Skip to content
مسلم لیڈروں کا گنپتی کے درشن کیلئے جانا
خدا سے بغاوت کی انتہائی بھیانک شکل
ازقلم:ندیم عبدالقدیر
ہمارے مسلم لیڈ راپنے سیاسی مفادات کیلئےاس حد تک گھٹیا پن کا شکار ہوچکےہیں کہ اب یہ گنپتی کی مورتی کے درشن کرنے ،اس کے سامنے ہاتھ جوڑ کر کھڑے ہونے ، اس سے آشیرواد لینے اور اس سے کھلے عام اظہار عقیدت جیسے واضح شرک میں بھی شرم محسوس نہیںکررہےہیں۔کہاں تو ’’یا رسول اللہ‘‘ کہنا تک شرک ہے اور کہاں گنپتی کی مورتی سے آشیرواد لینا بھی شرک نہیں؟؟ شرک سے بڑا کوئی گناہ نہیں اور اس گناہِ کبیرہ کو ملّتکے نام نہاد بڑے بڑے لیڈر کھلے عام کررہےہیں۔ المیہ یہ ہے کہ قوم کے علماء اوربڑی بڑی دینی تنظیمیں بھی اس پر خاموش بیٹھی ہوئی ہیں۔کیا دینی تنظیموں کو دین صرف زکوٰۃ اور چندےکے لئے ہی یاد آتا ہے ؟ کہاں تو ’۳۱؍دسمبر کی رات کو جشن منانا گناہ ہے ، ویلنٹائن ڈے منانا گنا ہ ہے اور کہاں غیر قوم کے معبود کے سامنے ہاتھ جوڑ کر کھڑے رہنا اس سے آشیر واد لینا بھی گناہ نہیں؟
کیا آپ نےغیر قوم کے کسی فرد کو بقر عید پر کوئی جانور قربان کرتے ہوئے دیکھا ہے ؟ ہندوستا ن تو چھوڑئیے کیا پاکستان ، بنگلہ دیش ، ملیشیا ،انڈونیشیا میں جہاں ہندوؤں کی بڑی تعداد رہتی ہے، کیا وہاں کے ہندو لیڈر کبھی بقر عید پر قربانی جیسی عظیم عبادت سے مستفیض ہوئے ؟حالانکہ ان کی اکثریت گوشت خور ہوتی ہے اس کے کے باوجود عین بقرعید کے موقع پرقربانی کرنے کو وہ بہت بڑا پاپ سمجھتےہیں اور سمجھتےہیں کہ ایسا کرنے سے ان کے معبود ناراض ہونگے۔ وہ اپنے باطل معبودوں کے تئیں اس قدر ایماندار ہیں کہ انہیں ناراض کرنے کی ہمت نہیں کرپاتے۔ دوسری طرف ہماری قوم کے ناہنجار لیڈرمالک کائنات کے ہی خلاف سرکشی پر اترآئےہیں۔
کیا محض سیاسی مفادات کی خاطر ان سیاسی لیڈروں کاایمان پوری طرح مر کھپ چکا ہے ؟ اور کیاقوم نے بھی اس پر سمجھوتہ کرلیا ہے ؟ جو قوم نے خاموشی اختیار کررکھی ہے ۔ اگر آج ہم نے خاموشی اختیار کی اور اگر آج ہم نے اپنے لیڈروں کو نہیںٹوکا تو آنے والی نسلیں اسی گمراہی کو دین سمجھ کر آگے بڑھیں گی کیونکہ لیڈروں کا اثر پوری قوم پر پڑتا ہے۔ یہ گناہ عظیم آنے والے وقت میں کیا نوعیت اختیارکرے گا اس کا تصور بھی نہیں کیاجاسکتا ہے بالکل اُسی طرح جس طرح آج سے چند دہائی قبل تک اس بات کا تصور نہیں کیاجاسکتاتھا جو آج ہورہاہے۔ اسلام میں شرک سب سے بڑا گناہ ہے، اور کوئی تاویل، کوئی سیاسی جواز، کوئی مصلحت، کوئی بہانہ اس شرکیہ عمل کو قابل قبول نہیں بناسکتا۔ جو لوگ اقتدار کے لالچ میں اللہ کی توحید کے خلاف سرکشی کررہے ہیں وہ دراصل اپنے رب کے غضب کو دعوت دےہیں۔ہم بھی عذاب کے مستحق ہونے جیسے عمل کررہےہیں۔ یاد رکھئے کہ عذاب پوری قوم پر آتا ہے ۔ صالح علیہ السلام کی اونٹنی کو قتل کرنے والے ۹؍ہی تھے لیکن عذاب پوری قوم پر آیا، کیونکہ باقی لوگوں کا جرم خاموش رہنا تھا ۔
(فیچر ایڈیٹر، روزنامہ اردو ٹائمز ، ممبئی)
——-
Post Views: 3
Like this:
Like Loading...