Skip to content
جمعہ نامہ: بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
ارشادِ ربانی ہے:’’ جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال بھی کئے اور اس (قرآن) پر بھی ایمان لائے جو (حضرت) محمد (ﷺ) پر نازل کیا گیا ہے جو کہ ان کے پروردگار کی طرف سے حق ہے تو اللہ نے ان کی برائیوں کا کفارہ ادا کر دیا (برائیاں دور کر دیں) اور ان کی حالت کو درست کر دیا‘‘۔ ماہِ ربیع الاول میں نبیٔ کریم ﷺ سے خراجِ عقیدت پیش کرنے کا مہینہ ہے ۔اس دوران آپؐ کی زندگی کے مختلف پہلووں کو اجاگر کرنے کی سعیٔ جمیل کی جاتی ہے۔ بنی نوع انسانی پر حضورِ رسالتماب کا سب سے بڑا حق یہ ہے کہ صرف زبانی جمع خرچ پر اکتفاء کرنے کے بجائے اس محمد عربی ﷺ پر نازل شدہ قرآن پر ایمان لاکر نیک اعمال کیےجائیں۔ اس کےعوض رب کائنات بندوں کے نامۂ اعمال سے برائیاں دورکرکے حالات درست فرما دیتا ہے۔ یہ معاملہ اہل ایمان کے لیے خاص ہے کیونکہ :’’ جن لوگوں نے کفر کیا انہوں نے باطل کی پیروی کی اور جو ایمان لائے انہوں نے اپنے پروردگار کی طرف سے حق کی پیروی کی اسی طرح خدا لوگوں کے حالات و اوصاف بیان کرتا ہے‘‘۔ نبیٔ مکرم ﷺ کی شان میں بہت سارے شاعروں نے خراجِ عقیدت پیش کیا مگر اس بابت بھی ’غالب کا ہے انداز بیاں اور‘وہ کہتا ہے؎
غالبؔ ثنائے خواجہ بہ یزدان گزاشتم
کاں ذاتِ پاک مرتبہ دانِ محمد ﷺ است
فارسی میں اس بے مثال نعتیہ غزل کے مقطع میں شاعر کہتا ہے ’حضور ﷺ کی نعت کا معاملہ(میں نے) اللہ پر چھوڑ دیا ہے، کیونکہ وہ ذاتِ پاک ہی حضرت محمد ﷺ کی شان و عظمت سے صحیح معنوں میں آگاہ ہے‘۔ نبیٔ پاک کی اس سے بہتر مدحت بھلا غالب کے سوا کون کرسکتا ہے؟ اللہ تبارک و تعالی ٰ نے قرآن میں محمد ﷺ کی جو معرفت کرائی اسے ملاحظہ فرمائیں ۔ آپ ﷺ کے اعلیٰ اخلاق کی گواہی اس طرح دی گئی کہ : ’’اور اے محمدؐ! یقینا آپ اخلاق کے بڑے (اونچے)درجے پر ہو‘‘۔حدیث رسول ﷺ ہے کہ :’’ میں اخلاقِ عالیہ کی تکمیل کرنے کے لیے بھیجا گیا ہوں” نبیٔ آخرالزمان کے عزمِ راسخ ، ارداۂ مصمم اور توکل علی اللہ کی صفات اس وقت کھل کر سامنے آگئی جب ساری قوم‘ آپؐ کو مٹا دینے پرتُل گئی تھی اورواحدرفیقِ کارکے ساتھآپؐ غار میں تھے۔ ‘ اُس لمحات کی منظر کشی اس طرح ہے کہ :’’یاد کرو جب کہ کافروں نے ان کو نکال دیا تھا‘ جب کہ وہ غار میں صرف ایک آدمی کے ساتھ تھے‘ جب کہ وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہےتھا کہ غم نہ کر‘ اللہ ہمارے ساتھ ہے‘‘۔ ان مشکل ترین حالات میں قتل کے ارادے سے آنے والے سراقہ ابن جوشم کو کسریٰ کے کنگن کی بشارت آپ ﷺ کےحوصلہ اور امید کا نمونہ ہے۔
نبیٔ کریم ﷺ کی سیرت کا سب سے ابھرا ہوا پہلو جذبۂ دعوت ہے۔ بندگانِ خدا کو راہِ راست پر لانے کی تڑپ اتنی شدیدتھی کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کو ڈھارس بندھانی پڑی : ’’اے محمدؐ! ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ اُن کے پیچھے‘ رنج و غم میں اپنی جان کھو دو گے اگر وہ اس بات پر ایمان نہ لائے‘‘۔رسول اللہ ﷺ نےخود فرمایا: ”بے شک میری اور تمہاری مثال اس شخص جیسی ہے جس نے آگ جلائی پھر جب اس (آگ) نے اس کا اردگرد روشن کر دیا تو پتنگے اور دوسرے جانور جو آگ میں گرتے ہیں، آکر اس میں گرنے لگے، پس میں تمہیں تمہاری کمر سے پکڑ پکڑ کر آگ (میں گرنے) سے روک رہا ہوں اور تم ہو کہ اس میں گرے جا رہے ہو۔“ ایسی کیفیت کو اس طرح بھی بیان کیا گیا:’’تمھارے پاس خود تم ہی میں سے ایک ایسا رسول آیا ہے جسے ہر وہ چیز شاق گزرتی ہے جو تمھیں نقصان پہنچانے والی ہو‘ جو تمھاری فلاح کا حریص ہے اور اہلِ ایمان کے ساتھ نہایت شفیق و رحیم ہے‘‘۔
نبیٔ کریم ﷺ کی یہ صفت خاص کسی ایک قوم کے لیے نہیں‘ بلکہ تمام عالم کے لیے عام تھی ارشادِ فرقانی ہے:’’اے محمدؐ! ہم نے توآپ کو تمام عالم کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے‘‘۔ آپ کے احسانات کا سلسلہ دوستوں کے ساتھ دشمنوں کے لیے بھی تھا۔ کانٹے بچھانے والی پڑوسن کی عیادت اور شہر چھوڑ کر جانے والی بڑھیا کے واقعہ سے کون واقف نہیں ہے۔ طائف کی عظیم ترین آزمائش کے بعد آنے والی نسلوں کے لیے دعا کرنا آپؐ کےفراخ حوصلہ اور فیاض ہونے کی بہترین امثال ہیں۔ نبیٔ پاک نےاپنے بدترین دشمنوں کے لیے اس قدر بخشش کی دُعا کی یہاں تک اللہ تعالیٰ کوقطعی فیصلہ سنا نا پڑا کہ: ’’چاہےآپ ان کے لیے معافی مانگو چاہے نہ مانگو‘ اگرآپ ستّربار بھی ان کے لیے معافی مانگیں گے‘ تب بھی اللہ ان کو معاف نہ کرے گا‘‘۔ آپؐ کی نرم خوئی کا بہترین نمونہ آسمانِ گیتی نے فتح مکہ کے بعد دیکھا کہ جب سارے دشمنان کو یہ کہہ کر معاف کردیا گیا کہ : ۰۰۰آج تم پر کوئی مواخذہ نہیں ، اﷲتمہاری مغفرت فرمائے ، وہ سب سے بڑا رحم فرمانے والا ہے، جاؤ تم سب آزاد ہو‘‘۔ اس کے بعد وہ (مایوسی کے عالم سے ایسے نکلے )جیسے(حیات نو پاکر) قبروں سے نکلے ہوں اور وہ اسلام میں داخل ہوگئے ۔
نبیٔ کریم ﷺ کی اس نرم خوئی کے اثرات کا بیان قرآن میں اس طرح ہے کہ :’’یہ اللہ کی رحمت ہے کہ آپ ان کے ساتھ نرم ہو‘ ورنہ اگر آپ زبان کے تیز اور دل کے سخت ہوتے تو یہ سب آپ کے گردوپیش سے چَھٹ کر الگ ہوجاتے‘‘۔ یہی وہ صفاتِ عالیہ ہیں جو نبیٔ پاک ﷺ کو تمام عالم کے لیے ایک قابلِ تقلید نمونہ بنادیتی ہیں ۔ ارشادِ رحمانی ہے:’’ تمھارے لیے رسولؐ اللہ کی ذات میں ایک بہترین نمونہ ہے‘‘۔یہ نمونہ تاقیامت ہدایت کا مینار رہےگا کیونکہ آپؐ نبیٔ آخرالزماں ہیں ۔ فرمانِ خداوندی ہے:’’(لوگو) محمدؐ تمہارے مَردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، مگر وہ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں، اور اللہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے ‘‘۔ آپ کی ا تباع و پیروی پر دنیا و آخرت کی کامیابی کا دارومدار ہے ۔ اسی لیے علامہ اقبال کہتے ہیں؎
کی محمدؐ سے وفا تم نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے
Post Views: 3
Like this:
Like Loading...