Skip to content
ایس آئی آر کے سردرد کو بی جے پی نے برین ٹیومر بنا دیا
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
رائے دہندگان کےحق کی حفاظت میں منعقدہ ’’ووٹر ادھیکار یاترا‘ ختم ہوگئی ۔ زندہ مہم کا اختتام آئندہ کےاقدام کی مہمیز ہوتا ہے ۔ یہ ریلی صرف عوامی بیداری کے لیے نہیں بلکہ اقتدار پر فائز قومی جمہوری محاذ کو کرسی سے بے دخل کرنےکے لیے تھی۔اس حوالے سے مہم خاتمہ بہت زبردست ہوا۔ ریلی کے ذریعہ رائے دہندگان کو یہ بات ذہن نشین کردی گئی کہ یہ حکومت ووٹ چوری کرکے اقتدار میں آئی ہے اس لیے اسے گدی ّ سے ہٹا دیا جانا چاہیے۔ اس موضوع کوپھیلاکر کہا گیا کہ ووٹ چوری کا مطلب آئینی حقوق سے محرومی ہے ۔ ووٹر لسٹ سے چونکہ ان لوگوں کانام نکالا جارہا ہے جو اپنی شہریت ثابت کرنے میں ناکام ہوگیا ہے اس لیےایسا فر د گویا درانداز یا گھس پیٹھیا ہوگیا۔ اس کو تمام سرکاری سہولیات سے محروم کرکے ملک بدر کردیا جانا چاہیے۔ ملک کے بہت سارے خوش فہم لوگوں کا خیال رہا ہوگا کہ یہ ایک خیالی خوف ہے ۔ اس ملک میں یہ نا ممکن ہے لیکن ووٹر ادھیکار یاترا کے اختتام پر حزب اختلاف کے رہنما یعنی وزیر اعظم کا سایہ کو خطاب عام سے منع کردینا بتا رہا ہے کہ ’مودی ہے تو کچھ بھی ممکن ہے‘۔ اس لیے اندیشے بے بنیاد نہیں ہیں ۔ مذکورہ مہم کو بہترین اختتام سے نوازنے کا سہرہ چونکہ دشمنوں کے سر ہے اس لیے یہ شعر یاد آتاہے؎
کہانی ختم ہوئی اور ایسے ختم ہوئی
کہ لوگ رونے لگے تالیاں بجاتے ہوئے
گاندھی میدان میں آنے سے روکے جانے والوں کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو تھے ۔تمام رکاوٹوں کے باوجود لاکھوں لوگوں کا وہاں آنا بتاتا ہے کہ یہ آگ کس قدر تیز ہے اور یقیناً مودی سرکار کو بھسم کرکے رہے گی ۔عنقریب دسہرہ کے موقع پر جو راون جلایا جائے گا اس کے گلے میں بھی ’ووٹ چور گدی چھوڑ‘کی تختی آویزاں ہوگی۔ عوام کے قلب و ذہن کو یہ نعرہ ایک تحریک بن کر اسی طرح مسخر کرچکا ہے جیسے مودی کے خون میں گرم گرم سیندور دوڑ تا ہے ۔ حکومت نے لنگڑے لولے تکنیکی اسباب کی کا بہانہ بناکر ریلی کی اجازت نہیں دی پھر بھی میڈیا میں راہل کی تقریر خوب چلی ۔ یہ دیکھ کر فلم ’کالیا ‘ کا وہ مکالمہ یاد آتا ہے کہ ’ہم جہاں کھڑے ہوتے ہیں لائن وہیں سے شروع ہوتی ہے۔ اب ملک میں سیاسی ایجنڈا ؟ عوام کی سیاسی پسند اور ناپسندیدگی کا پیمانہ نریندر مودی نہیں راہل گاندھی طے کریں گے ۔ کالیا کا ایک کردار کلو سے کہتا ہے ’سیانی سیٹھ کو اسی کے ہتھیار سے مارو اور اس کا ہتھیار سونا ہے‘۔ مودی کو بھی اسی کے ہتھیار یعنی ووٹ سے مارنے کے لیےعوام کو یہ بتایا جارہا ہے کہ موصوف کا سوناان کے خون پسینے کی کمائی نہیں بلکہ چوری کا مال ہے جو لوگوں کی جیب سے کی جیب سے چرایا گیا ہے۔ مودی ووٹ چور گرہ کٹ ہیں اس لیے انہیں گدی چھوڑ دینی چاہیے ورنہ چھین لی جائے گی ۔
کالیا فلم کے سیدھے سادے کلو کی طرح راہل گاندھی کو بھی ایک زمانے میں پپو کہہ کر پکارا گیا ۔ چند سکوں کا حریص گودی میڈیا دن رات اس خیالِ غلط کی آبیاری میں مصروفِ عمل رہا لیکن راہل گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا نے اس غلط شبیہ کو پاش پاش کردیا۔ اپنی پہلی ملک گیر مہم کے دوران مہاراشٹر کے اندر راہل نے نامہ نگاروں سے کہا تھا کہ ’وہ راہل مرگیا جسے آپ لوگ جانتے تھے ۔ آپ لوگوں کے سامنے یہ ایک الگ راہل گاندھی ہے۔ اس نڈر راہل گاندھی نےساورکر کے علاقہ میں اسے معافی مانگنے والا انگریزوں کا وفادار اور ملک کا غدار کہہ دیا۔ بھارت جوڑو یاترا کے دوران راہل گاندھی عوام کے کو بھی اپنے دل سے ڈر نکالنے کی تلقین کرتےرہے۔ ان کی منطق یہ تھی کہ لوگ ایک دوسرے ڈرنا چھوڑ دیں کیونکہ سنگھ پریوار عوام کو ڈرا کر ان کے دل میں دوسروں کے تئیں نفرت پیدا کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا اس نفرت کا علاج باہمی محبت اور بھائی چارہ ہے۔ محبت سے نفرت کا خاتمہ ہوگا اور لوگ نڈر بنیں گے۔ اس مہم نے خود راہل گاندھی کو نہایت جری بنادیا اور ووٹر ادھیکار یاترا نے مودی سرکار کو ڈرا دیا۔ ایسے میں گبر ّسنگھ کا ڈائیلاگ’جو ڈر گیا وہ مرگیا‘‘ یاد آتا ہے۔ گاندھی میدان پرریلی کو منعقد ہونے سے روکنا سنگھ پریوار میں پسرے ہوئے خوف کی علامت ہے اور جہاں تک راہل گاندھی کا تعلق ہے ان کا معاملہ تو یہ ہے؎
مخالفت سے میری شخصی سنورتی ہے
میں دشمنوں کا بہت احترام کرتا ہوں
مخالفت سے شخصیت سنورتی ہی نہیں بگڑتی بھی ہےمثلاًگاندھی میدان میں ریلی کرنے سے روکنے والےزعفرانی چنٹو کسی زمانے میں راہل کو پپو کہا کرتے تھے۔ اسی تاریخی میدان پر جئے پرکاش نارائن کے مکمل انقلاب کا نعرہ پر لبیک کہہ کر لالو یادو اور نتیش کمار دنیائے سیاست میں قدم رکھا تھا۔ بیس سال وزیر اعلیٰ کی کرسی پر براجمان رہنے کے بعد نتیش کماراس قدر ڈر گئے کہ گاندھی میدان پر ریلی کی اجازت نہیں دی۔ نتیش کمار کو گبر ّ سنگھ کا یہ مکالمہ یاد رکھنا چاہیے کہ ’جو ڈر گیا وہ مرگیا ‘ ۔ یہ اجازت کی منسوخی نہ صرف بہار بلکہ ملک بھر میں این ڈی اے کی موت کا اعلان ہے۔ اب آگے وہ ایک زندہ لاش کی مانند گھٹ گھٹ کر مرے گا کیونکہ سانس تو کوما کی حالت میں بھی جاری رہتی ہے۔ بہار کی اس ریلی کے دوران رن چھوڑ داس مودی پانچ ممالک کے دورے پر نکل گئے تاکہ ہر روز ایک نئی خبر کے ذریعہ میڈیا کو راہل کی مہم سے توجہ ہٹانے کا موقع فراہم کیا جائے لیکن ایسا نہیں ہوا۔ ذرائع ابلاغ چاہ کر بھی دھیان نہیں بھٹکا سکا کیونکہ ہر دن بی جے پی کی جانب سےایک نئی مخالفت کی خبر دینااس کی مجبوری تھی ۔ اس طرح بار بار دھیان اس پر مرکوز ہوجاتا تھا۔
وزیر اعظم کے غیر ملکی دورے کا آخری مرحلہ اور ریلی کا اختتامی دن ایک ساتھ آگئے تو میڈیا میں یہ خبر اڑائی گئی کہ مودی اور شی جن پنگ کی ملاقات سے ٹرمپ ڈر گئے۔ اس سے پہلے کہا گیا تھا کہ مودی اور ٹرمپ کی ملاقات سے شی جن پنگ ڈر گئے ۔ سچ تو یہ تیجسوی یاد اور راہل گاندھی کے ساتھ آنے سے نریندر مودی سمیت این ڈی اے کاپورا کنبہ قبیلہ خوفزدہ ہوگیا ہے۔ ووٹر ادھیکار یاترا کی مخالفت ویسے تو کئی حوالوں سے ہوئی مگر آخر میں گالی اور دہشت گردی کا معاملہ بہت دلچسپ تھا ۔ عوام کو ڈرا کر گاندھی میدان آنے سے روکنے کے لیے یہ بے پرکی اڑائی گئی کہ تین دہشت گرد دبئی سے نیپال ہوکر بہار پہنچ چکے ہیں ۔ ان لوگوں کے خاکے تک جاری ہوگئے لیکن بعد میں خود پولیس کے اعلیٰ عہدیداروں نے انکشاف کیا کہ ان دہشت گردوں نے اپنا ارادہ بدل دیا اور وہ ملیشیا چلے گئے ۔ اس کہانی کے کئی دلچسپ پہلو ہیں ۔ یہ یاترا تو کسی زاویہ سے مسلمان مخالف نہیں ہے بلکہ ووٹر لسٹ سے ان کے ناموں کو کاٹنے کے مخالف چل رہی ایسے میں بھلا جیش محمد کے دہشت گردوں کا اس سے کیا جھگڑا؟ کیا پولیس والوں نے انہیں بھی اپنی طرح احمق سمجھ رکھا ہے۔
اس کادوسرادلچسپ پہلو یہ ان دہشت گردوں کے سفر کا راستہ پولیس نے اس طرح بتایا کہ جیسے وہ اپنے موبائل کے گوگل ایپ پر لائیو لوکیشن آن کرکے چل رہے ہیں تاکہ پولیس کو ان کے نقل و حرکت کا علم ہوسکے ۔ ایسے سمجھدار دہشت گرد ہندوستان کے علاوہ کسی ملک میں نہیں پائے جاتے کہ جو انکاونٹر سے قبل اپنا پاسپورٹ جیب میں رکھنا نہیں بھولتے تاکہ پولیس کو تلاش کرنے کی زحمت گوارہ نہ کرنی پڑے۔ ووٹر ادھیکار ریلی پر مودی جی کی ماں کو گالی دینے کا الزام لگایا گیا ۔ جہاں یہ گالی دی گئی وہاں کوئی قابلِ ذکر رہنما موجود نہیں تھا۔ پروگرام کے منتظم نوشاد نے اس کے لیے معافی مانگی نیز گالی دینے والا رضوی بی جے پی کا آدمی نکلا اور یہ فطری ہے۔ وزیر اعظم خود راہل کی والدہ سونیا گاندھی کو ’کانگریس کی بیوہ‘ اور’ جرسی گائے‘ تک کہہ چکے ہیں ۔راہل گاندھی کو انہوں نے ہائبرڈ بچھڑے کہا تھا اور ان کے والد راجیو گاندھی کی بابت کہا تھا کہ وہ بدعنوان نمبر ۱ کے طور پر مرے۔
بی جے پی کا تو یہ حال کہ اس کا رکن پارلیمان ایوان میں مسلمانوں کو کٹوا کہہ کر تضحیک کرتا مرکزی وزیر گولی مارو سالوں کو نعرہ بلند کرتا ہے اسے راہل گاندھی کے ہائیڈروجن بم پر اعتراض نہایت مضحکہ خیز ہے۔ اس ریلی نے کانگریس کے ساتھ آر جے ڈی کی ایسی ہوا چلائی کہ بی جے پی کے سارے پناّ پرمکھ خس و خاشاک کی مانند اڑ گئے۔ اس نے پرشانت کشور پانڈے کو بھی بے نقاب کردیا ۔ اس سے قبل وہ بہار بند کے دن ریلی کرکے کہہ چکے ہیں کہ کچھ بھی بند نہیں ہوا ہمارے یہاں دیکھو کتنے لوگ آئے ہیں اب یہ کہہ دیا کہ ریاست میں ایس آئی آر (سر )کو مدعا ہی نہیں ہے جبکہ سچائی یہ ہے اس سر کے درد کو بی جے پی کی مخالفت نے اپنے لیےبرین ٹیومر بنا لیا ہے اور جب یہ ناسور پھوٹے گا تو این ڈی اے کے پرخچے اڑ جائیں گے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی اول جلول مخالفت اس ریلی کو کامیاب کرنے میں جو اہم کردار ادا کیا اسے دیکھ کر یہ شعر یاد آتا ہے؎
تندیٔ بادِ مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ تو بہتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیے
Post Views: 3
Like this:
Like Loading...