Skip to content
استاد: علم، تربیت اور تہذیب کا معمار
✍🏻سمیہ بنت عامر خان
دنیا میں اگر کوئی رشتہ سب سے زیادہ عزت، وقار اور تقدس کا حامل ہے تو وہ استاد کا رشتہ ہے۔ استاد صرف معلومات فراہم کرنے والا فرد نہیں، بلکہ ایک ایسا معمار ہے جو فرد کے ذہن، اخلاق، کردار اور مستقبل کی تعمیر کرتا ہے۔ تعلیم و تربیت کا عمل استاد کی رہنمائی کے بغیر ممکن نہیں، اور تاریخ گواہ ہے کہ ہر عظیم قوم کی پشت پر اس کے عظیم اساتذہ کا کردار ہوتا ہے۔
قرآن و سنت میں مقامِ معلم
اسلام میں تعلیم کو انتہائی بلند مقام حاصل ہے۔ قرآن مجید میں بارہا تعلیم و تعلم کا ذکر آیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے خود کو معلم کے طور پر متعارف کروایا۔
"عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ یَعْلَمْ”
(العلق: 5)
ترجمہ: "اس نے انسان کو وہ سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا۔”
یہ تعلیم ہی ہے جو انسان کو اشرف المخلوقات بناتی ہے، اور استاد اس تعلیم کا عملی ذریعہ بنتا ہے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"إِنَّمَا بُعِثْتُ مُعَلِّمًا”
(ابن ماجہ)
"میں معلم (استاد) بنا کر بھیجا گیا ہوں۔”
یعنی رسولِ اکرم ﷺ کی نبوت کا ایک بنیادی مقصد انسانوں کو تعلیم دینا اور ان کی تربیت کرنا تھا۔
استاد: انسانیت کا معمار
استاد ایک ایسا چراغ ہوتا ہے جو خود جل کر دوسروں کے لیے روشنی فراہم کرتا ہے۔
جو کانٹوں بھری زندگی میں
شمع علم و آگہی کے پھول کھلاتے ہیں
واقعی، استاد ان راستوں پر چلنا سکھاتا ہے جہاں کانٹے ہوں، مشکلات ہوں، لیکن وہ امید کے پھول اگاتا ہے۔
استاد: تربیت کا ستون
ایک استاد نہ صرف طالب علم کو علوم و فنون سے آشنا کرتا ہے بلکہ اس کی شخصیت سازی بھی کرتا ہے۔ وہ سوچنے، سمجھنے، سوال کرنے، اور سیکھنے کا سلیقہ دیتا ہے۔ استاد فرد کو زندگی کے عملی میدان کے لیے تیار کرتا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ استاد کو روحانی باپ کہا جاتا ہے۔
استاد کا کردار محض نصابی کتابوں تک محدود نہیں ہوتا۔ وہ طالب علم کی فکری، اخلاقی اور تہذیبی تشکیل کرتا ہے، جو کسی بھی معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے۔
علامہ اقبال کی نظر میں استاد
علامہ اقبال کے افکار میں تعلیم اور معلم کو خاص مقام حاصل ہے۔ وہ تعلیم کو محض ڈگری کا ذریعہ نہیں سمجھتے، بلکہ قوموں کی بیداری اور عروج کا وسیلہ مانتے ہیں۔ اقبالؒ ایسے استاد کی وکالت کرتے ہیں جو صرف علم نہ دے بلکہ کردار بھی بنائے۔
سبق پھر پڑھ صداقت کا، عدالت کا، شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا
اقبال کا تصورِ تعلیم روح پرور ہے، اور وہ ایسے معلم کی ضرورت محسوس کرتے ہیں جو امت مسلمہ کو خودی، غیرت اور خودانحصاری کا سبق دے۔ ان کے نزدیک ایسی تعلیم اور ایسے معلم کا کوئی فائدہ نہیں جو صرف “قال و قیل” کی حد تک محدود رہیں۔
دل سوز سے خالی ہو تو ہے علم بھی اک فتنہ
جس علم کا حاصل ہو فقط قیل و قال
استاد کا کردار: صرف تعلیم نہیں، تربیت بھی
استاد محبت، علم، عمل، معاونت، تہذیب اور رہنمائی کا سرچشمہ ہے۔
ہم کو ہر لمحہ دیتے ہیں پیام تعلیم،
ہم کو قابل انسان بناتے ہیں۔
استاد کا کردار صرف پڑھانے والے کا نہیں ہوتا، بلکہ ایک روحانی رہنما، فکری رہبر اور اخلاقی مربی کے ہوتا ہے۔
استاد کی معاشرتی اہمیت
استاد ہی وہ ہستی ہے جو معاشرے کی اقدار، اصول، تہذیب اور روایات کو نئی نسل تک منتقل کرتا ہے۔ ایک استاد قوم کے ہر فرد کو با شعور، با اخلاق اور مہذب بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔
بدقسمتی سے موجودہ دور میں استاد کی حیثیت کو وہ مقام نہیں دیا جا رہا جس کے وہ مستحق ہیں۔ معاشرتی زوال کی ایک بڑی وجہ یہی ہے کہ استاد کو صرف ملازم سمجھا جاتا ہے، حالانکہ وہ درحقیقت قوم کا معمار اور رہنما ہوتا ہے۔
تعلیم کے ہیں لاکھوں جلوے، تربیت آفتابِ دیگر
جس سے چمکے دلوں کا گوہر، وہ مربی، وہی معلم
واقعی، استاد وہ ہستی ہے جو ہمارے دل و دماغ کو روشن کرتا ہے، ہمیں انسان بناتا ہے، اور بغیر کسی صلے کے ہماری کامیابی کی دعائیں کرتا ہے۔
لہٰذا، ہماری بھی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے اس محسن کا احترام کریں، ان دعا ہے دل سے بارگاہِ الٰہی میں،
خدا تو ان کو ہمیشہ شاد و آباد رکھ
کی عزت کریں، اور ان کے پیغام کو آگے بڑھائیں۔
استاد علم کی شمع، کردار کا آئینہ، اور معاشرے کی بنیاد ہے۔قرآن، حدیث، اور اقبال کی فکر سب استاد کو محض ایک پیشہ ور نہیں، بلکہ قومی معمار مانتے ہیں۔ استاد وہ چراغ ہے جو دوسروں کو روشنی دیتا ہے، اور خود فنا ہو جاتا ہے لیکن اس کی روشنی صدیوں تک قائم رہتی ہے۔ اسی لیے استاد کو عزت دینا، دراصل علم، تہذیب اور انسانیت کو عزت دینا ہے۔
آئیے ہم سب مل کر یہ عہد کریں:
کہ اپنے اس محسن، استاد، مربی، اور رہبر کو وہ مقام دیں جس کے وہ حقدار ہیں۔
Post Views: 0
Like this:
Like Loading...