Skip to content
مودی، پوتن اور شریف : یہ رشتہ کیا کہلاتا ہے ؟
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
وزیر اعظم نریندر مودی سیر و سیاحت کے شوقین ہیں۔ ویسے تو کل ۶؍ بار وہ چین کا دورہ کرچکے ہیں لیکن یہ ۷؍ برسوں کے بعد ہوا۔ 2020 کے اندر وادی گلوان میں دونوں ممالک کی افواج کی خونریز تصادم کے بعد تعلقات سردمہری کا شکار ہوگئے تھے لیکن امریکہ کے ٹیرف حملے نے پھر سے چینی تار جوڑ دئیے یعنی چین کا حملہ ہمیں امریکہ کی آغوش میں لے گیا اور امریکی حملہ چین کی پناہ میں لے آیا۔تاہم چین میں ایس سی او کے اجلاس کے اگلے ہی روز ہونے والی فوجی پریڈ میں وزیر اعظم مودی کو شرکت کی سعادت نہیں ملی۔مودی جی کے مذکورہ بالا دورے حوالے سے گودی میڈیا نے یہ خبر خوب اڑائی کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے ان کو اپنی گاڑی میں لے کرجانے کے لیے دس منٹ تک انتظار کیا اور تقریباً ڈیڑھ گھنٹے ان دونوں رہنماوں کی ملاقات چلی حالانکہ اس بابت پوتن سے پوچھا گیا تو انہوں نے ملاقات کو رسمی اور بہت مختصر یعنی دعا سلام تک محدود کہہ کر میڈیاکی ہوا نکال دی ۔ مودی جی کی انگلی دکھانے، قہقہہ لگانے اور انتظار کروانے والی سفارتکاری اس کے برعکس پاکستان نے روس کو بھی ہم سے چھین لیا۔ یعنی جس طرح ٹرمپ کو گلہ ہے کہ چین نے ہندوستان کو ان سے چھین لیا ویسا ہی کچھ پوتن کے معاملے میں مودی کے ساتھ ہوا۔
چین سے اے این آئی والے ایک ویڈیو لے آئے جس میں شہباز شریف یہ کہتے سنائی دیتے ہیں کہ انہیں روس کے ہندوستان سے تعلق پر کوئی اعتراض نہیں ہے ۔ اس جملے کو پاکستان کی کمزوری کے طور پر پیش کیا گیا حالانکہ اس میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے بھلا دوممالک کے تعلقات پر کسی تیسرے کو اعتراض کرنے کا کیا حق ہے؟ذرائع کے مطابق ہندوستان نے روس سے کہہ دیا ہے کہ اگر پاکستان کے ساتھ اس کی قربتیں بڑھیں گی تو یقیناً ان کے باہمی تعلقات متاثر ہوں گے۔ کیا یہ حرکت روس کو ڈھکیل کر پاکستان سے قریب کرنے والی نہیں ہے؟شہباز شریف نے جب اپنے روسی ہم منصب سے کہا کہ وہ روس اور پاکستان کے تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور انھیں مزید ’مضبوط و متحرک‘ بنانے کی بات کی تو اس کے جواب میں پوتن نے نہ صرف تجارت بڑھانے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اندر تعاون کے اضافے پر زور دیا بلکہ وزیراعظم شریف کو نومبر کے اندر سی ایس او کی نشست میں ماسکو کے دورے کی دعوت دے ڈالی۔ شہباز شریف نے اس پیشکش کو بڑی گرمجوشی کے ساتھ قبول کیا ۔
پوتن اور شہباز کی آواز سمیت ویڈیو میڈیا میں آگئی مگر مودی جی کی تو صرف تصویریں اور بے آواز ویڈیو ہی گردش کررہی ہیں جن سے یہ پتہ ہی نہیں چلتا کہ کس نے کیا کہا؟ صدر پوتن کا بیک وقت کئی محاذوں پر متوازن کردار ادا کرتے ہوے پاکستان کو روایتی پارٹنر قرار دےدینا ہندوستان کے لیے باعثِ تشویش ہونا چاہیےکیونکہ یہ بات خلاف حقیقت ہے۔ پاکستان کبھی بھی روس کا روایتی ساجھے دار نہیں رہا ہے۔ سوویت یونین کے دور میں یا بکھرنے کے بعد بھی روس ہمیشہ ہندوستان کا حلیف تھا اور ہےپھر بھی پوتن کا علی ا لاعلان یہ کہنا نہ صرف معمہ بلکہ ہندوستان کی سفارتی ناکامی ہے؟ یہ اس بات کا بلاواسطہ اشارہ ہے کہ روس کو ہندوستان کی ناراضی کی کوئی خاص پرواہ نہیں ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ کی ہند پاک جنگ کے وقت روس کا رویہ متوازن تھا اور تاشقند میں روس نے جو معاہدہ کروایا اس میں بھی پاکستان کو مراعات ملی تھیں اوروہیں سے پاکستانی عہدیداروں کو احساس ہوا کہ روس مکمل طور پر ان کے خلاف نہیں ہے۔
پاکستان نے اس کے بعد سے باہمی تعلقات بہتر بنانے کی کوشش شروع کی مگر سقوطِ ڈھاکہ کے وقت امریکہ کے خلاف سوویت یونین چٹان بن کر ہندوستان کے ساتھ کھڑا رہا۔ سوویت یونین نے جب افغانستان پر فوج کشی کی پاکستان نے کھل کر مجاہدین کا ساتھ دیا یہاں تک کہ اسے رسوا ہوکر وہاں سے نکلنے پڑا اور وہیں سے سوویت یونین کا زوال شروع ہوگیا ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ سوویت یونین کے زمانے میں وئی روسی صدر پاکستان نہیں گیا۔ اس کے 16 سال بعد، روسی وزیراعظم میخائل فرادکوف نے 11 اپریل 2007 کو پاکستان کا دورہ تو کیا مگر پچھلے 25 سال سے روس میں پوتن برسرِ اقتدار ہیں مگر وہ بھی آج تک پاکستان نہیں گئے۔ جنوبی ایشیا میں پوتن صرف ہندوستان ہی آتے رہے ہیں مگر بعید نہیں کہ اس سال کے اواخر میں جب وہ دہلی آئیں تو واپسی میں اسلام آباد ہوتے ہوئے لوٹیں ۔صدر پوتن نے شہباز شریف سے ملاقات کے دوران پاکستان میں حالیہ سیلاب اور دیگر قدرتی آفات سے ہونے والے نقصانات پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان ان چیلنجز پر قابو پا لے گا۔‘ ہندوستان کے اندر بھی آج کل پنجاب سیلاب کی زد میں ہے۔ ہماچل ، اتراکھنڈ اور جموں وغیرہ میں بادل کے پھٹنے کئی سانحات ہوئے ہیں لیکن پوتن نے ہمدردی کی کوئی بات مودی جی سے نہیں کی ممکن ہے ویسا ماحول ہی نہ بنا ہو۔
شہباز شریف نے پوتن کو بتایا گزشتہ سال روس سے تیل کی درآمد کے سبب دوطرفہ تجارت میں اضافہ ہوا ہے۔ انھوں نے اس بات کی نشاندہی بھی کی کہ دونوں جانب سے متعدد وفود کے تبادلوں کے ساتھ ساتھ زراعت، سٹیل اور ٹرانسپورٹ خصوصاً بیلا روس-پاکستان کوریڈور میں نئے معاہدے ہوئے ہیں۔اس گفتگو سے اندازہ ہوتا ہے کہ شہباز شریف نے خاصی تیاری کے ساتھ یہ ملاقات کی اس کے برعکس وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی کوئی تیاری کی تھی اس کا اندازہ ان کے کسی بیان سے نہیں ہوا۔ اسی لیے شایدان کو قہقہہ لگانے اور انگشت نمائی کا ناٹک کرنا پڑا۔ حکومتِ ہند کو روس کے موقف میں تبدیلی پر توجہ دینی چاہیے کیونکہ پہلگام میں حملے کے بعد روس نےہندوستان کو مایوس کیا تھا لیکن گوں ناگوں وجوہات کے سبب اس رویہ کو نظر انداز کر دیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے پوتن کا شکریہ ادا کرتے ہوئے پاکستان کی حمایت اور جنوبی ایشیا میں متوازن کردار ادا کرنے کی تعریف کی ۔ شہباز شریف کو احساس ہے کہ پابندی کے دوران ہندوستان کی جانب سے بڑی مقدار میں تیل کی خرید پر روسی معیشت کا بڑا انحصار ہے لیکن اگر پابندی ختم ہوجائے تو روس کے لیے ہندوستان کی مجبوری ختم ہوجائے گی وہ کھلے بازار میں یوروپ کو تیل بیچ سکے گا۔
جنوبی ایشیا میں مودی جی کے غرور نے تمام پڑوسی ممالک سے تعلقات خراب کرلیے ہیں اور وہ سارے چین کے ہمنوا بن چکے ہیں۔ پاکستان اور چین کے بہترین تعلقات کا سب سے بڑا ثبوت تو آپریشن سیندور کے دوران دونوں ممالک کا تال میل تھا ۔ اب اگر آگے چل کر پاکستان، روس اور چین کا اکٹھا ہو جاتے ہیں تو یہ محور خطے میں طاقت کے توازن کو بری طرح متاثر کردے گاکیونکہ روس اور چین پہلے ہی ساتھ ہیں۔معروف عالمی تھنک ٹینک کارنیگی انڈومنٹ کے سینئر فیلو ایشلے جے ٹیلس کے مطابق ہندوستان مکمل طور پر امریکی کیمپ میں نہیں جا سکتا لیکن اگر چین، روس اور پاکستان ہاتھ ملا لیتے ہیں تو وہی گریٹ گیم شروع ہو جائے گا جس کا ذکر برطانوی ہند میں کیا جاتا تھا۔ ہندوستان اس صورتحال کی اجازت نہیں دے گاحالات خاصےپیچیدہ ہوچکے ہیں۔ امریکہ کو ہندوستان کی روس کے ساتھ دوستی ناگوار ہے لیکن جب مودی نے امریکی مطالبات کے سامنے جھکنے سے انکار کر دیا تو اس سے پوتن کے ہاتھ مضبوط ہو گئے۔اب اگر روس کو خوش کرنے کے لیے انڈیا کو سزا ملتی ہے تو ہندوستان کے نقصانات سے علی الرغم پوتن اپنے مفادات کو ترجیح دیں گے اور ہندوستانی نقصان کی کوئی پرواہ نہیں کریں گے۔ اس صورت حال میں ہندوستان کا نقصان پہنچے گا۔اس کے ردعمل میں ہندوستان پھر سے چین کے قریب چلا جائے جو پہلے سے پاکستان کا حلیف ہے۔
شہباز شریف نے جب ایکس پر پوتن سے ملاقات کے بعد لکھا ’پاکستان اور روس مشترکہ طور پر تعلقات کو مضبوط بنانے کی جانب بڑھ رہے ہیں تاکہ ہمارے عوام کے مفاد کے ساتھ ساتھ خطے میں امن اور خوشحالی کو بھی فروغ دیا جا سکے۔‘ تواس پر سوشیل میڈیا میں تبصروں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ پاکستانی صحافی عاصمہ شیرازی نے اس ویڈیوپر تبصرہ کیا کہ ’کیا ہی طاقتور منظر ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف صدر پوتن اور شمالی کوریا کے صدر کم جونگ کے ساتھ وکٹری ڈے کی تقریب میں مدعو خصوصی مہمانوں میں شامل ہیں ۔ وزیراعظم مودی کو اس تقریب میں مدعو نہیں کیا گیا۔‘ ہندوستان کے ڈاکٹر نیمو یادیو نے ایکس پر لکھا کہ ’پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف، پوتن، شی اور کم کے ساتھ فرنٹ سٹیج شیئر کر رہے ہیں۔ پاکستان امریکہ کے قریب بھی ہے۔ یقین نہیں آتا کہ یہ ممالک انڈیا کے مقابلے میں پاکستان کو ترجیح دے رہے ہیں۔‘ لیکن سب سے دلچسپ بات تو موہت نے لکھ دی ان کے خیال میں شریف کا پوتن، شی جن پنگ اور کم جونگ کے ساتھ فرنٹ سٹیج پر کھڑا ہونا نریندر مودی کی تباہ کن خارجہ پالیسی کا نتیجہ ہے۔‘ وہ مزید لکھتے ہیں ’ہندوستان کو فوری طور پر ایک تعلیم یافتہ وزیراعظم کی ضرورت ہے جو عالمی حالات کو سمجھتا ہو اور صحیح قیادت کر سکے۔‘ اس جملے میں لفظ تعلیم یافتہ کا استعمال مودی جی جعلی ڈگری یاد دلاتا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ موصوف سفارتکاری اور ڈگری میں کوئی فرق نہیں ہے۔
Like this:
Like Loading...