Skip to content
بعثتِ محمدیﷺ کے 1500 سال:
عالمِ انسانیت پر 15 لازوال احسانات و انعامات
———
بقلم: ڈاکٹر محمد عظیم الدین (اکولہ، مہاراشٹر)
———
وقت کے اس پار، تاریخ کے اس موڑ پر، جب تہذیبوں کے چراغ ٹمٹما رہے تھے، جب قیصر و کِسریٰ کی شان و شوکت انسانیت کو پامال کر رہی تھی، جب فلسفے خود اپنے ہی اُٹھائے ہوئے سوالات کے پھندوں میں الجھ چکے تھے اور جب روحِ انسانی وحشت انگیز تاریکیوں میں روشنی کی ایک کرن کے لیے مضطرب تھی، تب صحرائے عرب کے افق سے وہ آفتابِ رسالت طلوع ہوا جس کی شعاعوں سے آج بھی عالمِ انسانیت منور ہے۔ یہ پندرہ صدیاں محض ایک تقویمی حساب نہیں، بلکہ یہ اس ہمہ گیر انقلاب کی داستان ہے جو ایک فردِ واحد، محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ اقدس سے شروع ہوا اور کائنات کے ہر گوشے پر محیط ہو گیا۔ آپﷺ کا ظہور محض ایک نئے عقیدے کا اعلان نہ تھا، بلکہ یہ انسانیت کو عطا کیے گئے ان لازوال تحائف کا ایک ایسا سلسلہ تھا جنہوں نے فکر و نظر کے زاویے بدل دیے، تہذیب و تمدن کی اساس تبدیل کر دی اور انسان کو اس کی حقیقی عظمت سے روشناس کرایا۔
آپﷺ کی ذاتِ اقدس کو خود اس کے بھیجنے والے نے ”رَحْمَۃً لِّلْعَالَمِینَ” (سورۃ الانبیاء: 107) قرار دیا، یعنی ”تمام جہانوں کے لیے رحمت”۔ یہ محض ایک لقب نہ تھا، بلکہ یہ اس انقلاب کا وہ مرکزی عنوان تھا جس کے چشمے سے پھوٹنے والے دھاروں نے انسانی زندگی کے ہر شعبے کو سیراب کیا۔ آپﷺ کے احسانات کی فہرست تو لامتناہی ہے، لیکن آج، پندرہ صدیوں کے بعد، ہم ان میں سے صرف پندرہ ایسے بنیادی ستونوں کا جائزہ لیں گے جن پر نہ صرف ایک مہذب معاشرے کی عمارت کھڑی کی جا سکتی ہے، بلکہ جن سے آج بھی پوری انسانیت استفادہ حاصل کر رہی ہے۔
اس رحمت کا سب سے پہلا اور سب سے بنیادی تحفہ، توحیدِ خالص کا وہ آفاقی تصور تھا جس نے انسانی ذہن کو ہزاروں خداؤں، توہمات اور خوف کی غلامی سے آزاد کر کے ایک ربِ واحد کے حضور سربسجود کیا۔ یہ محض ایک ما بعد الطبیعاتی (Metaphysical) عقیدہ نہ تھا، بلکہ یہ وہ فکری رحمت تھی جس نے انسان کو ذہنی حریت کا سب سے بڑا منشور عطا کیا (سورۃ الاخلاص: 1-4، صحیح بخاری، کتاب التوحید، حدیث 7373)۔ اس سے قبل انسان کاہنوں، نجومیوں، بادشاہوں اور طبقاتی نظاموں کے شکنجے میں جکڑا ہوا تھا جو خود کو خدا اور بندے کے درمیان واسطہ قرار دیتے تھے، جیسا کہ رومی اور ساسانی سلطنتوں میں بادشاہوں کو الٰہی حیثیت دی جاتی تھی (تاریخ الطبری، جلد 2، صفحہ 150)۔ توحید نے ان تمام واسطوں کو پاش پاش کر دیا اور انسان کو براہِ راست اس کے خالق سے جوڑ دیا۔ اور جب انسان یہ جان لیتا ہے کہ عزت و ذلت، نفع و نقصان اور زندگی و موت کا مالک صرف ایک ہے، تو وہ ہر جھوٹے خوف، ہر جابر حاکم اور ہر فرسودہ روایت کے سامنے سر اٹھا کر جینے کا ہنر سیکھ جاتا ہے۔ توحید نے انسان کو داخلی طور پر آزاد اور باوقار بنایا، جو کسی بھی حقیقی تہذیب کی پہلی شرط ہے، اور آج کے سیکولر (Secular) فلسفوں سے تقابل میں یہ تصور انسانی آزادی کو الٰہی ذمہ داری سے جوڑتا ہے۔
اسی فکری آزادی سے سماجی رحمت کا دوسرا چشمہ پھوٹا، جو انسانی مساوات کے بے مثال نظریے پر منتج ہوا۔ ایک ایسی دنیا میں جہاں رنگ، نسل، زبان، قبیلہ اور مال و دولت برتری کی بنیاد تھے، آپﷺ نے خطبہ حجۃ الوداع کے موقع پر پوری انسانیت کے لیے اعلان فرمایا کہ ”کسی عربی کو عجمی پر اور کسی گورے کو کالے پر کوئی فضیلت نہیں مگر تقویٰ کی بنیاد پر” (مسند احمد، حدیث 23489)۔ یہ صرف ایک نعرہ نہیں تھا، بلکہ حبش کے بلالؓ، روم کے صہیبؓ اور فارس کے سلمانؓ کو عرب کے معزز ترین قریشی سرداروں کے شانہ بشانہ کھڑا کر کے آپﷺ نے اس نظریے کو ایک زندہ حقیقت میں ڈھال دیا (سیرت ابن ہشام، جلد 4، صفحہ 55)۔ یہ تصور براہِ راست توحید سے نکلا تھا کہ جب سب کا خالق ایک ہے تو مخلوق برابر کیوں نہیں۔ انسانی تاریخ میں مساوات اور اخوت کا اس سے بڑا عملی مظاہرہ کبھی نہیں دیکھا گیا، جس نے نسل پرستی اور قوم پرستی کی جڑیں کاٹ دیں، جیسا کہ یونانی تہذیب میں غلاموں کو انسانی حقوق سے محروم رکھا جاتا تھا۔ آج یہ اصول نسل پرستی کے خلاف عالمی قوانین جیسے اقوامِ متحدہ کا نسل اور نسلی تعصب سے متعلق اعلامیہ (UN Declaration on Race and Racial Prejudice) سے مطابقت رکھتا ہے۔
اسی انسانی وقار کے تصور نے تیسرے تحفے کو جنم دیا، جو علم کی فرضیت اور جہالت کے خلاف ایک مقدس جہاد تھا۔ یہ شعوری رحمت تھی جس نے انسانی ذہن کے دریچے کھول دیے ”اِقرَا” (پڑھو) کے پہلے الہامی لفظ نے واضح کر دیا کہ اس امت کی بنیاد علم اور شعور پر رکھی جائے گی (سورۃ العلق: 1، تفسیر قرطبی، جلد 20، صفحہ 220)۔ آپﷺ نے علم کے حصول کو ”ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض” قرار دے کر اسے عبادت کا درجہ عطا کیا (سنن ابن ماجہ، کتاب المقدمہ، حدیث 224)۔ یہ وہی انقلابی تحریک تھی جس کے نتیجے میں بغداد، قرطبہ اور قاہرہ کی جامعات نے صدیوں تک دنیا کو علم کی روشنی سے منور رکھا اور سائنس، طب، ریاضی اور فلسفے میں وہ گراں قدر اضافے کیے جو آج کی جدید ترقی کی بنیاد ہیں (مثلاً الخوارزمی کی الجبرا (Algebra)، جو جدید الگورتھم (Algorithm) کی بنیاد ہے (History of Science by George Sarton, Vol. 1)۔ یہ علم محض دینی علوم تک محدود نہ تھا، بلکہ اس میں کائنات کی تحقیق اور تسخیر کا پیغام بھی پوشیدہ تھا، جو آج (STEM) تعلیم کی پالیسیوں سے جڑتا ہے۔
جب معاشرے کی بنیاد توحید، مساوات اور علم پر رکھی گئی تو چوتھا تحفہ خواتین کو تاریخ میں پہلی بار حقیقی حقوق اور تکریم کی صورت میں ملا۔ جس سماج میں بیٹی کو زندہ دفن کر دیا جاتا تھا، وہاں قرآن نے اسے رحمت قرار دیا (سورۃ النحل: 58-59)۔ ایک ایسے وقت میں جب دیگر ”مہذب” رومی و فارسی قوانین میں عورت کی کوئی آزاد قانونی حیثیت نہ تھی اور وہ اپنے باپ یا شوہر کی ملکیت سمجھی جاتی تھی، اسلام نے اسے وراثت، ملکیت، گواہی، تعلیم اور نکاح میں اپنی رائے کے مکمل حقوق عطا کیے (سورۃ النساء: 7، تفسیر طبری، جلد 4، صفحہ 120)۔ یہ تقابل واضح کرتا ہے کہ یہ اصلاح کتنی انقلابی تھی۔ اسے ماں کا وہ مقام دیا کہ اس کے قدموں تلے جنت کی بشارت سنائی اور یوں عورت کو ذلت کی پستیوں سے اٹھا کر عزت و احترام کی بلندیوں پر فائز کر دیا (صحیح بخاری، کتاب الادب، حدیث 5971)۔ اسی سماجی انقلاب کا پانچواں ستون غلامی جیسے غیر انسانی ادارے کے خاتمے کی حکیمانہ تدبیر تھی۔ اسلام نے غلاموں کو آزاد کرنے کو سب سے بڑی نیکیوں میں شمار کیا اور گناہوں کے کفارے کی ادائیگی کا ذریعہ بنایا (سورۃ البلد: 13، تفسیر ابن کثیر، جلد 4، صفحہ 550)۔ آپﷺ نے غلاموں کو ”بھائی” کہہ کر مخاطب کرنے اور انہیں وہی کھلانے اور پہنانے کا حکم دیا جو خود کھاتے اور پہنتے تھے (مسند احمد، حدیث 2219)۔ یہ تدریجی حکمتِ عملی تھی جس نے صدیوں پرانے اس ادارے کی جڑیں کاٹ دیں اور انسانی برابری کی راہ ہموار کی، جو آج کے انسانی حقوق کے چارٹرز (ILO conventions) سے جڑتی ہے۔
چھٹا تحفہ خاندان کے ادارے کو ایک مقدس اکائی کے طور پر از سرِ نو استوار کرنا تھا۔ آج جب مغربی دنیا خاندانی نظام کے بحران سے دوچار ہے، اسلام کا یہ ماڈل اور بھی زیادہ متعلقہ ہو جاتا ہے۔ نکاح کو ایک سنجیدہ میثاق قرار دیا گیا (سورۃ النساء: 21)، میاں بیوی کو ایک دوسرے کا لباس کہا گیا (سورۃ البقرہ: 187)، اور والدین اور اولاد کے حقوق و فرائض کو واضح طور پر متعین کیا گیا (سورۃ الاسراء: 23-24)۔ اس نے ایک ایسے مضبوط خاندانی نظام کی بنیاد رکھی جو معاشرے کے استحکام کا ضامن بنتا ہے، کیونکہ ایک مضبوط خاندان ہی ایک مستحکم معاشرے کی اساس ہے، جو آج خاندانی تنازعات کی روک تھام کی جدید پالیسیوں (UN Family Policy Framework) سے ملتا ہے۔
ساتواں تحفہ محنت کی عظمت کا وہ انقلابی تصور تھا جس نے سماجی طبقات کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ ایک ایسے دور میں جب یونانی، رومی اور فارسی تہذیبیں محنت اور دستکاری کو حقیر اور صرف غلاموں یا نچلے طبقے کے لائق سمجھتی تھیں (Aristotle’s Politics, Book 1)، آپﷺ نے خود اپنے ہاتھوں سے کام کر کے اور یہ فرما کر کہ ”سب سے بہترین کمائی وہ ہے جو انسان اپنے ہاتھ سے کرے” (مسند احمد، حدیث 8391)، محنت کو ایک مقدس عبادت کا درجہ دیا۔ اس تصور نے ہر حلال پیشے کو عزت بخشی اور ایک ایسی سوسائٹی کی بنیاد رکھی جس میں کوئی کام باعثِ شرم نہ تھا، جو آج محنت کا وقار (Dignity of Labor) کی بین الاقوامی تحریکوں سے جڑتا ہے۔
انفرادی حقوق، خواہ کتنے ہی بلند و بانگ کیوں نہ ہوں، ایک عادلانہ ریاستی ڈھانچے کی ضمانت کے بغیر محض ایک خواب رہتے ہیں۔ چنانچہ آٹھواں تحفہ، ریاستِ مدینہ کی صورت میں ایک ایسے عادلانہ اور فلاحی نظام کا قیام تھا جس نے ان تمام حقوق کو عملی تعبیر بخشی۔ اس ریاست کی بنیاد میثاقِ مدینہ پر رکھی گئی، جسے بلاشبہ انسانی تاریخ کا پہلا تحریری عمرانی معاہدہ (Social Contract) کہا جا سکتا ہے۔ اس آئینی دستاویز نے قبائلی وفاداریوں کے پرانے تصور کو ختم کر کے ایک جغرافیائی اور سیاسی وحدت کا نیا تصور دیا، جس میں مسلمان، یہود اور دیگر قبائل کو ایک ‘اُمتِ واحدہ’ اور برابر کے شہری قرار دیا گیا۔ اس ریاست کی بنیاد محض سیاسی نہیں، بلکہ فلاحی بھی تھی، جہاں زکوٰۃ و بیت المال کا فعال نظام ہر شہری (بلا تفریقِ مذہب) کی معاشی کفالت کا ضامن تھا (سورۃ التوبہ: 60)۔ یہ جدید فلاحی ریاستوں (Modern Welfare States) اور کثیر الثقافتی معاشروں (Pluralistic Societies) کے لیے پہلا عملی خاکہ تھا۔
اسی ریاست نے نویں تحفے، عدلِ اجتماعی اور قانون کی بالادستی کو ادارہ جاتی شکل دی۔ آپﷺ کی رحمت محض ایک غیر فعال اور نرم جذبہ نہ تھی، بلکہ یہ ایک منظم اور متحرک قوت تھی جس کا سب سے طاقتور ظہور عدلِ اجتماعی کی صورت میں ہوا؛ کیونکہ کمزور کو طاقتور کے جبر سے بچا کر انصاف فراہم کرنا ہی سب سے بڑی رحمت ہے۔ آپﷺ کا وہ تاریخی فرمان کہ ”اگر محمد (ﷺ) کی بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو میں اس کا ہاتھ بھی کاٹ دیتا” (صحیح البخاری، 6788)، قیامت تک کے لیے عدل و انصاف کا وہ غیر متزلزل معیار قائم کر گیا جو کسی بھی مہذب معاشرے کی روح ہے۔ یہ اعلان تھا کہ انصاف کسی خاندانی مصلحت، سماجی حیثیت یا ذاتی تعلق کا پابند نہیں، بلکہ یہ ایک مطلق اور آفاقی اصول ہے: ایک ایسا معیار جو آج کے جدید ”قانون کی حکمرانی کے اشاریوں” (Rule of Law Indices) کے لیے بھی ایک چیلنج ہے۔
دسواں تحفہ، انسانی جان کا تقدس تھا، جسے ایک آفاقی اور غیر مشروط اصول کے طور پر قائم کیا گیا۔ قرآنِ کریم نے ایک بے گناہ کے قتل کو ”پوری انسانیت کا قتل” (سورۃ المائدہ: 32) قرار دے کر انسانی زندگی کو وہ عظمت و حرمت عطا کی جس کی مثال تاریخِ مذاہب میں نہیں ملتی۔ یہ حرمت صرف امن تک محدود نہ تھی، بلکہ جنگ کے میدان میں بھی، جہاں انسانیت اکثر حیوانیت میں بدل جاتی ہے، آپﷺ نے بچوں، بوڑھوں، عورتوں، عبادت گاہوں اور یہاں تک کہ فصلوں اور درختوں کو بھی نقصان پہنچانے کی سختی سے ممانعت فرما کر جنگ کو بھی اخلاقی اصولوں کا پابند بنا دیا (سنن ابی داؤد، 2613)۔ یہ نبوی اصول نہ صرف مکمل جنگ (Total War) کے جدید وحشیانہ تصور کی نفی کرتا ہے، بلکہ بین الاقوامی انسانی قانون (International Humanitarian Law)، بالخصوص جنیوا کنونشنز (Geneva Conventions) کی اخلاقی بنیاد فراہم کرتا ہے۔
گیارہواں انمول تحفہ ایک استحصال سے پاک معاشی نظام تھا، جو درحقیقت معاشی رحمت کا عملی نفاذ تھا۔ اس نظام نے سود (ربا) کو، جو کمزوروں کا خون چوسنے اور دولت کو چند ہاتھوں میں مرکوز کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے، ”اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے جنگ” قرار دے کر انسانیت کا معاشی قاتل ٹھہرایا (سورۃ البقرۃ: 275-279)۔ اس کے برعکس، زکوٰۃ و صدقات کا ایک فعال اور لازمی نظام قائم کر کے دولت کی منصفانہ گردش کو یقینی بنایا، تاکہ سرمایہ صرف مالداروں کے درمیان ہی گردش نہ کرتا رہے (سورۃ الحشر: 7)۔ یہ معاشی انصاف کی وہ بنیاد تھی جو سرمایہ دارانہ نظام کی بے لگام حرص اور اشتراکیت کی جبری مساوات، دونوں کی انتہاؤں سے پاک ہے۔ آج اسی نبوی ماڈل کے اصول جدید اسلامی مالیاتی نظام (Islamic Finance Models)، جیسے ‘صکوک’ (Sukuk) اور ‘اسلامی مائیکرو فنانس’ (Islamic Microfinance) کی صورت میں، دنیا کے لیے ایک قابلِ عمل اور منصفانہ متبادل کے طور پر ابھر رہے ہیں۔
بارہویں تحفے نے انسانی ضمیر پر جبر کے تمام دروازے بند کر دیے۔ یہ مذہبی رواداری اور بین المذاہب ہم آہنگی کا وہ چراغ تھا جس کی روشنی آج کی تقسیم شدہ دنیا کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ جہاں فاتحین مفتوح اقوام کے عقائد کو بزورِ شمشیر بدل دیتے تھے، وہاں قرآن نے اعلان کیا: ”لَا إِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ: ترجمہ – دین میں کوئی جبر نہیں” (سورۃ البقرۃ: 256)، یہ انسانی تاریخ میں ضمیر کی آزادی کا سب سے بڑا منشور تھا۔ اس منشور کی عملی تفسیر اس وقت اپنی معراج پر پہنچی جب نجران کے عیسائی علماء کے وفد نے مسجدِ نبوی کے مقدس فرش پر اپنے عقیدے کے مطابق عبادت کی۔ یہ منظر تاریخ کو یہ سکھا رہا تھا کہ رحمتِ محمدی ﷺ کی چھت تلے ہر عقیدے کے لیے پناہ ہے اور اختلافِ رائے، انسانی احترام کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتا۔ یہ وہ آفاقی اصول ہے جس کی پیاس آج کی دنیا کی ہر روح محسوس کر رہی ہے۔
تیرہواں تحفہ کوئی خشک ضابطہ نہیں، بلکہ خود ایک زندہ اور دھڑکتی ہوئی تہذیب تھا: اخلاقِ حسنہ کا وہ پیکرِ جمیل جو خود آپﷺ کی ذاتِ مبارکہ تھی۔ آپﷺ کی زندگی صداقت، امانت، عفو و درگزر اور صبر کا وہ سمندر تھی جس کی گہرائیوں سے ہر پیاسی روح سیراب ہو سکتی تھی۔ یہ وہ کردار تھا جس کی پاکیزگی پر دشمن بھی قسم کھاتے اور ”صادق” و ”امین” کے القابات سے پکارتے (سیرت ابن ہشام، جلد 1، صفحہ 200)۔ اور پھر تاریخ نے وہ منظر بھی دیکھا جب اس کردار کی عظمت اپنے عروج پر پہنچی۔ فتحِ مکہ کے دن، جب انتقام ایک حق اور بدلہ ایک روایت تھی، آپﷺ نے اختیار کی بلندی پر کھڑے ہو کر عفو و درگزر کا وہ اعلان کیا جس نے نفرت کی تمام زنجیروں کو پگھلا دیا۔ یہ انسانیت کو دیا گیا اخلاقیات کا وہ درس تھا جو تلوار کی طاقت پر کردار کی فتح کا ابدی ثبوت ہے۔
چودہواں تحفہ ماحولیاتی شعور یعنی پانی، نباتات اور حیوانات کے حقوق کا تحفظ تھا۔ یہ کائناتی رحمت کا اعلان تھا۔ ایک ایسے دور میں جب ان تصورات کا وجود بھی نہ تھا، آپﷺ نے بہتے پانی کے کنارے بھی اسراف سے منع فرمایا، درخت لگانے کو صدقہ جاریہ قرار دیا اور بے زبان جانوروں کو ”اُمَمٌ أَمْثالُکُم” (تمہاری ہی جیسی امتیں) کہہ کر انہیں ایک وجودی شناخت عطا کی (سورۃ الانعام: 38، سنن ابی داؤد، کتاب الجہاد، حدیث 2548)۔
پندرہواں اور آخری تحفہ دین کی تکمیل اور نبوت کے خاتمے کی صورت میں ملا، جس نے ہدایت کے الہامی سفر کو اس کے منطقی عروج پر پہنچا دیا۔ ”آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا” (سورۃ المائدہ: 3) کے اعلان نے انسانیت کو ایک مکمل، جامع اور ابدی ضابطہ حیات عطا کیا۔ اس تحفے نے ایک طرف تو رہنمائی کو قیامت تک کے لیے محفوظ اور غیر متبدل بنا دیا، اور دوسری طرف انسانیت کو فکری انتشار اور مزید کسی نبی کے انتظار سے ہمیشہ کے لیے بے نیاز کر دیا۔ یہ ایک ایسا حتمی فریم ورک (framework) تھا جس کے اندر رہتے ہوئے انسانی عقل اب قیامت تک ترقی کا سفر جاری رکھ سکتی ہے۔
آج پندرہ صدیاں گزرنے کے بعد، جب انسانیت ایٹمی جنگوں، معاشی ناانصافی، خاندانی انتشار اور روحانی خلا جیسے بحرانوں سے دوچار ہے، تو محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے عطا کردہ یہ تحائف محض تاریخی واقعات نہیں، بلکہ ہمارے تمام جدید مسائل کا حتمی حل ہیں۔ آپﷺ کی میراث ماضی کا قصہ نہیں، بلکہ مستقبل کا وہ نقشہ ہے جو انسانیت کو امن و انصاف کی منزل تک پہنچا سکتا ہے۔ لہٰذا، اصل سوال اس ورثے کی معنویت کا نہیں، بلکہ اسے اپنانے کی ہماری اہلیت کا ہے۔ کیا ہم ان تحائف کو محض سراہنے پر اکتفا کریں گے یا اپنی تقدیر بدلنے کے لیے استعمال کریں گے؟ یہ وہ سوغات ہے جو وقت کے ساتھ پرانی نہیں ہوتی، بلکہ اس کی ضرورت ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی چلی جا رہی ہے۔
=========
Post Views: 2
Like this:
Like Loading...