی 2035 تک ہندوستان کو عالمی دفاعی طاقتوں کی صف میں شامل کر سکتا ہے لیکن اس وقت ہمارے ہم سایہ ممالک کہاں پہنچ چکے ہوں گے یہ کوئی نہیں جانتا؟ ویسے مودی نے لال قلعہ سے اعلان تو کرہی دیا کہ ’اگلے 10 سالوں میں، اس قومی سلامتی کی ڈھال کو وسعت دینا، مضبوط بنانا اور جدید بنانا چاہتا ہوں۔ مودی فرماتے ہیں ’یہ جدید نظام انڈیا میں ہی تحقیق، تیاری اور مینوفیکچرنگ کے ذریعے بنے گا، اور اس میں ہماری نوجوان نسل کی صلاحیتیں استعمال ہوں گی نیز یہ طاقتور نظام نہ صرف دہشت گرد حملوں کا مقابلہ کرے گا بلکہ دہشت گردوں کو منہ توڑ جواب بھی دے گا۔‘
وزیر اعظم نریندر مودی نے۱۱؍ سال قبل اقتدار سنبھالا تھا تو اس وقت اگر وہ بیت الخلا بنانے کی مہم میں اپنی توانائیوں کو جھونکنے کے بجائے اس پروجکٹ پر کام شروع کرتے تو آج تک وہ تیار ہوتا۔ اس کی موجودگی میں آپریشن سیندور کے دوران رافیل سمیت دیگر ہوائی جہازوں کے گرنے خبریں دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ میں شائع نہ ہوتیں اور ائیر چیف اے پی سنگھ کو ایک ایسا اعلان نہ کرنا پڑتا جس پر آپریشن مہادیو کی مانند کسی نے یقین نہیں کیا۔آپریشن مہادیو ہو یا ائیر چیف کا اعلان دونوں کے حق میں ٹھوس ثبوت موجود نہیں تھے۔ کشمیر کی پولیس ہلاک ہونے والوں کی تشخیص بھی مکمل نہیں کرسکی تھی کہ وزیر داخلہ پر الہام ہوگیا۔ ایسا ہی کچھ ائیر چیف سنگھ کے ساتھ بھی ہوا کہ طویل خاموشی کے بعد اچانک انہوں نے اپنے خطاب کے آخر میں ایک حیرت ناک انکشاف کردیا لیکن اس کو دنیا نے سنجیدگی سے نہیں لیا۔لال قلعہ سے مودی نے پاکستان کو سخت پیغام دیتے ہوئے دھمکایا کہ ’دہشت گردوں اور ان کو پناہ دینے والوں سے ایک جیسا سلوک کیا جائے گا‘۔ یہ متضاد بیانیہ ہے کہ دہشت گردوں کو پناہ دینے والوں سے تو سختی سے نمٹا جائے لیکن اس پناہ دینے والے کے شانہ بشانہ ہماری فوج سے لڑنے والے چین سے معانقہ کیا جائے۔یہ منافقت خوف کی نفسیات ظاہرکرتی ہے۔
وزیر اعظم کی تقریر کے بعد 27؍ اگست 2025 کو مدھیہ پردیش کے ڈاکٹر امبیڈکر نگر میں آرمی وار کالج کے اندر ، جنگ اور جنگی لڑائی پر اپنی نوعیت کے پہلے سہ فریقی سیمینار کچھ اہم انکشافات کئے۔ انہوں نے کہا کہ ’’جدید لڑائیاں اب زمین ، سمندر اور ہوا تک محدود نہیں ہیں ؛ وہ اب بیرونی خلا اور سائبر اسپیس تک پھیلی ہوئی ہیں ۔ سیٹلائٹ سسٹم ، اینٹی سیٹلائٹ ہتھیار ، اور خلائی کمانڈ سینٹر طاقت کے نئے آلات ہیں ۔ آج ہمیں جس چیز کی ضرورت ہے وہ صرف دفاعی تیاری ہی نہیں بلکہ ایک فعال حکمت عملی بھی ہے ۔ مستقبل کی جنگیں محض ہتھیاروں کی لڑائیاں نہیں ہوں گی بلکہ وہ ٹیکنالوجی ، ذہانت ، معیشت اور سفارت کاری کا مشترکہ کھیل ہوں گی ۔ ٹیکنالوجی ، حکمت عملی اور موافقت کے مثلث میں مہارت حاصل کرنے والا ملک حقیقی عالمی طاقت کے طور پر ابھرے گا ۔ یہ تاریخ سے سیکھنے اور ایک نئی تاریخ رقم کرنے کا لمحہ ہے ؛ یہ مستقبل کی توقع کرنے اور اس کی تشکیل کرنے کا لمحہ ہے ۔‘‘ یہ ایک حقیقت مگر آپریشن سیندور کے بعد از خرابیٔ بسیار مودی سمیت ا ن کو اپنے ملک کی تحفظ کا خیال آنا اپنے آپ میں ایک اچھا شگون ہے۔ اب انہیں چاہیے کہ کم از کم اس سنجیدہ قومی مسئلہ پر سیاست کرنے کے بجائے حفاظتی نظام کو بہتر بنانے کی خاطر سیاسی تگڑم بازوں سے نہیں ماہرین جنگ کے مشورے پر عمل کریں ورنہ یہ مشن سدرشن بھی دوردرشن بن کر رہ جائے گا۔
Like this:
Like Loading...